کرناٹک حجاب معاملہ: سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے مختلف، معاملہ سی جے آئی کو بھیجا گیا

سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کر دیا، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا اور حجاب پہننا بالآخر اپنی پسند کا معاملہ ہے، اس سےکم یا زیادہ کچھ اور نہیں۔

سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کر دیا، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا اور حجاب پہننا بالآخر اپنی پسند  کا معاملہ ہے، اس سےکم  یا زیادہ  کچھ اور نہیں۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر لگی پابندی کو ہٹانے سے انکار کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر یکسر مختلف رائے  کا اظہار کیااور اس حساس معاملے کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا تاکہ ایک بڑی بنچ تشکیل دی جاسکے۔

جسٹس ہیمنت گپتا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں  کو خارج کر دیا، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے انہیں قبول کیا اور کہا کہ یہ بالآخر ‘پسند کا معاملہ’ ہے۔

واضح ہو کہ پابندی ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ‘لازمی مذہبی عمل’ کا حصہ نہیں ہے۔

بنچ کی سربراہی کر رہے جسٹس گپتا نے  26 عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے شروع میں کہا کہ اس معاملے پر مختلف آراء ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس فیصلے میں 11 سوالات  تیار کیے ہیں۔

اپنے فیصلے میں، جسٹس دھولیا نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا اور حجاب پہننا بالآخر ‘پسند کا معاملہ ہے، اس سے کم یا زیادہ کچھ اورنہیں۔’

انہوں نے کہا، میرے فیصلے میں بنیادی طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میری رائے میں لازمی مذہبی طریقوں کا یہ پورا تصور تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ضروری نہیں تھا۔ عدالت نے شاید اس تناظر میں غلط راستہ اختیار کیا۔ یہ بنیادی طور پر آرٹیکل 19(1) (اے)، اس کے نفاذ اور بنیادی طور پر آرٹیکل 25(1) کا سوال تھا۔ یہ بالآخر پسند کا معاملہ ہے، اس سے کم یا زیادہ کچھ اورنہیں۔

جسٹس دھولیا نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرتے وقت انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کو ذہن میں رکھا تھا۔

انہوں نے کہا، یہ سب کو معلوم ہے کہ دیہی علاقوں اور نیم شہری علاقوں میں لڑکیوں کو پہلے ہی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، تو کیا ہم ان کی زندگی بہتر بنا رہے ہیں ، یہ سوال بھی  میرے ذہن میں تھا۔

جسٹس گپتا نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے فیصلے میں 11 سوالات تیار کیے ہیں۔ انہوں  نے ان سوالات کو پڑھ کر سنایا۔ ان میں یہ سوالات شامل تھے کہ آرٹیکل 25 کے تحت صواب دید اور مذہب کی آزادی کے اختیار کا دائرہ کیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ضروری  مذہبی رواج کے اختیار کا دائرہ کیا ہے۔

سوال کو پڑھتے ہوئے جسٹس گپتا نے کہا، کیا آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی حق اور آرٹیکل 21 کے تحت پرائیویسی کا حق یکسر مختلف ہیں یا وہ ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے فیصلے میں ایک اور سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا حجاب پہننا ایک لازمی مذہبی عمل سمجھا جاتا ہے اور کیا طالبات اسکول میں حجاب پہننے کے حق کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔

جسٹس گپتا نے کہا، میرے خیال سے ان تمام سوالات کے جواب درخواست گزاروں کے خلاف ہیں۔ میں عرضیوں کو خارج کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔

جسٹس دھولیا نے کہا کہ انہوں نے ریاستی حکومت کے 5 فروری 2022 کے اس حکم کو رد کر دیا ہے جس کے ذریعے اسکولوں اور کالجوں میں مساوات، سالمیت اور امن عامہ کو خراب کرنے والے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق، چونکہ دونوں ججوں میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا، اس لیے اب یہ معاملہ چیف جسٹس یو یو للت کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

بنچ نے ہدایت دی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان عرضیوں کو ایک مناسب لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ حجاب کو لے کر یہ تنازعہ سب سے پہلے اُڈپی ضلع کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج میں اس وقت  شروع ہوا تھا، جب دسمبر 2021 میں حجاب پہن کر چھ لڑکیاں کلاس میں آئیں اور انہیں کالج میں داخلے سے روک دیا گیا۔ ان کے حجاب پہننے کے جواب میں ہندو طالبعلم بھگوا اسکارف پہن کر کالج آنے لگے  اور آہستہ آہستہ یہ تنازعہ ریاست کے دیگر حصوں تک پھیل گیا، جس سے کئی مقامات پر تعلیمی اداروں میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

فروری میں کرناٹک حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں مساوات، سالمیت اور امن عامہ کی خلاف ورزی کرنے والے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی تھی، جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس تنازعہ کے درمیان ان طالبات نے کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس میں انہیں کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کا حق دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

تعلیمی اداروں میں حجاب پر تنازعہ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے 15 مارچ کو کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے اور اس نے کلاس روم میں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے متعلق مسلم طالبات کی عرضیاں خارج کر دی تھیں  اور ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔

مسلم لڑکیوں نے اس حکم کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس حکم کو اسی دن سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں دائر ایک عرضی میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ نے مذہب کی آزادی اور ضمیر یا صوابدیدکی آزادی کے درمیان فرق میں غلطی کی ہے، جس سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مذہب پر عمل کرنے والے کو صوابدید کا حق حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ، ہائی کورٹ یہ مشاہدہ کرنے میں ناکام رہی ہے کہ حجاب پہننے کا حق پرائیویسی کے حق کے دائرے میں آتا ہے جس کی ضمانت آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت دی گئی ہے۔

درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے سامنے یہ بھی دلیل دی تھی کہ اسلامی حجاب یا اسکارف پہننا عقیدے کا معاملہ ہے اور ایک ضروری مذہبی عمل ہے نہ کہ مذہبی شدت پسندی  کا مظاہرہ۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)