انٹلی جنس بیورو نے پیگاسس کے لیے استعمال ہونے والی کٹ جیسا ہارڈ ویئر خریدا تھا: رپورٹ

08:19 PM Oct 21, 2022 | دی وائر اسٹاف

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی ایک رپورٹ میں درآمدی دستاویزوں کے  حوالے  بتایا گیا ہے کہ 2017 میں ہندوستانی انٹلی جنس ایجنسیوں نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ سے ایسا ہارڈ ویئر خریداتھا، جو پیگاسس اسپائی ویئر کے لیے استعمال ہونے والے آلات کی تفصیلات  سےمیل کھاتا ہے۔

(تصویر: رائٹرس)

نئی دہلی: درآمدی (امپورٹ) دستاویزدکھاتے ہیں کہ ہندوستان کی انٹلی جنس ایجنسی- انٹلی جنس بیورو (آئی بی) نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ سے ایسا ہارڈ ویئر خریدا ہے، جوآرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق، پیگاسس اسپائی ویئر کے لیے استعمال کیے جانے والے آلات کی تفصیلات سے میل کھاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، او سی سی آر پی کے لیے شرد ویاس اور جوروان برگن کی طرف سے لکھی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ کیا درآمدی ہارڈ ویئر کا استعمال پیگاسس کے لیے کیا گیا تھا۔’ حالاں کہ آگے اس سال کی شروعات میں نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع دعوے کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے 2017 میں اسرائیل کے ساتھ ہتھیار کے ایک بڑےمعاہدے کے تحت پیگاسس اسپائی ویئر خریدا تھا۔

پیگاسس  ایک ملٹری گریڈ سپائی ویئر ہے جس کے توسط سے صارف – جو اسرائیل کے برآمدی قانون کے تحت ایک سرکاری ادارہ ہونا چاہیے– کو کسی فرد کے موبائل فون تک مکمل رسائی حاصل ہوتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسپائی ویئر کا استعمال مجرمانہ اور دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن پیرس واقع فاربڈین اسٹوریز کی سربراہی میں میڈیا تنظیموں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم نے جولائی 2021 میں پیگاسس پروجیکٹ کےتحت بتایا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس کا استعمال صحافیوں، کارکنوں اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

معلوم ہو کہ جنوری 2022 میں نیویارک ٹائمز نے سال بھر کی تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستانی حکومت نے 2017 میں ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اسرائیل کے ساتھ ہوئے 2 ارب  ڈالر کے دفاعی معاہدے کے تحت پیگاسس کو خریدا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا  تھاکہ اسرائیلی وزارت دفاع نے نئے سودوں کے تحت پولینڈ، ہنگری، ہندوستان سمیت کئی ممالک کو پیگاسس فروخت کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ تقریباً ایک دہائی سے اس دعوے کے ساتھ ‘اپنے نگرانی سافٹ ویئرکو دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کر رہی تھی’ کہ جیسا کام وہ کرسکتی ہے ،ویسا کوئی اور نہیں۔

رپورٹ میں جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیلی دورہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلااسرائیلی  دورہ تھا۔

اوسی سی آر پی  کے مطابق، درآمدی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 18 اپریل 2017 کو، آئی بی کواین ایس او سے ہارڈ ویئر کی ایک کھیپ موصول ہوئی، جو ‘پیگاسس سافٹ ویئر کو چلانے کے لیے کہیں اور استعمال ہونے والے آلات کی تفصیل سے میل کھاتا ہے۔’ یہ شپ منٹ ہوائی جہاز سے آیا اور دہلی میں اتارا گیا۔او سی سی آر پی کا کہنا ہے کہ اس نے سبسکرپشن پر مبنی تجارتی ویب سائٹ کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جس میں دنیا بھر میں تجارتی شپ منٹ  کی درآمد اور برآمد کی تفصیلات درج ہے۔

او سی سی آر پی رپورٹ میں کہا گیا،قومی کسٹم دستاویزوں پر مشتمل گلوبل ٹریڈ ڈیٹا پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کردہ بل کے مطابق، اس کنسائنمنٹ میں ڈیل کمپیوٹر سرور، سسکو نیٹ ورک آلات، اور ‘بلاتعطل بجلی سپلائی والی بیٹریاں شامل تھیں،جو آؤٹیج (بجلی جانے کی صور ت میں) بجلی دیتی ہے۔

او سی سی آر پی کا کہنا ہے کہ شپ منٹ آلات کی قیمت $3,15,000 (اس وقت 2 کروڑ روپے سے کچھ زیادہ ) تھی، جسے  ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچایا گیا اور اسے ‘دفاعی اور فوجی استعمال کے لیے’ نشان زد کیا گیا تھا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے، یہ تفصیل — اور شپ منٹ کا وقت — نیویارک ٹائمز کی جنوری میں رپورٹ کردہ رپورٹوں سے میل کھاتا ہے، جس میں اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان 2017 کے ہتھیاروں کے بڑے معاہدے کا ‘مرکز’ پیگاسس اور ایک میزائل سسٹم تھے۔

