سہراب الدین شیخ کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسران سمیت 22 افراد کو اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ سہراب الدین کے بھائیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔

نئی دہلی: بامبے ہائی کورٹ نے جمعرات (7 مئی) کو 2005 کے سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس میں گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش کے 21 پولیس اہلکاروں اور ایک شہری کو 2018 میں دی گئی بریت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
سہراب الدین شیخ کے بھائیوں رباب الدین شیخ اور نایاب الدین شیخ نے اپریل 2019 میں ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ نےا ن کی اپیل کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
سہراب الدین شیخ کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسران سمیت 22 افراد کو اس کیس میں بری کر دیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس چندر شیکھر اور جسٹس گوتم انکھڈ کی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’ اپیلیں خارج کی جاتی ہیں۔‘
شیخ بھائیوں کی جانب سے وکیل گوتم تیواری نے دلیل دی کہ مقدمے کی شنوائی ’غیر منصفانہ‘ تھا اور بری کیے جانے کا فیصلہ ’ کسی ٹھوس بنیاد کے بغیر ‘ دیا گیا۔
دوسری جانب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انل سنگھ، سی بی آئی کے وکیل کلدیپ پاٹل اور سینئر وکیل امت دیسائی (جو سابق گجرات اے ٹی ایس انسپکٹر نارائن سنگھ ڈابی کی طرف سے پیش ہوئے تھے- نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ منصفانہ اور منطقی تھا۔
گجرات اور راجستھان پولیس پر الزام تھا کہ انہوں نے 26 نومبر 2005 کی صبح احمد آباد میں نارول سرکل اور وشالا سرکل کے درمیان مبینہ گینگسٹر سہراب الدین شیخ کا فرضی انکاؤنٹر کیا تھا۔ اس کے علاوہ 28 دسمبر 2006 کی صبح گجرات کے امباجی میں تلسی رام پرجاپتی کا بھی مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر کیا گیا تھا۔
پولیس اہلکاروں پر سہراب الدین کی اہلیہ کوثر بی کے غائب ہونے اور قتل کا بھی مقدمہ چلا۔ الزام تھا کہ 27 نومبر 2005 کو انہیں جلا کر مار دیا گیا اور 28 نومبر کو ان کی لاش گجرات کے گاؤں الول میں، جو نرمدا ندی کے کنارے واقع ہے، ٹھکانے لگا دیا گیا ۔
شروعات میں اس کیس کی تحقیقات گجرات اے ٹی ایس اور سی آئی ڈی (کرائم) نے کی تھیں، لیکن 2010 میں سپریم کورٹ نے یہ کیس سی بی آئی کو منتقل کر دیا اور ٹرائل ممبئی کی خصوصی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔
سال 2014 سے 2017 کے درمیان خصوصی عدالت نے 16 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جن میں اس وقت کے گجرات کے وزیر امت شاہ، سینئر آئی پی ایس افسر دنیش ایم این، راجکمار پانڈین، ڈی جی ونجارااور راجستھان کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ شامل تھے۔
سوگواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے
جمعرات کو جن افراد کی بریت کے فیصلے کو ہائی کورٹ نے برقرار رکھا، ان میں گجرات کے ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک راجندر جیراوالا بھی شامل تھے۔ سی بی آئی کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ ان کا گیسٹ ہاؤس پولیس نے سہراب الدین اور کوثر بی کو رکھنے کے لیے استعمال کیا تھا، یعنی انہوں نے ان کی غیر قانونی حراست میں مدد کی۔
