راہل گاندھی نے سینک اسکولوں میں آر ایس ایس کے ’بڑھتے ہوئے رول‘ پر سوال اٹھائے

دفاعی امور کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ملک بھر کے سینک اسکولوں کے آپریشن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے رول  پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کچھ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے منسلک نجی ادارے اب کئی سینک اسکولوں کو چلا رہے ہیں۔

دفاعی امور کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ملک بھر کے سینک اسکولوں کے آپریشن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے رول  پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کچھ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے منسلک نجی ادارے اب کئی سینک اسکولوں کو چلا رہے ہیں۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل (4 اگست) کو دفاعی امور کی پارلیامانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ملک بھر کے سینک اسکولوں کے آپریشن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے کردار پر سوال اٹھائے۔

میٹنگ کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس سے منسلک نجی ادارے اب کئی سینک اسکول چلا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ اسکول ایسے اداروں کو سونپے گئے ہیں جن کے مالک ایسے صنعتکار سے وابستہ ہیں جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

خبروں کے مطابق، کانگریس لیڈر نے اپنے دعووں کی حمایت میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا۔

اس پر کمیٹی کے چیئرمین رادھا موہن سنگھ نے گاندھی سے اپنے دعووں کے حق میں دستاویز فراہم کرنے کو کہا اور بتایا کہ انہیں آگے کی جانچ کے لیے وزارتِ دفاع کو بھیجا جائے گا۔

اس دوران بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ سدھانشو ترویدی نے تجویز پیش کی کہ کمیٹی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اقتدار میں آنے سے پہلے سینک اسکولوں کو کس طرح چلایا جا رہا  تھا۔

اس دوران پارٹنر شپ ماڈل کے تحت مختص کیے گئے سینک اسکولوں کی فہرست پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اراکین نے ان اسکولوں کو چلانے والی تنظیموں اور ان کے ممکنہ روابط کی جانچ کی ضرورت پر بھی بات کی۔

کئی میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 70 سے زیادہ سینک اسکول آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں، ودیا بھارتی اور سرسوتی شیشو مندر کو سونپے گئے ہیں۔

اپنی بات رکھنے کے بعد راہل گاندھی ایک کتاب کی رسم رونمائی کی تقریب میں شرکت کے لیے میٹنگ سے چلےگئے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راہل گاندھی نے تعلیمی شعبے میں آر ایس ایس کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس سے قبل 29 جولائی کو ملک گیر نوجوان تحریک اور اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے بعد پارلیامنٹ میں ’پبلک اگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) امینڈمنٹ ایکٹ، 2026 پر بحث کے دوران گاندھی نے کہا تھا کہ وزارت تعلیم دھرمیندر پردھان نہیں بلکہ ’آر ایس ایس‘ چلا رہی تھی۔

ان کے مطابق، ’اس سسٹم کی روح پر آر ایس ایس کا قبضہ ہوگیا ہے۔ دھرمیندر پردھان نے کبھی وزارت تعلیم نہیں چلائی۔ جو شخص اور تنظیم وزارت چلاتے ہیں، انہیں آر ایس ایس کہا جاتا ہے۔‘

راہل گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں مقرر کیے گئے زیادہ تر وائس چانسلر آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، میٹنگ کے دوران اپوزیشن اراکین نے ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (ڈیفنس پی ایس یوز)میں نجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کا معاملہ بھی اٹھایا۔

اس پر وزارت دفاع کے حکام نے کہا کہ حکومت دفاعی شعبے میں گھریلو کمپنیوں اور مائیکرو، اسمال، اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز)کو فروغ دے رہی ہے۔ حکام نے تجویز دی کہ ان کمپنیوں کے نمائندوں کو کمیٹی کے سامنے بلایا جا سکتا ہے۔

تاہم، اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ اگر دفاعی سکریٹری بھی میٹنگ میں موجود رہیں، تو ایم ایس ایم ای نمائندے کھل کر اپنی بات نہیں رکھ پائیں گے۔