اپوزیشن نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور الزام لگایا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان الزامات میں دسمبر 2023 میں 100 اراکین پارلیامنٹ کی معطلی بھی شامل ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا ایوان کی کارروائی چلاتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی بذریعہ سنسد ٹی وی)
نئی دہلی: اپوزیشن نے منگل (10 مارچ) کو لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تحریک پیش کی اور ان پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ وہیں حکومت نے برلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اب یہ بھی طے کرنا چاہتی ہے کہ اسپیکر کا کردار کیا ہوگا اور اس کرسی پر کون بیٹھے گا۔
اس عدم اعتماد کی تحریک پر بحث اس وقت ہو رہی ہے جب گزشتہ ماہ بجٹ اجلاس کے پہلے حصے کے دوران 118 اراکین پارلیامنٹ نے برلا کو ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ ایک نوٹس پر دستخط کیے تھے۔ پارلیامانی تاریخ میں یہ صرف چوتھی بار ہے کہ اس طرح کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے 1954، 1966 اور 1987 میں ایسی تحریک پیش گئی تھی۔
تاہم، یہ پہلا موقع ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے بغیر ہی اس طرح کی تحریک پر بحث ہو رہی ہے، کیونکہ یہ عہدہ 2019 سے خالی پڑا ہے۔ تحریک پیش کیے جانے کے وقت ایوان میں ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کے ارکان نے حکومت پر ‘آئینی خلا پیدا کرنے’ کا الزام لگایا اور اس بات پر اعتراض کیا کہ کارروائی کی صدارت کرنے والے چیئرپرسنز کے ممبر خود اسپیکر کی طرف سے نامزد کیے گئے ہیں۔
بحث کے دوران اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے کئی مثالیں پیش کیں، جن میں الزام لگایا گیا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان میں دسمبر 2023 میں 100 ارکان پارلیامنٹ کی غیر معمولی معطلی بھی شامل ہے۔
اگرچہ حکمراں طبقے کے پاس اس تحریک کو شکست دینے کے لیےخاطر خواہ عددی قوت موجود ہے، لیکن اپوزیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک آئین کے تحفظ کے لیے لائی گئی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے کہا کہ یہ تحریک ذاتی طور پر برلا کے خلاف نہیں بلکہ آئین کے تحفظ کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا،’ہمیں افسوس ہے، ہم ذاتی طور پر اس تحریک کو لانے سے خوش نہیں ہیں۔ ذاتی طور پر برلا کے سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اسی لیے ہمیں افسوس ہے کہ ہمیں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانی پڑی۔ ہم یہ تحریک جمہوریہ ہند کے عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ ایوان کے وقار کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ برلا پر ذاتی حملہ نہیں بلکہ آئین اور ایوان کے وقار کے تحفظ کے لیے ہے۔’
گگوئی نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر نے کہا تھا کہ ‘آئینی اخلاقیات غیر جانبداری کا تقاضا کرتی ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے معماروں نے تصور کیا تھا کہ اسپیکر حکومت کی آواز نہیں بلکہ پورے ایوان کے حقوق کے محافظ ہوں گے۔
اپنی تقریر کے دوران گگوئی کو کئی بار حکمران طبقے کے ارکان اور بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے ٹوکا، جو اس وقت ایوان کی کارروائی کی صدارت کر رہے تھے۔ گگوئی نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اس تحریک کو لانے کا پس منظر اس وقت بنا جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر تقریر کر رہے تھے اور انہیں ’20 بار’ ٹوکا گیا۔
گگوئی نے کہا کہ اسپیکر، حکومت کے سینئر ارکان، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع نے بھی انہیں روکا۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی سابق آرمی چیف ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ خودنوشت کا ذکر کرنا چاہتے تھے، جس کی وجہ سے بجٹ اجلاس کا پہلا حصہ متاثر ہوا تھا۔
جگدمبیکا پال نے گگوئی کو کئی بار روکا اور کہا کہ وہ اس کتاب کا ذکر نہ کریں اور صرف اسپیکر کے رول پر ہی بات کریں۔
گگوئی نے الزام لگایا کہ قائد حزب اختلاف کو کئی اہم مسائل اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی چین سرحدی تنازعہ سے نمٹنے کی حکمت عملی، ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ اور ایپسٹین فائلز جیسے ایشوز شامل تھے، جن میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی بتایا گیا۔
جب پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو درمیان میں بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو گگوئی نے کہا کہ تاریخ انہیں یاد رکھے گی۔
انہوں نے کہا، ‘مستقبل میں جب پارلیامانی ریکارڈ پر تحقیق ہوگی تو اعداد و شمار بتائیں گے کہ پارلیامانی امور کے وزیر کے طور پر کرن رجیجو نے اپوزیشن کو سب سے زیادہ روکا۔’
اس پر فوراً وزیر داخلہ امت شاہ نے جواب دیا کہ ‘اپوزیشن غیر ذمہ دار ہے۔’ شاہ نے کہا، ‘میں مانتا ہوں کہ پارلیامانی امور کے وزیر کے طور پر کرن رجیجو نے سب سے زیادہ مداخلت کی ہے، لیکن ہم نے ایسا غیر ذمہ دار اپوزیشن بھی کبھی نہیں دیکھا۔’
