ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس
نئی دہلی: ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم نریندر مودی پر پوسٹ کیے گئےایک کارٹون ہٹانے کے آرڈر کی سخت مذمت کی ہے۔ گلڈ نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
کارٹون ہٹانے کے ساتھ-ساتھ ’دی وائر‘کا انسٹاگرام پیج تقریباً دو گھنٹوں کے لیے بلاک بھی کر دیا گیا تھا، جسے بعد میں میٹا نے بحال کیا۔ قابل ذکر ہے کہ کارٹون ہٹائے جانے اور پیج بلاک کیے جانے کے تقریباً 22 گھنٹے بعد ’دی وائر‘ سے اپنے ’طرز عمل کی وضاحت‘کرنے کو کہا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دی وائر‘کو باضابطہ طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ کارٹون کیوں ہٹایا گیا۔ زبانی طور پر جو وجہ بتائی گئی، وہ یہ تھی کہ کارٹون ملک کی سلامتی اور وقار کو متاثر کر سکتا ہے۔ گلڈ نے اس دلیل کو ’مضحکہ خیز‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی آئین میں ایک بنیادی حق ہے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز عوامی عہدیدار بھی ادارتی جائزے اور تبصرے کے موضوع ہوتے ہیں، جن میں کارٹون بھی شامل ہیں۔
گلڈ نے اس واقعہ کو حکومت اور اس کے نمائندوں میں تنقید کے تئیں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی ہمہ گیر جمہوریت کی شبیہ کو داغدار کرتا ہے، جہاں میڈیا، طنز و مزاح اور مزاحیہ اظہار کو مقام حاصل ہے۔
بیان میں حال ہی میں جاری کیے گئے انفارمیشن ٹکنالوجی (ثالثی کے رہنما خطوط اور ڈیجیٹل میڈیا ڈیجیٹل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ) ترمیمی ضابطہ، 2026 کا بھی ذکر کیا گیا۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے حوالے سے کہا گیا کہ نئی دفعات انتہائی وسیع ہیں اور اس سے طنز، پیروڈی، سیاسی تبصرہ اور فنی اظہار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی اور ڈیجیٹل مواد کے ضابطہ کاری کے نام پر لائے جا رہے نئے قواعد کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تاکہ وہ میڈیا کی آزادی کو کمزور کرنے یا اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کا وسیلہ نہ بنیں۔
پریس کلب اور ڈی جی پب کا ردعمل
اس معاملے میں ڈی جی پب نیوز انڈیا فاؤنڈیشن اور پریس کلب آف انڈیا بھی اعتراض درج کرا چکے ہیں۔ ڈی جی پب نے اپنے بیان میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے)کے تحت اظہار رائے کی آزادی ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔’طنز اور تنقیدی سوال جمہوری نظام میں رکاوٹ پیدانہیں کرتے بلکہ اسے متحرک بناتے ہیں۔ ‘ تنظیم نے کہا۔
ڈی جی پب نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ کارٹون کس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
وہیں،یس کلب آف انڈیا نے بھی ’دی وائر‘کے انسٹاگرام پیج کو عارضی طور پر بلاک کرنے اور 52 سیکنڈ کی طنزیہ کلپ ہٹانے کی مذمت کی۔ کلب نے کہا کہ ویب سائٹ کو حکومت یا سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا، ’بغیر وجہ بتائے کسی میڈیا ادارے کے مواد کو سنسر کرنا اور اسے ہٹانا تشویشناک حد تک عام ہوتا جا رہا ہے۔‘
کلب نے یاد دلایا کہ طنز اور کارٹون ہندوستانی صحافت کی قدین روایت کا حصہ رہے ہیں اور ایسے مواد کو دبانا آئین کی طرف سے دی گئی اظہار رائے کی آزادی کو کمزور کرتا ہے۔ اس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ویڈیو کو کس بنیاد پر سنسر کیا گیا اور انسٹاگرام پیج کو کیوں بلاک کیا گیا۔
غورطلب ہے کہ 9 فروری کو ’دی وائر‘کا انسٹاگرام پیج، جس کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹوں تک دستیاب نہیں تھا۔ صارفین کو ایک پیغام نظر آ رہا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’ قانونی درخواست کی تعمیل کے باعث یہ مواد ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے۔ ‘
ان واقعات کے بعد میڈیا تنظیموں نے حکومت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کمپنیوں سے شفافیت اختیار کرنے اور جمہوری اقدار کے مطابق کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