انقلابی شاعر پاش کو 23 مارچ 1988 کو خالصتانی دہشت گردوں نے محض 37 سال کی عمر میں قتل کر دیا۔ عجب اتفاق ہے کہ ان کی شہادت ان کے نظریاتی ہیرو شہید بھگت سنگھ کی برسی کے دن ہوئی۔

اوتار سنگھ سندھو ‘پاش’۔ (تصویر بہ شکریہ:خواب تنہا کلیکٹو)
پاش (اوتار سِنگھ سندھُو) 9 ستمبر 1950 کو جالندھر کے قریب تلونڈی سلیم میں پیدا ہوئے۔ وہ انتہائی کم عمری میں بائیں بازو کے کارکن بن گئے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’لو کتھا’ 1970 میں (صرف 20 سال کی عمر میں) اس وقت شائع ہوا، جب وہ جیل میں تھے۔
ان کا دوسرا مجموعہ’اڈدے بازاں مگر’ 1974 میں اور ان کی زندگی کا آخری مجموعہ ‘ساڈے سمیاں وچ’1978میں شائع ہوا۔
وہ اپنی اہلیہ راجوِیندر اور اکلوتی بیٹی ونکل کے ساتھ امریکہ چلے گئے تھے۔ 23 مارچ 1988 کو خالصتانی دہشت گردوں نے انہیں محض 37 سال کی عمر میں قتل کر دیا۔
یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان کی شہادت ان کے نظریاتی ہیرو شہید بھگت سنگھ کی برسی کے دن ہوئی۔
ان کی وفات کے بعد ان کے غیر مطبوعہ کلام کو امرجیت چندن نے ‘کھلارے ہوئے ورقے’ کے نام سے شائع کیا۔
پاش نے تقریباً 200 نظمیں لکھیں، اس کے علاوہ نثری کام، خطوط، اور عقلیت پسندی پر مضامین بھی شامل ہیں۔
پروفیسر چمن لال نے ان کی مکمل شاعری کا ہندی میں ترجمہ کیا ہے، جس کے لیے انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا، حالاں کہ انہوں نے عقلیت پسند ادیبوں کے قتل کے خلاف احتجاجاً یہ ایوارڈ واپس کر دیا۔
پاش کی نظمیں اردو سمیت کئی زبانوں (تیلگو، ملیالم، بنگالی، انگریزی) میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور انہیں ہندوستان کے بڑے انقلابی شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دی وائر کے لیے ڈاکٹر معروفہ کوثر اور پروفیسر چمن لال نے پاش کے پہلے مجموعہ’لو کتھا’ کی ابتدائی چار نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور نظم’طوفانوں نے… ‘جو 1980میں عصری ادب میں شائع ہوئی تھی، کا ترجمہ قیصر شمیم اور چمن لال (سی سی آئی، جے این یو کے طلبہ) نے کیاتھا، جسے شکریے کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔
بھارت
میری توقیر کا سب سے عظیم لفظ
جہاں کہیں بھی استعمال ہو
باقی سارے لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں
اس لفظ کی مراد
کھیتوں کے اُن بیٹھوں سے ہے
جو آج بھی درختوں کے سائے کے ساتھ
وقت ناپتے ہیں
اُن کے پاس پیٹ کے سوا کوئی مصلح نہیں
اور وہ بھوک لگنے پر
اپنے عضو بھی چبا سکتے ہیں
اُن کے لیے زندگی ایک روایت ہے
تو موت کے معانی ہیں رہا ہونا
جب بھی کوئی شمولیاتی ہند کی قومی یکجہتی کی بات کرتا ہے
تب میرا دل چاہتا ہے
اُس کی ٹوپی ہوا میں اچھال دوں
اُس کو بتاؤں کہ بھارت کا مطلب
کسی دشینت سے نہیں جڑا،
بلکہ کھیتوں میں درج ہے
جہاں محنتوں کا سونا لوٹ لیا جاتا ہے
بیداوا
تیرے آبا و اجداد کے نشے میں
وہ تجھے بیداوا لکھ گئے ہیں
ماچھیواڑا
اُنھوں کے رخ پر اگ آیا ہے
اور آئے روز جوویں
وہاں ظفر نامہ لکھتی ہیں
وہ نو مہینوں میں
دو سو ستر صاحبزادوں کا روپ اختیار کرتے ہیں
اور کوئی نہ کوئی چمکور ڈھونڈ کر
ان کو شہید کا رتبہ دلا دیتے ہیں
اورنگزیب کی شیطان روح نے
لعل قلعے کے مینار