بحث کے دوران ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ یہ ‘کرم کا پھل’ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی طرف سے بحث کا آغاز کر رہی ہیں، کیونکہ 2023 میں انہیں ایوان سے نکال دیا گیا تھا اور انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔
موئترا نے کہا کہ اوم برلا کے دور میں اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کی بے مثال معطلیاں ہوئی ہیں اور ‘یہ ایک واقعہ ہی 2004 کے بعد لوک سبھا میں ہونے والی کل معطلیوں کے 40 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے۔’
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سابق بی جے پی رکن پارلیامنٹ رمیش بدھوری نے ایوان میں رکن پارلیامنٹ دانش علی کے خلاف فرقہ وارانہ اور نازیبا کلمات کہے تھے، تب اسپیکر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اپوزیشن ارکان کے مائیک اکثر بند کر دیے جاتے ہیں۔
شیو سینا (یو بی ٹی) ایم پی کا بیان اور حکومت–اپوزیشن کی بحث
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیامنٹ اروند ساونت نے کہا کہ پہلے جب بھی لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، تب وزیر اعظم ایوان میں موجود ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا، ‘ذاتی طور پر ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ براہ کرم غور کریں کہ ایسی تحریک لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ہم ان کے اختیار کا احترام کرتے ہیں، لیکن اختیار ان کی ذاتی خواہش نہیں ہو سکتے۔ اسپیکر کی کرسی پر ان کی مرضی نہیں چل سکتی۔’
دوسری طرف حکمراں جماعت اور این ڈی اے کے اتحادیوں نے اوم برلا کا دفاع کیا۔
تیلگو دیشم پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لاوو سری کرشنا دیورایالو نے کہا کہ یہ تحریک صرف ‘سنسی خیز سرخیاں بنانے’کے لیے لائی گئی ہے، جبکہ جے ڈی یو کے رکن پارلیامنٹ راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ اس کا مقصد اسپیکر پر دباؤ ڈالنا ہے۔
مرکزی پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپنی تقریر میں کانگریس اور اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن یہ طے کرنا چاہتی ہے کہ اسپیکر کا کردار کیا ہوگا اور ان کی کرسی پر کون بیٹھے گا۔
ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی رہنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ پارلیامانی روایات میں کئی چیزیں پہلی بار ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا،’پارلیامانی روایات میں کئی چیزیں پہلی بار ہوتی ہیں، اسی لیے روایات اہم ہیں۔ اب یہ لوگ طے کرنا چاہتے ہیں کہ اسپیکر کا کردار کیا ہوگا اور کون اس کرسی پر بیٹھے گا۔ اگر قواعد میں واضح نہ بھی ہو تو بھی آخری اختیار اسپیکر کا ہی ہوتا ہے۔ آپ اتنے سال حکومت میں رہے، لیکن 2014 میں اپوزیشن میں جانے کے بعد بے چین ہو گئے ہیں۔’
رجیجو نے اپنی تقریر میں کانگریس پر حملہ جاری رکھتے ہوئے بغیر نام لیے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسا قائد حزب اختلاف نہیں دیکھا جو ‘وزیر اعظم کو گلے لگاتا ہے اور پھر اپنی نشست پر جا کر اپنی پارٹی کے ارکان کو آنکھ مارتا ہے۔’
وہ 2018 کے اس واقعہ کا حوالہ دے رہے تھے جب راہل گاندھی نے لوک سبھا میں عدم اعتماد کی تحریک پر تقریر کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو گلے لگایا تھا۔
رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن میں کئی اچھے لوگ ہیں، لیکن انہوں نے راہل گاندھی کو قائد حزب اختلاف بنا دیا۔ انہوں نے پرینکا گاندھی واڈرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں قائد حزب اختلاف بنایا جاتا تو شاید کارکردگی بہتر ہوتی۔
انہوں نے کہا،’آپ کی طرف بھی کئی اچھے لوگ ہیں، لیکن آپ نے انہیں قائد حزب اختلاف بنا دیا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ پرینکا واڈرا گاندھی پیچھے بیٹھ کر مسکرا رہی ہیں۔ اگر انہیں قائد حزب اختلاف بنایا گیا ہوتا تو شاید کارکردگی بہتر ہوتی۔ کم از کم وہ بیٹھ کر سنتی ہیں؛ آپ کے قائد حزب اختلاف تو سنتے بھی نہیں۔’
اپنی تقریر کے بعد پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وہ اس لیے مسکرا رہی تھیں کیونکہ قائد حزب اختلاف ‘ان کے سامنے جھکتے نہیں ہیں۔’
انہوں نے کہا،’وہ بغیر کسی خوف کے سچ بولتے ہیں، اسی لیے یہ لوگ اسے برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔’
رجیجو نے اپوزیشن پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ بی جے پی نے کبھی کاغذ پھینکنے یا واک آؤٹ کرنے جیسی حرکت نہیں کی۔ انہوں نے برلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اسپیکر کے طور پر ان کا کردار غیر جانبدار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا،’ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ حکمراں جماعت سے ہیں، لیکن جب اسپیکر کرسی پر بیٹھتے ہیں تو ان کا کردار غیر جانبدار ہوتا ہے۔’
لوک سبھا میں اس عدم اعتماد کی تحریک پر 10 گھنٹے کی بحث مقرر کی گئی ہے اور یہ بحث بدھ کو بھی جاری رہے گی۔