سنبھل: کیا مسجد سے متعلق تنازعہ منصوبہ بند تھا؟

درخواست 19 نومبر کو دائر کی گئی اور 19 تاریخ کو ہی عدالت نے سروے کی اجازت دے دی۔ اسی دن سروے ہو بھی گیا۔ جامع مسجد کا پہلا سروے رات کے اندھیرے میں ہوا، جبکہ دوسرا صبح سویرے۔ وہ سرکاری کارروائی جو دن کے اجالے میں پوری کی جا سکتی تھی، اس کو بے وقت انجام دیا گیا۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ کسی تاریخی عمارت کا سروے پہلے اندھیرے میں ہو اور اس کے بعد صبح کے وقت جب لوگ عموماً اپنی دکانیں بھی نہیں کھول پاتے۔

درخواست 19 نومبر کو دائر کی گئی اور 19 تاریخ کو ہی عدالت نے سروے کی اجازت دے دی۔ اسی دن سروے ہو بھی گیا۔ جامع مسجد کا پہلا سروے رات کے اندھیرے میں ہوا، جبکہ دوسرا صبح سویرے۔ وہ سرکاری کارروائی جو دن کے اجالے میں پوری کی جا سکتی تھی، اس کو بے وقت انجام دیا گیا۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ کسی تاریخی عمارت کا سروے پہلے اندھیرے میں ہو اور اس کے بعد صبح کے وقت جب لوگ عموماً اپنی دکانیں بھی نہیں کھول پاتے۔

سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر تعینات پولیس(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر تعینات پولیس(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

سنبھل: سنبھل کی سڑکوں پر رات اترنے والی ہے۔ شہر دن بھر پولیس کے بوٹوں  کی ٹاپ  سے گونجتا رہا۔ بند دکانوں، انٹرنیٹ سروس میں خلل، مختلف مقامات پر پولیس کی رکاوٹوں کے درمیان شاہی جامع مسجد کی طرف جانے والی سنسان سڑک پراسٹریٹ لائٹ چمک رہی ہے۔سنبھل تشدد میں پانچ مسلمانوں کی موت کو ایک ہفتہ ہو گیا ہے، مقامی عدالت کو ہدایت دیتا ہواسپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ چکا ہے، لیکن اس تشدد سے متعلق  تمام سوال ابھی تک سوال ہی ہیں۔

 کیا یہ تنازعہ کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھا؟

پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو یہ سارا واقعہ اس قدر ڈرامائی معلوم ہوتا ہے، گویا یہ منصوبہ بند تھا۔ 19 نومبر کو جامع مسجد کے ہری ہر ہندو مندرہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے چندوسی عدالت میں عرضی دائر کی گئی۔ سنبھل کے کیلا دیوی مندر کے مہنت رشی راج گری اور دیگر پانچ مدعیان نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ 1529 میں مغل بادشاہ بابر نے ‘قدیم ہری ہر مندر’ کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔

اسی دن عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیا اور سروے کے لیے ایڈوکیٹ کمشنر رمیش سنگھ راگھو کو مقرر بھی کر دیا۔ حالانکہ عدالت نے سروے کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی تھی، لیکن راگھو نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ راجیندر پنسیا سے سروے کی اجازت بھی لی اور پھر راگھو کی قیادت میں ایک ٹیم سروے کرنے پہنچی اور سروے بھی اسی دن ہوگیا۔ غور کریں،جس دن درخواست دائر کی گئی، اسی دن عدالت نے سروے کا حکم دے دیا اور اسی دن سروے ہو بھی گیا۔

کیا اتنی عجلت پہلے سے منصوبہ بند  کسی سازش کی جانب اشارہ کرتی ہے؟

سنبھل کی شاہی جامع مسجد (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

سنبھل کی شاہی جامع مسجد (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

سروے کے دوران مسجد میں کافی ہجوم تھا لیکن یہ سارا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ لیکن جب ٹیم 24 نومبر کو دوبارہ سروے کے لیے پہنچی تو زبردست تشدد ہوا۔ پانچ افراد کی جانیں گئیں، حالانکہ پولیس چار افراد کی موت کا دعویٰ کر رہی ہے کیونکہ پانچویں فرد کے اہل خانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد کے دوران تقریباً 20 سرکاری ملازمین زخمی ہوئے۔

کیا مسجد کمیٹی کو اس سروے کا علم تھا یا سروے ٹیم اچانک پہنچ گئی؟

مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب وقت پر اس سروے کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ اس کے علاوہ دوسرے سروے کے لیے بھی عدالت سے اجازت نہیں لی گئی۔

