ایران آخر اس مقام تک کیوں پہنچا؟اس کا جواب صرف موجودہ جنگ میں نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی سیاست میں پوشیدہ ہے۔امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کیں، اس کی تیل کی برآمدات محدود کیں، بینکاری نظام تک رسائی ختم کی اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ برسوں سے پابندیوں، ڈالر، بینکاری نظام اور ٹکنالوجی پر اپنی گرفت کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ ایران نے شاید اسی منطق کو الٹ دیا ہے۔

گزشتہ 17 جون 2026 کو ایران کے شہر بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک موٹر بوٹ لنگر انداز جہازوں کے پاس سے گزرتی ہوئی۔ تصویر: امیرحسین خورگوئی / آئی ایس این اے، وایا اے پی
تاریخ میں کبھی کبھی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب جنگ میدان میں نہیں بلکہ نقشوں پر لڑی جاتی ہے۔ توپوں کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر سمندر بولنے لگتے ہیں۔ پہاڑ، دریا، بندرگاہیں اور آبنائیں اچانک محض جغرافیائی اصطلاحات نہیں رہتیں بلکہ طاقت، سیاست اور معیشت کی نئی لغت بن جاتی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر تھوپی گئی حالیہ جنگ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ دنیا اب صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ ان راستوں پر بھی چلتی ہے جہاں سے تیل، گیس، غذائی اجناس، کنٹینر، فائبر آپٹک کیبلیں اور عالمی تجارت گزرتی ہے۔ جس کے پاس ان راستوں کو روکنے، کھولنے یا مہنگا کرنے کی صلاحیت ہے، وہ عالمی سیاست کی رفتار طے کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔
پچھلی کئی دہائیوں سے مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی توجہ کا مرکز ایران کو یورنیم کی افزودگی سے روکنا اور اس کی جوہری بم بنانے کی اہلیت کو سبوتاژ کرنا تھا۔ حالیہ جنگ نے اس کا موقع بھی فراہم کردیا تھا۔
مگر اب سوال یا اصل کہانی ایران کے یورینیم اور اس کی افزودگی کا نہیں رہا۔ بلکہ کیا تہران دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کو اپنی معاشی اور سیاسی قوت کا مستقل ذریعہ بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟
اس جنگ کی شروعات تک شاید ایران کو بھی اپنے اس ہتھیا ر کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔ آبنائے ہرمز اب محض ایران کا نہیں بلکہ پوری عالمی سیاسی ترتیب کا سوال بن گیا ہے۔
چودھویں صدی کے عظیم مسلم مفکر ابن خلدون نے اپنی شہر آفاق کتاب مقدمہ میں لکھا تھا کہ ریاستوں کی قوت صرف فوجوں یا خزانوں سے نہیں بلکہ معاشی وسائل پراختیار سے قائم ہوتی ہے۔
ان کے نزدیک تجارت اور اقتدار ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ ابتدائی اسلامی سلطنت اور بعد میں یورپی اقوام نے اپنا جغرافیائی سیاسی عروج اس وقت حاصل کیا، جب انہوں نے بحری راستوں پر مکمل بالادستی قائم کر لی تھی، جس نے حریف طاقتوں کے راستے مؤثر طریقے سے بند کر دیے۔
ابن خلدون کے نزدیک، ایک مضبوط اور ہیبت ناک بحریہ کبھی بھی محض ایک فوجی اثاثہ نہیں ہوتی؛ بلکہ یہ کسی بھی تہذیب کی متحرک توانائی اور ریاستی صلاحیت کا حتمی مظہر ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہے، تو وہ عالمی تجارت پر اپنی مرضی مسلط کرتی ہے اور بغیر کسی خاص محنت کے اپنی طاقت کا لوہا منواتی ہے۔
ترک سلطنت عثمانیہ کا عروج ہی بحریہ کے کمانڈروں خیر الدین باربروسہ اور اس کے جاں نشین درگوت کا مرہون منت ہے، جنہوں نے بحیرہ روم کو ایک عرصے تک اس سلطنت کا ایک طرح کا صحن بنا لیا تھا۔
