ایل پی جی سلنڈر کے لیے قطار میں کھڑے دو لوگوں کی موت، سپلائی کو لے کر تشویش میں اضافہ

مغربی ایشیا میں جاری ایران-امریکہ-اسرائیل تنازعہ کے درمیان ایل پی جی کی سپلائی کو لے کر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اتر پردیش کے فرخ آباد اور پنجاب کے برنالہ میں گیس سلنڈر لینے کے لیے قطار میں کھڑے دو لوگوں کی مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ حکومت نے کالا بازاری روکنے کے لیے چھاپے ماری تیز کر دی ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری ایران-امریکہ-اسرائیل تنازعہ کے درمیان ایل پی جی کی سپلائی کو لے کر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اتر پردیش کے فرخ آباد اور پنجاب کے برنالہ میں گیس سلنڈر لینے کے لیے قطار میں کھڑے دو لوگوں کی مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ حکومت نے کالا بازاری روکنے کے لیے چھاپے ماری تیز کر دی ہے۔

علامتی تصویر (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مغربی ایشیا میں جاری ایران-امریکہ-اسرائیل تنازعہ کے دوران ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کے حوالے سے شدیدتشویش کے درمیان اتر پردیش اور پنجاب میں گیس سلنڈر لینے کے لیے قطار میں کھڑے دو لوگوں کی  مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، اتر پردیش کے فرخ آباد میں جمعہ کے روز 70 سالہ کڑھائی کا کام کرنے والے مزدور مختار احمد کی گیس ایجنسی کے گودام پر ایل پی جی سلنڈر لینے کے انتظار کے دوران موت ہو گئی۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ کافی دیر سے قطار میں کھڑے تھے اور اچانک سینے میں شدید درد کی شکایت کے بعد گر پڑے۔

گڑھی خان خانہ علاقہ کے رہنے والے مختار احمد کے پسماندگان میں ان کی بیوی اور سات بچے ہیں، جن میں پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

ان کے بھتیجے محمد وصی نے بتایا کہ گھر کا گیس سلنڈر ختم ہو گیا تھا، اس لیے ان کے چچا ایک دن پہلے لال سرائے علاقے کی گیس ایجنسی گئے تھے۔ وہاں لمبی قطار کے بعد انہیں ایک پرچی دی گئی اور اگلے دن گودام سے بھرا ہوا سلنڈر لینے کو کہا گیا۔

وصی کے مطابق، جمعہ کی صبح تقریباً نو بجے جب مختار گودام پہنچے تو وہاں پہلے ہی کافی لوگ قطار میں کھڑے تھے۔ اسی دوران انہیں اچانک سینے میں شدید درد ہوا اور وہ زمین پر گر پڑے۔ وہاں موجود لوگوں نے سی پی آر اور سینہ دبا کر انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کی، لیکن اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

تاہم، فرخ آباد کے ضلع سپلائی افسر سریندر یادو نے اس دعوے سے انکار کیا کہ وہ لمبےوقت تک قطار میں کھڑے تھے۔ ان کے مطابق، سلنڈر کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور وہ صرف اسے لینے آئے تھے۔ افسر کا کہنا ہے کہ گودام پہنچنے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ان کی طبیعت خراب ہوئی اور یہ کہنا غلط ہے کہ انہیں تین گھنٹے تک لائن میں کھڑا رہنا پڑا۔

اسی دن پنجاب کے برنالہ ضلع میں بھی 66 سالہ بھوشن کمار متل کی گیس ایجنسی پر قطار میں انتظار کرتے ہوئے مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔

بتایا گیا ہے کہ متل صبح تقریباً آٹھ بجے شہنا بلاک کی ایک گیس ایجنسی پر ایل پی جی سلنڈر لینے پہنچے تھے اور انہیں ٹوکن نمبر 25 دیا گیا تھا۔ تقریباً دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد تھکن کی وجہ سے وہ ایک سلنڈر پر بیٹھ گئے اور تقریباً دس بجے اچانک گر پڑے۔ انہیں فوراً اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

متل کے بیٹے دیو راج نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ان کے والد کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس واقعے پر کانگریس لیڈر سکھویندر سنگھ ڈھالیوال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس سلنڈر کے لیے لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اور یہی صورتحال متل کی موت کی وجہ بنی۔ انہوں نے مرکز اور پنجاب حکومت سے خاندان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان واقعات کے درمیان پنجاب میں ایل پی جی کی دستیابی کو لے کر لوگوں کی  تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ 11 مارچ سے آن لائن گیس بکنگ سسٹم میں تکنیکی خرابی آ گئی ہے، جس کے باعث کئی لوگوں کو ایجنسیوں پر جا کر بکنگ یا سلنڈر لینا پڑ رہا ہے۔

ڈیلروں نے بھی بتایا کہ کئی بار بکنگ ہونے کے باوجود صارفین کو ڈلیوری کے لیے ضروری او ٹی پی نہیں مل رہا، جس سے تقسیم میں تاخیر ہو رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ریاست میں کہیں بھی ایل پی جی کی کمی نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلنڈروں کی ذخیرہ اندوزی یا کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ادھر اتر پردیش حکومت نے بھی ایل پی جی سلنڈروں کی کالا بازاری روکنے کے لیے وسیع مہم شروع کی ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق، گزشتہ دو دنوں میں 2,554 مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں، جن میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا اور کئی ڈسٹری بیوٹرز اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں 4,108 ڈسٹری بیوٹرز کے پاس خاطر خواہ  ایل پی جی اسٹاک موجود ہے اور صارفین کو ان کی بکنگ کے مطابق سلنڈر کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی سپلائی کے نظام پر نظر رکھنے کے لیے 24 گھنٹے کا کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کی وجہ سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کئی جگہ صارفین میں گھبراہٹ کے سبب گیس سلنڈر لینے والوں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ تاہم، مرکز اور ریاستی حکومتیں مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی خاطر خواہ ہے۔