سنبھل کے سرکل آفیسر (سی او) انج چودھری نے دی وائر کو بتایا،’سروے کے سلسلے میں ظفر علی (مسجد مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین) کو نوٹس دینے میں اور ایس ڈی ایم صاحب گئے تھے۔ ریسیو بھی کرایا تھا۔’

شاہی جامع مسجد کی طرف جانے والا راستہ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

شاہی جامع مسجد کی طرف جانے والا راستہ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

ظفر نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے ان باتوں کی تردید کی۔ ‘ 19 تاریخ کو عدالت کی سماعت میں ہماری طرف سے کوئی موجود نہیں تھا۔ سروے سے صرف پانچ منٹ پہلے بتایا گیا۔ 24 تاریخ  کے سروے کے لیے(گزشتہ) رات 9 بجے نوٹس دیا گیا تھا۔ وہ بھی عدالتی حکم نہیں تھا۔ ڈی ایم نے سروے کی اجازت دی تھی۔ اگر پہلے دن سروے مکمل نہیں ہوا تھا تو انہیں عدالت جانا چاہیے تھا، وہاں سے اجازت لینی چاہیے تھی اور پھر ڈی ایم اجازت دیتے۔ عدالت کی طرف سے دوبارہ سروے کرنے کا کوئی حکم نہیں تھا،’ انہوں نے کہا۔

تشدد کے بعد حالات بگڑنے پر بالآخر 28 نومبر کو شاہی جامع مسجد کمیٹی نے سروے آرڈر کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 29 نومبر کو سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو حکم دیا کہ جب تک سروے کے حکم کو چیلنج کرنے والی مسجد کمیٹی کی درخواست ہائی کورٹ میں لسٹ  نہیں ہو جاتی تب تک کوئی کارروائی نہ کرے۔

سنبھل کی ایک گلی (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

سنبھل کی ایک گلی (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

پہلا سروے رات کو اور دوسرا صبح سویرے: ایسی کیا عجلت تھی؟

جب دی وائر نے مقامی لوگوں سے بات کی تو ان میں سے زیادہ تر کا ایک ہی سوال تھا کہ جب سروے 19 نومبر کو ہوگیا تھا تو پھر 24 نومبر کو دوبارہ کیوں کرایا گیا؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا مسجد انتظامیہ کو سروے سے پہلے مطلع کیا گیا تھا؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 23 نومبر کو رمیش سنگھ راگھو نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سروے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ سروے 24 نومبر کو صبح سات سے گیارہ بجے کے درمیان دوبارہ کیا جائے گا۔

سنبھل کوتوالی۔ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

سنبھل کوتوالی۔ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

ایک پریس کانفرنس میں دوبارہ سروے کی وجہ بتاتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ راجیندر پنسیا نے کہا تھا، ‘سروے پہلے دن تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ سب کچھ  بخوبی ہوا۔ لیکن وہ سروے رات کو کیا گیا تھا اور آپ جانتے ہیں کہ رات کے وقت بہت سے فیچرز دستیاب نہیں ہوتے، اس لیے ایڈووکیٹ کمشنر نے 23 نومبر کو ہم سے دوبارہ درخواست کی۔ ہم 24 نومبر کی صبح پونے سات بجے کوتوالی سنبھل پہنچے۔ وہاں انتظامیہ کمیٹی کے ارکان کو  بلایا گیا۔ انہوں نے اپنے چار ارکان کو (سروے میں) لے جانے کی بات کہی۔ اس کے علاوہ مدعی کی طرف سے ایڈووکیٹ کمشنر اور دو وکیل تھے۔ ان سب کے ساتھ سروے 7.30 بجے شروع ہوا۔’

غورطلب ہے کہ پہلا سروے رات کو جلدی میں کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا صبح سویرے کیا گیا تھا۔ وہ سرکاری عمل جو دن کی روشنی میں مکمل ہو سکتا تھا بےوقت انجام دیا گیا۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ کسی تاریخی عمارت کا سروے پہلے اندھیرے میں کیا جاتا ہو اور اس کے بعدصبح کے وقت جب لوگ عموماً اپنی دکانیں بھی نہیں کھول پاتے۔ کیا سروے ٹیم اتنی صبح آتی ہے؟ ایک ضلع کا پورا محکمہ اتنی صبح کیوں جمع ہو گیا؟

