نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کی چارج شیٹ میں کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ جانچ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی معمولی پیپر لیک نہیں تھا بلکہ کئی ریاستوں میں پھیلا ایک منظم نیٹ ورک تھا۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے 13 لوگوں کو نامزد کیا ہے، جن میں این ٹی اے کے تین مضامین کے ماہرین بھی شامل ہیں۔

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی:نیٹ انڈر گریجویٹ (یو جی) 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی (سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن) اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ ایک منظم، کئی ریاستوں سے جڑے مجرمانہ سازش کا نتیجہ تھا، جس میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے مضامین کے ماہرین نے مبینہ طور پر امتحان کے خفیہ سوالنامے لیک کیے۔ ان سوالوں کو کوچنگ سینٹر چلانے والوں اور دلالوں کے نیٹ ورک کے ذریعے بھاری رقم کے عوض میں امیدواروں تک پہنچایا گیا۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، سی بی آئی نے راؤز ایونیو واقع اسپیشل سی بی آئی کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں 13 لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں این ٹی اے کی جانب سے مقرر کردہ تین مضامین کے ماہرین، کوچنگ چلانے والے ، دلال اور امیدوار شامل ہیں۔
تمام لوگوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، پریوینشن آف کرپشن ایکٹ اینڈ پبلک اگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ، 2024 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
چارج شیٹ کے مطابق، سازش کی شروعات این ٹی اے کے تین مضامین کے ماہرین –نباتیات (باٹنی) کی ماہر منیشا گوروناتھ منڈارے (اے -1)،کیمیا(کیمسٹری) کے ماہر پرہلاد وٹھل راؤ کلکرنی (اے-2) اورطبعیات (فزکس) کی ماہر منیشا سنجے ہولدار (اے – 3) سے ہوئی۔
سی بی آئی کا الزام ہے کہ ان تینوں نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امتحان سے پہلے نیٹ-یو جی 2026 کے خفیہ سوالنامے تک غیر مجاز رسائی حاصل کی اور انہیں سنڈیکیٹ کے ارکان کے ساتھ شیئر کیا۔
سی بی آئی کا ماننا ہے کہ اس کے بعد لیک کیے گئے پیپر تیجس شاہ(اے – 4)، شیوراج موٹے گاؤنکر(اے -5)، ڈاکٹر منوج شیرورے(اے -6)، منیشا سنجے واگھمارے(اے-7)، دھننجے لوکھنڈے(اے-8)، شبھم مدھوکرکھیرنار(اے-9)، یش یادو(اے-9)، منگلی لال بیوال (اے- 11)، دنیش بیوال(اے-12)اور وکاس بیوال(اے -13) کے توسط سے ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے آگے پہنچائے گئے۔
الزام ہے کہ ان تمام لوگوں نے سوالنامے کی ترسیل اور ادائیگیوں کے انتظام میں مختلف کردار ادا کیے۔
جانچ میں پتہ چلاہے کہ امتحان سے کئی دن پہلے خفیہ سوالنامے پی ڈی ایف اور تصویری فارمیٹ میں ٹیلی گرام اور وہاٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کیے گئے۔
سی بی آئی کے مطابق، ضبط کیے گئےموبائل فون، پین ڈرائیوز اور دیگر الکٹرانک آلات کی فرانزک جانچ میں ایسے ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں، جن سے کئی ملزموں کے درمیان لیک شدہ سوالنامے کے تبادلے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایجنسی نے سوالنامے کے مبینہ پھیلاؤ کی پوری کڑی کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔ اس کے مطابق، منگلی لال بیوال(اے -11)کو یش یادو(اے -10) کی جانب سے ٹیلی گرام کے ذریعے سوال موصول ہوئے تھے۔
الزام ہے کہ اس سودے کی ضمانت کے طور پر منگلی لال بیوال نے یش یادو کے ایک ساتھی کو اپنی دسویں اور بارہویں جماعت کی اصل مارک شیٹ اور دستخط شدہ خالی چیک حوالے کیے تھے۔ چارج شیٹ کے مطابق، یہ دستاویز بعد میں تلاشی کے دوران برآمد ہوئے۔
تفتیش کاروں کا یہ بھی الزام ہے کہ یش یادو کو لیک پیپر ناسک کے ملزم شبھم مدھوکرکھیرنار(اے -9)سے ملے تھے۔ یش یادو کے موبائل فون کی فرانزک جانچ میں ایپی بروکر کے نام سے محفوظ ایک رابطے، جسے کھیرنار بتایا گیا ہے، کے ساتھ ہوئی چیٹ اور نیٹ کے لیک سوال پر مشتمل پی ڈی ایف فائلیں ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سی بی آئی کے مطابق، کھیرنار نے دھننجے لوکھنڈے (اے-8)سے مبینہ طور پر 25 لاکھ روپے میں لیک پرچے حاصل کیے۔ پوچھ گچھ کے دوران کھیرنار نے اس مالی لین دین کی جانکاری دی تھی۔
جانچ میں آگے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوکھنڈے کو یہ لیک پرچے منیشا سنجے واگھمارے(اے-7)سے ملے، جنہوں نے مبینہ طور پر مڈل مین کے ذریعے سوالنامے کی ہارڈ کاپی فراہم کرائی۔ واگھمارے کے گھر کی تلاشی کے دوران ایک موبائل فون برآمد ہوا، جس میں’نیٹ-2026‘ کے نام سے وہاٹس ایپ گروپ ملا۔ ایجنسی اسے ایک اہم ثبوت مان رہی ہے۔
چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واگھمارے کا رابطہ این ٹی اے کے کیمسٹری ماہر پرہلاد کلکرنی(اے-2)سے تھا، جنہوں نے نیٹ-یو جی 2026 کے کیمسٹری کے سوالنامے کا مراٹھی سے انگریزی میں بیک ٹرانسلیشن کیا تھا۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ واگھمارے نے منڈارے اور کلکرنی سے متعارف کروائے گئے طلبہ کے توسط سے باٹنی اور کیمسٹری کے لیک سوال حاصل کیے۔
ایجنسی نے جانچ کے دوران امیدواروں کے بیان بھی چارج شیٹ میں شامل کیے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک امیدوار اور اس کے والد کو مبینہ طور پر 4 لاکھ روپے میں نیٹ-یو جی 2026 کے سوالنامےفراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
اس کے ساتھ این ٹی اے کے ایک مضامین کے ماہر کی جانب سے کوچنگ اور آف لائن ریویژن کلاسز فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں 2025 کے آخری مہینوں اور 2026 کے آغاز میں ایک وسیع سازش کے تحت انجام دی گئیں۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ الکٹرانک آلات کی فرانزک جانچ، برآمد دستاویز، چیٹ ریکارڈ اور گواہوں کے بیان اجتماعی طور پر اس مبینہ مجرمانہ سازش، سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور نیٹ-یو جی 2026 کے امتحان سے پہلے امتحان سے متعلق خفیہ مواد کی غیر قانونی ترسیل کو ثابت کرتے ہیں۔
سی بی آئی نے یہ چارج شیٹ خصوصی سی بی آئی عدالت میں داخل کر دی ہے۔ اب عدالت دستیاب شواہد کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ معاملے کا نوٹس لیا جائے یا نہیں۔
غورطلب ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے 3 مئی کو منعقد نیٹ انڈر گریجویٹ (یو جی) 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو منعقد کیا گیا۔ اس پیپر لیک معاملے کے خلاف ملک بھر میں نوجوان سڑکوں پر اترنے کو مجبور ہوئے تھے، جس کے بعد نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں تحریک چلی اور آخر کار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