موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

فرانسیسی نقاد پیترک ابراہم کا تبصرہ: خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

فرانسیسی نقاد پیترک ابراہم کا تبصرہ: خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

موت کی کتاب، فوٹو بہ شکریہ: متعلقہ پبلی کیشن

موت کی کتاب، فوٹو بہ شکریہ: متعلقہ پبلی کیشن


پیترک ابراہم کا یہ تبصرہ فرانسیسی زبان میں شائع ہوا ہے، محمد ریحان کے شکریے کے ساتھ یہاں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)


یہ یقیناََ ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن-آلس ویئے کو ان کے غیر معمولی اور معیاری ترجمے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

’موت کی کتاب‘ مختصر ہونے کے باوجود اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔

یہ ایک ایسا ناول  ہے جو پہلی ہی قرأت میں ذہن و روح پر نقش ہو جاتا ہے، ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

والٹر شیلر نامی شخص، جو سیوکاریگ فورٹ یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ سے وابستہ ہے، اپنی ’تمہید‘ (صفحہ 1-6) 2211 میں قلمبند کرتا ہے۔ اس میں وہ ایک ایسے مخطوطے کی دریافت کا ذکر کرتا ہے، جو ایک فراموش شدہ زبان میں تحریر تھا اور جسے سمجھنے میں بے حد دشواری پیش آئی تھی۔

یہ تحریر ’گرگٹہ تل ماس‘ کے کھنڈرات میں ملی تھی، جہاں تقریباً دو صدی قبل، اس قصبے کو ہائیڈرو الکٹرک ڈیم کی تعمیر کے لیے غرق آب کیے جانے سے پہلے، ایک ’پاگل خانہ‘ قائم تھا۔

اس کے بعد مسودے کے مصنف کا درد میں ڈوبا ہوا مگر ظرافت سے بھرپور یکطرفہ مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ ہمیں اس کے عہد کا سراغ ملتا ہے، نہ ہی اس سرزمین کا جہاں اس نے اپنی زندگی بسر کی، اگرچہ ہمارا قیاس یہی کہتا ہے کہ وہ شمالی ہند کا باسی ہے۔

اس کردار کا وجود ایک ایسی داخلی اجنبیت کے احساس پر مبنی ہے جو اسے دنیا سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت سے محروم رکھتا ہے۔

وہ موت کے خیال کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہےاور خودکشی کا آسیب کسی ناگزیر سائے کی مانند اس کے شعور پر سایہ فگن رہتا ہے۔ مگر اس کے لیے خودکشی محض ایک ترغیب، ایک خیال نہیں بلکہ ایک مجسم ہستی ہے، جو کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی ہے۔

483527155_9483265428385970_8536707087862918278_n

یہ خود کشی پالتو گلہری کی شکل میں اس کی پتلون کی جیب میں جا بیٹھتی ہے۔ جب وہ افسردگی کے عالم میں چہل قدمی کرتا ہوا ریلوے لائن کے قریب پہنچتا ہے (صفحہ 19-23)، تو یہی خود کشی اسے مشورہ دیتی ہے کہ وہ خود کو ٹرین کے حوالے کر دے۔

کئی اشارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ وجودی اضطراب صرف بچپن کے دنوں تک محدود نہیں (صفحہ 43-46، 47-53، 54-59، 60-62)، بلکہ اس کی بازگشت پیدائش سے پہلے کی گھڑیوں میں بھی سنائی دیتی ہے (صفحہ 113-114)۔

تاہم، یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی ابتدائی دور کا صدمہ موجود ہے تو اس کی جڑیں کسی محض اتفاقی حادثے میں نہیں، بلکہ کسی گہری اور پیچیدہ حقیقت میں پیوست ہیں۔ اس پس منظر میں ’موت کی کتاب‘ کا علمی و فکری مطالعہ نہایت موزوں معلوم ہوتا ہے۔ میں اگلے صفحات پر اس پہلو پر مزید روشنی ڈالوں گا۔

راوی اپنی ماں کی موت کے بعد، جو مسلسل تشدد اور محرومیوں کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے، شادی کر لیتا ہے، مگر اس کے دل میں باپ کے قتل کی خواہش اور دونوں کے مابین نفرت کی دیوار جوں کی توں قائم رہتی ہے۔

اس کی زندگی میں ایک معشوقہ بھی ہے، جس کی ہتھیلیاں زردی مائل اور آنکھیں ویران ہیں۔ وہ، اس کی بیوی کے برعکس، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس سے محبت کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ خوش نہیں ہے (صفحہ 16-18، 19-23، 24-25)۔

سنیما کی بات کو پس پشت ڈال دیں تو جدید ہندوستانی ادب عموماً جنسی موضوعات کے بیان میں جھجک کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر خالد جاوید اپنے المناک کردار کے ازدواجی اور ناجائز تعلقات کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: نعمت خانہ: سماجی مسائل کے بطن میں انسانی زندگی کے فلسفے کی تلاش …