ضلع مجسٹریٹ کے مطابق سروے ختم ہونے کے بعد تشدد شروع ہوا۔ ‘سروے صبح 10 بجے مکمل ہوا۔ …سوا نو بجے تک کہیں بھی پتھراؤ نہیں ہوا تھا۔ سروےپونے دو گھنٹے تک آرام  جاری رہا۔ لیکن اس کے بعد کچھ پتھراؤ ہوا تو ہم نے انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔ جیسے ہی مسجد سے اعلان ہوا کہ سروے مکمل ہو گیا ہے، زبردست پتھراؤ اور فائرنگ شروع ہو گئی۔’

مسجد کے پیچھے والے علاقے میں جہاں سب سے زیادہ تشدد ہوا،لکڑی کی دکان چلانے والے شہاب الدین اس صبح کے بارے میں  بیان کرتے ہیں۔ ‘جب میں صبح تقریباً سات بجے اپنی دکان کھولنے آیا تو میں نے دیکھا کہ پولیس نے بیریکیڈٖنگ کی ہے۔ میری دکان آگے تھی،بیریکیڈنگ پار کرکے آ گیا، پولیس نے روکا نہیں۔ جب میں مسجد کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ سامنے گلی میں لوگوں کا ہجوم ہے۔’

شاہی جامع مسجد کے پیچھے والی گلی (تصویر: اتل ہووالے/ دی وائر )

شاہی جامع مسجد کے پیچھے والی گلی (تصویر: اتل ہووالے/ دی وائر )

ماسٹر شریف بتاتے ہیں کہ جب مسجد کے اندر سروے جاری تھا تو ایک افواہ پھیلی کہ اندر کھدائی ہو رہی ہے کیونکہ پیچھے کے نالے سے اچانک پانی تیزی سے بہنے لگا۔ اس سے لوگوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ بعد میں پتہ چلا کہ وضو  کےٹینک کو خالی کرنے سے پانی بہا تھا۔

پولیس نے مسلم کمیونٹی پر تشدد کا الزام لگایا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سروے کے دوران بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ تشدد کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے چار کو گولی لگی تھی۔

شاہی جامع مسجد کی پچھلی دیوار کے قریب آتشزدگی کے نشان۔(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

شاہی جامع مسجد کی پچھلی دیوار کے قریب آتشزدگی کے نشان۔(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

پولیس نے ایس پی لیڈروں پر بھی الزام لگایا ہے۔ سی او انج چودھری کے مطابق، اب تک 12 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ تیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 250 سے زیادہ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں ایس پی ایم پی ضیاء الرحمان برق اور ایس پی ایم ایل اے اقبال محمود کے بیٹے نواب سہیل اقبال کے نام بھی شامل ہیں۔ تاہم، دونوں نے تشدد میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور انتظامیہ پر حالات کو ٹھیک سے نہ سنبھالنے کا الزام لگایا ہے۔

انج چودھری نے کہا، ‘اس دن ایم ایل اے (اقبال محمود) کا بیٹا (نواب سہیل اقبال) صبح پانچ بجے نماز پڑھنے پہنچ گیا تھا، حالانکہ وہ وہاں کبھی نماز پڑھتا بھی نہیں۔’

پولیس اور انتظامیہ کے بیانات میں تضاد

سرکل آفیسر انج چودھری پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا ہے لیکن دی وائر سے بات کرتے ہوئے چودھری نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے کوئی مہلک ہتھیار استعمال نہیں کیا۔ آنسو گیس کے شیل جیسے غیر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ واقعہ کے فوراً بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں ضلع مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ پولیس نے پیلٹ گن کا استعمال کیا۔

اس کے برعکس اس دن موقع پر تعینات پولیس اہلکار کرم سنگھ نے دی وائر کو بتایا کہ پولیس کی طرف سے ہوائی فائرنگ کی گئی تھی۔

انج چودھری کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پولیس اس دن کسی ‘تیاری ‘ کے ساتھ نہیں گئی تھی کیونکہ انہیں کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ ‘ہمیں تیار رہنے کی کیا ضرورت تھی؟ زمین پر قبضہ کرنے تھوڑے جا رہے تھے۔ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو گا۔’

شاہی جامع مسجد کے قریب سڑک (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

شاہی جامع مسجد کے قریب سڑک (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

مسجد کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 24 نومبر کو کم از کم 1000 پولیس اہلکار سروے ٹیم کے ساتھ آئے تھے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن کمار کے مطابق، دوسرے سروے کے دوران مسجد کے پیچھے والے علاقوں میں ہی 200 پولیس اہلکار موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق پہلے سروے کے مقابلے دوسرے سروے کے دوران زیادہ پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔

