اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا کر غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی دو برسوں میں غزہ میں کم از کم 20,179 بچے ہلاک ہوئے اور 44,143 زخمی ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مانا جا رہا ہے کہ ہزاروں بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی دو برسوں میں غزہ میں کم از کم 20,179 بچے ہلاک ہوئے اور 44,143 زخمی ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مانا جا رہا ہے کہ ہزاروں بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے حملے میں فلسطین کا ایک علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔(تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اقوام متحدہ (یو این) کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے لیے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے فلسطینی نابالغوں کو’جان بوجھ کر نشانہ بنا کر قتل کیا گیا‘ ہے اور ایسے حملے نسل کشی کی منشا ثابت کرنے کے لیے اہم ہیں۔

منگل (23 جون) کو جاری ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں‘ (جن میں مشرقی یروشلم بھی شامل ہے) اور اسرائیل سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے خاطرخواہ بنیادیں موجود ہیں کہ ’اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے بچوں کو نشانہ بناتے ہوئے جان بوجھ کر مہلک طاقت استعمال کی۔ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت من مانی ہلاکتوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات جان بوجھ کر قتل کے جنگی جرم اور تباہی کے انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔‘

بچوں کی ہلاکت اور انہیں شدید طور پرزخمی کرنے کا سلسلہ جاری

رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں کمیشن کے سربراہ شری نواسن مرلی دھر نے کہا،’ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور قتل کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ’ہلاکت اور انہیں شدیدطور پر زخمی کرنے کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ94صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کا عنوان ہےبچپن کی اصل روح تباہ کر دی گئی ہے۔ اس میں 7 اکتوبر 2023 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دو برسوں کے دوران غزہ میں کم از کم 20,179 بچے ہلاک اور 44,143 زخمی ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ مانا جا رہاہے کہ ہزاروں بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

جانچ میں یہ پایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بنایا  تھا اور یہ ایک ’واضح پیٹرن‘ تھا۔ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی گئی کہ یہ طرز عمل نسل کشی کی منشا  کوثابت کرنے کے لیے اہم تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا،’فلسطینی بچوں کو نشانہ بنانا غزہ میں وسیع تر فلسطینی برادری کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کی نسل کشی کی منشا کوثابت کرنے کے لیے اہم ہے۔ بچے صرف آبادی کا ایک حصہ نہیں بلکہ فلسطینی برادری کے تسلسل اور مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔‘

کمیشن نے مزید کہا کہ،’ فلسطینی بچوں کو قتل کرنا اور انہیں شدید جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانا غزہ میں فلسطینی برادری کے حیاتیاتی تسلسل اور مستقبل کے وجود کو ختم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔‘

کمیشن نے اپنے سابقہ نتائج کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ’گروپ کے ارکان، جن میں فلسطینی بچے بھی شامل ہیں، کو قتل کرکے اور انہیں شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچا کر‘نسل کشی کی ہے۔

دوسری جانب ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مشن رپورٹ کو ’اپنی سابقہ رپورٹوں کی طرح  ہی ایک توہین آمیز پروپیگنڈہ‘بتایا اور کمیشن پر الزام لگایا کہ یہ ’بنیادی طور پر ایک ناقص سسٹم ہے جس کا مقصد سچائی کا پتہ لگانے کے بجائے اسرائیل کو الگ تھلگ اور بدنام کرنا ہے۔‘

مشن نے کہا کہ کمیشن نے ’حماس کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے گئے، اغوا کیے گئے اور نشانہ بنائے گئے اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔‘ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ رپورٹ میں حماس کی جانب سے فلسطینی بچوں کو ’انسانی ڈھال‘ اور ’جنگی مہرے‘ کے طور پر استعمال کیے جانے کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ مشن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کمیشن کے پاس اپنے الزامات کی تصدیق کے لیے ’کوئی قابل اعتماد تصدیقی نظام‘ موجود نہیں ہے۔

پانچ سال سے کم عمر  کے کم از کم 5,031 بچے مارے گئے

یہ رپورٹ کمیشن کی جانب سے گزشتہ سال جاری کیے گئے قانونی تجزیے پر مبنی ہے، تاہم اس بار بچوں کو جانچ  کے مرکزمیں رکھا گیا ہے۔ اس میں دلیل دی گئی  ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات صرف میدانِ جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں تک محدود نہیں بلکہ ان میں بھوک، تولیدی صحت کو پہنچنے والا نقصان، معذوری، یتیمی، بے دخلی، حراست اور نفسیاتی صدمات بھی شامل ہیں۔

کمیشن کے مطابق، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات غیرمعمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان پانچ سال سے کم عمرکے  کم از کم 5,031 بچے مارے گئے، جن میں 1,000 سے زائد شیر خوار اور تقریباً 420 نومولود شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنازعہ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کا تناسب تقریباً 30 فیصد تھا، جو غزہ میں ہونے والی سابقہ جنگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

کمیشن نے یہ بھی دستاویزی شکل میں پیش کیا کہ اسنائپر فائر، ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے بچوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی فوج نے ’جان بوجھ کر بچوں کے خلاف جان لیوا طاقت کا استعمال کیا‘اور یہ اقداماتجان بوجھ کر قتل کے جنگی جرائم اور لوگوں کو ختم کرنے کے انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

رپورٹ میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں نومبر 2025 میں خان یونس کے قریب ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کررہے 10 اور 9 سال کے دو بھائیوں کے قتل کا معاملہ بھی شامل ہے۔ بعد میں اسرائیلی فوج نے ان لڑکوں کو ’مشکوک ‘ بتایا جو فوجیوں کے قریب آگئے تھے۔ کمیشن نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بچے واضح طور پر نابالغ تھے اور ان سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

