ناٹو کا انقرہ لمحہ: تاریخ کے محل سرا میں سفارت کاری کا جاہ و جلال

انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

ترکیہ کے دارلحکوت انقرہ میں دنیا کی طاقتور ترین عسکری اتحادی تنظیم ناٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل، تاریخ خود اپنے پورے جاہ و جلال، ہیبت اور تہذیبی تشخص کے ساتھ ایوانوں میں داخل ہو چکی تھی۔

شہر کے قلب میں واقع ’بیش تپہ‘صدارتی محل کے وسیع و عریض اور پرشکوہ احاطے میں جب 32 سربراہان مملکت جمع ہوئے، تو ان کا استقبال محض روایتی گارڈ آف آنر، مروجہ سفارتی مسکراہٹوں، مصافحوں اور رنگ برنگے لہراتے ہوئے پرچموں سے نہیں کیا گیا۔

اس کے بجائے، یہاں تاریخ سے جڑی ایک ایسی شاندار اور سحر انگیز رزم گاہ کا اسٹیج سجایا گیا تھا جس کا مقصد آنے والے مہمانوں پر یہ حقیقت پوری طرح واضح کرنا تھی کہ وہ صرف ایک جدید ملک کا دورہ نہیں کر رہے، بلکہ ایک عظیم الشان، صدیوں پر محیط تہذیبی تسلسل کے روبرو کھڑے ہیں۔

محل کے بیرونی حصے میں، روایتی عسکری لباس، تاریخی قباؤں اور چمکتی ہوئی آہنی زرہ بکتر پہنے ہوئے سولہ فوجی خاموش، باوقار اور مرعوب کن انداز میں صف آرا تھے۔

یہ سولہ سپاہی محض زیبائش، فوٹو سیشن یا علامتی محافظ نہیں تھے، بلکہ ان میں سے ہر ایک سپاہی تاریخ کے صفحات میں درج ان سولہ عظیم الشان تاریخی ترک سلطنتوں کی مجسم نمائندگی کر رہا تھا جنہوں نے صدیوں تک دنیا کے نقشے اور انسانی قسمت کا فیصلہ کیا۔

وہ اسی دور کاحربی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ 204 قبل مسیح کی عظیم ہن سلطنت سے لے کر بیسویں صدی کے اوائل تک قائم رہنے والی اور تین براعظموں پر راج کرنے والی سلطنت عثمانیہ تک، یہ وہ شاندار تہذیبی ورثہ ہے جسے موجودہ ترکیہ نہ صرف اپنے سرکاری تشخص اور قومی تاریخ کا ناگزیر حصہ مانتا ہے، بلکہ اسے اپنی جدید تزویراتی جڑوں اور عالمی بقا کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

اس انتہائی منظم، باریک بینی سے تیار کردہ اور گہرے تزویراتی منظر نامے میں ہندوستانی مبصر کے لیے ایک مخصوص سپاہی کا ہیولا اور اس کا لباس غیر معمولی طور پر توجہ کا مرکز، حیرت اور گہری دل چسپی کا باعث بن گیا۔ یہ وہ سپاہی تھا جو ہندوستان کے پہلے مغل فرمانروا، ظہیر الدین محمد بابر کی مغل فوج کی نمائندگی کر رہا تھا۔

ترک تاریخی تصور، نصاب اور عوامی و سرکاری بیانیے میں بابر کو محض دور دراز خطہ ہندوستان کا بادشاہ نہیں مانا جاتا ہے، بلکہ اسے ترکوں کی اس وسیع تر دنیا یعنی ترکِک ورلڈ کا ایک غیر متزلزل اور نمایاں حصہ تسلیم کیا جاتا ہے جس کی جڑیں وسطی ایشیا کے علاقے فرغانہ سے جڑی تھیں۔ایک ایسا تاریخی خطہ جو آج کے ازبکستان، کرغیزستان اور تاجکستان کی جدید جغرافیائی حدود میں منقسم ہے۔

جہاں خود ہندوستان میں مغلوں کے عہد، ان کی تاریخ اور ان کے چھوڑے ہوئے ماضی کو لے کر ایک طویل، پیچیدہ اور اکثر شدید متنازعہ بحث جاری رہتی ہے، وہیں ناٹو کے سربراہان مملکت کے روبرو انقرہ کے اس صدارتی محل کے در و دیوار کے بیچ بابر کو وسطی ایشیا کے میدانوں سے لے کر اناطولیہ کے پہاڑوں تک پھیلے ہوئے ایک وسیع ترک تسلسل کے ایک ناگزیر اور محترم حصے کے طور پر پیش کیا گیا۔