لیکن سرکل آفیسر کہہ رہے ہیں کہ ان کی پولیس تیار نہیں تھی۔

اسی طرح 28 نومبر کو پریس کانفرنس میں کمشنر آنجنیا کمار نے بتایا کہ انتظامیہ کے پاس پہلے سے ہی ان پٹ تھا کہ تشدد ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ضلع مجسٹریٹ نے بھی کہا تھا، ‘ ہماری انٹلی جنس جتنی باتیں ہمیں بتائی تھی، ہم اس سے زیادہ تیاری کے ساتھ پہنچے تھے۔خاطر خواہ  فورس تھی۔ اس کو آپ ایسے سمجھیں کہ ہم نے جامع مسجد کے سامنے ایک بھی شخص کو آنے نہیں دیا۔’

انتظامیہ کی لاپرواہی؟

اگر انتظامیہ کو معلوم تھا کہ تشدد ممکن ہے تو مسجد کمیٹی اور مقامی کمیونٹی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ ایک اہم  مذہبی مقام کو پولیس نے اس طرح کیوں گھیر لیا؟

شاہی جامع مسجد کے مین گیٹ کی طرف جانے والی سڑک کو پولیس نے بند کر دیا ہے۔ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

شاہی جامع مسجد کے مین گیٹ کی طرف جانے والی سڑک کو پولیس نے بند کر دیا ہے۔ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

بے حساب پولیس فورس: فضا میں خوف وہراس

ان سوالوں  کی دھندلی روشنی میں، آپ 24 نومبر کو دوسرے سروے کے دوران ہونے والے تشدد کو پڑھ سکتے ہیں۔ اس تشدد کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، لیکن خوف اور اندیشہ فضا میں موجود ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چار افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم کم از کم پانچ جاں بحق ہونے والوں کے نام سامنے آ چکے ہیں۔

دیوار پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

دیوار پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے(تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)

کڑی نگرانی کے لیے مسجد کے اطراف نئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔’ ایک آر اے ایف، دو آر آر ایف، 13 کمپنی پی اے سی، کل 16 کمپنیاں تعینات ہیں۔ باہر کی  فورس ہے، ہمارے پاس مقامی فورس بھی ہے، کچھ کو اسٹینڈ بائی پر بھی رکھا گیا ہے،’ مراد آباد کے کمشنر آنجنیا کمار کہتے ہیں۔

سنبھل شہر کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ، مسلمان کل آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ ہیں اور ہندو 20 فیصد سے کچھ زیادہ ہیں۔ شہر کی زیادہ تر آبادی لوئر مڈل کلاس یا انتہائی غریب ہے۔

سنبھل کی گلیوں میں پولیس (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

سنبھل کی گلیوں میں پولیس (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

مسجد کے قریب گلی میں جنرل اسٹور چلانے والے ماسٹر شریف کہتے ہیں،’ہم نے تو صدر صاحب (مسجد مینجمنٹ کمیٹی کے صدر ایڈووکیٹ ظفر علی) کے مشورے پر دکان کھولی ہے لیکن گاہک نہیں ہیں۔’

آنجنیا کمار کی 28 نومبر کو کی گئی پریس کانفرنس سے پتہ چلتا ہے کہ شہر کا ماحول جلد معمول پر نہیں آنے والا ہے۔ ‘یہ نظام جاری رہے گا۔ حالات مکمل طور پر نارمل ہونے تک ہم ہر جگہ چوکسی رکھیں گے۔’

کس کی گولی سے مرے لوگ ؟

سنبھل تشدد میں پانچ لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے – نعمان، بلال، اعیان، کیف اور نعیم۔ نعمان کے علاوہ باقی چار گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ وائر ٹیم نے نعمان، بلال، اعیان اور نعیم کے اہل خانہ اور پڑوسیوں سے بات کی۔

اعیان کی عمر 17 سال تھی۔ وہ مسجد کے قریب ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ اس دن بھی میں گھر سے  کام کرنے ہی  نکلا تھا۔ اعیان کی بہن ریشما کا کہنا ہے کہ ‘اچانک کچھ لوگ اعیان کو کندھوں پر اٹھائے لے آئے۔ اس وقت تک اس کی  سانس چل رہی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ اسے پولیس نے گولی ماری ہے۔’