ناول کا اختتام ایک جہنمی موسم (صفحہ 84-91، 92-103) پر ہوتا ہے، جہاں راوی خود کو ایک ایسی مایوسی میں قید کر لیتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں، اور وہ نہایت منظم انداز میں اپنی ہی ذات سے گھن کھانے لگتا ہے۔ اس کے مکروہ اور بدنما خودبیانیہ پرغور کرنا دلچسپی سے خالی نہیں، جو اس کی گہری نفرت کی عکاسی کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے لوترے آموں (Lautréamont) کے اسلوب میں دکھائی دیتا ہے۔ کیا روزن-آلس ویئے اور ڈیوڈ ایمے کو اس بات کا علم ہے کہ خالد جاوید نے Les Chants de Maldoror کا مطالعہ کیا ہے اور کیا وہ اس سے متاثر ہوئے ہیں؟

لوترےآموں ’لے شوں‘ (IV, 5) میں لکھتا ہے؛

’میں غلیظ ہوں۔ جوئیں میرے جسم کو کھا رہی ہیں۔ سور مجھے دیکھ کر قے کر دیتے ہیں۔ کوڑھ کے زخموں کی پپڑیاں میری جلد سے اتر چکی ہیں، اور میرا جسم پیلے رنگ کے پیپ میں لت پت ہے۔‘

خالد جاوید اپنے ناول (صفحہ 87، 92) میں لکھتے ہیں؛

’میں نے جسم کا خیال رکھنا بالکل ہی چھوڑ دیا ۔ میں گندا اور غلیظ رہنے لگا۔ (…) زخم سے پیپ کی دوری ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جلد ہی میں ایک قد آدم زخم کے اندر چلوں گا۔‘

راوی کا باپ اور اس کی بیوی اسے ایک پاگل خانے میں داخل کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں (صفحہ 104-115)، ایک مشکل آزمائش، جس سے نجات اسے صرف اپنے والد کی موت کے بعد ہی ملتی ہے۔ رہائی کے بعد، وہ بارش میں اس پاگل خانے کی’سیاہ اور دیو ہیکل دیواروں‘ سے دور نکل جاتا ہے اور بالآخر بیکٹ کے کسی کردار کی مانند، کیچڑ سے بھرے ایک گڑھے میں پناہ لے لیتا ہے (صفحہ 118-124)۔

یہ کتاب ابواب کے بجائے’اوراق‘ میں منقسم ہے،کل انیس اوراق۔ بیسواں ورق(صفحہ 125) خالی رہتا ہے اور کتاب ایک پُراسرار جملے پر اس طرح ختم ہوتی ہے؛’لامحدود اور بیکراں زمانوں تک……‘ اور یہ جملہ، جیسا کہ خالد جاویدلکھتے ہیں (عرض مصنف، صفحہ i-ii) ، سنسکرت زبان کے ایک پراسرار حرف ’ری‘ (ऋ) کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کی دھاتو پر غور کریں تو اس کا مطلب ’پتھر پر خراشیں ڈالنا‘ یا ’مصنف اور اس کی تحریر کے درمیان کوئی دوئی یا دوری نہ باقی رہے‘ ہو سکتا ہے۔

اس میں نفسیاتی مریضوں کے ہسپتال، پاگل خانے کا ذکر ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بیان کردہ واقعات پر کتنا اعتبار کرنا چاہیے۔ آخر ہم اس راوی کی باتوں پر کہاں تک یقین کریں؟ کیا یہ کسی کا ایک بے باک اعتراف ہے یا کسی دیوانے کی ڈائری؟

والٹر شیلر، جو خود کو تئیسویں صدی کا ماہرِ آثارِ قدیمہ ظاہر کرتا ہے، حقیقت میں وہی اس متن کا مصنف تو نہیں؟ کیا والٹر شیلر، اس کی ’سیوکاریگ فورٹ یونیورسٹی‘، اور اس کا دوست ’ژاں ہیوگو،جو ’گارساں دَ تاسی‘ کی نسل سے ہے اور اس مخطوطے کا مترجم بھی، کیاواقعی میں یہ سب کوئی حقیقی وجود رکھتے ہیں؟

یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ اس میں کیا حقیقی ہے اور کیا نہیں۔ کیوں کہ یہ نہ تو کسی طبی معائنے کے لیے پیش کردہ’دستاویز‘ ہے، نہ ہی خودنوشت کہانی (جو ان دنوں فرانس میں بے حد مقبول ہے) اور نہ ہی کوئی ایسا سنسنی خیز افسانہ جس کی کہانی گھسے پٹے انداز میں بُنی گئی ہو۔ بلکہ یہ ایک حقیقی ادبی تخلیق ہے (یونانی مفہوم میں ایک نظم کے مترادف) جس کے سوالات کے جواب صرف اس کے بیانیے کے اندر ہی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں: ’میری ہر تحریر موت کی ایک کتاب ہے‘


اس ناول کا عنوان بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کی تعبیر کیسے کی جائے؟ اس حوالے سے کئی عبارتیں موجود ہیں جو اس کی تفہیم میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں (صفحہ 89، 106، 115، 119)۔ ’موت کی کتاب‘شاید وہی کتاب ہے جس میں ’ہمارے گناہوں کا اندراج ہوگا‘ اور جو صرف اس وقت قابلِ مطالعہ ہوگی جب ہم خودفنا ہو چکے ہوں گے، یعنی اس وقت جب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

