ایل پی جی بحران: مزدور گاؤں لوٹنے کو مجبور، مشکل میں سورت کی کپڑا ملیں

ایل پی جی بحران کے درمیان سورت کی ٹیکسٹائل صنعت میں کام کرنے والے مزدور گیس سلنڈر بھروا نہیں پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور مزدوروں کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک یا دو دن بند رہنے لگی ہیں۔

ایل پی جی بحران کے درمیان سورت کی ٹیکسٹائل صنعت میں کام کرنے والے مزدور گیس سلنڈر بھروا نہیں پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور مزدوروں کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک یا دو دن بند رہنے لگی ہیں۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: گجرات کے سورت میں ایل پی جی رجسٹریشن بک نہ ہونے کی وجہ سے مہاجر ٹیکسٹائل مزدوروں کو گیس سلنڈر ری فل کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ جہاں پہلے 500 روپے میں سلنڈر بھر جاتا تھا، اب اس کی قیمت بڑھ کر 2,500 روپے ہو گئی ہے، جس کے باعث کئی مزدور اپنے گاؤں لوٹنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، مزدوروں کی کمی کے سبب کئی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک یا دو دن بند رہنے لگی ہیں۔وہیں، مزدوروں کے لیے چلنے والے میس اور کینٹین بھی بند ہو چکے ہیں، جس سے ان کی روزمرہ زندگی اور کٹھن ہو گئی ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے سورت کے اُدھنا جنکشن ریلوے اسٹیشن پر بڑی تعداد میں مہاجر مزدور اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور اڑیسہ سے آئے ان مزدوروں کی واپسی نے سورت کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کئی فیکٹریوں کو مزدوروں کی کمی کے باعث ہفتے میں ایک دو دن بند کرنا پڑ رہا ہے۔

صورتحال کو سنبھالنے کے لیے صنعتی تنظیموں اور مل مالکان نے سستی قیمتوں پر کھانا فراہم کرنا شروع کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پانڈیسرا میں ایک بڑا کمیونٹی کچن روزانہ 5,000 سے زائد مزدوروں کو کھانا کھلا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ نے ایل پی جی سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے 75 گیس ایجنسیوں پر افسران تعینات کیے ہیں۔

اخبار کے مطابق، ساؤتھ گجرات ٹیکسٹائل پروسیسنگ ایسوسی ایشن کے صدر جیتو بھائی وکھاریا نے کہا، ’ایل پی جی بحران کی وجہ سے مزدوروں کے لیے حالات مشکل ہیں۔ کئی لوگوں کے پاس گیس سلنڈر کی رجسٹریشن نہیں ہے اور وہ کرایہ کے گھروں میں رہتے ہیں۔ کچھ ملیں ہفتے میں ایک دو دن بند ہو رہی ہیں۔ نوراتری اور شادیوں کا سیزن آنے والا ہے، اس لیے ہم کسی طرح فیکٹریاں چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا،’خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے پانڈیسرا میں کمیونٹی کچن شروع کیا گیا ہے، جہاں 40-45 روپے میں ایک تھالی ملتی ہے۔ مل مالکان یہاں سے کھانا خرید کر رات 8 بجے گھر جاتے وقت مزدوروں کو دیتے ہیں، تاکہ وہ اگلے دن کام پر واپس آ سکیں۔‘

وکھاریا کے مطابق، یہ رسوئی ہر روز 5,000 سے زیادہ افراد کے لیے بنا رہی ہے۔

سورت کے ایک مل مالک راہل اگروال نے بتایا کہ ان کے یہاں 20 روپے میں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا،’ہم اپنے مزدوروں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہاں مزدوروں کی کمی نہیں ہے اور پیداوار بھی معمول کے مطابق ہے۔‘

لیبر کنٹریکٹر کامران عثمانی نے کہا،’موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم مانڈوی (سورت) سے لکڑی منگوا کر مزدوروں کو دے رہے ہیں تاکہ وہ کھانا پکا سکیں۔ روزانہ پانچ گاڑیوں میں لکڑی منگوائی جاتی ہے۔‘

ضلع کلکٹر دفتر کے ذرائع کے مطابق، سورت شہر میں 55 اور دیہی علاقوں میں 20 ایل پی جی ایجنسیاں ہیں۔ وہاں تعینات افسران اسٹاک پر نظر رکھتے ہیں اور صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بناتے ہیں۔

ملک میں ایل پی جی کی مکمل کمی نہیں، مگر صورتحال تشویشناک: حکومت

اس دوران، مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی (کھانا پکانے والی گیس) کی مکمل کمی نہیں ہوئی، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ مغربی ایشیا سے متعلق بین وزارتی بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ فی الحال کمرشل ایل پی جی کی سپلائی معمول پر ہے اور گھبراہٹ میں کی جانے والی بکنگ میں بھی کمی آ رہی ہے۔

تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملک کے مختلف حصوں سے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی شکایتیں اب بھی موصول ہو رہی ہیں۔

مرکز نے 17 ریاستی حکومتوں کو کمرشل ایل پی جی سپلائی کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں خریداری، ذخیرہ اندوزی اور خاص طور پر آن لائن پھیلنے والی افواہوں پر کڑی نظر رکھیں۔

حکام کے مطابق، فی الحال سپلائی مستحکم ہے، مگر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے اور صارفین تک گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے چوکس رہنا نہایت ضروری ہے۔

اس دوران، حکومت نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور توانائی کے اثاثوں پر حملوں کی وجہ سے ہندوستان کے توانائی شعبے پر اثر پڑا ہے۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سکریٹری (مارکیٹنگ و آئل ریفائنری) سجاتا شرما کے مطابق اس صورتحال نے سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

پہلے ہندوستان کی تقریباً 90 فیصد ایل پی جی درآمدات آبنائے ہرمز پر منحصر تھیں، مگر اب وہاں رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق، متبادل ذرائع استعمال کر کے اور حساس راستوں پر انحصار کم کر کے سپلائی کو مستحکم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