واقعہ کے اتنے دن گزرنے کے بعد بھی اہل خانہ کے پاس نہ تو ایف آئی آر کی کاپی ہے اور نہ ہی پوسٹ مارٹم  کی رپورٹ۔

اعیان کی بہن ریشما (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

اعیان کی بہن ریشما (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

نعیم کے گھر والوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ مٹھائی کی دکان چلاتے تھے اور سامان خریدنے کے لیے نکلے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق نعیم نے بھی پولیس کی گولی لگنے کی بات بتائی تھی۔ اسپتال لے جاتے وقت ان کی موت ہوگئی۔اس کے بعد پولیس گھر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئی ۔ لیکن ابھی تک اہل خانہ  کو پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں ملی ہے۔

مسجد سے چار کلومیٹر دور سرائے ترین کا رہائشی 22 سالہ بلال شاہی جامع مسجد کے قریب ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان چلاتا تھا۔ والد حنیف ٹھیلے پر پھل بیچتے ہیں۔

بلال (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

بلال (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

جائے وقوعہ سے چار کلومیٹر دور حیات نگر کا رہائشی نعمان (45) سائیکل پر کپڑے بیچا کرتے  تھے۔ اس دن مسجد کی طرف پھیری  کے لیے گئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق ان کی طبیعت پہلے سے ناساز تھی۔ دنگے میں بھیڑ کے نیچے کچلنےسے ان  کی موت ہوگئی۔ ان کے جسم اور چہرے پر نشان تھے۔

واقعے کے بعد پولیس نعمان کے اہل خانہ کے پاس پہنچی اور پوسٹ مارٹم کرانے کا کہا لیکن اہل خانہ نے انکار کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اس موت کو تشدد میں ہلاک ہونے والوں میں شمار نہیں کر رہی ہے۔

‘چار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والے کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ چار افراد کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے۔ مرادآباد کا ایک شخص زیر علاج ہے،’ کمشنر آنجنیا کمار نے دی وائر کے سوالوں کے جواب میں کہا۔

سنبھل کی  ایک سڑک (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

سنبھل کی  ایک سڑک (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)

اس سوال پر کہ کس کی گولی سے موت ہوئی، کمشنر نے کہا، ‘ایک نہیں بلکہ دس الزامات لگائے جائیں گے۔ 100 لگیں گے۔ ہم جو بھی کہہ رہے ہیں، ثبوت کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔ گولی کس نے چلائی اس کے ثبوت دیجیے،اگر پولیس نے چلائی ہوگی  تو ہم اس کو بھی بری نہیں کریں گے۔ … صرف ایک ویڈیو کی بنیاد پر آپ سب کچھ نہیں کہہ سکتے ۔’

ان کا اشارہ  سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کی طرف تھا، جس میں پولیس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ ایس پی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیلٹ گن تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ متاثرہ خاندان کو نہ دیے جانے پر کمشنر نے کہا، ‘اس کے لیے ایک عمل ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تین کاپیاں بنتی ہیں۔ عمل کے ایک حصے کے طور پر، اسے خاندان کے افراد کو بھی دیا جائے گا۔ ہم چھپا کچھ بھی نہیں رہے ہیں۔’

حکومت دعویٰ بھلے کرے، لیکن وہ کیا  چھپا رہی ہے، یہ کسی سے چھپا نہیں ہے ۔ سب سے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔

Next Article

الہ آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پرتوڑے گئے مکانات کے مالکان کو دس-دس لاکھ روپےکا معاوضہ دینے کو کہا

ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ان چھ لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جن کے گھر2021 میں غیر قانونی طور پر توڑے گئے تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ یہ واحد راستہ ہے، جس سے حکام ہمیشہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کرنا یاد رکھیں گے۔

نئی دہلی: 1 اپریل کو ایک سخت فیصلے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد، اتر پردیش کی پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو حکم دیا کہ وہ  ان چھ لوگوں کو دس دس  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے ،جن کے مکانات غیر قانونی طور پر گرائے گئے تھے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ‘بلڈوزر جسٹس’ کا دفاع کر رہی ہے، جس میں عام طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جائیدادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

دی وائر نے پہلےرپورٹ کیا تھا  کہ توڑے گئے مکانات میں سے ایک  مکان ریٹائرڈ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی کا تھا۔ یہ کارروائی  ان کے لیے معاشی اور سماجی طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں  نے دی وائر کو بتایا،’میں اسے (مکان) دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکا۔’