اشوک چکر تک رسائی حاصل کر لی ہے
اور ان کے مشترکہ فرنٹ کے حضور
دلی کی وفاداری کی قسم کھائی ہے
اگر وہ جنوب کو جائیں بھی
تو شیو جی کو نہیں
شیوا جی گنیش کو ترتیب دینے جاتے ہیں
خنجر ان کے پہلو میں
سفر بھتہ بن کر اٹکتی ہے
انھوں نے ملک بھر کی چڑیوں کو
اشتہاری ملزم قرار دیا ہے
مگر گورو وہ سنگھ کون ہیں؟
جنھوں نے بیداوا نہیں لکھا
اور آج بھی ہر زنداں
ہر انٹیروکیشن مرکز کو
سرہند کی دیوار
اور انند پور صاحب کا قلعہ مانتے ہیں
وہ ہڑھیائی سرسہ میں سے چھلانگ لگا کر
تیرے گرنتھ ڈھونڈنے گئے ہیں
اے گورو وہ سنگھ کون ہیں
جہنوں نے بیداوا نہیں لکھا
لوہا
آپ لوہے کی کار کا لطف اٹھا تے ہیں
میرے پاس لوہے کی بندوق ہے
میں نے لوہا کھایا ہے
آپ لوہے کی بات کرتے ہیں؟
لوہا جب پگھلتا ہے
تب بھاپ نہیں نکلتی
جب کٹھالی اٹھانے والوں کے دلوں سے بھاپ نکلتی ہے
تب لوہا پگھل جاتا ہے
پگھلے ہوئے لوہے کو
کوئی بھی صورت
دی جا سکتی ہے
کٹھالی میں ملک کی تقدیر موجود ہوتی ہے
یہ میری بندوق
تمھارے بنکوں کی شمشیر
اور پہاڑوں کو اکھاڑنے والی مشینیں
سب لوہے کی ہیں
شہر سے بیاباں تک ہر فاصلہ
بہن سے طوائف تک ہر احساس
مالک سے ماتحت تک ہر رشتہ
بل سے قانون تک ہر سفر
لوٹو نظام سے انقلاب تک ہر تاریخ
جنگل، جھونپڑی اور حجروں سے قید خانہ تک
ہر مقام، سب لوہے کے ہیں
لوہے نے بہت دیر انتظار کیا ہے
کہ لوہے پر منحصر لوگ
لوہے کے ٹکڑے کھا کر
خودکشی کرنے سے باز آ جائیں
مشینوں میں پھنس کر روئی کی طرح اڑنے والے
لاوارثوں کی بیوائیں
لوہے کی کرسیوں پر بیٹھے وارثوں کے پاس
کپڑے تک خود اتار نےکو مجبور نہ ہوں
پر آخر لوہے کو
پستول، بندوقوں اور بم کی شکل اختیار کرنی پڑی ہے
آپ لوہے کی چمک میں ڈھل کر
اپنی بیٹی کو بیوی سمجھ سکتے ہو
لیکن میں لوہے کی آنکھ سے
دوستوں کے نقاب میں چھپے دشمن پہچان سکتا ہوں
کیونکہ میں نے لوہا کھایا ہے
آپ لوہے کی بات کرتے ہیں
سچ
آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے
سچ کو کوئی فرق نہیں پڑتا
اِن زخمی اعضاء نے ایک سزا کاٹی ہے
اور ہر سچ سزا کاٹنے کے بعد
ایک عہد میں بدل جاتا ہے
اور یہ عہد اب کھیتوں کے مِلوں میں ہی نہیں
افواج کی قطاروں میں پھیل رہا ہے
کل جب یہ عہد
لال قلعہ پر سیٹیوں کا تاج پہن کر،
وقت کی سلامی لے گا
تو تمہیں سچ کے اصل معانی سمجھ آئیں گے
اب ہماری تکرار پسند ذات کو
اس عہد کی فطرت تو چاہے پوچھ سکتے ہو
یہ کہہ دینا
کہ حُجروں میں پِس رہا سچ
کوئی چیز نہیں
کتنا بڑا سچ ہے؟
آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے،
سچ کو کوئی فرق نہیں پڑتا
طوفاں نے کبھی مات نہیں کھائی
ہوا کا رخ بدلنے سے
بہت ناچے بہت اُچھلے
جن کے شامیانے ڈول چکے تھے
انھوں نے اعلان کر دیا
کہ درخت اب شانت ہو گئے ہیں
کہ اب طوفاں کا دم ٹوٹ چکا ہے
جیسے کہ جانتے نہ ہوں
اعلانوں کا طوفانوں پر
کوئی اثر نہیں ہوتا
جیسے کہ جانتے نہ ہوں
وہ امس بہت گہری تھی
جہاں سے طوفان پیدا ہوا
جیسے کہ جانتے نہ ہوں
طوفاں کی وجہ
درخت ہی نہیں ہوتے
بلکہ وہ ٹھونٹھ ہوتا ہے
جو دھرتی کے مکھڑے کو
رول دیتا ہے
سنواے بھرم کے بیٹو
ہوانے دِ شاہد لی ہے
ہوا بند ہو نہیں سکتی
جب تک دھرتی کا مکھڑا
مہک کر گلزار نہیں ہوتا
تمہارے شامیانے
آج گرے
کل گرے -گرے کہ گرے
طوفاں نے کبھی مات نہیں کھائی
