مودی-شاہ کا ’گڈ کاپ-بیڈ کاپ‘ کھیل اب بے اثر

وزیراعظم کی شبیہ بچانے کے لیے خود نریندر مودی، امت شاہ اور اب آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت الگ الگ کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ بھاگوت کا اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرنا بھی اسی پرانی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

وزیراعظم کی شبیہ بچانے کے لیے خود نریندر مودی، امت شاہ اور اب آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت الگ الگ کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ بھاگوت کا اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرنا بھی اسی پرانی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

تصویر: (بائیں سے) امت شاہ، موہن بھاگوت اور نریندر مودی۔ پس منظر میں جنتر منتر پر احتجاج کرتے نوجوان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی | السٹریشن: دی وائر)

اقتدار میں بیٹھےلوگوں کی چالیں کسی بھی طرح سےحیران کن نہیں ہیں، خصوصی طور پر ایسے وقت میں جب ملک گیر نوجوان تحریک نے انہیں اب تک کا سب سے بڑا سیاسی جھٹکا  دے دیا ہے۔ ان کی پرانی حکمت عملی ایک بار پھر سامنے ہے، لیکن اس بار یہ پہلے کی طرح مؤثر ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

ہمیشہ کی طرح وزیراعظم نریندر مودی ’گڈ کاپ‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، امت شاہ ’بیڈ کاپ‘ کا کردار نبھاتے ہیں اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اکثر ایک ایسے نرم دل جج کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اچھی اچھی باتیں کہتے ہیں اور پھر موجودہ صورتحال کو جوں کا توں برقرار رہنے دیتے ہیں۔ کیا یہ پورا سلسلہ آپ کو کچھ جانا پہچانا لگتا ہے؟

صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سنگھ پریوار کے اس منظم تماشے کا بارہا شکار ہوتے رہے ہیں۔ اسی تماشے نے گزشتہ پچاس برسوں میں نظر آنے والی  جابرانہ حکمرانی کے سب سے ظالمانہ ڈھانچے کو کھڑا کیا ہے۔

’گڈ کاپ-بیڈ کاپ‘ کا یہ پورا کھیل مودی کی شبیہ برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔ جب بھی این ڈی اے حکومت کو کسی بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہوتا ہے، مودی کچھ عرصے کے لیے سیاسی منظرنامے سے غائب ہو جاتے ہیں اور ان سے رابطہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد پوری مشینری وزیراعظم کی شبیہ بچانے کے لیے طرح طرح کے انتظامات میں مصروف ہو جاتی ہے۔ سب سے فوری اور ضروری کام ہمیشہ وزیراعظم کی شبیہ کا تحفظ ہوتا ہے، جسے خود بڑے بحران سے نمٹنے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا جاتا ہے۔

چاہے وہ منی پور کی خانہ جنگی ہو، طویل عرصے تک جاری رہنے والی کسانوں کی تحریک، آپریشن سیندور، ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر لگائے گئے اب تک کے سب سے زیادہ ٹیرف ہوں، یا پورے ہندوستان میں احتجاج کرنے والے لاکھوں جین زی نوجوانوں کی تحریک- ترجیح اول و آخر وزیراعظم کو ہر بحران سے نکالنا ہی رہی ہے۔

جنتر منتر پر ہونے والی جین زی تحریک اور اس کے بعد ہونے والے تشدد، جس میں بے حد خوفناک طریقے سے پیلٹ گنوں کا استعمال بھی کیا گیا، نے مودی کے لیے غیر معمولی بحران پیدا کر دیا۔ اس کے بعد مودی کو سیاسی طور پر اس بحران سے الگ رکھنے کے لیے پورا سسٹم متحرک ہو گیا۔

عام طور پر صرف مودی ہی کچھ عرصے کے لیے غائب ہو جانے کی سہولت کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ باقی پوری مشینری ان کی شبیہ بچانے کے طریقے تلاش کرتی رہتی ہے۔ لیکن اس بار عجیب بات یہ رہی کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی، جن کی ذمہ داری وزیراعظم کے لیے ایسے بحرانوں سے نمٹنے کی  ہوتی ہے، غائب رہے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد بھی وہ کئی دنوں تک پارلیامنٹ میں نظر نہیں آئے۔

یہ بے حد غیر معمولی واقعہ تھا، کیونکہ ماضی میں شاہ ہی مودی کی شبیہ بچانے کی مہم کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ تو آخر چل کیا رہا تھا؟ شاہ رابطے سے باہر کیوں تھے؟ کیا جین زی کے جھٹکے نے نمبر ایک اور نمبر دو، دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے؟