پی ڈی اے نے ان کی بیٹی نائلہ فاطمی کے گھر کو بھی مسمار کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وکیل ذوالفقار حیدر اور دیگر دو افراد کی جائیدادوں کو منہدم کر دیا تھا۔

لائیو لاء کے مطابق ، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی قانونی عمل کی خلاف ورزی تھی۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

آئین کا آرٹیکل 21 شہریوں کی زندگی اورشخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور یہ من مانے ڈھنگ سے ذریعہ معاش سے محروم کرنے سے کو روکتا ہے۔

عدالت نے کہا، ‘انتظامیہ اور خاص طور پر ڈویولپمنٹ اتھارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ رہائش کا حق بھی آرٹیکل 21 کا ایک اہم حصہ ہے… چونکہ یہ غیر قانونی توڑ پھوڑآرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے ہم پی ڈی اے کو متاثرین  کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔’

جسٹس اوکا نے کہا، ‘ان معاملوں نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اپیل کنندگان کے گھروں کو زبردستی اور غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا… رہائش کا حق ہوتا ہے، قانونی عمل نام کی  بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ دی وائر کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ فاطمی کو کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں  کہ ان کا گھر کیوں گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی وجہ نہیں ہے، ‘ہم ہاؤس ٹیکس اور پانی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے اس سے قبل 13 نومبر 2023 کو بھی فیصلہ سنایا تھا کہ ‘کسی شخص کے گھر کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے صرف اس لیے گرانا مکمل طور پر غیر آئینی ہے کہ وہ ملزم یا مجرم قرار دیا گیا ہے۔’

نوٹس چسپاں کرنا کافی نہیں

عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ افسران نے صرف گھروں پر نوٹس چسپاں کیا، جبکہ انہیں ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ جسٹس اوکا نے کہا، ‘نوٹس چسپاں کرنے کا یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔’

عدالت نے اس عمل میں سنگین خامیوں کو بھی نوٹ کیا۔وجہ  بتاؤ نوٹس 18 دسمبر 2020 کو اتر پردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسی دن نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے۔ مسمار کرنے کا حکم 8 جنوری 2021 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

ڈاک 1 مارچ 2021 کو بھیجی گئی اور 6 مارچ 2021 کو موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کرنے یا جواب دینے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر، اگلے ہی دن مکانات مسمار کر دیے گئے۔

افسران کو سبق سکھانے کا طریقہ-معاوضہ

عدالت نے کہا، ‘ہم اس پورے عمل (گھر کو مسمار کرنے) کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ متاثرین  کودس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے لیے یہ یاد رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ قانونی عمل کی پیروی کرنا ضروری ہے۔’

اس فیصلے سے واضح  ہے کہ قانون پر عمل کیے بغیر مکان گرانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Next Article

چھتیس گڑھ پولیس نے محمد زبیر کے خلاف پاکسو کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی

چھتیس گڑھ پولیس نے فیکٹ چیکر محمد زبیر کے خلاف  2020 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےپاکسوایکٹ کے تحت درج معاملے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے بعد زبیر نے کہا ہے کہ ‘سچائی کو پریشان کیا جا سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی!’

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

نئی دہلی: چھتیس گڑھ پولیس نے آلٹ نیوز کے فیکٹ چیکراور صحافی محمد زبیر کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی ہے۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کو یہ جانکاری دی۔

یہ کیس  2020 میں زبیر کی طرف سے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹ کے سلسلے میں  درج کیا گیا تھا۔

لائیو لا کے مطابق، چھتیس گڑھ حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس اروند کمار ورما کی بنچ کے سامنے یہ جانکاری دی۔

اب عدالت نے زبیر کی درخواست نمٹا دی ہے، جس میں انہوں نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ ایف آئی آر انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67، تعزیرات ہند کی دفعہ 509بی  اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت درج کی گئی تھی۔

کیاتھا معاملہ؟

زبیر نے ایکس پر 2020 میں جگدیش سنگھ نامی شخص کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے سنگھ سے پوچھا تھا کہ کیا سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کرنا ان کے لیے درست ہے، خاص طور پر جب ان کی پروفائل تصویر میں ان کی پوتی دکھائی دے رہی تھی۔

زبیر نے پوسٹ میں لکھا تھا: ‘ہیلو جگدیش سنگھ، کیا آپ کی پیاری پوتی کو معلوم ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں  دیتے ہیں؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرلیں۔’

اس پوسٹ میں زبیر نے لڑکی کے چہرے کو دھندلا کر دیا تھا،اس کے باوجود جگدیش سنگھ نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے شکایت کی تھی۔

