پلیز مودی جی! ہندوستان کی خواتین کے لیے آنسو مت بہائیے

سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔

سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔

’ہندوستان کی خواتین کو بتائیے کہ آپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں خواتین  ریزرویشن بل کو کیوں پاس نہیں کیا۔ یہی نہیں، مودی جی، آپ نے اس بل کو سرکاری ایجنڈے میں شامل کرنے سے بھی انکار کر دیا۔‘ (تصویر: پی ٹی آئی/سنسد ٹی وی/السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

وزیراعظم جناب نریندر مودی جی،

آپ نے خواتین ریزرویشن کے مسئلے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اقتدار میں خواتین  کی شراکت کو یقینی بنانے کی جدوجہد دہائیوں سے جاری ہے… کئی خواتین نے اس موضوع کو میرے سامنے اٹھایا ہے۔ کئی بہنوں نے مجھے خطوط لکھ کر سب کچھ واضح کیا ہے۔‘

مودی جی، یہ خط آپ کو ایک ایسی خاتون کی طرف سے ہے جو آپ کے بیان کردہ’دہائیوں لمبی جدوجہد‘ میں سرگرم  رہی ہے۔ اس تاریخی جدوجہد کی قیادت خواتین کی تنظیموں نے کی تھی، پنچایتوں میں لاکھوں خواتین نے کی تھی اورجنہوں نے پدر سری معاشرہ اور پدری ثقافت سے لڑ کر یہ ثابت کیا کہ وہ ’پراکسی‘نہیں ہیں۔ یہ جدوجہد ہزاروں مظاہروں، ریلیوں، احتجاج، دھرنوں اور عرضداشتوں کے توسط سے کی گئی تھی۔

آپ نے یہ بھی کہا،’میں بھی ان لوگوں میں شامل رہا ہوں جنہوں نے اس کے لیے کوششیں کیں۔‘

نہیں مودی جی، اتنے برسوں کی اس جدوجہد میں ہمیں آپ کی طرف سے کبھی کوئی حمایت نہیں ملی۔ آپ کا دعویٰ حقیقت سے اتنا ہی دور ہے جتنا گوڈسے اور گاندھی کے نظریے میں تھا۔

آئیے، حقائق کو پروپیگنڈہ سے الگ کریں مودی جی۔ لیکن اس سے پہلے-خواتین کے ’دکھ میں شریک‘ ہونے کے آپ کے بیان اور آپ کے اس وعدےکہ ،’میں ملک کی ہر خاتون کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم خواتین ریزرویشن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کریں گے،‘ کے تناظر میں یہاں ایک ٹھوس تجویز ہے جو آپ کے دکھ اور ہر رکاوٹ کو دور کر سکتی ہے۔

آپ کی حکومت کی طرف سے 2023 میں لائی گئی 106ویں آئینی ترمیم میں کھڑی کی گئی اس بڑی رکاوٹ کو ہٹائیے، جو خواتین ریزرویشن کو مردم شماری اور حد بندی سے جوڑتی ہے۔ مودی جی، اس جملے کو ہٹا دیجیے، اور خواتین  ریزرویشن کل سے نافذ ہو سکتا ہے۔

لیکن آپ ایسا نہیں کریں گے، مودی جی، کیونکہ خواتین  ریزرویشن کے تئیں آپ کی وابستگی کبھی نہیں  تھی۔

آپ 2014 میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا۔ آپ کی قیادت والے اتحاد نے 336 نشستیں حاصل کیں، جن میں سے آپ کی اپنی پارٹی کو 282 نشستیں ملیں۔ آپ نے کون سی ’کوششیں‘کیں؟

ہندوستان کی خواتین کو بتائیے کہ آپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں خواتین  ریزرویشن بل کو کیوں پاس نہیں کیا۔ یہی نہیں، مودی جی، آپ نے اس بل کو سرکاری ایجنڈے میں شامل کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

سال2017کے مانسون اجلاس میں اس وقت کے سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خواتین  ریزرویشن بل کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آپ نے انکار کیوں کیا؟

جولائی 2018 میں لوک سبھا میں سی پی آئی (ایم ) کی ایم پی اور اب آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن کی صدر پی کے شریمتھی نے یہ موضوع اٹھایا تھا۔ 2019 میں ہونے والے انتخابات میں صرف ایک سال باقی تھا، اس لیے یہ معاملہ بہت ضروری تھا۔ انہیں کئی پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی، لیکن آپ کی حکومت نے ان کی اپیل کو نظرانداز کر دیا۔