مگر اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کتاب کی ترتیب کئی جنم پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی، کیونکہ اسے ’کرموں کے لگاتار بہتے ہوئے سنسکاروں نے گڑھا ہے‘، جن پر ہمارا ’کوئی اختیار‘ نہیں تھا۔’ (ہمارے) سارے اعمال اور (ہمارے) سارے گناہ (ہمارے) جنم لینے سے پہلے ہی(ہمارے) تعاقب میں ہیں۔‘

یہ مفروضہ اور بھی زیادہ حیرت انگیز ہو سکتا ہے جہاں غنوصی تعبیر از سر نو ابھر کر سامنے آتی ہے؛ کیا یہ کتاب خدا اور شیطان کی مشترکہ تخلیق نہیں،جس میں ’شیطان کے قلم کی سیاہی اڑنے والی نہیں‘ ہے؟ کیا خدااور شیطان (خدا اپنے ہی کھیل میں شیطان کی شمولیت قبول کرنے پر مجبور ہے) مل کر ہماری زندگیاں لکھ رہے ہیں، ہماری بدبختی کی، اور وہ بھی ہماری لاعلمی میں؟

مجھے امید ہے کہ میں یہ واضح کر نے میں کامیاب ہوں کہ خالد جاوید کا پہلا ناول (’موت کی کتاب‘ عربی میں لفظ ’کتاب‘ ’مقدس کتاب‘ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے) فکر و معنی کے بے شمار در وا کرتا ہے، کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتا اور ناول کا یہی پہلو اسے مسحور کن بنا دیتا ہے۔

سال 2025 کا Le Prix Médicis étranger انعام، جو غیرانگریزی ہندوستانی ادب کو عالمی توجہ دلانے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے، اگر اس ناول کو دیا جائے تو کسی طور پر غیر مناسب نہ ہوگا۔

(پیترک ابراہم افرانسیسی تنقیدنگار، صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ عصری ادب پر اپنے بصیرت افروز تبصرے اور مضامین کے لیےمعروف ہیں۔)

Next Article

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے، ان کو مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعتکار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

یہ مضمون، 15 جون 2024 کو شائع کیا گیا تھا، وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کے آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کے پہلے دورے کے تناظر میں اس کودوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

‘کیا آپ نے تقریر سنی؟’، میرا دوست پر جوش تھا۔ کون سی تقریر، کس کی تقریر، یہ بتانا بھی انہوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا محض اتناکہہ دینا کافی ہے اور میں سمجھ جاؤں  گا کہ وہ کس تقریر کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں بھی سمجھ ہی گیا تھا، حالانکہ میں نے نہ سمجھنے کا ناٹک کیا۔ دیر تک یہ ناٹک نہیں کیا جا سکتا تھا؛ دراصل  ملک میں ان دنوں  ایک ہی تقریر کا چرچہ ہے! اور وہ موہن بھاگوت کا تازہ ترین پروچن تھا۔

بھاگوت نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ہوئے انتخابات میں قدرومنزلت اور تعظیم  کا خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن یا حزب اختلاف کا بھی اتنا ہی اہم درجہ ہے جتنا کہ حکمراں جماعت کا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منی پور ایک سال سے امن  کی راہ دیکھ  رہا ہے۔ وہاں آگ لگی  ہوئی ہے یا لگائی  گئی ہے۔

تقریر لمبی ہے۔ اس میں وہ عورتوں کے شراب پی کر  گاڑی چلانے اور اس کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس ملک کی اخلاقی قدریں  کہاں گم ہو گئی ہیں؟ خیال رہے کہ وہ عورت کے شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی مذمت کر رہے تھے، اور اسی وقت پونے کے ایک امیر نابالغ لڑکے کے ذریعے گاڑی سے دو لوگوں کو کچل کر مار دیے جانے اور پھر اس معاملے کو پولیس اور عدالت کے ذریعےرفع دفع کرنے کا تذکرہ  بھی ہو رہا تھا۔لیکن بھاگوت نے خواتین کے شراب پی کر گاڑی چلانے کو ہی مثال بناکر پیش کیا!

اس تقریر میں بھاگوت نے گزشتہ برسوں میں ہر پیرامیٹر پر ہندوستان کی ترقی کے حوالے سےقصیدہ خوانی  کی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ مودی حکومت اور بی جے پی پچھلے 10 سالوں سے اسی جھوٹ کو دہرا رہے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ تقریر لمبی ہے اور ہمارے دوست کے ساتھ ہی  ہر ایک شخص  اس کے ایک چھوٹے سے حصے کے پیش نظر پرجوش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بھاگوت نے نریندر مودی کی سرزنش کی ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اگرچہ بھاگوت نے مودی کا نام نہیں لیا، لیکن اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ انہوں نے اخلاقی قدروں کی پامالی کے لیے مودی کی ہی سرزنش کی ہے۔

بھاگوت نے اپنی تقریر میں کہا کہ انتخابات میں جو کچھ ہوتا ہے اس میں آر ایس ایس کے لوگ نہیں پڑتے۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران وہ لوگوں کے خیال اور نظریے کی تطہیر کرتے ہیں۔ تو اس الیکشن میں وہ کس طرح کی تطہیر کر رہے تھے؟

جب ان کے ایک سابق پرچارک اور تاحیات سویم سیوک نریندر مودی نفرت کاپرنالابہا رہے تھے، تب آر ایس ایس کس قسم کی تطہیر کر رہا تھا؟ صرف مودی ہی نہیں پوری بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کو فحش اور نفرت انگیز پروپیگنڈے میں بدل دیا تھا۔ مودی اور ان کی حامی بی جے پی نے پورے ملک کو غلاظت میں نہلا دیا۔ اب لوٹے میں پانی لے کر بھاگوت حاضر  ہوئے ہیں!

