الزام ہے کہ مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں جے سی بی مشینوں سے قبروں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس کی بے حرمتی کی گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت رات گئے قبرستان کے اندر یہ کارروائی کی گئی۔

اتر پردیش کے متھرا کے منوہرپورہ میں واقع اہل مسلمین قبرستان میں 26 اپریل 2026 کی رات مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں جے سی بی کارروائی میں تباہ شدہ 9 قبروں میں سے 3 کی تصویر۔ قبروں سے باہر نکلے کفن تک اس میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
نئی دہلی:متھرا کے منوہرپورہ کے ایک مقامی رہائشی کہتے ہیں، ’میں اپنے مرحوم بھائی کی قبر پر فاتحہ کہاں پڑھوں؟ جب وہ قبریں توڑ رہے تھے تو ان کا کفن تک باہر آ گیا تھا۔‘
گزشتہ26اپریل 2026 کی صبح متھرا کے منوہرپورہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ایک شدید صدمے کی صبح تھی۔ جب وہ اہل مسلمین قبرستان پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ کئی قبروں کوتوڑ دیا گیا ہے، قبرستان کی چہار دیواری اور دیگر تعمیرات منہدم کر دی گئی ہیں اورقبر سے باہر نکلے کفن تک نظر آ رہے تھے۔
متاثرہ لوگوں میں وہ خاندان بھی شامل تھے، جن کا الزام ہے کہ مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں رات گئے جے سی بی مشینیں قبرستان میں داخل کی گئیں اور ان کے باپ، دادا اور دیگر عزیز و اقارب کی قبروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر رات کے اندھیرے میں کیا گیا۔
سال1909 سے موجوداہل مسلمین قبرستان میں مجموعی طور پر 9 قبروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ چھ درخت، تقریباً 20 باؤنڈری فینسنگ کے کھمبے، سرسبز علاقے اور لینڈ اسکیپنگ والے حصے کو بھی جے سی بی سے تباہ کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ متھرا میونسپل کارپوریشن کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنروں کی ہدایت پر آدھی رات کو جے سی بی مشینیں قبرستان میں پہنچی تھیں۔
تاہم، مقامی مسلمان اسے صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ریاست میں پہلے سے موجود ماحول کو اور سخت بنانے کے وسیلہ کے طور پر دیکھتےہیں۔
انصاف کی جستجو
قبروں کو اس انداز سے اکھاڑا گیا کہ ان میں دفن لوگوں کے کفن اور ڈھانچے (ہڈیاں) تک باہر نظر آنے لگے۔ اس واقعہ کے بعد مقامی مسلمانوں میں گہرے رنج و الم کے ساتھ شدید غصہ بھی تھا۔
اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ کے دستاویزوںکے مطابق، یہ قبرستان سرکاری گزٹ میں درج وقف جائیداد ہے، جس کانام وقف نمبر 74 اور وقف نمبر 858 کے طور پر درج ہے۔ اس کا سرٹیفکیٹ دسمبر 2023 میں تجدید کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی نسلوں سے یہ قبرستان ان کے خاندانوں کے استعمال میں رہا ہے، اور یہاں ان کے والدین، دادا دادی اور دیگر رشتہ دار دفن ہیں۔
اس واقعہ میں اپنے چچا کی قبر سے محروم ہونے والے توصیف شیخ خود کو شدید بے عزت محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے غصے میں کہا،’مسلمانوں کی کوئی قدر نہیں ہے، نہ زندہ رہتے ہوئے اور نہ مرنے کے بعد۔ انتظامیہ ہماری قبروں تک کا احترام نہیں کرتی۔ ہم نے اپنے مرحومین کو وقف بورڈ سے منظور شدہ زمین میں دفن کیا تھا، لیکن وہاں بھی ہماری جگہ چھین لی گئی۔ قبروں سے کفن تک باہر نکال دیے گئے۔‘

متھرا کے منوہرپورہ میں واقع اہل مسلمین قبرستان کے باہر نالے پر رکھے کنکریٹ کے سلیب توڑ کر قبرستان کی چہار دیواری کے اندر پھینک دیے گئے۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
