اسٹیچیو آف یونیٹی کی نقاب کشائی کے اشتہار پر خرچ ہوئے ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ

آر ٹی آئی درخواست کے تحت ملی جانکاری کے مطابق، حکومت نے الیکٹرانک میڈیا میں کل 26248463روپے اور پرنٹ میڈیا میں 168415 روپے اشتہار پر خرچ کیا۔ The post اسٹیچیو آف یونیٹی کی نقاب کشائی کے اشتہار پر خرچ ہوئے ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ appeared first on The Wire - Urdu.

آر ٹی آئی درخواست کے تحت ملی جانکاری کے مطابق، حکومت نے الیکٹرانک میڈیا میں کل 26248463روپے اور پرنٹ میڈیا میں 168415 روپے اشتہار پر خرچ کیا۔

سردار پٹیل کا مجسمہ(فوٹو : پی ٹی آئی) 

سردار پٹیل کا مجسمہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے اہم پروجیکٹ میں سے ایک اسٹیچیو آف یونیٹی کو تقریباً 3 مہینے پہلے قائم کیا گیا تھا۔اس کو بنانے میں تقریباً 3000 کروڑ روپے کا خرچہ آیا تھا۔اب آر ٹی آئی کے حوالے سے یہ جانکاری سامنے آئی ہے کہ حکومت نے سردار پٹیل کے اس مجسمے کی افتتاحی تقریب کے لیے میڈیا میں تشہیر پر 2.64کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کر دی۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق؛ ممبئی کے آر ٹی آئی کارکن جتن دیسائی نے مجسمے کی نقاب کشائی پر مختلف میڈیا میں اشتہار پر خرچ کی گئی رقم کی جانکاری آر ٹی آئی کے تحت مانگی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کو خط لکھا تھا۔ وزارت کے ‘بیورو آف آؤٹ ریچ اینڈ کمیونیکیشن ‘ محکمے نے 9 جنوری کو بھیجے جواب میں بتایا کہ حکومت نے الیکٹرانک میڈیا میں کل 26248463روپے اور پرنٹ میڈیا میں 168415 روپے اشتہاروں  پر خرچ کیا۔

دیسائی نے کہا،’ اس رقم کو حکومت کے ذریعے مجسمے کی نقاب کشائی پر ہوئے کل خرچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آؤٹ ڈور اشتہار کی جانکاری بیورو کے پاس نہیں ہے۔ اس طرح کی بڑی رقم کو اشتہار اور تقریب پر خرچ کیے جانے کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جب مجسمے کے آس پاس کے لوگ قبائلی اور غریب ہوں۔’

غور طلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سردار پٹیل کی 143 جینتی پر 31 اکتوبر 2018 کو مجسمہ کی نقاب کشائی کی تھی،جو اب دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ ہے۔ گجرات میں وڈودرا سے 100 کیلو میٹر ساؤتھ ایسٹ میں واقع کیوڈیا کے پاس نرمدا ندی پر سردار پٹیل کا 182 میٹر اونچا مجسمہ واقع ہے۔

The post اسٹیچیو آف یونیٹی کی نقاب کشائی کے اشتہار پر خرچ ہوئے ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ appeared first on The Wire - Urdu.

Next Article

الہ آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پرتوڑے گئے مکانات کے مالکان کو دس-دس لاکھ روپےکا معاوضہ دینے کو کہا

ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ان چھ لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جن کے گھر2021 میں غیر قانونی طور پر توڑے گئے تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ یہ واحد راستہ ہے، جس سے حکام ہمیشہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کرنا یاد رکھیں گے۔

نئی دہلی: 1 اپریل کو ایک سخت فیصلے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد، اتر پردیش کی پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو حکم دیا کہ وہ  ان چھ لوگوں کو دس دس  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے ،جن کے مکانات غیر قانونی طور پر گرائے گئے تھے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ‘بلڈوزر جسٹس’ کا دفاع کر رہی ہے، جس میں عام طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جائیدادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

دی وائر نے پہلےرپورٹ کیا تھا  کہ توڑے گئے مکانات میں سے ایک  مکان ریٹائرڈ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی کا تھا۔ یہ کارروائی  ان کے لیے معاشی اور سماجی طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں  نے دی وائر کو بتایا،’میں اسے (مکان) دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکا۔’

پی ڈی اے نے ان کی بیٹی نائلہ فاطمی کے گھر کو بھی مسمار کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وکیل ذوالفقار حیدر اور دیگر دو افراد کی جائیدادوں کو منہدم کر دیا تھا۔