اخبار کے مطابق، مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے سہراب الدین کے بھائیوں نے کہا کہ ان کے بھائی اور بھابھی کی موت کا خسارہ کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کی جانب سے سی بی آئی نے بریت کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ سی بی آئی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو قبول کر لیا تھا، اسی لیے اپیل نہیں کی گئی۔ وہیں،امت دیسائی نے بھی دلیل دی کہ بریت کا فیصلہ پوری طرح سے سوچ سمجھ کر اور مضبوط شواہد کی بنیاد پر دیا گیا تھا، اور کسی بھی مجرمانہ سازش کو ثابت کرنے والا کوئی ثبوت نہیں تھا۔
خصوصی جج ایس جے شرما نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی بی آئی نے کیس کی تفتیش ’ پہلے سے طے شدہ نظریے اور اسکرپٹ‘کے تحت کی، جس کا مقصد کسی طرح سیاسی رہنماؤں کو پھنسانا تھا۔
مقدمے کے دوران تقریباً 100 گواہ اپنے پہلے دیے گئے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے۔ خصوصی عدالت نے ان کے بدلے ہوئے بیانات کو سچ مانااور کہا کہ سی بی آئی نے ان کے ابتدائی بیانات غلط طریقے سے ریکارڈ کیے تھے۔
حالاں کہ، بھائیوں کی اپیل میں کہا گیا تھا کہ خصوصی عدالت کے جج کے ’تبصرے اور نتائج‘دستیاب شواہد کے بالکل برعکس تھے،’غیر منطقی‘تھے اور’بے بنیاد مفروضوں اور شواہد کی غلط تشریح‘پر مبنی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انصاف کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہائی کورٹ کی مداخلت ضروری تھی۔
کچھ ملزمان کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیلوں نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی اس دلیل سے اتفاق کیا۔
کیا ہے معاملہ
سال2005میں ہوئے اس مبینہ انکاؤنٹر معاملے میں 22 لوگ مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں۔اس معاملے پر خاص نگاہ رہی ہے کیونکہ بی جے پی صدر امت شاہ ملزمین میں شامل تھے۔ حالانکہ، ان کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعے 2014 میں بری کر دیا گیا تھا۔ شاہ ان واقعات کے وقت گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔ مقدمہ کے دوران استغاثہ فریق کے قریب 92 گواہ مُکر گئے۔
دسمبر 2018 میں آخری دلیلیں پوری کیے جانے کے بعد سی بی آئی معاملوں کے خصوصی جج ایس جے شرما نے کہا تھا کہ وہ 21 دسمبر کو فیصلہ سنائیںگے۔ زیادہ تر ملزم گجرات اور راجستھان کے پولیس افسر ہیں۔
عدالت نے سی بی آئی کے چارج شیٹ میں نامزد 38 لوگوں میں 16 کو ثبوت کے فقدان میں بری کر دیا ہے۔ ان میں امت شاہ، راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ، گجرات پولیس کے سابق چیف پی سی پانڈے اور گجرات پولیس کے سابق سینئر افسر ڈی جی ونجارا شامل ہیں۔
سی بی آئی کے مطابق دہشت گردوں سے مبینہ طور پرتعلق رکھنے والے سہراب الدین شیخ، اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے معاون تلسی رام پرجاپتی کو گجرات پولیس نے ایک بس سے اس وقت اغوا کر لیا تھا، جب وہ لوگ 22 اور 23 نومبر 2005 کی درمیانی رات حیدر آباد سے مہاراشٹر کے سانگلی جا رہے تھے۔
سی بی آئی کے مطابق شیخ کا 26 نومبر 2005 کو احمد آباد کے پاس مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی بیوی کو تین دن بعد مار ڈالا گیا۔
سال بھر بعد 27 دسمبر 2006 کو پرجاپتی کا گجرات اور راجستھان پولیس نے گجرات-راجستھان سرحد کے پاس چاپری میں مبینہ فرضی تصادم میں گولی مارکر قتل کر دیا گیا تھا۔
