جھنجھنو ضلع کے اسلام پور گاؤں کا نام بدل کر ’شری رام پور‘ رکھنے کے مطالبے کے خلاف گاؤں والوں نے ضلع کلکٹریٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بی جے پی ایم ایل اے راجیندر بھامبو کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں کا نام بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور حکومت اس معاملے پر فرقہ پرست سیاست نہ کرے۔
راجستھان کے جھنجھنو میں اسلام پور گاؤں کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کے خلاف گاؤں والے ضلع کلکٹریٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)
جئے پور:راجستھان میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک ایم ایل اے نے جھنجھنو ضلع کے اسلام پور گاؤں کا نام بدل کر’شری رام پور‘رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے کے بعد گاؤں کے لوگوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔
مظاہرین نے جھنجھنو کے ضلع کلکٹر کو ایک میمورنڈم سونپ کر اسلام پور کا نام بدلنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی۔
اس معاملے اس وقت طول پکڑ کرلیا جب 29 مئی کو وزیر اعلیٰ کے دفتر نے جھنجھنو کے ضلع کلکٹر کو ایک خط بھیج کر اس سلسلے میں رائے طلب کی۔ یہ خط بی جے پی ایم ایل اے راجیندر بھامبو کے 17 فروری کے اس خط کے حوالے سے تھا جس میں انہوں نے اسلام پور کا نام بدل کر’شری رام پور‘کرنے کی سفارش کی تھی۔
بی جے پی ایم ایل اےراجیندر بھامبو نے دی وائر سے کہا، ’بی جے پی کے عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے جذبات بھی یہی ہیں کہ گاؤں کا نام اسلام پور سے بدل کر شری رام پور رکھا جائے، اور اسی لیے میں نے اس کی سفارش کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جھنجھنو اسمبلی حلقہ کے کئی لوگوں اور عوامی نمائندوں کا طویل عرصے سے مطالبہ رہا ہے کہ یہ نام (اسلام پور) آزادی سے پہلے کے دور کا ہے اور موجودہ دور میں اسے تبدیل کرکے شری رام پور کرنا ٹھیک ہوگا۔ میں نے اس کی سفارش کی ہے۔حکومت اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ جلد از جلد اسلام پور کا نام شری رام پور کیا جائے۔
بھامبو نے یہ بھی کہا کہ جھنجھنو ضلع کے انچارج وزیر اور سماجی انصاف و اختیارات کے وزیر اویناش گہلوت بھی پہلے اسلام پور کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
مجوزہ نام کی تبدیلی کے خلاف اسلام پور کے لوگوں نے جمعہ (5 جون) کو جھنجھنو ضلع کلکٹریٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف نعرے بازی کی۔
اسلام پور کے سابق سرپنچ امین منیار نے کہا کہ اس گاؤں کو نواب اسلام خان نے 1451 میں بسایاتھا۔ گاؤں کے لوگوں کے درمیان اس نام پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہم اس معاملے کو فرقہ وارانہ نہیں بننے دیں گے اور حکومت سے ہماری اپیل ہے کہ گاؤں کا نام تبدیل نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگوں اور گرام پنچایت کی رضامندی کے بغیر نام تبدیل کرنا غیر آئینی ہوگا۔
امین منیار نے کہا، ’اگر نام تبدیل کیا گیا تو اسلام پور کے تمام باشندوں کو اپنے سرکاری دستاویزات میں ترمیم کرانی پڑے گی، اس کے ساتھ ہی سرکاری ریکارڈ میں بھی تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جس سے لوگوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا اور انہیں غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر حکومت نے ہماری بات نہیں سنتی اور نام تبدیل کرنے کی تجویز کو آگے بڑھاتی ہے تو ہم تحریک چلائیں گے۔‘
ضلع کلکٹر کو پیش کیے گئے میمورنڈم میں منیار نے کہا کہ تقریباً 15 ہزار کی آبادی والا اسلام پور جھنجھنو ضلع کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی دور حکومت سے لے کر آزادی کے بعد تک اور سرکاری محصولات کے ریکارڈ میں بھی اس گاؤں کا نام ہمیشہ اسلام پور ہی درج رہا ہے۔
بھجن لال شرما کی قیادت والی راجستھان کی بی جے پی حکومت اس سے پہلے بھی پولیس محکمہ میں مستعمل اردو الفاظ کو
ہندی الفاظ سے بدلنے کی کوشش کر چکی ہے۔ اس کے لیے حکومت نے پولیس محکمہ کو اردو اصطلاحات اور ان کے ممکنہ ہندی متبادلات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اس کے علاوہ، ریاستی محکمہ سیاحت کے زیر انتظام اجمیر کے ’ہوٹل خادم‘ کا نام بھی
بدل کر’ہوٹل اجے میرو‘کر دیاگیا تھا۔ یہ فیصلہ اسمبلی اسپیکر واسودیو دیونانی کی ہدایت پر کیا گیا تھا، جو اجمیر سے بی جے پی کے ایم ایل اے ہیں۔
راجستھان کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سورنم چترویدی نے کہا کہ بی جے پی پورے ملک میں نام تبدیل کرنے کی مہم چلا رہی ہے، لیکن اس سے کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے ایسے مقامات کے نام تبدیل کرنے کا کیا جواز ہے جن کی اپنی ایک تاریخی شناخت ہے؟ ان کے مطابق کسی بھی جگہ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ وہاں کے لوگوں کی رضامندی سے ہی ہونا چاہیے۔‘