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

بظاہر یہ ایک انتہائی منظم، نپے تلے اور گہرے کوریوگرافڈ سمٹ کی ایک چھوٹی سی تفصیل یا جزئیات کا حصہ لگ سکتا ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست اور عالمی تزویراتی بساط پر ایسی ہی علامتی باریکیاں اکثر بڑے بڑے طویل، مبہم اور تحریری سفارتی اعلامیوں سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ یہ علامتی انتخاب کوئی اتفاقیہ اقدام یا محض مہمانوں کی تفریح کا سامان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرا تزویراتی اور سوچا سمجھا پیغام تھا۔

ناٹو کے وزراء، دفاعی ماہرین، جرنیل اور مغربی ممالک کے سربراہان یہاں جدید ترین میزائلوں، تباہ کن ڈرونز، یوکرین کی خونی جنگ، ایران کے بدلتے ہوئے جارحانہ تیور، روس کی فوجی پیش قدمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے پر بحث کرنے جمع ہوئے تھے۔

لیکن ترکیہ نے ان تمام جدید عسکری موضوعات کے حامل رہنماؤں کا استقبال ایک ایسے قدیم، لافانی اور تاریخی پیغام کے ساتھ کیا جس نے ایک پیغام دیا کہ جغرافیہ محض زمین کا کوئی بے جان ٹکڑا، مٹی کی لکیریں یا سرحدیں نہیں ہوتا ہے۔ یہ دراصل طاقت کی شکل میں ترتیب دی گئی ایک زندہ اور متحرک یادداشت کا نام ہے۔

ابھی باقاعدہ مصافحوں، رسمی سفارتی جملوں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک صدارتی محل کی فضا ایک سحر انگیز، مرعوب کن کانپنے والی آوازوں سے گونج اٹھی۔ یہ ’مہتر ‘یعنی روایتی عثمانی عسکری بینڈ کی گرج دار، پرجوش اور ہیبت ناک دھنیں تھیں جو محل کے وسیع و عریض میدانوں اور دالانوں میں لہرانے لگیں۔

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ عثمانی دور میں’مہتر‘صرف تفریح، موسیقی یا جشن کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہ عثمانی عسکری حکمتِ عملی اور جنگی نظام میں نفسیاتی جنگ کا ایک انتہائی خوفناک اور طاقتور عسکری ہتھیار ہوا کرتا تھا۔

میدانِ جنگ میں باقاعدہ تلواریں اور تیر چلنے سے پہلے، عثمانی افواج کی آمد، ان کی تعداد اور ان کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا ہیبت ناک اعلان کرنے کے لیے ان نقاروں، ڈھولوں اور خاص باجوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جس کی گونج دشمن کی صفوں میں پہلے ہی لرزہ اور خوف طاری کر دیتی تھی۔

اسی عسکری تاریخ کی گہری بازگشت کے بیچ، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت دنیا بھر کے عسکری طاقتوں کے مہمان  صدارتی محل کے باہر مخصوص فیروزی رنگ کے قالین پر چل رہے تھے، تو دونوں ا طرف صف آرا ہوئے مہتر نقاروں، جھانجھوں اور روایتی شہنائی کی تند و تیز آوازیں گونج رہی تھیں۔

ٹرمپ تو بیچ میں رک کر ایک بینڈ ماسٹر سے ہم کلام بھی ہوئے۔ ناٹو کا اتحاد 1949میں مغربی طاقتوں نے سویت یونین اور کمیونسٹ خطرے کے سد باب کے لیے ترتیب دیا تھا۔ ترکیہ چونکہ سویت یونین کی سرحد پر تھا اور زار کے زمانے سے ہی روس کی نظریں استنبول پر لگی ہوئی تھیں، جس کو وہ آرتھوڈاکس مسیحیت کا مرکز سمجھتا تھا، اس لیے سلامتی کے لیے اس نے بھی ناٹو کا ہاتھ تھام لیا اور مشرقی سرحد کو محفوظ کرالیا۔

