وزارت خارجہ نے کہا کہ این آر سی کی حتمی فہرست قانونی طور پر کسی کو غیر ملکی نہیں بناتی۔ قانون کے تحت دستیاب تمام اختیارات کا استعمال کر لینے تک ان کو پہلے کی طرح ہی تمام حقوق ملتے رہیںگے۔
نئی دہلی: وزارت خارجہ نے اتوار کو کہا کہ این آر سی سے باہر رہے لوگ ‘بے وطن’نہیں ہیں اور وہ قانون کے تحت موجود تمام اختیارات کا استعمال کر لینے تک اپنے حقوق کا پہلے کی طرح استعمال کرتے رہیںگے۔وزارت نے کہا کہ این آر سی سے باہر کئے جانے سے آسام میں ایک بھی آدمی کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور ان کو پہلے سے حاصل کسی بھی حق سے محروم نہیں کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یہ رد عمل این آر سی کی آخری فہرست کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کے ایک طبقے میں آئی تنقید کے مدنظر دیا گیا ہے۔
یہ پہلی بار ہے جب ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے این آر سی کو لےکر تفصیلی بیان دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اگست میں بنگلہ دیش کے دورے پر گئے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے مقامی میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ این آر سی ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ آسام میں این آر سی کی حتمی فہرست سنیچر کو جاری کر دی گئی تھی۔ این آر سی میں شامل ہونے کے لئے 33027661 لوگوں نے درخواست دی تھی ۔ ان میں سے 31121004 لوگوں کو شامل کیا گیا ہے اور 19 لاکھ سے کچھ زیادہ لوگوں کو باہر کر دیا گیا ہے۔
#WATCH Raveesh Kumar, MEA: State of Assam has assured provision of free legal assistance to any person excluded from the #NRCList & who is unable to afford such legal help. It is to enable people, especially disadvantaged sections, to have access to best possible legal assistance pic.twitter.com/7XfrsPHqZy
— ANI (@ANI) September 1, 2019
وزارت کے ترجمان رویش کمار نے کہا، ‘جن لوگوں کے نام فہرست میں نہیں ہیں، ان کو حراست میں نہیں لیا جائےگا اور قانون کے تحت دستیاب تمام اختیارات کا استعمال کر لینے تک ان کو پہلے کی طرح ہی تمام حقوق ملتے رہیںگے۔ ‘وزارت نے یہ بھی کہا،’آسام میں رہنے والے کسی آدمی کے حقوق پر این آر سی سے باہر کئے جانے کا کوئی اثر نہیں پڑےگا۔ ‘انہوں نے کہا، ‘یہ فہرست سے باہر کئے گئے آدمی کو ‘بے وطن ‘ نہیں بناتی ہے۔ یہ قانونی طور پر کسی آدمی کو ‘غیر ملکی’ نہیں بناتی۔ وہ پہلے سے حاصل کسی بھی حقوق سے محروم نہیں رہیںگے۔ ‘
ترجمان نے کہا کہ اس فہرست میں شامل کئے جانے کے لئے درخواست حاصل کرنے کے عمل میں تیزی لانے کے واسطے آسام حکومت موجودہ 100 عدالتوں کے علاوہ 200 اور عدالتیں قائم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، ‘آسام ریاست دسمبر 2019 تک 200 اور عدالتیں قائم کرےگی۔ اپیل کنندگان کی سہولت کے لئے ان عدالتوں کو بلاک سطح پر قائم کیا جائےگا۔ ‘کمار نے کہا کہ فہرست سے باہر کئے گئے کسی بھی آدمی کو باہر کئے جانے کے نوٹیفکیشن ملنے کے 120 دن کے اندر عدالت میں اپیل دائر کرنے کا حق ہوگا۔
انہوں نے کہا، ‘تمام اپیلوں کی تفتیش اس عدالت یعنی عدالتی عمل کے ذریعے کی جائےگی۔ اپیل کی مدت ختم ہونے کے بعد ہی یہ عدالتی عمل شروع ہوگا۔ اس کے بعد بھی فہرست سے باہر کئے جانے والے کسی بھی آدمی کے پاس ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کا رخ کرنے کا حق ہوگا۔ ‘کمار نے کہا کہ حکومت ہند ایسی اپیلوں سے نپٹنے کے بارے میں ہدایت دینے میں مدد کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی اپ ڈیٹ ایک’آئینی اور قانونی عمل ہے۔ ‘ انہوں نے کہا کہ این آر سی سائنسی طریقوں پر مبنی ایک غیر جانبدارانہ عمل ہے۔
واضح ہو کہ این آر سی کی حتمی فہرست آنے کے بعد اقوام متحدہ (یو این)کے افسر نے ہندوستان سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی تھی کہ آسام ریاست میں فہرست میں تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو باہر کئے جانے کے بعد کوئی بھی آدمی بے وطن نہ ہو۔پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فیلپو گرینڈی نے جنیوا میں بیان جاری کرکے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ‘ کوئی بھی عمل جس میں بڑی تعداد میں لوگ کسی ملک کی شہریت سے محروم رہ جاتے ہیں تو وہ بے وطنی کو ختم کرنے کی عالمی کوششوں کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔ ‘
(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)