ریاست کی اس جے سی بی کارروائی سے متاثر ہونے والے تاج الدین اپنی نانی کی بہن کی قبر کو نقصان پہنچائے جانے پر انتہائی افسردہ ہیں۔
انہوں نے کہا،’ہم ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے اس قبرستان کا استعمال کر رہے ہیں۔ اسے جلد از جلد پہلے جیسی حالت میں بحال کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک غیر انسانی حرکت ہے۔‘
واقعہ پر مشتعل مقامی افراد اور اہل مسلمین قبرستان کمیٹی کے اراکین نے اتر پردیش کے اتر پردیش انٹیگریٹیڈ گریونس ریڈریسل سسٹم (آئی جی آر ایس) کے توسط سے شکایت درج کرائی، جس کے بعد متھرا-ورنداون نگر نگم نے معاملے کی جانچ شروع کی۔
نقصان کا ازالہ یا رسمی کارروائی؟
آئی جی آر ایس کے توسط سے درج شکایات کے بعد مقامی لوگوں، نگر نگم کے حکام اور انہدامی کارروائی انجام دینے والے ٹھیکیدار کے درمیان متعدد مراسلات کا تبادلہ ہوا۔
دی وائر کے مشاہدے میں آئے دستاویزوں کے مطابق، 8 مئی 2026 کو متھرا-ورنداون نگر نگم نے پہلی بار تسلیم کیا کہ قبرستان کے اندر تقریباً نو قبروں کو نقصان پہنچا تھا۔
آئی جی آر ایس شکایت کے جواب میں جاری کیے گئے خط میں میونسپل ہیلتھ افسر نے تقریباً نو قبروں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی اور ہر قبر کے لیے 100 روپے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی۔ اس طرح نو قبروں کے نقصان کی مجموعی مالیت 900 روپے طے کی گئی۔
خط میں ٹھیکیدار کمپنی نیچر گرین ٹولز اینڈ مشینز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ہدایت دی گئی کہ وہ یہ رقم قبرستان کمیٹی کو ادا کرے۔ کئی دنوں تک نقصان کی دستاویزی تفصیلات جمع کرنے اور شکایات درج کرانے والے مقامی افراد کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب انتظامیہ نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا کہ قبروں کو نقصان پہنچا ہے۔

اتر پردیش کے متھرا-ورنداون کے جونیئر انجینئر (آب رسانی) کا خط، جس میں کہا گیا کہ توڑ پھوڑ ٹھیکیدار سے غلطی سے کی گئی تھی۔
گزشتہ26مئی کو نگر نگم کے حکام نے قبرستان کے احاطے کا ایک الگ سروے کیا۔ اس جائزے میں پتہ چلا کہ کارروائی کے دوران چھ درخت اورتقریباً 20 باؤنڈی فینسنگ کھمبے بھی زد میں آئے۔ حکام نے درختوں کے لیے 600 روپے اور ستونوں کے لیے 2,000 روپے کا معاوضہ طے کیا۔ اس طرح ان نقصانات کے لیے مجموعی طور پر 2,600 روپے کا معاوضہ طے کیا گیا۔
دی وائر کے مشاہدے میں آنے والے ریکارڈ کے مطابق، 28 مئی 2026 کو قبرستان کمیٹی کے نام دو چیک جاری کیے گئے۔ ان میں سے ایک 900 روپے کا تھا، جو تباہ شدہ قبروں کے لیے تھا، جبکہ دوسرا 2,600 روپے کا چیک درختوں اور حدودی باڑ کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے جاری کیا گیا۔
بتادیں کہ9جون کو ٹھیکیدار کی جانب سے بھیجے گئے ایک اور خط میں تصدیق کی گئی کہ نگر نگم کی ہدایات کے مطابق معاوضے کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ اس خط میں 8 مئی اور 26 مئی کے نگر نگم کے دونوں خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ معاوضے سے متعلق احکامات پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔
ان دستاویزوں سے شکایت درج ہونے سے لے کر انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی جانب سے نقصان کو تسلیم کرنے اور معاوضہ جاری کرنے تک کے پورے عمل کی تفصیل سامنے آتی ہے۔ تاہم بہت سے مقامی لوگوں کے لیے انتظامیہ کا یہ ردعمل ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
توصیف شیخ سوال کرتے ہیں،ایک قبر کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے درختوں، باڑ اور قبروں کی قیمت تو طے کر دی، لیکن اس خاندان کے غم کا ازالہ کیسے ہوگا، جس کے مرحومین کی قبروں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی گئی؟ کیا ہمیں سوسو روپے دے کر وہ اس نقصان یا اس بے ادبی کی تلافی کر سکتے ہیں جو انہوں نے کی یا ہونے دی؟‘
ہراسانی کی طویل تاریخ
آج یہ قبرستان اس درد کی گواہی دیتا ہے، جس سے وہاں دفن لوگوں کی باقیات بھی گزری ہیں۔ مقامی لوگوں کے نزدیک اہل مسلمین قبرستان کو پہنچنے والا نقصان محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ ’یہ اس مارجنلائزیشن کا حصہ ہے، جس کاسامنا متھرا کے مسلمان گزشتہ چند برسوں سے سامنا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ قبرستان پہلے بھی کئی بار تنازعات میں رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور قبرستان کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی قبرستان کے اطراف تجاوزات، داخلی دروازے کے قریب کچرا جمع کرنے کے مرکز کے قیام اور اس زمین کی نوعیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین طویل عرصے سے مقامی مسلمانوں کی تدفین کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

اہل مسلمین قبرستان کے باہر بنے کچرا جمع کرنے کے مرکز کی وجہ سے وہاں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کی بنا پر انتظامیہ ان کے علاقے کی شہری سہولیات کو نظرانداز کرتی ہے۔ (تصویر: تاروشی اسوانی)
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب متھرا کے مسلمانوں میں پہلے ہی عدم تحفظ کا احساس ہے۔ حالیہ برسوں میں ضلع میں مسلمانوں کی ملکیت والے کاروباروں کو نشانہ بنانے کی مہم، مسلمانوں کے علاقوں میں بلڈوزر کارروائیاں، اور شاہی عیدگاہ تنازعہ کے حوالے سے تیز ہوتی سیاسی سرگرمیوں نےمسلمانوں میں مزید تشویش پیدا کی ہے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے، جہاں ان کی عبادت گاہیں، گھر، روزگار، اور اب قبرستان بھی تنازعات کا موضوع بنتے جا رہے ہیں۔
قبرستان کمیٹی کے رکن شاکر حسین نے دی وائر سے کہا،ہمیں سب سمجھ میں آ رہا ہے جو بھی ہو رہا ہے۔ جس طرح ہمیں ہمارے اجتماعی حقوق اور وقف کے دعووں سے پیچھے ہٹانے کے لیے ہراساں کیا جا رہا ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ سرکاری کام کر رہا ایک ٹھیکیدار قبرستان کوبرابر کر دیتا ہے اور جواب میں ہمیں صرف 2,600 روپے کا چیک تھما دیا جاتا ہے۔ ہم کہاں نماز پڑھیں، کیسے پڑھیں، کیا کھائیں، کیا بیچیں، اور اب ہمارے قبرستان تک… ہر چیز ریاست کی نگرانی میں ہے۔ اسی لیے ہم ان تمام واقعات کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں اور متعلقہ سرکاری محکموں میں شکایات درج کرا رہے ہیں۔‘
دی وائر سے بات کرنے والے کئی مقامی لوگوں نے کہا کہ قبروں کو نقصان پہنچنے کے بعد دیا گیا معاوضہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ انتظامیہ مسلمانوں کی شکایتوں کو الگف نظریے سے دیکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے بھلے ہی معاوضہ ادا کیا ہو، لیکن یہ معاملہ پیسے سے کہیں بڑاہے۔
قبرستان کمیٹی کے ایک اور رکن نے کہا،’آج ہماری قبریں ہیں۔ کل ہمارے گھر تھے دکانیں تھیں۔ کل کیا باقی بچے گا، ہمیں نہیں پتہ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانونی طور پر محفوظ ایک قبرستان میں داخل ہو کر وہاں توڑ پھوڑ کی گئی۔‘
مسلمانوں کے لیے اہل مسلمین قبرستان کا یہ تنازعہ اب صرف قبروں کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک طویل جدوجہد کا ایک اور باب ہے، جس میں وہ ایسے شہر میں اپنی مذہبی اور اجتماعی جگہوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں زمین، تاریخ اور شناخت سے جڑے سوال مسلسل سیاسی رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