صدیوں بعد، یہی حقیقت مشرق وسطیٰ کے اہم سمندری راستوں میں عملاً نظر آ رہی ہے، جہاں حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر کی بندش نے ثابت کردیا کہ عالمی اثر و رسوخ کے وہی قدیم اصول آج بھی برقرار ہیں۔
ابن خلدون کا پورا فلسفہ تاریخ ہمیں یہی سمجھاتا ہے کہ جغرافیہ بذات خود طاقت نہیں بنتا، بلکہ ریاستیں اپنے نظم، اپنی اجتماعی قوت اور اپنی سیاسی حکمت عملی کے ذریعے جغرافیہ کو طاقت میں تبدیل کرتی ہیں۔
آج ایران یہی کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کو دکھا دیا کہ چند میزائل اور ڈرون کس طرح ہزاروں میل دور یورپ کی منڈیوں میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں۔ سینکڑوں تجارتی جہازوں نے نہر سویز کا راستہ چھوڑ کر افریقہ کے جنوبی کنارے، راسِ امید، کا طویل سفر اختیار کیا۔
صرف ایک بحری گزرگاہ میں عدم استحکام نے عالمی سپلائی چین کا توازن بگاڑ دیا۔اسی طرح روس-یوکرین جنگ نے بحیرہ اسود کو صرف جنگی محاذ نہیں بلکہ غذائی سلامتی کے بحران میں تبدیل کر دیا۔ یوکرین کی بندرگاہیں بند ہوئیں تو گندم کی قیمتیں ایشیا اور افریقہ تک متاثر ہوئیں۔
دوسری طرف تائیوان کی آبنائے میں چین اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی نے دنیا کو یاد دلایا کہ سیمی کنڈکٹر چِپس کی عالمی صنعت بھی چند سمندری راستوں کی سلامتی پر منحصر ہے۔
گویا اکیسویں صدی کی جنگوں نے ایک نئی حقیقت آشکار کر دی ہے۔اب جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ سپلائی چین، بندرگاہوں، بحری راستوں، فائبر آپٹک کیبلوں، مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز اور توانائی کی ترسیل پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
صدیوں تک آبنائے ہرمز دنیا کے نقشے پر ایک قدرتی سمندری راستہ تھی۔ اس کی اہمیت ضرور تھی مگر اسے کبھی سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان گفت وشنید کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ کیا اس گزرگاہ کی سلامتی، نگرانی یا تحفظ کے بدلے ایرا ن اور عمان کو مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔بظاہر یہ ایک انتظامی یا سکیورٹی تجویز محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات انتہائی دور رس ہیں۔
اگر کسی قدرتی بین الاقوامی آبنائے سے گزرنے کے لیے محصول یا ’سکیورٹی فیس‘وصول کرنے کا اصول تسلیم کر لیا گیا تو پھر دنیا کے تقریباً تمام بڑے بحری راستے نئی کشمکش کا شکار ہو جائیں گے۔
اس کے بعد سوال صرف ہرمز کا نہیں رہے گا بلکہ ایک اندازے کے مطابق 28 ایسی گذر گاہوں جن میں باسفورس، دردانیال، باب المندب، ملاکا، لومبوک، جبل الطارق، تائیوان آبنائے اور انڈیمان و نکوبار شامل ہیں پر بھی پھر اس اصول کا اطلاق ہوسکتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جو عالمی نظام تشکیل دیا گیا، اس کی بنیاد ایک بنیادی اصول پر رکھی گئی تھی کہ بین الاقوامی تجارت کو جغرافیائی رکاوٹوں سے آزاد رکھا جائے۔
اقوام متحدہ کے بحری قوانین اور سمندری روایات اسی تصور کی توسیع تھے کہ قدرتی بحری گزرگاہیں پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں، کسی ایک ریاست کی جاگیر نہیں۔چونکہ نہر سویز اور پاناما کی گذرگاہیں انسانوں کی تعمیر کردہ تھی، وہ اس زمرے میں نہیں آتی ہیں۔