لائیو لاء کے مطابق ، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی قانونی عمل کی خلاف ورزی تھی۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

آئین کا آرٹیکل 21 شہریوں کی زندگی اورشخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور یہ من مانے ڈھنگ سے ذریعہ معاش سے محروم کرنے سے کو روکتا ہے۔

عدالت نے کہا، ‘انتظامیہ اور خاص طور پر ڈویولپمنٹ اتھارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ رہائش کا حق بھی آرٹیکل 21 کا ایک اہم حصہ ہے… چونکہ یہ غیر قانونی توڑ پھوڑآرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے ہم پی ڈی اے کو متاثرین  کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔’

جسٹس اوکا نے کہا، ‘ان معاملوں نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اپیل کنندگان کے گھروں کو زبردستی اور غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا… رہائش کا حق ہوتا ہے، قانونی عمل نام کی  بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ دی وائر کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ فاطمی کو کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں  کہ ان کا گھر کیوں گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی وجہ نہیں ہے، ‘ہم ہاؤس ٹیکس اور پانی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے اس سے قبل 13 نومبر 2023 کو بھی فیصلہ سنایا تھا کہ ‘کسی شخص کے گھر کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے صرف اس لیے گرانا مکمل طور پر غیر آئینی ہے کہ وہ ملزم یا مجرم قرار دیا گیا ہے۔’

نوٹس چسپاں کرنا کافی نہیں

عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ افسران نے صرف گھروں پر نوٹس چسپاں کیا، جبکہ انہیں ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ جسٹس اوکا نے کہا، ‘نوٹس چسپاں کرنے کا یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔’

عدالت نے اس عمل میں سنگین خامیوں کو بھی نوٹ کیا۔وجہ  بتاؤ نوٹس 18 دسمبر 2020 کو اتر پردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسی دن نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے۔ مسمار کرنے کا حکم 8 جنوری 2021 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

ڈاک 1 مارچ 2021 کو بھیجی گئی اور 6 مارچ 2021 کو موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کرنے یا جواب دینے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر، اگلے ہی دن مکانات مسمار کر دیے گئے۔

افسران کو سبق سکھانے کا طریقہ-معاوضہ

عدالت نے کہا، ‘ہم اس پورے عمل (گھر کو مسمار کرنے) کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ متاثرین  کودس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے لیے یہ یاد رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ قانونی عمل کی پیروی کرنا ضروری ہے۔’

اس فیصلے سے واضح  ہے کہ قانون پر عمل کیے بغیر مکان گرانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Next Article

چھتیس گڑھ پولیس نے محمد زبیر کے خلاف پاکسو کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی

چھتیس گڑھ پولیس نے فیکٹ چیکر محمد زبیر کے خلاف  2020 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےپاکسوایکٹ کے تحت درج معاملے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے بعد زبیر نے کہا ہے کہ ‘سچائی کو پریشان کیا جا سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی!’

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

نئی دہلی: چھتیس گڑھ پولیس نے آلٹ نیوز کے فیکٹ چیکراور صحافی محمد زبیر کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی ہے۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کو یہ جانکاری دی۔

یہ کیس  2020 میں زبیر کی طرف سے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹ کے سلسلے میں  درج کیا گیا تھا۔

لائیو لا کے مطابق، چھتیس گڑھ حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس اروند کمار ورما کی بنچ کے سامنے یہ جانکاری دی۔

اب عدالت نے زبیر کی درخواست نمٹا دی ہے، جس میں انہوں نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ ایف آئی آر انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67، تعزیرات ہند کی دفعہ 509بی  اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت درج کی گئی تھی۔

کیاتھا معاملہ؟

زبیر نے ایکس پر 2020 میں جگدیش سنگھ نامی شخص کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے سنگھ سے پوچھا تھا کہ کیا سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کرنا ان کے لیے درست ہے، خاص طور پر جب ان کی پروفائل تصویر میں ان کی پوتی دکھائی دے رہی تھی۔

زبیر نے پوسٹ میں لکھا تھا: ‘ہیلو جگدیش سنگھ، کیا آپ کی پیاری پوتی کو معلوم ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں  دیتے ہیں؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرلیں۔’

اس پوسٹ میں زبیر نے لڑکی کے چہرے کو دھندلا کر دیا تھا،اس کے باوجود جگدیش سنگھ نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے شکایت کی تھی۔