اس کے بعد نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اس سلسلے میں دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھا، جس کے بعد رائے پور پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ زبیر نے اس ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت کا فیصلہ

اکتوبر 2020 میں ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ زبیر کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ 2024 میں، عدالت نے جگدیش سنگھ کو ایکس پر زبیر سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔

زبیر کا بیان

گزشتہ 2 اپریل 2024 کو زبیر نے ایکس  پر لکھا : ‘اس معاملے میں، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے سابق چیئرمین پریانک قانون گو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور میرے خلاف پروپیگنڈہ  چلایا۔ انہوں نے دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ میرا ٹوئٹ ایک نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے والا تھا۔ لیکن گزشتہ سال دہلی کی عدالت نے شکایت کنندہ کو مجھ سے سر عام معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔ اور اب چھتیس گڑھ پولیس نے کلوزر رپورٹ درج کر کے مجھے بے قصور قرار دیا ہے۔’

زبیر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کل 10 ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے اب دو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وہ لکھتے ہیں، ‘سچ پریشان ہو سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ انصاف کی جیت ہوتی  ہے!’

قابل ذکر ہے کہ محمد زبیر نے حکومت اور بی جے پی کے گمراہ کن دعوے کو بے نقاب کرنے والے فیکٹ چیکنگ  رپورٹس شائع کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہندوتوا کے حامیوں اور پروپیگنڈہ چلانے والوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ اتر پردیش پولیس نے ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ دینے والے یتی نرسنہانند سے متعلق پوسٹ کرنے پر بھی ان کے خلاف کیس  درج کیا ہے ۔

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )

Next Article

پارلیامنٹ میں آدھی رات کے بعد بھی بحث، وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا سے پاس

راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کو پاس کرانے کے لیے مسلسل دوسرے دن پارلیامنٹ آدھی رات کے بعد بھی چلی۔ یہ بل 4 اپریل کی رات 2:35 پر منظور کیا گیا، جس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں یہ 3 اپریل کو رات کے 2 بجے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

اپوزیشن کی مخالفت

جمعرات (3 اپریل) کو حزب اختلاف کے کئی ارکان پارلیامنٹ نے کالے کپڑے پہن کر بل کے خلاف احتجاج کیا۔ تاہم، بی جے پی کے اتحادیوں- تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے  راجیہ سبھا میں بھی بل کی حمایت کی۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس (وائی ایس آر سی پی) نے احتجاج  توکیا، لیکن اپنے ارکان پارلیامنٹ کو ووٹ ڈالنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔

بل پر زوردار بحث

لوک سبھا میں بحث بغیر کسی رکاوٹ کے چلی، لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیامنٹ نے اس بل کو ‘مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش’، ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملہ’ اور ‘زمینوں پر قبضے کا منصوبہ’ قرار دیا۔ وہیں، حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ بل وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانے کے لیے لایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ یہ بل غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔’

کانگریس نے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا الزام لگایا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ بی جے پی نے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 میں کی گئی ترامیم کی حمایت کی تھی، لیکن اب اچانک اس کو ‘عوام مخالف’ بتاکر ترمیم کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن وہ صرف 240 سیٹوں پر رہ گئی۔ اب یہ بل لا کر وہ اپنا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان کا سوال- یہ ترمیم کیوں؟

حزب اختلاف کے سینئر رکن پارلیامنٹ کپل سبل نے سوال کیا کہ اس بل میں صرف مسلمانوں کو ہی وقف املاک کو عطیہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ‘اگر میرے پاس جائیداد ہے اور میں اسے خیرات میں دینا چاہتا ہوں تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟’

حکمراں پارٹی نے اس پر اعتراض کیا جب سبل نے یہ بھی کہا کہ ‘ملک میں 8 لاکھ ایکڑ وقف جائیدادیں ہیں، جبکہ صرف چار جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک) میں ہندو مذہبی جائیدادوں کا رقبہ 10 لاکھ ایکڑ ہے۔’

‘حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے’

کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ مدرسوں کی تعلیم، مفت کوچنگ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسی اسکیموں کو بند کر رہے ہیں اور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟’

‘کیا گھروں اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے اس بل کی اس شق کی مخالفت کی جس میں وقف املاک کو عطیہ کرنے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ میں مسلمان ہوں؟ کیا مجھے ٹوپی پہننی ہوگی، داڑھی رکھنی ہے؟ کیا میرے گھر اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