کئی اپوزیشن جماعتوں کی خواتین ارکان پارلیامان نے خواتین ریزرویشن بل پاس کرنے کے مطالبے کو لے کر پارلیامنٹ کے اندر دھرنا دیا۔ پارلیامنٹ کے باہر خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور بل کو فہرست میں شامل کرنے اور منظور کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ آپ نے کچھ نہیں کیا۔ ایسا کیوں کیا، مودی جی؟

نتیجتاً، 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن سے محروم کر دیا گیا۔ اس معاملے پر یہ آپ کی پہلی وعدہ خلافی تھی۔

سال2019میں آپ نے اور بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، آپ کی پارٹی کو اتحاد کے ذریعے جیتی گئی 353 نشستوں میں سے 303 نشستیں ملیں۔ یہ بہت بڑی اکثریت تھی۔ آپ نے اس کا استعمال کیسے کیا؟

آپ کی ترجیحات میں  کاروباریوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ چار مزدور مخالف لیبر قوانین لائے، اور اپنی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے تین کسان مخالف بل منظور کروائے۔ آپ نے خواتین ریزرویشن بل لانے کے لیے اپنی اکثریت کا استعمال کیوں نہیں کیا؟

آپ نے اپنے دور حکومت کے تقریباً آخری اجلاس تک خواتین ریزرویشن بل کے ایک ناقص ورژن کو پیش کرنے کے لیے انتظار کیوں کیا، جس سے اسے پارلیامانی کمیٹی کے پاس بھیجنے کا وقت ہی نہیں بچا؟

ستمبر 2023 میں ہی آپ نے ناری شکتی وندن ایکٹ (این ایس وی اے) کے نام سے ایک بل پیش کیا تھا۔ اس خط میں آگے میں اس کے عنوان کے انتخاب پر بات کروں گی۔

کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ آپ کی حکومت آنے والے 2024 کے انتخابات کے دوران اس تنقید سے بچنے کے لیے یہ بل لائی ہے کہ آپ دوسری بار اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں۔ لیکن اصل مقصد اس سے کہیں زیادہ سنگین تھا۔

ناری شکتی وندن ایکٹ کو آرٹیکل 334 اے کے تحت آئینی ترمیم کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن مردم شماری اور حد بندی مکمل ہونے کے بعد ہی نافذ ہوگا۔

خواتین تنظیموں نے اس تعلق کی سخت مخالفت کی۔ ہم نے دلیل دی کہ خواتین ریزرویشن کا مردم شماری یا حد بندی سے کوئی تعلق نہیں ہے، 2024 کے انتخابات میں خواتین کو ریزرویشن کے حق سے محروم کر دیا جائے گا، اور تیسری بات یہ کہ یہ عمل کب مکمل ہوگا اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

پارلیامنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے ان میں سے کئی موضوع اٹھائے۔ آپ نے اور مرکزی وزیر داخلہ نے 2029 کے انتخابات تک مردم شماری اور حد بندی مکمل ہونے کی ’ضمانت‘دی۔ بل منظور ہو گیا، لیکن آپ کی کسی بھی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا گیا۔

مودی جی، اس کی قیمت خواتین کو چکانی پڑی۔

اگر آپ نے ریزرویشن کے مسئلے پر زور نہ دیا ہوتا اور 2010 کا وہ بل پیش کیا ہوتا، جس کے لیے آپ کی اپنی پارٹی نے اس وقت ووٹ دیا تھا، تو آج لوک سبھا میں 180 خواتین ہوتیں۔ اس کے بجائے ان کی تعداد گھٹ کر صرف 74 رہ گئی ہے، جو 2019 سے بھی کم ہے۔

اس دوران دس اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ ایک تہائی کے بجائے ان کی نمائندگی 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ آپ کی آبائی ریاست گجرات میں 182 اسمبلی نشستوں میں سے 2022 کے انتخابات میں صرف 15 خواتین منتخب ہوئیں، یعنی تقریباً 8 فیصد۔

پارلیامنٹ میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود آپ نے اس بل کو منظور کرنے سے انکار کر دیا جسے فوری طور پر نافذ کیا جانا تھا۔ یہ دوسرا دھوکہ تھا، مودی جی۔

اہم ریاستی انتخابات کے درمیان گزشتہ 16 اپریل کو آپ نے خواتین ریزرویشن کے مسئلے پر نئے آئینی ترامیم منظور کروانے کے لیے پارلیامنٹ کے اجلاس کو آگے بڑھا دیا۔ اپوزیشن جماعتوں سے کوئی پیشگی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی خواتین تنظیموں سے کوئی رائے لی گئی۔ آئینی ترامیم ایوان میں مسترد ہو گئیں۔