اس کے بعد نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اس سلسلے میں دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھا، جس کے بعد رائے پور پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ زبیر نے اس ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت کا فیصلہ

اکتوبر 2020 میں ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ زبیر کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ 2024 میں، عدالت نے جگدیش سنگھ کو ایکس پر زبیر سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔

زبیر کا بیان

گزشتہ 2 اپریل 2024 کو زبیر نے ایکس  پر لکھا : ‘اس معاملے میں، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے سابق چیئرمین پریانک قانون گو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور میرے خلاف پروپیگنڈہ  چلایا۔ انہوں نے دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ میرا ٹوئٹ ایک نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے والا تھا۔ لیکن گزشتہ سال دہلی کی عدالت نے شکایت کنندہ کو مجھ سے سر عام معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔ اور اب چھتیس گڑھ پولیس نے کلوزر رپورٹ درج کر کے مجھے بے قصور قرار دیا ہے۔’

زبیر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کل 10 ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے اب دو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وہ لکھتے ہیں، ‘سچ پریشان ہو سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ انصاف کی جیت ہوتی  ہے!’

قابل ذکر ہے کہ محمد زبیر نے حکومت اور بی جے پی کے گمراہ کن دعوے کو بے نقاب کرنے والے فیکٹ چیکنگ  رپورٹس شائع کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہندوتوا کے حامیوں اور پروپیگنڈہ چلانے والوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ اتر پردیش پولیس نے ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ دینے والے یتی نرسنہانند سے متعلق پوسٹ کرنے پر بھی ان کے خلاف کیس  درج کیا ہے ۔

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )

Next Article

پارلیامنٹ میں آدھی رات کے بعد بھی بحث، وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا سے پاس

راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کو پاس کرانے کے لیے مسلسل دوسرے دن پارلیامنٹ آدھی رات کے بعد بھی چلی۔ یہ بل 4 اپریل کی رات 2:35 پر منظور کیا گیا، جس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں یہ 3 اپریل کو رات کے 2 بجے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

اپوزیشن کی مخالفت

جمعرات (3 اپریل) کو حزب اختلاف کے کئی ارکان پارلیامنٹ نے کالے کپڑے پہن کر بل کے خلاف احتجاج کیا۔ تاہم، بی جے پی کے اتحادیوں- تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے  راجیہ سبھا میں بھی بل کی حمایت کی۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس (وائی ایس آر سی پی) نے احتجاج  توکیا، لیکن اپنے ارکان پارلیامنٹ کو ووٹ ڈالنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔

بل پر زوردار بحث

لوک سبھا میں بحث بغیر کسی رکاوٹ کے چلی، لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیامنٹ نے اس بل کو ‘مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش’، ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملہ’ اور ‘زمینوں پر قبضے کا منصوبہ’ قرار دیا۔ وہیں، حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ بل وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانے کے لیے لایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ یہ بل غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔’

کانگریس نے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا الزام لگایا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ بی جے پی نے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 میں کی گئی ترامیم کی حمایت کی تھی، لیکن اب اچانک اس کو ‘عوام مخالف’ بتاکر ترمیم کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن وہ صرف 240 سیٹوں پر رہ گئی۔ اب یہ بل لا کر وہ اپنا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان کا سوال- یہ ترمیم کیوں؟

حزب اختلاف کے سینئر رکن پارلیامنٹ کپل سبل نے سوال کیا کہ اس بل میں صرف مسلمانوں کو ہی وقف املاک کو عطیہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ‘اگر میرے پاس جائیداد ہے اور میں اسے خیرات میں دینا چاہتا ہوں تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟’

حکمراں پارٹی نے اس پر اعتراض کیا جب سبل نے یہ بھی کہا کہ ‘ملک میں 8 لاکھ ایکڑ وقف جائیدادیں ہیں، جبکہ صرف چار جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک) میں ہندو مذہبی جائیدادوں کا رقبہ 10 لاکھ ایکڑ ہے۔’

‘حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے’

کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ مدرسوں کی تعلیم، مفت کوچنگ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسی اسکیموں کو بند کر رہے ہیں اور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟’

‘کیا گھروں اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے اس بل کی اس شق کی مخالفت کی جس میں وقف املاک کو عطیہ کرنے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ میں مسلمان ہوں؟ کیا مجھے ٹوپی پہننی ہوگی، داڑھی رکھنی ہے؟ کیا میرے گھر اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