سوال قدرومنزلت، تعظیم و تکریم یا اس کی خلاف ورزی کا نہیں ہے، صرف اپوزیشن کی قدرومنزلت کا  نہیں۔اصل سوال ہےاس ملک میں انسانیت کی تعظیم و تکریم  کا، اس کے تحفظ کا، اور وہ اس ملک کا سیکولرازم ہے۔ اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور ان کی قدرومنزلت کا سوال اس میں سرفہرست ہے۔ ان کے مساوی حقوق کا سوال اس ملک میں سرفہرست ہے۔

کیا بھاگوت یا آر ایس ایس کا نظریہ اس بارے میں مودی سے مختلف ہے؟ کیا صرف ایک سال قبل آر ایس ایس نے ایک قرارداد پاس نہیں کی تھی، جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ مسلمان سازش کے تحت اسٹیٹ مشینری میں داخل ہو رہے ہیں؟ کیا آر ایس ایس نے یہ خدشہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے باعث  ہندوستان کی آبادی کی نوعیت اورفطرت بدل جائے گی؟

مودی جس بات کو بڑے کھلے اور بیہودہ انداز میں کہہ رہے تھے، کیا وہ آر ایس ایس کا ہی خیال نہیں ہے؟ پھر مسلمانوں کے خلاف مودی کے نفرت انگیز پروپیگنڈے پر حیرانی کیوں؟

منی پور میں آگ کس نے لگائی؟ منی پور کے سب سے طاقتور ہتھیار بند گروہ آرم بائی تینگول کے ساتھ آر ایس ایس کے تعلقات کے بارے میں منی پور میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا اس میں کوئی صداقت نہیں؟ اگر وہ جھوٹ بھی ہے تو پھر خود آر ایس ایس نے پچھلے ایک سال میں اپنے سویم سیوکوں کی حکومت کو اس بارے میں کب اور کیا کہا؟

پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس کے سربراہ کئی ‘پر وچن’  دے چکےہیں۔ انہوں نے ایک بار بھی منی پور کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ خیال رہے کہ شمال-مشرقی ہندوستان میں آر ایس ایس کی سرگرمی بہت پرانی ہے۔ بذات خوداس نے منی پور میں امن کی بحالی کے لیے کیا کوششیں کیں؟

اگر ہم اپنے آپ کو ان باتوں تک محدود رکھیں تو بھی موہن بھاگوت کے اس ‘پروچن ‘ کا دکھاوا اور کھوکھلا پن اجاگر ہو جاتا ہے۔ اس پروچن کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ آر ایس ایس بذات خود مسلمان اور عیسائی مخالف نفرت پیدا کرنے والا کارخانہ ہے۔

بھاگوت نے درست کہا کہ شاکھامیں کچھ سال گزارنے کے بعد آدمی بدل جاتا ہے۔یہ تو پوچھنا ہی پڑے گا کہ کیوں آر ایس ایس کے تمام کارکنان مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت کرتے ہیں یا ان کے تئیں  مشکوک رویہ رکھتے ہیں۔ کیوں وہ مسلسل گاندھی سے نفرت  کرتے ہیں؟ کیوں آر ایس ایس کے لوگ، اپنے تمام تر دکھاوے کے بعد بھی ذات پات کے نظام میں کامل یقین رکھتے ہیں؟

جس نریندر مودی کے سلسلے میں اب افسوس کیا جا رہا ہے، کیا آر ایس ایس نے اپنی پوری طاقت اسی مودی کو بلندی تک پہنچانے میں نہیں لگا دی تھی؟ کیا 2002 کے سویم سیوک مودی اور 2024 کے مودی میں کوئی فرق ہے؟ اور کیا خود آر ایس ایس کا پورا وجود جھوٹ اور آدھے سچ پر مبنی نہیں ہے؟ کیا آر ایس ایس اس آئین پر پورے دل سے یقین رکھتی ہے جس کی وہ تعریف کرتا ہے؟ کیا جس  گاندھی کو اس نے یادگار بنا رکھا ہے،اسے مارنے والےگوڈسے اور اس قتل کی سازش میں ملوث ساورکر کے تئیں آر ایس ایس کے لوگوں  میں عقیدت  کا جذبہ نہیں ہے؟

یہ سوال آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو پوچھنا چاہیے، اس کے ناقدین کو نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آر ایس ایس کے تمام لوگوں میں خود شناسی کا مادہ ختم نہیں ہو گیا  ہے۔ وہ اب بھی اپنے آپ سے کچھ سخت سوال پوچھ کر خود کو آر ایس ایس کے جال سے آزاد کر سکتے ہیں۔

سال 2013 میں، جب نریندر مودی کو پہلی بار بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا گیا تھا، تو میں نے آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار سے پوچھا تھا کہ گجرات میں مودی  نے ان کی تنظیم کے ساتھ جو سلوک کیا تھا،  کیااس کے بعد بھی وہ مودی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نےمسکراتے ہوئے کہا، ‘ہم دو طرح سے اپنی اہمیت کھو سکتے ہیں۔ ایک مودی کی ماتحتی میں اور دوسرا کانگریس کی حکومت میں۔ آپ بتائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