جس تاریخی مقام پر یہ سب کچھ وقوع پذیر ہو رہا تھا، یعنی بیش تپہ صدارتی محل، وہ خود ترکیہ کی جدید سیاسی، سماجی اور ساختی تبدیلیوں کی ایک مجسم اور جیتی جاگتی علامت ہے۔ یہ شاندار، وسیع اور پرشکوہ محل رجب طیب ایردوان کے اقتدار میں آنے اور ملک کے دیرینہ پارلیامانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف منتقلی کے دوران خصوصی طور پر تعمیر کیا گیا۔

یہ تعمیراتی کمپلیکس ترکیہ کے پرانے، روایتی اور نسبتاً سادہ چانکایا محل کے برعکس ہے، جہاں ترکیہ کے سابقہ صدور اور وزرائے اعظم انتہائی پرسکون، محدود، سادہ اور مغربی طرز کی عمارتوں سے نظامِ حکومت چلاتے تھے اور خود کو مشرق کے بجائے مغرب کا مرہونِ منت ظاہر کرنے میں عافیت سمجھتے تھے۔

بیش تپہ محل کا فن تعمیرروایتی عثمانی طرز کے بجائے، وسطی ایشیا کے سلجوقی نقش و نگار، ان کے فلسفہ زندگی اور ان کے فن تعمیر سے  ہم آہنگ اور متاثر ہے۔ اس کے بازو میں ایک عظیم الشان اور خوبصورت جامع مسجد اور ایک انتہائی وسیع و عریض صدارتی لائبریری بھی قائم ہے، جو طلبہ، محققین اور عام عوام کے لیے چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔

اس صدارتی کمپلیکس کے بالکل سامنے 15 جولائی کی یادگارپوری شان سے ایستادہ ہے،  جو 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کی سنسنی خیز کوشش کے خلاف عام ترک عوام کی مزاحمت، سڑکوں پر نکلنے اور ان کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

انقرہ یونیورسٹی میں لکچرر اور بین الاقوامی تزویراتی امور کے ماہر ذیشان ملک جون2004میں استنبول میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بھی عینی شاہد رہ چکے ہیں۔اتر پردیش کے سنبل شہر سے تعلق رکھنے والے ملک، ان دنوں طالبعلم تھے۔

ان کا ماننا ہے کہ دونوں اجلاسوں کے انعقاد، پس منظر، تزویراتی ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2004  میں ترکیہ کے پاس عالمی رہنماؤں کو دکھانے، متاثر کرنے یا ان کے سامنے پیش کرنے کے لیے اپنے روایتی قالینوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔

ترکیہ ان دنوں ایک ایسے معذرت خواہانہ اور دفاعی پوزیشن میں تھا جہاں وہ مغربی دنیا میں شامل ہونے اور یورپی یونین کی رکنیت کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھا، اور ناٹو  میں اس کی حیثیت محض ایک فرماں بردار میزبان کی سی تھی۔

 لیکن اس بار انقرہ کے سمٹ نے دکھا یا کہ منظر نامہ پوری طرح تبدیل ہوچکا  ہے۔  اس بار ترکیہ نے مہمانوں کو قالین یا روایتی دستکاری نہیں دکھائی۔ بلکہ ان کے سامنے جدید ترین بائرکتار ڈرونز اور پانچویں نسل کے انتہائی جدید جنگی جہاز کان کی نمائش کی۔

یہ ایک ایسے پر اعتماد، عسکری طور پر خود کفیل، دفاعی ٹکنالوجی کے مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس اور جغرافیائی سیاست میں اپنے پتے خود کھیلنے والے ترکیہ کا عکاس  تھا، جو محض ایک میزبان نہیں بلکہ ناٹو کا مرکزی کردار تھا۔سبھی مہمانوں کو ترکیہ کے تیار کردہ جدید ریوالوربطور تحفہ دئے گئے، جن پر ان کے نام کندہ تھے۔

اس سربراہی اجلاس کی ایک اور خاص بات ترکیہ کی خاتون اول  امینہ ایردوان کی سرگرمیوں اور ان کے پروٹوکول کے حوالے سے تھی۔ جو گزشتہ دو دہائیوں میں ترک معاشرے اور سیاست کے اندر آنے والی گہری سماجی اور سیاسی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