‘کیا یہ بل بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے؟’

راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے غیر مسلموں کو شامل کیا جا رہا ہے تو سیکولرازم کے اس جذبے کو دوسرے مذاہب تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے پوچھا، ‘اگر آپ واقعی سیکولرازم کے اس جذبے کو پورے ملک میں پھیلاتے ہیں اور ہر مذہبی ادارے میں دوسرے مذاہب کو شامل کرتے ہیں – چاہے وہ سکھ، مسلم یا عیسائی ہوں  – تو میں آپ کی تعریف کروں گا۔ یا آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام تجربہ صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ہو گا؟’

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ بل ‘بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے’ کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ بل بلڈوزر کے لیے قانونی ڈھال بنا رہا ہے؟ یہ  بات ایک شہری کے طور پر مجھے ڈراتی ہے۔ شہروں میں مسلمان گھیٹو میں رہنے پر مجبور ہیں، اگر وہ گاؤں میں جاتے ہیں  تو انہیں  درانداز کہاجاتا ہے۔ ان کی تنظیموں کو شک کے دائرے میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ڈاگ-وہسل  کی سیاست کا استعمال کرناٹھیک نہیں ہے۔’

حکومت کا جواب

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور ان کی مداخلت صرف تجاویز تک محدود رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل وقف کونسل کے کل 22 ارکان ہوں گے جن میں سے صرف چار غیر مسلم ہوں گے۔ وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے۔’

‘ بل کارپوریٹس کو وقف املاک فروخت کرنے کا منصوبہ’

کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ‘آپ نے اس بل کا نام ‘امید’ رکھا ہے لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی اب مایوس ہے کیونکہ آپ ان کی زمینیں لوٹ کر کارپوریٹس کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔’

اپوزیشن نے وقف املاک کو بدنام کیا: بی جے پی ایم پی

عآپ کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مسلمانوں کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے اور راجیہ سبھا میں صرف ایک ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لیے یہ قانون لا رہے ہیں، لیکن آپ کی پارٹی میں ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، صرف ایک غلام علی ہیں۔ آپ نے مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کی سیاست ہی ختم کر دی۔ کیا آپ واقعی مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں؟’

بی جے پی کے اکلوتے مسلم ایم پی،غلام علی، جوجموں و کشمیر سے نامزد رکن ہیں،نے آدھی رات کے قریب بل پر بحث میں حصہ لیا اور کانگریس پر وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کرنے کا الزام لگایا جس سے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کیں جن سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش  ہوئی۔’

ترامیم کے خلاف عدالت جائے گی ڈی ایم کے

جمعرات (3 مارچ) کو اسٹالن سیاہ بیج پہنے  اسمبلی پہنچے  اور لوک سبھا میں بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمل ناڈو حکومت اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسٹالن نے ایوان میں کہا ،  ‘ یہ ایکٹ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے ہم آج اسمبلی میں سیاہ بیج لگا کر شرکت کر رہے ہیں ۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ‘اس متنازعہ ترمیم کے خلاف ڈی ایم کے کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی ۔ تمل ناڈو اس مرکزی قانون کے خلاف لڑے گا کیونکہ یہ وقف بورڈ کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ۔’

ڈی ایم کے کا پارلیامنٹ میں احتجاج

راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے ایم پی تروچی شیوا نے بھی حکومت پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

‘ایک مخصوص کمیونٹی کوکیوں نشانہ بنایاجا رہا ہے؟ حکومت کی منشابدنیتی پر مبنی اورقابل مذمت۔وہ ‘سب کاساتھ ، سب کاوشواس ‘ کی بات کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کےبارے میں ان کی پالیسی امتیازی سلوک اورحاشیے پر دھکیلنے کی ہے۔یہ آئین کےخلاف ہے۔

اسٹالن کا وزیر اعظم مودی کو خط

جب لوک سبھا میں اس بل پر بحث ہو رہی تھی،اسی دوران  سی ایم  اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی ۔

انھوں نے لکھا، ‘ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق دیتا ہے اور اس حق کی حفاظت کرنا منتخب حکومتوں کا فرض ہے ۔ لیکن مجوزہ ترمیم اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتی ہے ۔اس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔’

تمل ناڈو اسمبلی میں بل کے خلاف تحریک

اسٹالن نے 27 مارچ کو تمل ناڈو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ، جس میں اس بل کو ملک اور مسلم کمیونٹی کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )