شہریت ترمیم بل فاشسٹ مودی حکومت کی مشتہر سنگھ کے ’ہندو راشٹر‘ کے منصوبے کا حصہ: عمران خان

ہندوستانی لوک سبھا میں منظور کئے گئے شہریت ترمیم بل پر پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پیچھے اکثریتی ایجنڈہ ہے۔ اس بل نے آر ایس ایس-بی جے پی کی مسلم مخالف ذہنیت کو دنیا کے سامنے لا دیا ہے۔

ہندوستانی لوک سبھا میں منظور کئے گئے شہریت ترمیم بل پر پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پیچھے اکثریتی ایجنڈہ ہے۔ اس بل نے آر ایس ایس-بی جے پی کی مسلم مخالف ذہنیت کو دنیا کے سامنے لا دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو : پی ٹی آئی)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ہندوستانی لوک سبھا میں تمام اعتراضات اور کئی ریاستوں میں مخالفت کے درمیان شہریت ترمیم بل سوموار دیر رات کو ایوان میں پاس کر دیا گیا۔ بل میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے مذہبی استحصال کی وجہ سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

اس بارے میں شائع ایک خبر کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر لکھا،  ہم ہندوستانی لوک سبھا میں پیش کئے گئے شہریت بل، جو تمام عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تمام اصولوں اور پاکستان کے ساتھ ہوئے دو طرفہ سمجھوتہ کی خلاف ورزی ہے، کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فاشسٹ مودی حکومت کے ذریعے مشتہر آر ایس ایس کے ہندوراشٹرکے قبضہ کرنے والے منصوبے  کا حصہ ہے۔

دریں اچنااس سے پہلے پاکستان نے ہندوستان کی شہریت ترمیم بل کوجانبدارانہ  بتایا اور اس کو نئی دہلی کے پڑوسی ممالک کےمعاملوں میں  دخل دینے  کابدنیتی سے پر ارادہ بتایا تھا۔سوموار دیر رات لوک سبھا میں بل کو منظوری ملنے کے بعد پاکستان کے وزارت خارجہ نے آدھی رات کے بعد ایک بیان جاری کیا۔

اس میں کہا گیا ہے، ہم اس بل کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ تعصب آمیز ہے اور تمام عالمی معاہدہ اورقوانین  کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ پڑوسی ممالک میں دخل کی ہندوستان کی بری کوشش ہے۔آگے کہا گیا کہ اس قانون کی بنیاد جھوٹ ہے اور یہ مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر جانبداری کو ہرطورپر ختم کرنے متعلقہ انسانی حقوق کے عالمی قراراور دیگر عالمی معاہدہ کی مکمل طور پر خلاف ورزی کرتا ہے۔بیان کے مطابق،  لوک سبھا میں لایا گیا بل پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہوئے دونوں ممالک کے اقلیتوں کی حفاظت اور حقوق سے جڑےسمجھوتہ سمیت مختلف دو طرفہ سمجھوتہ کا بھی کلی طورپر متضاد ہے۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے زور دےکر کہا تھا کہ اس بل سے ان اقلیتوں کو راحت ملے‌گی جو پڑوسی ممالک میں ظلم کے شکار ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت ہند کی طرف سے لایا گیا یہ بل ہندوراشٹر کے نظریہ کو حقیقی  شکل دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے،جس تصور کو کئی دہائیوں سے رائٹ ونگ  ہندو رہنماؤں نے پالاپوسا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ یہ بل علاقے میں شدت پسندہندوتوا نظریہ اور موثر طبقے کے عزائم کا زہریلا میل ہے اور مذہب کی بنیاد پرپڑوسی ممالک کے اندرونی معاملوں میں دخل کا واضح اظہار ہے۔ پاکستان اس کو پوری طرح سے نامنظور کرتا ہے۔اس میں کہا گیا، ہندوستان کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا ہے جس میں وہ خود کو ان اقلیتوں کا گھر بتاتا ہے جن کو پڑوسی ممالک میں مبینہ طور پرظلم وستم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کی کارروائی سے 80 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس سے سرکاری پالیسیوں کا پتہ چلتا ہے۔بیان کے مطابق بل نے جمہوریت اور سیکولرزم کے دعووں کے کھوکھلے پن کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے پیچھے اکثریتی ایجنڈہ ہے اور اس نےآر ایس ایس-بی جے پی کی مسلم مخالف ذہنیت کو دنیا کے سامنے لا دیا ہے۔اس سے پہلے ہندوستانی لوک سبھا میں سوموارکی صبح پیش کئے گئے اس بل پر تقریباً سات گھنٹے بحث ہوئی، جہاں حزب مخالف کے رہنماؤں نے اس کو غیر آئینی بتایا اور کہا کہ یہ دوسرے بٹوارے کی طرح ہے۔

اس دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یہ بل لاکھوں کروڑوں پناہ گزینوں کو اذیت دینے والی دوزخ جیسی زندگی سے آزادی دلانے کا ذریعہ بننے جا رہا ہے۔ یہ لوگ ہندوستان کے متعلق عقیدہ رکھتے ہوئے ہمارے ملک میں آئے، ان کو شہریت ملے‌گی۔ یہ بل کسی مذہب کے خلاف جانبداری والا نہیں ہے اور تین ممالک کے اندر مظلوم اقلیتوں کے لئے ہے جو پناہ گزین ہیں۔اس سے پہلے انہوں نے بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا،افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان ایسے ملک ہیں جہاں ریاست کا مذہب اسلام ہے۔ آزادی کے بعد بٹوارے کی وجہ سے لوگوں کا ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا ہوا۔ اسی وقت نہرو-لیاقت سمجھوتہ ہوا، جس میں ایک دوسرے کے یہاں اقلیتوں کو حفاظت کی گارنٹی دینے کے عزم  کا اظہار کیا گیا تھا۔

انہوں نے آگے کہا،  ہمارے یہاں تو اقلیتوں کو حفاظت عطا کی گئی لیکن دیگر جگہوں میں ایسا نہیں ہوا۔ ہندوؤں، بودھ، سکھ، جین، پارسی اورعیسائی لوگوں کو مذہبی استحصال کا شکار ہونا پڑا۔انہوں نے کہا کہ نہرو-لیاقت سمجھوتہ خیالی تھا اور ناکام ہو گیا اور اس لئے بل لانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نہرو-لیاقت سمجھوتہ کو ہندوستان نےتو سنجیدگی سے عمل کیا، لیکن پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر لگاتار ظلم ہوتے رہے۔ وہاں گزشتہ 72 سالوں میں اقلیتوں کی آبادی میں بڑی گراوٹ آئی جبکہ ہندوستان میں حالت برعکس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 1947 میں پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی 23 فیصد تھی۔ 2011 میں یہ صرف 3.7 فیصد رہ گئی۔ بنگلہ دیش میں 1947میں اقلیتوں کی آبادی 22 فیصد تھی، جو 2011 میں کم ہوکر 7.8 فیصد ہو گئی۔شاہ نے کہا،میں دوہرانا چاہتا ہوں کہ ملک میں کسی پناہ گزین پالیسی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے لئے کافی قانون ہیں۔

شاہ نے کہا،میں ایوان کے ذریعے پورے ملک کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بل کہیں سے بھی غیر آئینی نہیں ہے اور آئین کے آرٹیکل 14کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اگر اس ملک کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتی تو مجھے بل لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)