ذیشان کے مطابق 2004  کے  استنبول ناٹو اجلاس کے موقعہ پر امینہ ایردوان کو تمام سرکاری تقریبات، ضیافتوں، فوٹو سیشنز اور مصروفیات سے مکمل طور پر دوررہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کی واحد وجہ ان کا روایتی اسلامی حجاب لباس پہننا تھا اور بتایا گیا کہ مغربی ممالک کے سربراہان اور ان کے ساتھ آئی خواتین کسی باحجاب خاتون کے ساتھ بیٹھنے سے احتراز کریں گیں۔

اس وقت کے ترکیہ کے سخت گیر سیکولر ریاستی نظام اور عسکری پروٹوکول میں حجاب کو سرکاری سطح پر ایک پسماندہ علامت سمجھا جاتا تھا اور اسے صدارتی یا سرکاری تقریبات میں پہننے کی قانوناً اجازت نہیں تھی۔

حجاب میں ملبوس ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان، فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

حجاب میں ملبوس ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان، فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

لیکن اس بار انقرہ کے اسٹیج پر تصویر اور تاریخ دونوں بدل چکی تھیں۔ امینہ ایردوان اپنے مخصوص، انتہائی باوقار، ہلکے سبز  رنگ کے حجاب میں ملبوس ہر سرکاری اور بین الاقوامی فورم پر پیش پیش نظر آئیں، جہاں انہوں نے دنیا بھر سے آئے ہوئے مغربی صدور، وزرائے اعظم اور ان کے وفود کا خود صدارتی محل میں استقبال کیا۔

یہی نہیں، بلکہ انہوں نے نیٹو رہنماؤں کے ساتھ آئی خواتین کے ایک علیحیدہ اجلاس کی صدرات بھی کی، جو پرانے چانکایا صدارتی میں منعقد ہوا۔ اس متوازی اجلاس میں بچوں پر جدید ٹکنالوجی کے اثرات پر بحث ہوئی اور دنیا بھر کی حکومتوں، بڑی ٹکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ تبدیلی محض ایک خاتون کی موجودگی یا لباس کی نہیں تھی، بلکہ یہ اس بات کا تاریخی اعلان تھا کہ ترکیہ اب اپنے شعور، اپنی اسلامی و مشرقی تشخص اور اپنی ثقافتی اقدار کو مغرب کے سامنے شرمندگی کے بغیر، فخر کے ساتھ پیش کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

اگرچہ اجلاس کے بیرونی اسٹیج اور پریس کانفرنسوں میں ناٹو اتحادی یکجہتی اور اتحاد کا راگ الاپ رہے تھے، لیکن صدارتی محل کے بند کمروں میں ہونے والے نجی، خفیہ اور تزویراتی مذاکرات کا احوال بالکل مختلف تھا۔

ان نجی گفتگوؤں کے دوران سکیورٹی خطرات کی ترجیحات کا تعین کرنے کے معاملے پر امریکہ اور اس کے یورپی شراکت داروں کے مابین پائے جانے والے شدید ترین، گہرے اور دیرینہ اختلافات بالکل واضح اور نمایاں ہو کر سامنے آ گئے۔

یورپی ممالک سے آئے ہوئے مندوبین اور وزراء کا پورا اصرار اس بات پر تھا کہ یوکرین میں جاری طویل اور ہولناک جنگ نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ اس وقت پورے یورپ اور عالمی نظام کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا، فوری اور حقیقی خطرہ صرف اور صرف روس ہے۔

یورپی اتحادیوں کا مطالبہ تھا کہ ناٹو کو اپنی پوری توجہ، فنڈز اور دفاعی صلاحیتیں روس کو روکنے، ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے، فوجی ساز و سامان کے بڑے ذخائر قائم کرنے اور مشرقی سرحدوں پر جارحانہ دفاع کو مضبوط بنانے پر مرکوز کرنی چاہیے۔

اس کے برعکس، امریکی مندوبین کا موقف بالکل مختلف تھا۔ امریکی وفد نے مسلسل اور بار بار چین کا نام لیا اور اسے امریکہ اور ناٹو کا طویل مدتی، سب سے بڑا سٹریٹجک حریف قرار دیا۔

