بنگال کے نو منتخب 65 فیصد اراکین اسمبلی پر فوجداری معاملے؛ 61 فیصد کروڑ پتی: اے ڈی آر

اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 190 اراکین اسمبلی  (65فیصد)  نے اپنے خلاف فوجداری معاملے کی جانکاری دی ہے، جبکہ  2021  میں یہ تعداد  142 (49 فیصد) تھی۔ ان میں سے  170 اراکین اسمبلی (58 فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد  113  (39فیصد) تھی۔

اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 190 اراکین اسمبلی  (65فیصد)  نے اپنے خلاف فوجداری معاملے کی جانکاری دی ہے، جبکہ  2021  میں یہ تعداد  142 (49 فیصد) تھی۔ ان میں سے  170 اراکین اسمبلی (58 فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد  113  (39فیصد) تھی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 65فیصد اراکین اسمبلی نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات اعلان  کیے ہیں۔ یہ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں نمایاں اضافے کو  ظاہر کرتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، اس رپورٹ میں 2026 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام 292 امیدواروں کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں پایا گیا کہ 190 اراکین اسمبلی (65فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کی جانکاری دی ہے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 142 (49فیصد) تھی۔ ان میں سے 170 اراکین اسمبلی (58فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد 113 (39فیصد) تھی۔

سنگین جرائم میں 14 کامیاب امیدواروں نے قتل (آئی پی سی کی دفعہ 302) سے متعلق مقدمات کا اعلان کیا ہے، جبکہ 54 امیدواروں پر قتل کی کوشش کے الزامات ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات کا اعلان 63 کامیاب امیدواروں نے کیا ہے، جن میں دو امیدوار ایسے بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے خلاف ریپ کے الزامات ہونے کی اطلاع دی ہے۔

پارٹی کے لحاظ سے تجزیے میں پتہ چلا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 206 کامیاب امیدواروں میں سے 152 (74فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد آل انڈیا ترنمول کانگریس کے 80 کامیاب امیدواروں میں سے 34 (43فیصد) امیدواروں نے ایسے مقدمات کی جانکاری دی ہے۔

عام جنتا انین پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور آل انڈیا سیکولر فرنٹ جیسی چھوٹی جماعتوں کے تمام کامیاب امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے برعکس، کانگریس کے دونوں کامیاب امیدواروں پر کوئی فوجداری مقدمہ نہیں ہے۔

سنگین فوجداری مقدمات کے معاملے میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں بی جے پی کے 68فیصد اور ترنمول کانگریس کے 31فیصد کامیاب امیدواروں پر ایسے مقدمات درج ہیں۔

اے ڈی آر کی رپورٹ نے منتخب نمائندوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دولت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ 292 کامیاب امیدواروں میں سے 178 اراکین اسمبلی (61فیصد) کروڑ پتی ہیں، جبکہ 2021 میں یہ تناسب 54فیصد تھا۔ تمام کامیاب امیدواروں کی مجموعی دولت 1,091 کروڑ روپے ہے۔ فی رکن اسمبلی اوسط دولت 3.73 کروڑ روپے درج کی گئی، جو پچھلی اسمبلی میں 2.53 کروڑ روپے تھی۔

اہم جماعتوں میں ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کی اوسط دولت 5.36 کروڑ روپے ہے، جبکہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی کی اوسط دولت 2.97 کروڑ روپے ہے۔ کانگریس کے دو اراکین اسمبلی کی اوسط دولت سب سے زیادہ 17.92 کروڑ روپے درج کی گئی۔

تعلیمی اہلیت کے لحاظ سے 63فیصد کامیاب امیدوار گریجویٹ یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، جبکہ 32فیصد امیدواروں نے پانچویں سے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ کچھ اراکین اسمبلی نے انتہائی کم رسمی تعلیم کی جانکاری دی ہے، جن میں ایک امیدوار نے خود کو ناخواندہ بتایا۔

عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو زیادہ تر اراکین اسمبلی (63فیصد) کی عمر 41 سے 60 سال کے درمیان ہے، جبکہ صرف 16فیصد اراکین اسمبلی کی عمر 25 سے 40 سال کے درمیان ہے۔ تقریباً 20فیصد اراکین اسمبلی کی عمر 61 سے 80 سال کے درمیان ہے، جبکہ تین امیدواروں کی عمر 80 سال سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔ 292 اراکین اسمبلی میں صرف 37 خواتین (13فیصد) ہیں، جو 2021 کے 14فیصد کے مقابلے میں معمولی گراوٹ ہے۔

اے ڈی آر کی رپورٹ میں ہندوستان کی ایک اہم ریاست میں سیاست کے مجرمانہ رجحان اور منتخب نمائندوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دولت کے ارتکاز کے بارے میں مسلسل برقرار خدشات پر زور دیا گیا ہے۔