مصر نہر سویز کی تعمیر، دیکھ بھال اور انتظام پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، اس لیے وہاں ٹول وصول کیا جاتا ہے۔ یہی اصول پاناما کینال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ترکیہ باسفورس اور دردانیال پر مکمل انتظامی اختیار رکھتا ہے، لیکن وہ انہیں آمدنی کے مستقل ذریعے میں تبدیل نہیں کرتاہے۔ انڈونیشیا آبنائے ملاکا اور لومبوک کے دہانے پر بیٹھا ہے مگر اس نے کبھی عالمی تجارت کو محصول کے ذریعے یرغمال بنانے کی کوشش نہیں کی۔
ڈنمارک صدیوں سے بالٹک سمندر کے داخلی راستوں کا نگران ہے، مگر وہاں بھی آزاد جہاز رانی کے اصول کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران کی حالیہ سوچ بین الاقوامی قانون سے زیادہ بین الاقوامی روایت کو چیلنج کرتی ہے۔
نہر سویز سے گزرنے والے جہازوں کے حقوق اور آزادانہ آمد و رفت کا بنیادی ڈھانچہ 1888کے قسطنطنیہ کنونشن کے تحت ریگولیٹ ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ نہرِ سویز جنگ اور امن دونوں زمانوں میں تمام ممالک کے تجارتی و جنگی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی۔1956 میں نہر سویز کے قومیائے جانے کے بعد سے’سویز کینال اتھارٹی‘(ایس سی اے)مکمل خود مختاری کے ساتھ اس کے تجارتی معاملات چلاتی ہے۔
یہاں محصول کا حساب کتاب جہاز کی قسم، کارگو کی نوعیت اور اس کے لدے ہونے یا خالی ہونے کے مطابق متحرک طور پر طے ہوتا ہے۔ اس نہر سے گذرنے کے لیے درمیانہ وزن کے جہاز کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو جوڑنے والی پاناما نہرمیں راہداری کے لیے ایک درمیانے درجہ کے عام تجارتی جہاز کو دو لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔
دوسری طرف ترکیہ اسی طرح کی دو آبنائے کو کنٹرول کرتا ہے۔ ایک بحیرہ اسود اور بحیرہ مارمارا کو ملانے والی باسفورس آبی گذرگاہ جو استنبول شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، دوسری درہ دانیال کی سمندری گذرگاہ جو بحیرہ مارمارا کو اسٹریجیٹک لحاظ سے خاصے اہم بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔
سال 1936 کے مونٹروکس کنونشن کے تحت ترکیہ ان گذرگاہوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے محصول و صول نہیں کرسکتا ہے۔ مگر اس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ خدمات کے لیے وہ فیس چارج کرسکتا ہے۔ اس کے علاہ جنگ کی صورت میں جس سے ترکیہ یا اس کے اتحادی متاثر ہوتے ہوں وہ اس گذرگاہ کو بند کرسکتا ہے۔
حالیہ روس- یوکرین جنگ کے وقت مغربی دنیا نے ترکیہ پر روس کے جہازوں پر پابندی لگانے کی مانگ کی تھی، مگر اس نے ہوشیاری کے ساتھ اس کو ٹھکرا کر ماسکو میں اثر و رسوخ حاصل کیا۔ ایک درمیانے حجم کے 10,000 ٹن کے جہاز کو باسفورس اور درہ دانیال سے گزرنے کے لیے تین قانونی خدمات یعنی جہازوں کی سینیٹری انسپکشن، لائٹ ہاوس کی سہولیات اور سمندری بچاؤ کے آپریشنز کے عوض 25ہزار ڈالر بطور فیس ادا کرنے پڑتے ہیں۔
ایران فی الحال سلطنت عمان کو اسی بات پر آمادہ کر وا رہا ہے کہ دونوں مل کر سروسز کے لیے اسی طرح کا کوئی فیس عائد کردیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک گو کہ محصول کے نام پر تلملائیں گے، مگر بوجھل دل کے ساتھ سروسز کے بدلے فیس دینے پر شاید راضی ہوجائیں گے۔