کمیشن کے مطابق یہ واقعہ ایک وسیع ’منظم پیٹرن‘ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں فلسطینی لڑکوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی ہلاکتوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

جانچ میں یہ بھی پا یا گیاکہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتیں جاری رہیں۔ رپورٹ میں شامل یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد 100 سے زائد بچے ہلاک ہوئے۔ تفتیش کاروں نے ان میں سے بعض اموات کو ’ییلو لائن‘ نام کے ملٹری ڈیمارکیشن زون سے جوڑا، ، جہاں بچوں سمیت عام شہریوں کو غیر واضح سرحدی نشانات عبور کرنے پر گولی مار دی گئی تھی۔

21,000 بچے مستقل معذوری کا شکار

رپورٹ کا ایک حصہ بچوں کی صحت اور نشوونما پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے طویل مدتی اثرات پر مرکوز ہے۔

کمیشن نے کہا کہ ہزاروں بچے درد ناک طریقے سے اعضا کے کٹنے، ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ، اندھے پن، سماعت سے محرومی اور شدید طور پر جھلسنے جیسے سنگین مسائل کا شکار ہوئے۔ کمیشن نے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ تنازعہ کے دوران 21,000 سے زائد بچے جسمانی طور پر معذور ہو گئے اور کہا کہ غزہ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں اعضا سے محروم بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

تفتیش کاروں نے اسپتالوں اور نومولود بچوں کی نگہداشت کی سہولتوں پر ہونے والے حملوں کا بھی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور ادویات، آلات اور ایندھن کی کمی نے بچوں، خصوصاً خصوصی نگہداشت کے محتاج نومولود بچوں، کو شدید متاثر کیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچوں کی ولادت اور پیدائشی نقائص کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جنہیں تولیدی تشدد اور نومولود بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

کمیشن نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی تباہی کا باعث بننے والے حالات جان بوجھ کر مسلط کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے،’غزہ میں فلسطینی لوگوں (جن میں بچے شامل ہیں) پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کیے گئے حالات، جان بوجھ کر اور منظم طریقے پر نقصان پہنچانے والے ہیں۔ ان کا مقصد غزہ کے فلسطینیوں کو ایک گروپ کے طور پر جسمانی طور پر ختم کرنا ہے۔‘ اس میں ناکہ بندی، انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں اور شہریوں کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔

حراست میں فلسطینی بچے

رپورٹ کا ایک اور اہم حصہ اسرائیلی حراستی مراکز میں قید فلسطینی بچوں سے متعلق ہے۔

جانچ  کرنے والوں نے سنگین بدسلوکی کے ایک منظم پیٹرن کو دستاویزی شکل دی ہے، جس میں زبردستی کپڑے اتروانے، طویل عرصے تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھنا، مارپیٹ، نیند سے محروم رکھنا، کھانا اور پانی نہ دینا، ناکافی طبی سہولیات اور بچوں کو بالغ قیدیوں کے ساتھ حراست میں رکھنا شامل ہے۔

رپورٹ میں بچوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کواجاگر کیا گیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے،’کمیشن نے فلسطینی بچوں کے خلاف منظم طور پر کیے گئے سنگین اور دانستہ بدسلوکی کے ایک پیٹرن کی نشاندہی کی ہے۔‘

رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ  یہ عمل ٹارچراور دیگر غیر انسانی افعال کے مترادف ہے، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم دونوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

رپورٹ میں بچوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں زبردستی سب کے سامنے ننگا کرنا، جنسی ہراسانی، جنسی تناسل پر تشدد اور جنسی نوعیت کی دھمکیاں شامل ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے،’کمیشن کا ماننا ہے کہ فلسطینی بچوں کے خلاف جنسی تشدد، مسلح تنازعات کے دوران بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، لہٰذا یہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں تفتیش  کاروں کو ایسے شواہد کا پتہ چلا جو ان کے مطابق فلسطینی بچوں کے خلاف غیر قانونی قتل، من مانی حراست اور آبادکاروں (سیٹلرز) کے تشدد کے پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ جن واقعات کی اس نے جانچ کی، ان میں کئی بار اسرائیلی افواج نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا۔ تفتیش کاروں کے دستاویز میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال، طبی امداد میں تاخیر اور زخموں کی نوعیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی افواج بچوں کو’مکمل استثنیٰ‘ کے ساتھ قتل کرتی ہیں اور ریاست فلسطینی بچوں کے خلاف’منظم غیر قانونی اقدامات‘کو قبول کرتی ہے۔

کمیشن کے چیئرمین شری نواس مرلی دھر نے کہا،’بھلے ہی غزہ اور مغربی کنارے میں بمباری اور فائرنگ رک بھی جائے، فلسطینی بچے راتوں رات معمول کی زندگی کی طرف واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ ان کی صحت، تعلیم اور نشوونما کو جو نقصان  پہنچا ہے، وہ ناقابل تلافی ہے۔‘

کمیشن نے اسرائیل سے بچوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے، نابالغوں کی من مانی حراست ختم کرنے، بچوں کے بارے میں معلومات عام کرنے اور غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی کی اجازت دینے کی اپیل کی  ہے۔

اس کے ساتھ ، کمیشن نے ممالک سے ایسے ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کی اپیل کی جنہیں بین الاقوامی جرائم سے منسلک کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہو، اور ملکی عدالتوں اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے ذریعے جوابدہی یقینی بنانے کو کہا۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جانچ کے دوران کمیشن نے اسرائیلی حکومت کو معلومات یا رسائی فراہم کرنے کے لیے 13 درخواستیں بھیجیں، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب، فلسطینی حکام اور غزہ کی وزارت صحت نے تفتیش کاروں کو ضروری معلومات فراہم کیں۔