سہراب الدین انکاؤنٹر
22 نومبر 2005: حیدر آباد سے بس سے سانگلی لوٹنے کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے ان کو روککر پوچھ تاچھ کی اور حراست میں لے لیا۔ شیخ اور اس کی بیوی کو ایک گاڑی میں رکھا گیا جبکہ پرجاپتی دوسری گاڑی میں۔
بائیس (22 )سے 25 نومبر 2005: شیخ اور کوثر بی کو احمد آباد کے پاس ایک فارم ہاؤس میں رکھا گیا۔ پرجاپتی کو ادےپور بھیجا گیا جہاں اس کو سماعت کے لئے ایک جیل میں رکھا گیا۔
26 نومبر 2005: گجرات اور راجستھان پولیس کی مشترکہ ٹیم نے مبینہ فرضی تصادم میں شیخ کو مار دیا۔
29 نومبر 2005: کوثر بی کو بھی پولیس نے مبینہ طور پر قتل کر دیا۔ اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔
27 دسمبر 2006: راجستھان اور گجرات پولیس کی مشترکہ ٹیم پرجاپتی کو ادےپور سینٹرل جیل سے لےکے آئی اور گجرات-راجستھان سرحد پر سرحد چھپری کے پاس ایک تصادم میں مبینہ طور پر مار دیا۔
سال 2005-2006 :شیخ فیملی نے تصادم معاملے میں تفتیش کے لئے عدالت عظمیٰ کا رخ کیا اور کوثر بی کا پتہ مانگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ گجرات ریاست سی آئی ڈی کو معاملے میں تفتیش شروع کرنے کی ہدایت دی۔
30 اپریل 2007: گجرات حکومت نے عدالت عظمیٰ میں رپورٹ پیش کر بتایا کہ کوثر بی کی موت ہو گئی ہے اور اس کی لاش کو جلا دیا گیا ہے۔
جنوری 2010: عدالت عظمیٰ نے معاملے کی تفتیش کا ذمہ سی بی آئی کو سونپا۔
23 جولائی 2010: سی بی آئی نے معاملے میں گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ، راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ اور سینئر آئی پی ایس افسروں سمیت 38 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا۔
25 جولائی 2010: سی بی آئی نے معاملے میں امت شاہ کو گرفتار کیا۔
27 ستمبر 2012: عدالت عظمیٰ نے سہراب الدین شیخ-کوثر بی کے مبینہ تصادم معاملے میں سماعت گجرات سے ممبئی منتقل کیا اور سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تفتیش کرنے کو کہا۔
30 دسمبر 2014: ممبئی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے معاملے سے امت شاہ کو بری کر دیا۔ اس کے بعد معاملے میں کٹاریہ اور سینئر آئی پی ایس افسروں سمیت 15 ملزمین کو بھی بری کر دیا گیا۔
نومبر 2015: شیخ کے بھائی رباب الدین نے معاملے میں امت شاہ کی رہائی کو چیلنج کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ اسی مہینے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ معاملے میں سماعت آگے نہیں بڑھانا چاہتے اس لئے وہ اپنی عرضی واپس لینا چاہتے ہیں۔
اکتوبر 2017: ممبئی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 22 ملزمین کے خلاف الزام طے کئے۔
نومبر 2017: سی بی آئی کے خصوصی جج ایس جے شرما نے معاملے میں سماعت شروع کی۔ استغاثہ فریق نے 210 لوگوں کی گواہی لی جن میں سے 92 مُکر گئے۔
ستمبر 2018: ممبئی ہائی کورٹ نے سینئر پولیس افسروں ڈی جی ونجارا، راج کمار پانڈین، این کے امین، وپل اگروال، دنیش ایم این اور دلپت سنگھ راٹھوڑ کو بری رکھا۔
05 دسمبر 2018: عدالت نے استغاثہ فریق اور بچاؤ فریق کے وکیلوں کی طرف سے آخری دلیلیں پوری ہونے کے بعد 21 دسمبر 2018 کو فیصلے کے لئے معاملہ بند کر دیا۔
21 دسمبر 2018: استغاثہ فریق کے ذریعے ملزمین کے خلاف الزام طے کرنے میں ناکام رہنے پر عدالت نے معاملے میں سبھی 22 ملزمین کو بری کر دیا۔