اگرچہ او سی سی آر پی  کا کہنا ہے کہ، حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ کیا یہ ہارڈویئر پیگاسس کے لیے استعمال کیا گیا تھا، لیکن اس کی تفصیلات پیگاسس اسپائی ویئر کے اس بروشر سے ملتی جلتی ہیں جو 2019 میں میٹا کی جانب سےاین ایس او کے خلاف دائر مقدمے میں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح کے آلات این ایس او گروپ کے دو دیگر صارفین – میکسیکو اور گھانا کو بھیجے گئے  تھے۔

او سی سی آر پی نے کہا کہ دو انٹلی جنس اہلکاروں – ‘ایک سینئر افسر اور ایک ٹھیکیدار’ – نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ ہندوستانی حکومت نے 2017 میں پیگاسس کی خریداری کی  تھی۔

او سی سی آر پی  کا کہنا ہے کہ این ایس او گروپ اورآئی بی  نے شپ منٹ کے بارے میں بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

قابل ذکر ہے کہ 2021 میں ایک بین الاقوامی میڈیا کنسورٹیم، جس میں دی وائر بھی شامل تھا، نے پیگاسس پروجیکٹ کے تحت یہ انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کی این ایس او گروپ کمپنی کے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے دنیا بھر میں رہنماؤں، صحافیوں، کارکنوں، سپریم کورٹ کے اہلکاروں کے فون مبینہ پر ہیک کرکے ان نگرانی کی گئی یا وہ ممکنہ نشانے پر تھے۔

اس کڑی  میں 18 جولائی 2021 سے دی وائر سمیت دنیا بھر کے 17 میڈیا اداروں نے  50000  سے زیادہ لیک ہوئےایسے موبائل نمبروں کے ڈیٹا بیس کی جانکاریاں شائع کرنا شروع کی تھیں، جن کی پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے نگرانی کی جا رہی تھی یا وہ  ممکنہ نگرانی کے دائرے میں تھے۔

 اس تفتیش  کے مطابق، اسرائیل کی ایک سرولانس تکنیکی کمپنی این ایس او گروپ کے متعدد حکومتوں کے گراہکوں کی دلچسپی والے ایسے لوگوں کے ہزاروں ٹیلی فون نمبروں کی لیک ہوئی  فہرست میں 300 تصدیق شدہ ہندوستانی نمبر پائے گئے تھے، جنہیں وزیروں، اپوزیشن لیڈروں، صحافیوں، عدلیہ سے وابستہ افراد، تاجروں، سرکاری افسران، کارکنان وغیرہ کے ذریعے استعمال کیا جاتا رہا  ہے۔

ہندوستان میں اس کے ممکنہ اہداف میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی، سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور، اس وقت کے الیکشن کمشنر اشوک لواسا، اب انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو (وہ اس وقت وزیر نہیں تھے) کے ساتھ کئی اہم رہنما شامل تھے۔

تکنیکی تحقیقات میں دی وائر کے دو بانی مدیران  سدھارتھ وردراجن اور ایم کے وینو کے ساتھ دیگر صحافیوں جیسے سشانت سنگھ، پرنجوئے گہا ٹھاکرتا اور ایس این ایم عابدی، ڈی یو کے مرحوم پروفیسر ایس اے آر گیلانی، کشمیری علیحدگی پسند رہنما بلال لون اور وکیل الجو پی جوزف کے فون میں  پیگاسس اسپائی ویئر کے ہونے کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔

 بتادیں کہ این ایس او گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اس ملٹری گریڈ کے اسپائی ویئر کو صرف حکومتوں کو ہی فروخت کرتا ہے۔ ہندوستانی حکومت نے پیگاسس کی خریداری کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔

پیگاسس پروجیکٹ کےسامنے آنے کے بعد ملک اور دنیا بھر میں اس پر بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ ہندوستان میں بھی مودی حکومت کے ذریعے مبینہ جاسوسی کے الزامات پر درجن بھر درخواستیں دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے 27 اکتوبر 2021 کو ریٹائرڈ جسٹس آر وی رویندرن کی سربراہی میں ایک آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

گزشتہ اگست میں کمیٹی  نے تین حصوں میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کی تھی، جس کے بعد عدالت نے بتایا تھا کہ کمیٹی کو 29 میں سے پانچ آلات میں ‘میلویئر’ ملا ہے۔ تاہم، تکنیکی کمیٹی نے کہا تھاکہ وہ حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ڈیوائس میں ملا میلویئر پیگاسس ہےیا نہیں۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا تھا۔