دوسری بات یہ کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد آر ایس ایس کے ایک رکن نے مجھ سے کہا، ‘اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آر ایس ایس کبھی مودی کو ڈسپلن کرے گا، تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ آپ بتائیے کہ آر ایس ایس کے  کس چیف کو زیڈ سکیورٹی ملی تھی، کس چیف کی تقریر ہر ٹی وی چینل نے چلائی، کون سوچ سکتا تھا کہ ہر کوئی اسے اتنی اہمیت دے گا؟ یہی نہیں، آر ایس ایس کے چُھٹ بَھیّے کو بھی اب جو اہمیت وزارتوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک  میں مل رہی ہے، وہ اور کب ملی تھی۔ یہ سب کس کی مہربانی ہے؟’

نریندر مودی آر ایس ایس کےحقیقی ‘سپوت’ ہیں۔ اور آر ایس ایس مودی کا سب سے بڑا ‘لابھارتھی’ ہے۔ آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں  رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے ان کو  مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعت کار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

Next Article

وقف ترمیمی بل: اہم تبدیلیاں، تنازعات اور ہندوستانی مسلمانوں پر اس کے اثرات

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقف بل  پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وقف بورڈ کو مضبوط بنانے کے ساتھ  خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ارادےسے بنایا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے اپوزیشن کے تمام اعتراضات اور احتجاج کے باوجود لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 منظور کر ا لیا ہے۔ بل کی منظوری میں 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔

بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے بل پر بحث کے لیے آٹھ گھنٹے کا وقت مختص کیا تھا، لیکن حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے گرما گرم دلائل کی وجہ سے بحث طول پکڑ گئی۔ بحث بدھ (2 اپریل) کی دوپہر 12 بجے شروع ہوئی اور جمعرات (3 اپریل) کو 12:06 بجے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔

ووٹنگ کے ذریعے بل کو پاس ہونے میں رات 2 کے  بج گئے۔ بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ اس بل کی حمایت بی جے پی کے اتحادیوں، ٹی ڈی پی، جے ڈی (یو) اور ایل جے پی نے کی۔ جہاں حکومت نے ان ترامیم کو شفافیت بڑھانے، بدانتظامی کو روکنے اور وقف املاک کے بہتر نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ یہ مسلم کمیونٹی کی مذہبی خود مختاری میں مداخلت ہے۔

حکومت  کاکیا کہنا ہے؟

گزشتہ 2 اپریل کو پارلیامانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا اور حکومت کی جانب سے بحث کا آغاز کیا۔ اپنے خطاب کے دوران، رجیجو نے بل کی مخالفت کرنے والے اپوزیشن پر سخت حملہ کیا اور بتایا کہ تجویز کردہ ترامیم کو لاگو کرنا کیوں ضروری ہے۔

رجیجو نے یہ کہتے ہوئے شروعات کی ، ‘ہم نے بل میں مشترکہ پارلیامانی کمیٹی (جے پی سی) کی طرف سے دی گئی کئی تجاویز کو قبول کیا ہے اور ایک اہم ترمیم پیش کی ہے۔ اس سے ‘امید’ ملے گی کہ ایک نئی صبح آنے والی ہے۔ اس وجہ سےنئے ایکٹ کوامید (یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی، اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ) کا نام بھی دیا گیا ہے۔’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم کمیونٹی ان ترامیم کا خیر مقدم کر رہی ہے، ‘مسلم برادری کھلے دل سے اس بل کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ یہاں کچھ لوگ اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں، لیکن میں انہیں اپنے گھر بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ مسلم وفد مجھ سے مل رہے ہیں اور اس بل کی حمایت کر رہا ہے۔ اس سے ان کی سوچ بدل جائے گی۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس بل کو مسلم کمیونٹی میں کتنی پذیرائی مل رہی ہے۔’

رجیجو نے مزید کہا، ‘ہم نے شیعہ، سنی، پسماندہ مسلمانوں، خواتین اور غیر مسلم ماہرین کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے… اس میں دو غیر مسلم  ہوسکتے ہیں، اور اس میں دو خواتین بھی ہونی چاہیے۔ اب تک وقف بورڈ میں خواتین کہاں تھیں؟’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کانگریس کی غلطی کو ٹھیک کررہی ہے۔ رجیجو نے کہا، ‘2013 میں، ایک اہتمام  کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص، کسی بھی مذہب کا، وقف بنا سکتا ہے۔ اس سے اصل ایکٹ کمزور ہو گیا۔ پھر یہ اہتمام  لایا گیاکہ شیعہ وقف بورڈ میں صرف شیعہ ہوں گے اور سنی وقف بورڈ میں صرف سنی ہوں گے۔ ایک اور شق لائی گئی کہ وقف بورڈ کسی بھی قانون سے بالاتر ہوگا۔ یہ کیسے قابل قبول ہے؟’

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی مذہبی سرگرمی میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ یہ صرف جائیدادوں کے انتظام کا معاملہ ہے، ‘یو پی اے حکومت کی جانب سے وقف ایکٹ میں کی گئی ترامیم نے اسے دوسرے قوانین پر ترجیح دی تھی، اس لیے نئی  ترامیم ضروری تھیں۔’

