امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ (25 مارچ) کی رات واشنگٹن میں ایک ریپبلکن فنڈ ریزر پروگرام کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی (این آر سی سی) کے سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں کہا،’میں کبھی کسی ملک کا ایسا سربراہ نہیں رہا جس نے اس عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش اتنی کم رکھی ہو جتنی ایران کا سربراہ بننے کے لیے۔ ہم ان کی بات واضح طور پر سن رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،’ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں۔‘ نہیں، شکریہ! مجھے یہ نہیں چاہیے۔‘
President Trump on the idea of anyone taking over as Iran’s supreme leader:
I’ve never been a head of a country who wanted that job less.”
“No thank you, I don’t want it.”
“We’d like to make you the next supreme leader”
“No, no thank you, I don’t want it.” pic.twitter.com/hKotbHg99k
— Open Source Intel (@Osint613) March 26, 2026
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے، حالانکہ تہران نے ان کے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی الگ شرائط پیش کی ہیں۔
تاہم، ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ وہیں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امن مذاکرات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار اس بات کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے ڈر رہے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے ہی ملک میں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا،’وہ بات چیت کر رہے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسے کہنے سے ڈرتے ہیں۔‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکہ سے مارے جانے کا بھی خوف ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا،’ہم مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔‘
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے تنازعہ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،’میں نے وہ قدم اٹھایا جو پچھلے 47 برسوں میں کسی بھی صدر کو اٹھانا چاہیے تھا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ وہ ایسا کرنا چاہتے تھے، لیکن ان میں ہمت نہیں تھی۔‘