امریکہ کا استدلال تھا کہ چین فوجی لحاظ سے تائیوان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پر تول رہا ہے، اور وہ جدید ٹکنالوجی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے میدان میں مغربی تسلط کو براہِ راست چیلنج کر رہا ہے۔

ان کے مطابق روس ان کے لیے اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے۔ امریکی حکام نے یورپی رہنماؤں کو دوٹوک انداز میں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے سکیورٹی خطرات اور اپنے دفاع کا بوجھ خود اٹھائے، تاکہ امریکی فوجی طاقت، بجٹ اور وسائل کو پوری طرح ایشیا اور بحر الکاہل کے خطے پر مرکوز کیا جا سکے۔

دوسری طرف، یورپ چین کو ایک ناگزیر اور انتہائی اہم معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، اگرچہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے تزویراتی عزائم اور عالمی پھیلاؤ پر دل ہی دل میں شدید فکر مند بھی ہے۔

اجلاس کے دوران کئی امریکی مندوبین نے راقم کو بتایا کہ امریکہ اور یورپ کے مابین چین اور روس کی ترجیحات کو لے کر یہ گہرا تزویراتی اختلاف کوئی نیا نہیں ہے اور نہ ہی یہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دور سے شروع ہوا ہے، بلکہ یہ اوباما اور بائیڈن کے ادوار سے چلا آ رہا ہے۔

اوبامہ نے اس خطرے کو بھانپ کر ہندوستان اور جاپان کو ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ ایگریمنٹ کا اینکر بناکر ان کو سلامتی کے لیے امریکہ کا حلیف تسلیم کیا تھا۔ مگر بائیڈن کے آخری دنوں میں ہی ہندوستان کے حوالے سے واشنگٹن کے رویہ میں نظر ثانی شروع ہو چکی تھی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انقرہ کے اس پورے سمٹ میں ایک بار پھر اپنے اسی پرانے، روایتی اور منفرد انداز میں نظر آئے، جہاں وہ بیک وقت ایک مصلح، سخت گیر سودے باز اور بنے بنائے بین الاقوامی نظام کو ہلا کر رکھ دینے والے رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ چونکہ اسی رات ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی جہازوں پر میزائل برسائے، جس نے جواب میں امریکہ نے بھی دوبارہ بمباری شروع کی، اس نے ناٹو میں امریکہ اور یورپی ممالک کو کسی حد تک یکجا کر دیا۔

اگر ایران تھوڑ بہت تحمل کا مظاہرہ کرکے ان حملوں سے چند دن پرہیز کرتا، تو ناٹو اجلاس میں یورپ اور امریکہ کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کرتے اور فلسطین اور غزہ پر دوبارہ فوکس کرنے میں مدد ملتی۔ ٹرمپ  نے  ایران کے ساتھ ہوئی امریکی محاذ آرائی اور کشیدگی کے دوران یورپی حکومتوں کی طرف سے واشنگٹن کو خاطر خواہ فوجی اور سیاسی تعاون نہ ملنے پر شدید ترین تنقید کی اور یورپی رہنماؤں کو ان کی بزدلی کا طعنہ دیا۔

یہی نہیں، بلکہ انہوں نے گرین لینڈ کے وسیع جزیرے پر امریکی سٹریٹجک اور سیاسی کنٹرول قائم کرنے کے اپنے پرانے متنازع مطالبے کو ناٹو کے اس عالمی اسٹیج پر ایک بار پھر زندہ کر دیا۔

ان کا سٹریٹجک استدلال تھا کہ قطبِ شمالی کے خطے میں جس تیزی سے روس اور چین کی فوجی نقل و حرکت، گشت اور تجارتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، اس کے پیشِ نظر گرین لینڈ کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت امریکہ اور ناٹو کے تحفظ کے لیے اب ناگزیر ہو چکی ہے اور امریکہ اس پر کنٹرول حاصل کر کے رہے گا۔

لہذا ایران کے لیے ایک موقع تھا کہ آرام سے بیٹھ کر ان امریکہ اور یورپ کے درمیان ہورہی لفظی جنگ کا لطف اٹھاتا۔