اس دوران رجیجو نے مارچ 2014 میں اس وقت کی یو پی اے حکومت کےذریعے  دہلی کی 123 بڑی جائیدادوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے فیصلے کا ذکر کیا۔ رجیجو نے یہاں تک کہا کہ اگر ان کی حکومت یہ ترمیمی بل پیش نہیں کرتی تو جس عمارت میں ہم بیٹھے ہیں اس پر بھی وقف کا دعویٰ کیا جا سکتا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مارچ 2014 میں عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے سے ایک رات قبل 123 جائیدادیں وقف بورڈ کو سونپ دی گئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر جائیدادیں دہلی کے اہم علاقوں میں واقع ہیں، جیسے: کناٹ پلیس، متھرا روڈ، لودھی روڈ، مان سنگھ روڈ، پنڈارا روڈ، اشوک روڈ، جن پتھ، پارلیامنٹ ہاؤس علاقہ، قرول باغ ، صدر بازار،دریا گنج، جنگ پورہ۔

سال 2014 میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مرکزی حکومت نے ان جائیدادوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ بعد میں، ایک دو رکنی پینل تشکیل دیا گیا، جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دہلی وقف بورڈ کا ان جائیدادوں پر کوئی حق نہیں ہے۔

سال 2023 میں مرکزی حکومت نے ان 123 جائیدادوں کو دوبارہ اپنے اختیار میں لے لیا، جس کے بعد دہلی وقف بورڈ نے اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ یہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی رجیجو کی بات کو دوہراتے ہوئے کہا کہ یو پی اے حکومت نے 2013 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل وقف ایکٹ کو ‘اپیزمنٹ’ کے لیے تبدیل کر دیا تھا۔ اگر 2013 میں یہ تبدیلی نہ کی جاتی تو آج اس بل کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

شاہ نے پوچھا ، ‘1913 سے 2013 تک، وقف بورڈ کے پاس کل 18 لاکھ ایکڑ زمین تھی۔ 2013 سے 2025 کے درمیان جب نیا قانون نافذ ہوا تو وقف املاک میں 21 لاکھ ایکڑ اراضی شامل کی گئی۔ لیز پر دی گئی جائیدادیں پہلے 20000 تھیں لیکن 2025 میں یہ تعداد صفر ہو گئی… یہ جائیدادیں کہاں گئیں؟ کیا انہیں فروخت کیا گیا؟ کس کی اجازت سے؟’

‘وہ (اپوزیشن) کہہ رہے ہیں کہ اس پر توجہ نہ دیں… یہ پیسہ ملک کے غریب مسلمانوں کا ہے، نہ کہ کسی امیر دلالوں کے لیے۔ اس کو بند کرنا ہوگا… اور ان کے دلال یہاں بیٹھے ہیں، وہ اونچی آواز میں بات کررہے ہیں… وہ (اپوزیشن) سمجھتے ہیں کہ اس بل کی مخالفت کرکے وہ مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کریں گے اور اپنا ووٹ بینک مضبوط کریں گے۔ لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔’ شاہ نے کہا۔

انہوں نے دہرایا، ‘حکومت وقف میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔’ بی جے پی قائدین نے اپوزیشن پر اقلیتوں کے اپیزمنٹ، آئین کے خلاف جانے اور وقف املاک کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔

سرکار کےدعوے پر اپوزیشن نے کیا کہا؟

کانگریس ایم پی گورو گگوئی نے کانگریس کی طرف سے کمان سنبھالی ۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کا استعمال آئین کو کمزور کرنے، اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنے، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنے اور اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بحث کے دوران سب سے سخت احتجاج اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے درج کرایا اور انہوں نے ترامیم کو ‘مسلمانوں کے عقیدے اور مذہبی روایات پر حملہ’ قرار دیا۔ انہوں نے علامتی طور پر بل کو پھاڑ دیااور اپنے قدم کا موازنہ مہاتما گاندھی کی غیر منصفانہ قوانین کے خلاف مزاحمت سے کیا۔

بحث کے دوران اویسی نے کہا، ‘یہ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے عقیدے اور عبادت کے طریقے پر حملہ ہے۔’ انہوں نے دلیل دی کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے حقوق کو مجروح کرتا ہے۔

اویسی نے آرٹیکل 14 (جو تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری کا حق دیتا ہے) کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ‘مسلمانوں کو وقف املاک پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ تجاوزات کرنے والا راتوں رات مالک بن جائے گا۔ اس کامینجمنٹ کوئی غیر مسلم کرے گا – یہ آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔’

اس بل کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانیوں کی یاد دلائی۔ امت شاہ نے کہا تھا کہ وقف بورڈ اور کونسل مسلمانوں کی مذہبی روایات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون لانے کی کیا ضرورت تھی؟’ اویسی نے کہا۔

حیدرآباد کے رکن پارلیامنٹ اویسی نے الزام لگایا کہ یہ بل مسلمانوں کو وقف املاک کے انتظامی کنٹرول سے محروم کرتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی، ‘ہندو، سکھ، جین اور بدھ برادریوں کو ان کے مذہبی اداروں کو چلانے کا حق دیا گیا ہے۔ پھر مسلمانوں سے یہ حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