اگر مسقط اور تہران کسی مشترکہ انتظامی فارمولے پر متفق ہوتے ہیں تو ایران کے لیے سفارتی جواز پیدا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ تب تہران یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ وہ یکطرفہ کارروائی نہیں کر رہا بلکہ دو ساحلی ریاستیں مل کر بین الاقوامی جہاز رانی کی حفاظت کے اخراجات پورے کرنا چاہتی ہیں۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایران آخر اس مقام تک کیوں پہنچا؟اس کا جواب صرف موجودہ جنگ میں نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی سیاست میں پوشیدہ ہے۔امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کیں، اس کی تیل کی برآمدات محدود کیں، بینکاری نظام تک رسائی ختم کی اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ برسوں سے پابندیوں، ڈالر، بینکاری نظام اور ٹکنالوجی پر اپنی گرفت کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ ایران نے شاید اسی منطق کو الٹ دیا ہے۔
اس کا پیغام یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالیاتی نظام کو ہتھیار بنایا جا سکتا ہے تو جغرافیہ بھی ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔یہی سوچ آج عالمی سیاست کو ایک نئے دور میں داخل کر رہی ہے۔ حال کی جنگ میں ایران نے بھی یہ پرکھ لیا کہ اگر اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے تو وہ بھی دنیا کی معیشت کی کمزور شہ رگوں پر ہاتھ رکھ سکتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ابن خلدون کی فکر حیرت انگیز طور پر عصر حاضر سے جڑ جاتی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ؛
جب کوئی ریاست اپنے وسائل کو منظم کر کے معاشی برتری حاصل کرتی ہے تو اس کی سیاسی قوت بھی بڑھتی ہے، لیکن جب وہ اسی قوت کو دوسروں پر غلبے کے لیے استعمال کرتی ہے تو ردعمل بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ایران شاید سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ ڈالر کو ہتھیار بنا سکتا ہے، اگر مغرب پابندیوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اگر عالمی مالیاتی ادارے سفارتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بروئے کار آ سکتے ہیں، تو پھر جغرافیہ کیوں نہیں؟
یہ سوال بظاہر منطقی محسوس ہو سکتا ہے، مگر بین الاقوامی نظام کے لیے اس کے نتائج انتہائی پیچیدہ ہوں گے۔کیونکہ اگر جغرافیہ تجارت پر محصول وصول کرنے کا مستقل ذریعہ بن گیا تو پھر ہر طاقتور ساحلی ریاست اپنے اپنے حصے کی دنیا پر دعویٰ کرنے لگے گی۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی طاقتیں سمندر میں صرف بحری بیڑے نہیں بھیج رہیں بلکہ وہ مستقبل کی معیشت کی حفاظت کر رہی ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ امریکہ کاپانچواں بحری بیڑہ بحرین میں موجود ہے، چین بحر ہند میں اپنی موجودگی مسلسل بڑھا رہا ہے، ہندوستان انڈمان و نکوبار کو اپنی بحری حکمت عملی کا مرکز بنا رہا ہے، جبکہ ترکیہ بحیرہ اسود اور مشرقی بحیرہ روم میں اپنے تزویراتی کردار کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ آنے والی جنگیں شاید تیل کے کنوؤں پر نہیں بلکہ ان راستوں پر ہوں گی جہاں سے تیل اور چپس یا لیتھیم گزرتا ہے۔
یہ دور ’جغرافیائی معیشت‘ یا جیو اکنامکس کا ہے، جہاں توپوں سے زیادہ بندرگاہیں، بحری راستے، ریل راہداریاں، ڈیجیٹل کیبلیں، نایاب معدنیات اور تجارتی راہداریوں پر قبضہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
چین کا ’بیلٹ اینڈ روڈ‘منصوبہ اسی فلسفے کی پیداوار ہے۔ہندوستان کا’انڈیا-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری‘اسی سوچ کا اظہار ہے۔
روس کی آرکٹک حکمت عملی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور امریکہ کی’فریڈم آف نیویگیشن‘مہم بھی اسی عالمی مقابلے کا حصہ ہے۔
ابن خلدون نے شاید کبھی تصور بھی نہ کیا ہو کہ ایک دن دنیا کی سب سے بڑی جنگ کسی قلعے، کسی شہر یا کسی سرحد پر نہیں بلکہ ایک سمندری گزرگاہ کے قانونی مفہوم پر لڑی جائے گی۔