تزویراتی امور کے نامور ماہر اور لندن کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق الیکس والمزلے نے انقرہ میں ہونے والے اس سمٹ کے بارے میں کہا کہ یہ  ناٹو کی تاریخ میں غیر معمولی طور پر اہم اور نازک مرحلہ تھا، کیونکہ یہ اتحاد گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے شدید ترین داخلی اختلافات، مالیاتی دباؤ اور بیرونی سکیورٹی چیلنجز کے باعث اپنے بدترین تلاطم اور بحران سے گزر رہا ہے۔

اگرچہ صدارتی محل کے بند اور ٹھنڈے کمروں میں طویل سفارتی تقاریر اور بحثیں جاری تھیں، لیکن ناٹو کا اصل سٹریٹجک مستقبل صدارتی محل کی عمارت سے چند کلومیٹر دور اس ‘دفاعی صنعت کے فورم جسے ترکیہ کا ساہا فورم کہا جاتا ہے میں نظر آ رہا تھا، جو اس اجلاس کے شانہ بشانہ منعقد کیا گیا تھا۔

اس فورم کے اندر بیانات، مسودوں اور مصلحتوں کے بجائے مشینوں، روبوٹس، خودکار ہتھیاروں، مصنوعی ذہانت اور جدید ترین جنگی آلات کی مہیب زبان بولی جا رہی تھی۔

اسی صنعتی فورم کے دوران، ناٹو کے سات اہم اتحادی ممالک نے مشترکہ طور پر ‘ایئربس اے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کی تیاری کے ایک نئے بڑے مینوفیکچرنگ پروجیکٹ کا باضابطہ آغاز کیا۔ ترکیہ کا اپنا دفاعی نیٹ ورک اور مینوفیکچرنگ سیکٹر اس وقت عالمی جنگی حکمتِ عملی کا محور بن چکا ہے اور انقرہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ دفاعی آلات کا محض خریدار نہیں، بلکہ ایک بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے۔

اس پورے اجلاس کے دوران گو کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ یورپی لیڈروں پر برس رہے تھے، مگر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ان کا رویہ غیر معمولی طور پر گرم جوش، دوستانہ اور نرم نظر آیا۔

صدارتی محل میں ترک صدر کے بالکل پہلو میں بیٹھ کر، صحافیوں اور مندوبین کی موجودگی میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ ان تمام یکطرفہ اقتصادی اور عسکری پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے جو امریکہ نے ترکیہ کی طرف سے روس کے دفاعی نظام ایس 400کو خریدنے کی پاداش میں عائد کیے گئے تھے۔

ہم اپنے دیرینہ اور مخلص دوستوں پر پابندیاں لگانا پسند نہیں کرتے، اور ہم ترکیہ کو اپنے جدید ترین ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ پروگرام میں دوبارہ شامل کرنے اور ان طیاروں کی انقرہ کو فروخت پر انتہائی سنجیدگی سے غور کریں گے۔

یاد رہے کہ ترکیہ کو واشنگٹن کی طرف سے ایف-35 بلیک ہاک پروگرام سے اس وقت انتہائی توہین آمیز طریقے سے باہر نکال دیا گیا تھا جب انقرہ نے  روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے اس کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ‘ایس400 خرید لیا تھا۔

اس وقت واشنگٹن اور پینٹاگون کا تزویراتی موقف یہ تھا کہ اگر روسی میزائل نظام اور امریکی ایف-35 اسٹیلتھ طیارہ ایک ہی ملک کی فوج استعمال کرے گی، تو اس سے ایف-35 کی خفیہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور اس کے سکیورٹی کوڈز روس کے سامنے افشا ہو سکتے ہیں اور اس طیارے کی عالمی سکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان نے ناٹو کے رکن یونان اور امریکی حلیف اسرائیل کے ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا د ی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ترکیہ کو کسی بھی قسم کے جدید ترین امریکی ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت یا اس پروگرام میں اس کی واپسی کی علانیہ اور شدید ترین مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ اس سے خطے میں فوجی طاقت کا اسٹریٹجک توازن بگڑ جائےگا۔

