نوئیڈا مزدور احتجاج: صحافی اور اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ پر این ایس اے کے تحت کارروائی

اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافے، سازگار ماحول اور مزدوروں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے دو لوگوں پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی ہے۔

اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافے، سازگار ماحول اور مزدوروں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے دو لوگوں پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی ہے۔

نوئیڈا میں13اپریل کو تنخواہ میں اضافے کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاج کرتے فیکٹری مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش پولیس نے نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق معاملے میں دو افراد – اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ آکرتی چودھری اور سینئر صحافی ستیم ورماکے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے)، 1980 کے تحت کارروائی کی ہے۔

اس معاملے میں گرفتار سات کارکنوں کی نمائندگی کرنے والے سپریم کورٹ کے وکیل علی ضیاء کبیر چودھری نے کہا،’ہمارے پاس صرف پولیس کے میڈیا سیل کی پریس ریلیز ہے۔ ہمیں اس بارے میں کوئی دستاویز نہیں دیے گئے ہیں کہ کن بنیادوں پر یہ (این ایس اے) لگایا گیا ہے۔ اصولی طور پر پولیس کو قانون کے تحت عدالت میں کاغذات داخل کرنے چاہیے اور وکیلوں کو مطلع کرنا چاہیے، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔‘

جس پریس ریلیز کا ذکر وکیل علی ضیاء کبیر چودھری نے کیا، وہ گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

اس پریس ریلیز میں کہا گیا،’مزدوروں کے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں دو ملزم کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ یہ دونوں ملزم’مزدور بگل دستہ‘سے وابستہ تھے اور انہوں نے مزدوروں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد اور آتش زنی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔‘

پریس ریلیز میں چودھری اور ورما کے نام شامل ہیں۔

اس سلسلے میں کیمپین فار دی ریلیز آف ورکرز اینڈ ایکٹوسٹس آف نوئیڈا کی جانب سے جاری بیان میں دہلی کی ایکٹوسٹ چودھری اور صحافی ورما پر لگائے گئے الزامات کے وقت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

اس تنظیم نے 13 مئی کو جاری اپنے بیان میں کہا؛


یہ بات قابل غور ہے کہ ستیم اور آکرتی کی ضمانت پر سماعت کل سورج پور کورٹ میں ہوئی۔ دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ نے معاملہ ملتوی کر دیا۔ دفاعی وکیلوں نے الزامات کو بے بنیاد اور گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ سرکاری وکیل ستیم یا آکرتی کو قصوروار ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

یہ بھی قابل توجہ ہے کہ ملزمان تقریباً ایک ماہ سے عدالتی حراست میں ہیں، اور اب جا کر یوپی پولیس نے ان پر این ایس اے لگایا ہے۔


جیسا کہ ’دی وائر‘نے پہلے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مزدوروں کے احتجاجی مظاہروں کے معاملے میں نوئیڈا پولیس نے مجموعی طور پر سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔

وکیل علی ضیاء کبیر چودھری نے این ایس اے لگائے جانے سے پہلے سیشن عدالت میں ہونے والی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’گرفتاری کی وجہ بتانا صرف ایک قانونی ضابطہ ہی نہیں بلکہ آئینی دفعہ 22 (گرفتاری اور حراست سے تحفظ) کا بھی حصہ ہے۔ ہم نے یہ دلیل دی ہے کہ ستیم اور دیگر افراد کے خلاف ریکارڈ پر ایسا ایک بھی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے تشدد بھڑکایا تھا۔ ستیم کے معاملے میں تو وہ کسی وہاٹس ایپ گروپ کا حصہ بھی نہیں ہیں؛ ایسا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔‘

غور طلب  ہے کہ اپریل 2021 میں انڈین ایکسپریس کی ایک تفتیش سے پتہ چلا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 120ہیبیس کارپس یعنی حبس بے جادکی عرضیوں میں سے  94 معاملوں میں سوال اٹھائے تھے- جن میں سخت این ایس اے نافذ کیا گیا تھا؛ اس سے اشارہ ملا تھا کہ جانچ ایجنسیاں اس قانون کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔

اسی طرح اگست 2022 میں نیوز لانڈری نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ کس طرح کانپور کے ضلع مجسٹریٹ کو بھیجی گئی ایک تجویز- جس میں معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما کے پیغمبر اسلام سے متعلق بیان کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران بھڑکنے والے تشدد کے سلسلے میں مقامی مسلمانوں پر این ایس اے لگانے کی منظوری مانگی گئی تھی -میں یوپی پولیس نے ہندو اکثریتی چندیشور ہاٹا علاقے میں ’لینڈ جہاد‘کی سازشی تھیوری کا سہارا لیا تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