سال2011کی پرانی مردم شماری کی بنیاد پر حد بندی کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے خواتین ریزرویشن کے مسئلے کا استعمال کرنے کی آپ کی چال ناکام ہو گئی۔ اب یہ واضح ہے کہ آپ کی حکومت نے جان بوجھ کر مردم شماری کا عمل شروع نہیں کیا کیونکہ آپ نے یہ سازش پہلے سے تیار کر رکھی تھی۔ مودی جی، یہ آپ کا تیسرا دھوکہ ہے۔

آپ پارلیامنٹ میں نشستوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنا چاہتے تھے۔ اپنی تقریر میں آپ نے کہا،’ناری شکتی وندن ترمیم کسی سے کچھ چھیننے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ہر کسی کو کچھ دینے کے بارے میں تھا، یہ دینے سے متعلق ترمیم تھی۔‘

دوسرے لفظوں میں، سیاست میں پدرشاہی کو چیلنج نہیں کیا جانا چاہیے، مردوں کو اقتدار میں رہنے دیا جائے، ان کی تعداد بڑھنے دی جائے-خواتین ان کی معاون ہو سکتی ہیں۔

آپ نے اپنی ہی پارٹی میں ان جاگیردارانہ اور ذات پات کے حامی سرداروں کے ساتھ سمجھوتہ کیا، جو اپنی جاگیریں چلاتے ہیں اور خواتین ریزرویشن کے سب سے بڑے مخالف رہے ہیں۔ نشستوں میں اضافہ سے  انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ، منو وادی نظریہ واضح ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 2011 کی مردم شماری کا استعمال کر کے آپ دلت اور آدی واسی خواتین کو ان کے لیے مخصوص نشستوں میں اُن کے جائز حصے سے محروم کر دیں گے؟ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی آبادی 2001 اور 2026 کے درمیان بڑھی ہے، اس لیے ان کی نشستوں کا تناسب بھی بڑھنا چاہیے۔ لیکن آپ کی تجویز نے انہیں اس حق سے محروم کر دیا۔

اور آخر میں، آئیے حد بندی اور نشستوں میں اضافے کے مسئلے پر آتے ہیں۔ اس پر الگ سے بحث ہونی چاہیے۔ ریاستوں کی آبادی متناسب نشستوں کی بنیاد نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس سے ریاستوں کو ان کی ترقی کے لیے سزا دی جائے گی۔ تو پھر بنیاد کیا ہو سکتی ہے؟ اس پر بحث اور مشاورت ہونی چاہیے۔ ویسے بھی، اس کا خواتین  ریزرویشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خواتین خوش ہیں کہ خواتین  ریزرویشن کے مسئلے پر آپ کی ہیرا پھیری ناکام رہی۔ آپ اپوزیشن پر ’کنیا بھروُن ہتیا یعنی مادہ جنین کےقتل‘کا الزام لگا رہے ہیں، جس کے لیے انہیں ’سزا ملے گی‘۔ مودی جی، اپنے لفظوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔ اگر آپ کو ایسی نامناسب تشبیہات پیش کرنی ہی ہیں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اصل میں حقیقی جنین نہیں تھا ۔

سال2010 کے ریزرویشن بل کی صورت میں ایک مکمل ’وجود‘تھا، جس کے لیے آپ کی پارٹی نے ووٹ دیا تھا۔ آپ نے اس وجود کو دفن کر دیا۔ اگر کوئی گناہ ہے، تو وہ یہی ہے۔

خواتین آپ کی حکومت کے مسلسل دھوکوں سے تنگ آ چکی ہیں۔ اسے ’وندن‘نہ کہیں۔ ہم عزت نہیں بلکہ حقوق مانگ رہے ہیں۔ ہماری مانگ اس کامل یقین پر مبنی ہے کہ پارلیامنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی آئینی طور پر لازمی شرکت میں اضافہ ہندوستان میں جمہوریت کو مضبوط کرے گا۔

ہم ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، جسے آپ ٹالنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ ہندوستان کی ذات پات کی عدم مساوات کی حقیقت کو دستاویزی طور پر درج کر کے ناقابل تردید اعداد و شمار کے ذریعے حل نہیں کرنا چاہتے۔

اور پلیز، مودی جی، ہمارے لیے آنسومت بہائیے-بس وہی کیجیے جو آپ کو 2014 میں کرنا چاہیے تھا: خواتین ریزرویشن بل کو بغیر کسی شرط کے پارلیامنٹ کے اگلے اجلاس میں پیش کیجیے تاکہ اسے اگلے انتخابات میں نافذ کیا جا سکے۔ ہمیں کارروائی  چاہیے، دکھاوا نہیں۔

مخلص،
برندا کرات

برندا کرات سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈرہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