لیکن دوسری طرف انقرہ کا واشنگٹن اور برسلز کو صاف پیغام تھا؛

اگر ناٹو اتحاد کو مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود، بلقان اور وسطی ایشیا کے اہم ترین جغرافیائی سنگم پر ترکیہ کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور تجربہ کار فوج چاہیے، اس کے میدانِ جنگ میں آزمودہ ڈرونز کی طاقت چاہیے، اس کے بحری بیڑے، انقرہ کے اسٹریٹجک فضائی اڈے، اس کا وسیع انٹلی جنس نیٹ ورک اور اس کا بے مثال جغرافیہ چاہیے، تو مغربی اتحادیوں کو یہ روشِ عام ترک کرنی ہو گی اور وہ ترکیہ کی اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں، ضروریات اور کرد دہشت گردی کے خلاف اس کی تشویش کو سیکنڈری یا ثانوی درجہ نہیں دے سکتے۔ انقرہ اب اپنے دفاعی مفادات پر کسی بھی بیرونی ویٹو یا مغربی چودھراہٹ کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

ایردوان نے دفاعی اخراجات کو اپنی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 5فیصد کے ہدف تک پہنچانے پر آمادگی ظاہر کی، مگر  مطالبہ کیا کہ رکن ممالک کے مابین دفاعی تعاون اور ہتھیاروں کی تجارت پر عائد تمام تر خفیہ اور اعلانیہ پابندیاں، لائسنسنگ کی تاخیر اور شرائط فوری طور پر ختم کی جائیں۔

لہذا، ناٹو کے حتمی مشترکہ اعلامیے میں دفاعی تجارت کی راہ میں حائل تمام تر رکاوٹوں اور تجارتی پابندیوں کو دور کرنے کا جو حوالہ شامل کیا گیا، وہ بظاہر عام دنیا کے لیے ایک معمولی سی لائن یا روایتی جملہ ہو سکتا ہے، لیکن انقرہ کے سفارتی حلقوں کے لیے یہ اس پورے دو روزہ سربراہی اجلاس کا سب سے بڑا، اہم ترین اور شاندار تزویراتی و سیاسی انعام تھا۔

یہ یورپی پابندیاں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب ترکیہ نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے شمالی شام میں کرد مسلح جنگجوؤں کے خلاف سرحد پار کامیاب عسکری آپریشنز کیے تھے اور مشرقی بحیرہ روم میں تیل و گیس کی تلاش کے معاملے پر یونان اور قبرص کے ساتھ اس کی شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

انقرہ نے اس سمٹ میں ناٹو کو یہ باور کرا دیا کہ اتحادیوں کے مابین ایسی پابندیاں خود ناٹو کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں اور اب انہیں ہر حال میں ختم ہونا ہو گا۔

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

فوٹو: ترک کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ / ناٹو سمٹ

انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

عثمانی دور کے ہیبت ناک مہتر فوجی بینڈ کے نقاروں اور تاشوں کی گرج دار تھاپ سے شروع ہونے والا یہ تزویراتی سفر، صدارتی محل کی جدید دالانوں، دفاعی فیکٹریوں کے جدید ترین روبوٹس، خودکار ڈرونز اور آرٹیفیشل انٹلی جنس کے مہلک ہتھیاروں کی زبان پر جا کر ختم ہوا۔

ترکیہ نے ناٹو کے اس پورے اسٹیج کو اپنے حق میں استعمال کر کے دنیا کے سامنے یہ تاریخی حقیقت ثابت کر دی ہے کہ وہ اب اپنی بقا کے لیے مغربی چھتری کے نیچے پناہ لینے کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ خود اس چھتری کو سنبھالنے، اس کا بوجھ اٹھانے اور ضرورت پڑنے پر اس کی سمت اور سیاست کا تعین کرنے کی مکمل صلاحیت اور جرأت رکھتا ہے۔

تہذیبی تاریخ کا فخر، اسٹریٹجک جغرافیہ کی ناگزیریت اور جدید ترین دفاعی ٹکنالوجی کے اس تکون نے موجودہ ترکیہ کو اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا ایک ایسا ناگزیر اور مقتدر مرکز بنا دیا ہے، جسے نظر انداز کرنا یا اس کی شرائط کو پسِ پشت ڈالنا اب واشنگٹن سے لے کر برسلز تک کسی بھی عالمی طاقت یا عسکری اتحاد کے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔

یہ انقرہ کا وہ نیا تزویراتی سودا ہے، جس کی گونج آنے والے کئی دہائیوں تک عالمی سیاست کے ایوانوں میں سنائی دیتی رہے گی۔