یہ سوال اب بھی اٹھ رہے ہیں۔ تجربہ کار صحافی اور سیاسی تجزیہ کار اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاید وزیراعظم اس بات سے ناراض ہیں کہ شاہ نے حد سے زیادہ تشدد کا استعمال کرکے تحریک سے نمٹنے میں ٹھیک سے کام نہیں کیا۔

تاہم، ایسا اندازہ لگاتے وقت انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ’گڈ کاپ-بیڈ کاپ‘ کے اسی پورے کھیل کا حصہ ہو اور شاہ جان بوجھ کر ایسی افواہوں کو پھیلنے دے رہے ہوں کہ تحریک سے نمٹنے کے ان کے طریقہ کار سے وزیراعظم ناراض ہیں۔

پارلیامنٹ میں نظر نہ آ کر شاہ شاید خود کو قصوروار دکھانے کا تاثر دے رہے ہوں، تاکہ مودی کی شبیہ محفوظ رہے۔ یاد رکھیے، وزیراعظم کی شبیہ کو چمکائے رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس ضرورت کو ایک لمحے کے لیے بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس لیے شاہ کے اقدامات کو اسی نظریےسے دیکھا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ فوراً یہ نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ ان کے اور وزیراعظم کے درمیان کوئی سنگین اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

’گڈ کاپ-بیڈ کاپ‘ کے اس کھیل میں بحران کی نوعیت کے حساب سے مختلف اور تخلیقی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بحران ممکنہ طور پر مودی کے سامنے آنے والے اب تک کے کسی بھی بحران سے بڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی اس پورےناٹک میں شامل ہو گئے ہیں۔ وہ خود کو ایک غیر جانبدار جج اور جین زی کے بڑے ہمدرد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ان نوجوانوں کو سمجھے اور ان کے ساتھ حساسیت کا مظاہرہ کرے، جو سنگھ پریوار کے سخت کنٹرول میں چلنے والے مکمل طور پر بدعنوان اور مفاد پرست نظام سے پریشان ہیں۔

تعلیمی نظام کےحوالے سے طلبہ کی شکایات کا فوری حل کرنے کی بھاگوت کی اپیل سراسر منافقت ہے، کیونکہ مودی نے تعلیمی نظام تقریباً مکمل طور پر آر ایس ایس کے حوالے کر رکھا ہے۔ ایسے میں بھاگوت یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں براہ راست جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی صرف ایک مثال ہی کافی ہے۔ موجودہ حکومت نے ملک کے اس ممتاز اور ٹاپ رینکنگ ادارے کو جس طرح تباہ کیا ہے، وہ اس نظام کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

کسی بھی صورت میں بھاگوت غیر جانبدار جج کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ آر ایس ایس سے وابستہ کئی تنظیموں کو او این جی سی جیسی بڑی سرکاری کمپنیوں سے کروڑوں روپے کے سی ایس آر فنڈز ملتے رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے رہنما فخر سے بتاتے ہیں کہ چند دہائیاں قبل خاندانوں سے معمولی ’گرو دکشنا‘ کے طور پر چندہ لیا جاتا تھا۔ وہ دور اب ختم ہو چکا ہے۔ اب آر ایس ایس اقتدار میں ہے اور اسے کروڑوں روپے کے چندے ملتے ہیں۔

ایسے میں بھاگوت جابرانہ ریاست اور شہری معاشرے کے درمیان کسی غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں قطعی نہیں ہیں۔ آر ایس ایس کا بار بار دہرایا جانے والا یہ دعویٰ کہ اس نے ہمیشہ ’سماج‘ کے لیے کام کیا ہے، ’اقتدار‘ کے لیے نہیں، آج مکمل طور پر کھوکھلا نظر آتا ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد، جب بی جے پی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، بھاگوت نے بالواسطہ طور پر مودی پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران پولرائزنگ اور تفرقہ انگیز زبان کے استعمال پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو دشمن کی طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

اسی ہفتے کے آغاز میں بھاگوت نے ایک سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف تقریریں کرنے اور انتخابات جیتنے سے کوئی حقیقی رہنما نہیں بن جاتا۔

آر ایس ایس کے سربراہ وقتاً فوقتاً درست باتیں کہتے رہے ہیں۔ لیکن اس سے اس چالاک اور جابرانہ حکومت کے رویے یا اس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا ہے۔

آر ایس ایس ’گڈ کاپ‘، ’بیڈ کاپ‘ اور ’ہمدرد جج‘ کے درمیان جاری اس منظم سیاسی چال میں پوری طرح شامل ہے۔ جین زی بھی اس بات کو پوری طرح سمجھ چکا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