(حکومت پر) ہنسنا منع ہے

اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔

اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔

ہندوستان میں جو ہو رہا ہے، اسے کچھ بھی کہہ لیا جائے، مگر اس پر ہنسا نہیں جا سکتا۔

باون سیکنڈ کا ایک اینیمیٹڈ ویڈیو کیا اتنا بڑا خطرہ ہے؟

گزشتہ 7 فروری کو دی وائر کے تمام سوشل میڈیا ہینڈل پر ڈالا گیا یہ اینیمیٹڈ کارٹون حال ہی میں پارلیامنٹ میں پیدا ہونے والے تعطل، جو 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران سرکار کے کردار پر بحث کرنے سے وزیر اعظم کے انکار کے سبب پیدا ہوا تھا، کے حوالے سے ایک طنز ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دو دنوں میں مقبول ہوجانے کے بعد 9 فروری کو ہی اسے کسی ’خطرے‘ کے طور پر پہچان لیا گیا۔

ایک طنزیہ کارٹون پر اس قدر سخت سنسرشپ کیوں نافذ کی جا رہی ہے کہ دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ پوری طرح سے بلاک کر دیا گیا اور پھر ایکس کو نوٹس بھیجا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ویڈیو اس پلیٹ فارم پر بھی نہ رہے؟

شاید اب حکومت پر ہنسنا ممکن نہیں ہے۔ شاید یہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو یاد دلانے کے لیے ہے کہ آئین کا آرٹیکل 19(1)(اے) اب بھی ایسے خیالات کے اظہار کی اجازت دیتا ہے جن پر لوگ ہنس سکتے ہیں۔

 

گزشتہ سال امریکی پوڈکاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا؛

’میرا کامل یقین ہے کہ تنقید جمہوریت کی روح ہے۔ اگر جمہوریت واقعی آپ کی سوچ اور عمل میں رچی بسی ہے، تو آپ کو تنقید کو اپنانا چاہیے۔‘

انہوں نے آگے کہا تھا کہ تنقید زیادہ ہونی چاہیے اور وہ ’تلخ اور حقائق پر مبنی‘ ہونی چاہیے۔

’ہمارے شاستروں میں کہا گیا ہے کہ ناقدین کو ہمیشہ اپنے قریب رکھنا چاہیے۔ ناقدین آپ کے سب سے قریبی ساتھی ہونے چاہیے، کیونکہ سچی تنقید سے آپ جلد اصلاح کر سکتے ہیں اور جمہوری طریقے سے بہتر فیصلے لے سکتے ہیں۔‘

لیکن یہ اور بات ہے کہ اصل میں ان کی حکومت کے طرز عمل میں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی۔

اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا کے ساتھ ممبئی میں ان کے آخری شو کے بعد مہاراشٹر حکومت اور حکمراں جماعت کا رویہ، منور فاروقی جیسے کامیڈین کا ایسے لطیفے کے لیے جیل جانا، جو انہوں نے سنایا تک نہیں، اور حکومت پر ہنسنے والے 52 سیکنڈ کے ویڈیو کے حوالے سے ہوئی سخت کارروائی—یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پر ہنسنا منع ہے۔

ایک ایسی حکومت جو زیادہ تر بڑے میڈیا پر اپنی گرفت اور سوشل میڈیا پر اپنی جارحیت کے دم پر انفارمیشن کے ماحول کا فائدہ اٹھاتی ہے، اس کے لیے کوئی بھی علیحدہ رائے، چاہے وہ کتنی بھی چھوٹی کیوں نہ ہو، ایک ایسی سوئی کی طرح دیکھی جاتی ہے جو پروپیگنڈے کے غبارے کی ہوا نکال سکتی ہے۔

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ کئی بار طنز اور کامکس میں اس سچ کو ایسے انداز میں بیان کرنے کی قوت ہوتی ہے، جسے سنجیدگی سے بتانا دشوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ اتنا بڑا خطرہ  ہے۔ ہندوستان میں ہمیشہ ایسے حالات نہیں تھے۔ ملک کے ممتاز کارٹونسٹ میں سے ایک شنکر کو تو خود ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ انہیں’ نہ بخشیں ‘۔ نہرو کے یہ کہنے پر ایک فلم بھی بنی ، جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ فلم خود حکومت ہند کے فلم ڈویژن نے بنائی تھی۔ آج ایسا کچھ ہو سکتا ہے، یہ تصورکرنا بھی محال ہے۔ حتیٰ کہ اندرا گاندھی کے لگائے گئے قابل مذمت ایمرجنسی کے ان 18 مہینےکے دوران ان کے پاس سنسرشپ کو باضابطہ طور پر نافذ کرنے کی سیاسی ہمت تھی۔

آج کی تاریخ میں حکمراں جماعت کے حامی کس حد تک جا سکتے ہیں، اس پر کوئی بندش نہیں  ہے۔ حکومت کی مخالفت کرنے والے کسی بھی شخص کو ریپ اور قتل کی دھمکیاں دینا عام بات ہے۔ ہمنتا بسوا شرما جیسے وزیر اعلیٰ اپوزیشن رہنماؤں اور مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے ویڈیو ڈال سکتے ہیں۔ ’اتھارٹی‘ کچھ نہیں کر سکتی۔ اپوزیشن کے خلاف ماحول بنانے کی پوری مہم، چاہے وہ عوامی سطح پر ہو یا ڈارک ویب میں بھی، طنز اور مذاق پر مبنی بے شمار مواد پر ٹکی ہوئی ہے۔ لیکن اس پر کوئی کچھ نہیں کہے گا۔

لیکن جیسے ہی کوئی حکومت کی بنائی ہوئی حدود سے باہر نکلنے لگتا ہے، آئی ٹی قوانین، پابندیاں اور ’ایمرجنسی‘ میں پوسٹ ہٹوانے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے آمریت  کی طرف بڑھتے قدموں—جیسا کہ کئی اشاریے (انڈیکس) ظاہر کرتے ہیں—کے پیچھے پبلک فورم اور میڈیا پر سرکاری کنٹرول بڑی وجہ ہے۔ آزاد پریس کے لیے کھڑا ہونا صرف صحافیوں کے تحفظ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ مسلسل سوال-جواب، پوچھ گچھ اور جوابدہی کے مطالبے کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حکومت ایماندار رہے۔

جب 52 سیکنڈ کے ایک اینیمیشن کو دبانے کے لیے ’ایمرجنسی پاور‘ کی ضرورت پڑنے لگے، تو لطیفہ تو بذات خود بن چکا ہے—اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے نشانے پر مودی حکومت خود ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