‘کیا یہ بل بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے؟’

راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے غیر مسلموں کو شامل کیا جا رہا ہے تو سیکولرازم کے اس جذبے کو دوسرے مذاہب تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے پوچھا، ‘اگر آپ واقعی سیکولرازم کے اس جذبے کو پورے ملک میں پھیلاتے ہیں اور ہر مذہبی ادارے میں دوسرے مذاہب کو شامل کرتے ہیں – چاہے وہ سکھ، مسلم یا عیسائی ہوں  – تو میں آپ کی تعریف کروں گا۔ یا آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام تجربہ صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ہو گا؟’

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ بل ‘بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے’ کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ بل بلڈوزر کے لیے قانونی ڈھال بنا رہا ہے؟ یہ  بات ایک شہری کے طور پر مجھے ڈراتی ہے۔ شہروں میں مسلمان گھیٹو میں رہنے پر مجبور ہیں، اگر وہ گاؤں میں جاتے ہیں  تو انہیں  درانداز کہاجاتا ہے۔ ان کی تنظیموں کو شک کے دائرے میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ڈاگ-وہسل  کی سیاست کا استعمال کرناٹھیک نہیں ہے۔’

حکومت کا جواب

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور ان کی مداخلت صرف تجاویز تک محدود رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل وقف کونسل کے کل 22 ارکان ہوں گے جن میں سے صرف چار غیر مسلم ہوں گے۔ وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے۔’

‘ بل کارپوریٹس کو وقف املاک فروخت کرنے کا منصوبہ’

کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ‘آپ نے اس بل کا نام ‘امید’ رکھا ہے لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی اب مایوس ہے کیونکہ آپ ان کی زمینیں لوٹ کر کارپوریٹس کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔’

اپوزیشن نے وقف املاک کو بدنام کیا: بی جے پی ایم پی

عآپ کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مسلمانوں کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے اور راجیہ سبھا میں صرف ایک ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لیے یہ قانون لا رہے ہیں، لیکن آپ کی پارٹی میں ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، صرف ایک غلام علی ہیں۔ آپ نے مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کی سیاست ہی ختم کر دی۔ کیا آپ واقعی مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں؟’

بی جے پی کے اکلوتے مسلم ایم پی،غلام علی، جوجموں و کشمیر سے نامزد رکن ہیں،نے آدھی رات کے قریب بل پر بحث میں حصہ لیا اور کانگریس پر وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کرنے کا الزام لگایا جس سے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کیں جن سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش  ہوئی۔’

ترامیم کے خلاف عدالت جائے گی ڈی ایم کے

جمعرات (3 مارچ) کو اسٹالن سیاہ بیج پہنے  اسمبلی پہنچے  اور لوک سبھا میں بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمل ناڈو حکومت اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسٹالن نے ایوان میں کہا ،  ‘ یہ ایکٹ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے ہم آج اسمبلی میں سیاہ بیج لگا کر شرکت کر رہے ہیں ۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ‘اس متنازعہ ترمیم کے خلاف ڈی ایم کے کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی ۔ تمل ناڈو اس مرکزی قانون کے خلاف لڑے گا کیونکہ یہ وقف بورڈ کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ۔’

ڈی ایم کے کا پارلیامنٹ میں احتجاج

راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے ایم پی تروچی شیوا نے بھی حکومت پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

‘ایک مخصوص کمیونٹی کوکیوں نشانہ بنایاجا رہا ہے؟ حکومت کی منشابدنیتی پر مبنی اورقابل مذمت۔وہ ‘سب کاساتھ ، سب کاوشواس ‘ کی بات کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کےبارے میں ان کی پالیسی امتیازی سلوک اورحاشیے پر دھکیلنے کی ہے۔یہ آئین کےخلاف ہے۔

اسٹالن کا وزیر اعظم مودی کو خط

جب لوک سبھا میں اس بل پر بحث ہو رہی تھی،اسی دوران  سی ایم  اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی ۔

انھوں نے لکھا، ‘ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق دیتا ہے اور اس حق کی حفاظت کرنا منتخب حکومتوں کا فرض ہے ۔ لیکن مجوزہ ترمیم اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتی ہے ۔اس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔’

تمل ناڈو اسمبلی میں بل کے خلاف تحریک

اسٹالن نے 27 مارچ کو تمل ناڈو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ، جس میں اس بل کو ملک اور مسلم کمیونٹی کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )