کالج اور یونیورسٹی پورا وندے ماترم گانے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں:  یو جی سی

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن  نے وزارت داخلہ کی جانب سے اس سال 28 جنوری کو قومی گیت وندے ماترم کے گانے سے متعلق ہدایت  کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو اس پر سختی سے عمل کرنے کو کہا ہے۔ وزارت کی ہدایات میں مخصوص مواقع پر وندے ماترم کے پورے چھ بند گانے کو کہا گیا ہے۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن  نے وزارت داخلہ کی جانب سے اس سال 28 جنوری کو قومی گیت وندے ماترم کے گانے سے متعلق ہدایت  کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو اس پر سختی سے عمل کرنے کو کہا ہے۔ وزارت کی ہدایات میں مخصوص مواقع پر وندے ماترم کے پورے چھ بند گانے کو کہا گیا ہے۔

نئی دہلی: یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو مرکزی حکومت کی اس ہدایت پر سختی سے عمل کرنے کو کہا ہے جس کے تحت مخصوص مواقع پر وندے ماترم کو مکمل طور پر گانے کو کہا گیا ہے۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری نے وزارت داخلہ کے 28 جنوری کے احکامات کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے ’سختی سے عملدرآمد‘کی ہدایت دی ہے۔

اس سلسلے میں یو جی سی نے سوموار (6 اپریل) کو جاری ایک خط میں کہا، ’وزارت داخلہ، حکومت ہند کی جانب سے 28 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے’ہندوستان کے قومی گیت سے متعلق آرڈر‘کی کاپی منسلک ہے۔ تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عمل کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں مناسب ہدایات جاری کریں۔‘

قابل ذکر ہے کہ بنگلہ ادب کےمعرف ادیب بنکم چندر چٹرجی نے 1870 کی دہائی میں سنسکرت آمیز بنگالی میں اس گیت کو تخلیق کیا تھا، جسے سب سے پہلے تحریک آزادی کے دوران اپنایا گیا تھا۔ 1950 میں اس گیت کے پہلے دو بند کو ہندوستان کے قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے اس آرڈر سے پہلے تک وندے ماترم کے حوالے سے کوئی باضابطہ پروٹوکول نہیں تھا۔

غور طلب ہے کہ اس سال جنوری میں حکومت نے وندے ماترم کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی تھیں، جن کے تحت اسے کئی سرکاری تقاریب میں گانا لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، اب قومی گیت کے گانے یا بجانے کے دوران سامعین کو قومی ترانے کی طرح  ہی کھڑے ہونے کی بات کہی گئی۔ اس کے علاوہ کسی بھی تقریب میں یہ چھ بند والا قومی گیت بجانے کا حکم دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے 10 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وندے ماترم اور قومی ترانہ جن گن من کو ایک ساتھ گایا یا بجایا جائے، تو وندے ماترم پہلے پیش کیا جائے گا اور اسے قومی ترانے کے کی طرح ہی احترام دیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے حکم میں ان مواقع اور تقاریب کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں یہ گیت بجایا جانا ہے یا بجایا جا سکتا ہے۔

پہلے زمرے میں وہ مواقع شامل ہیں جہاں ’قومی گیت کا آفیشیل ورژن‘ لازمی بجایا جائے گا، جیسے شہری اعزازات کی تقاریب، صدر جمہوریہ کی سرکاری تقریبات میں آمد اور روانگی، آل انڈیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب سے قبل اور بعد، گورنر یا لیفٹیننٹ گورنر کی سرکاری تقریبات میں آمد اور روانگی، قومی پرچم کی پریڈ، اور دیگر ایسے مواقع جن کے لیے حکومت ہند کی جانب سےخصوصی احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

دوسرے زمرے میں وہ تقریبات شامل ہیں جہاں گیت بجانے کے ساتھ اجتماعی طور پر گایا بھی جائے گا، جیسے پرچم کشائی، ثقافتی پروگرام یا پریڈ کے علاوہ دیگر تقاریب۔

دیگر تقریبات میں صدر جمہوریہ کی کسی سرکاری یا عوامی تقریب میں آمد (سرکاری ریاستی تقریبات کے علاوہ) اور ان کی روانگی سے پہلے کا وقت شامل ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ’جب بھی قومی گیت گایا جائے، تو اس کا آفیشیل ورژن اجتماعی طور پر پیش کیا جائے گا۔‘

تیسرے زمرے میں وہ مواقع شامل ہیں جہاں قومی گیت گایا جا سکتا ہے، جیسے اسکولوں کے پروگرام۔

واضح ہو کہ دسمبر 2025 میں پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں تقریباً 10 گھنٹے تک چلی بحث کی قیادت کی تھی، جس میں اس گیت کی ابتدا اور آزادی کی جدوجہد میں اس کے کردار پر بات کی گئی تھی۔ اس دوران انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے گیت کے اہم بندوں کو ہٹا کر اسے مسخ کر دیا تھا۔