بحث کے دوران اویسی نے مرکزی وزیر کرن رجیجو سے اس بل میں ‘پریکٹسنگ مسلم’ کی تعریف پر سوال کیا۔ ‘کیا داڑھی رکھنا اس کی شرائط میں سے ایک ہوگا، یا پھر اسے آپ کی  طرح کلین شیو ہونا چاہیے؟’ انہوں  نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

بی جے پی حکومت پر مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلنے کا الزام لگاتے ہوئے اویسی نے کہا، ‘یہ بل مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔’

غیر منصفانہ قوانین کے خلاف مہاتما گاندھی کی مزاحمت کا موازنہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ‘جب گاندھی جی کو ایک ایسے قانون کا سامنا کرنا پڑا جسے وہ قبول نہیں کر سکتے تھے، تو انھوں نے کہا تھا، ‘میں اس قانون کو نہیں مانتا اور اسے پھاڑ دیتا ہوں۔’ ٹھیک اسی طرح میں اس قانون کو بھی پھاڑ رہا ہوں۔’

اس کے بعد انہوں نے احتجاجاً اسٹیپل والے صفحات کو الگ کر دیا۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ‘یہ غیر آئینی ہے۔ بی جے پی مندر اور مسجد کے نام پر سماج میں دشمنی پھیلانا چاہتی ہے۔’

کیا بدل جائے گا؟

ان مباحث کو جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ایوانوں میں ترامیم کی منظوری کے بعد کیا تبدیلی آئے گی ؟

ہندوستان میں وقف نظام نے تاریخی طور پر مذہبی، تعلیمی اور سماجی بہبود کے اداروں کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت، وقف ایک خیراتی بندوبستی ہے جس میں جائیداد مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے عطیہ کی جاتی ہے، جس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے اللہ کے سپرد ہوتی ہے، اور اس کی آمدنی مساجد، مدارس، یتیم خانوں اور دیگر فلاحی اقدامات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 1995 کے وقف ایکٹ اور اس کی 2013 کی ترمیم نے ان جائیدادوں کو چلانے کے لیے قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا اور ریاستی وقف بورڈ قائم کیے، جو ان کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم، مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر بدانتظامی، فراڈ اراضی کے دعووں اور قانونی تنازعات کی وجہ سے انتظامیہ میں وضاحت اور جوابدہی لانے کے لیے وقف ایکٹ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔

نئی ترامیم سے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ اب ہر کوئی وقف کو جائیداد عطیہ نہیں کر سکے گا۔ جائیداد عطیہ کرنے والوں کے لیے اہلیت کے سخت معیار ہوں گے۔اب تک جو  قانون لاگو ہے اس کے تحت، کوئی بھی شخص، بلا لحاظ مذہب، وقف مقاصد کے لیے جائیداد عطیہ کر سکتا ہے۔ تاہم، نئی ترامیم اس حق کو صرف ان لوگوں تک محدود کرتی ہیں جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر رہے ہوں۔

ترمیم شدہ بل کے مطابق، جائیداد دینے والے شخص کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام کا پیروکار ہے۔ حکومت کے مطابق، یہ اہتمام  من مانی یا دھوکہ دہی سے وقف دینے والے  کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شق ایک غیر ضروری مذہبی امتحان عائد کرتی ہے اور وقف میں حصہ ڈالنے کے خواہشمند افراد پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، ترمیم شدہ بل وقف املاک کی شناخت اور انتظام پر حکومتی نگرانی کو بھی بڑھاتا ہے۔ فی الحال، وقف سروے وقف سروے کمشنروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو وقف اراضی کے ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت ضلع کلکٹر کو ایسی جائیدادوں کا سروے کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اگر وقف کا دعویٰ سرکاری اراضی سے متعلق ہے تو ترمیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ کلکٹر کے عہدے سے اوپر کا ایک افسر اس دعوے کی تحقیقات کرے گا اور ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا۔

ترمیم شدہ بل کے سب سے متنازعہ پہلوؤں میں سے ایک وقف بورڈ میں غیر مسلم ممبران کو شامل کرنے کی شرط ہے۔ نئے بل کے تحت، سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں کم از کم دو غیر مسلم ارکان کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقف انتظامیہ کو مزید جامع اور شفاف بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، مسلم مذہبی تنظیموں نے اس شق پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف اسلامی قانون کے تحت ایک مذہبی وقف ہے، اور اس کے انتظام میں غیر مسلموں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس ترمیم میں وقف املاک کو وقف کرنے سے پہلے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خاندانی وقف بنانے سے پہلے وقف کرنے والے شخص کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام قانونی ورثاء بالخصوص خواتین کو جائیداد میں ان کا صحیح حصہ مل گیا ہے۔

اس کے علاوہ بل اس کو بھی لازمی بناتاہے کہ تمام متولی (وقف جائیدادوں کے منتظمین) چھ ماہ کے اندر مرکزی حکومت کے پورٹل پر جائیداد کی تفصیلات درج کریں۔ اس کے علاوہ، وقف ادارے جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے، اب انہیں ریاست کے مقرر کردہ آڈیٹرز سے لازمی طور پر آڈٹ کرانا ہوگا۔

Next Article

آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش بھیا جی جوشی بولے-اورنگزیب کی قبر کا معاملہ بے وجہ اٹھایا گیا

اورنگزیب کے مقبرے کے حوالے سے کشیدگی کے درمیان آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش بھیا جی جوشی نے کہا کہ یہ مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا،اس کی موت یہاں (ہندوستان) ہوئی اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اور جن کو عقیدت ہے وہ وہاں جائیں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی نے اس کو لے کر مظاہرہ کیا تھا۔

ہندوتوا گروپوں کی جانب سے سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہندوتوا گروپوں کی جانب سے سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مہاراشٹر میں مغل حکمران اورنگزیب کے مقبرے کو لے کرجاری  تنازعہ کے درمیان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اسی کڑی میں آر ایس ایس کے سینئر لیڈر سریش ‘بھیا جی’ جوشی نے کہا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کا مسئلہ بے وجہ اٹھایا گیا۔

اورنگزیب کے مقبرے کے معاملے پر بدامنی پر مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے کے بیان کو  لے کر صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر لیڈر نے سوموار (31 مارچ) کو کہا، ‘اورنگزیب کا مسئلہ غیر ضروری طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اس کی موت یہیں (ہندوستان) ہوئی  ہے اس لیے قبر بھی یہیں بنی ہوئی ہے۔ اورجن کو عقیدت ہے وہ  اس مقبرے پر جائیں گے۔’

شیواجی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ہمارے آئیڈیل ہیں، اور انہوں نے یہاں افضل خان کا مقبرہ بنوایا تھا۔ یہ ہندوستان کی سخاوت اور جامعیت کی علامت ہے۔ ‘وہ قبر (اورنگزیب کی) رہے، جس کو  وہاں جانا  ہے وہ جائے،’ وہ کہتے ہیں۔

مراٹھواڑہ  علاقے  میں واقع سنبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے ہندوتوا گروپوں کےمطالبے نے پورے مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم  دےدیا ہے۔

گزشتہ ماہ ناگپور میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوگئی تھی جب ریاست بھر میں غیر مصدقہ خبریں پھیل گئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ انتہا پسند ہندوتوا گروپوں وشوہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی جانب سے منعقد  احتجاج کے دوران ہندوتوا شرپسندوں نے مقدس ‘کلمہ’ لکھے کپڑے کو جلایا ہے۔

بتا دیں کہ ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ ‘چھاوا’ فلم دیکھ کر جاگنے والے ہندوؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ اس فلم سے پہلے کئی  لوگ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی قربانی سے واقف نہیں تھے۔ لوگوں کو کتابیں پڑھنی چاہیے اور تاریخ جاننے کے لیے وہاٹس ایپ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔’

راج ٹھاکرے نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘کچھ لوگ اورنگزیب کی قبر کے نام پر صرف سیاست کر رہے ہیں۔’

مرکزی وزیر نے کہا – ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، تو اس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’

دریں اثنا، این ڈی اے کے اتحادی، ریپبلک پارٹی آف انڈیا (اٹھاوالے) کے سربراہ اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔

انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہی ہو گیا تھا، تواس کی قبر کو ابھی کیوں ہٹانا؟’

وہ کہتے ہیں،’اورنگزیب کا انتقال 1707 میں ہوا، گزشتہ 300 سالوں میں ا س کی قبر کو ہٹانے کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔ یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب چھترپتی سنبھاجی مہاراج پر فلم بنی۔’

اٹھاولے کہتے ہیں،’میں این ڈی اے اور مودی جی کے ساتھ ہوں… کیونکہ مجھے ان کی پالیسیاں پسند ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اسے نہیں ہٹایا جاناچاہیے۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو خود کو اس قبر سے دور رکھنا چاہیے اور ہندوؤں کو اسے ہٹانے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے… اس قبر کی حفاظت اے ایس آئی کے ذمے ہے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائی ملک کے لیے اچھی نہیں ہے، سب کو ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

اورنگزیب کی قبر کو ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: فڈنویس

دریں اثنا، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے سوموار (31 مارچ) کو کہاتھاکہ چھترپتی سنبھاجی نگر (سابقہ اورنگ آباد) میں مغل بادشاہ اورنگزیب کا مقبرہ ایک محفوظ یادگار ہے اور اسے ہٹایا نہیں جا سکتا، لیکن ریاست میں اس کی عظمت بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Next Article

الہ آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پرتوڑے گئے مکانات کے مالکان کو دس-دس لاکھ روپےکا معاوضہ دینے کو کہا

ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ان چھ لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جن کے گھر2021 میں غیر قانونی طور پر توڑے گئے تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ یہ واحد راستہ ہے، جس سے حکام ہمیشہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کرنا یاد رکھیں گے۔

نئی دہلی: 1 اپریل کو ایک سخت فیصلے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد، اتر پردیش کی پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو حکم دیا کہ وہ  ان چھ لوگوں کو دس دس  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے ،جن کے مکانات غیر قانونی طور پر گرائے گئے تھے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ‘بلڈوزر جسٹس’ کا دفاع کر رہی ہے، جس میں عام طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جائیدادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

دی وائر نے پہلےرپورٹ کیا تھا  کہ توڑے گئے مکانات میں سے ایک  مکان ریٹائرڈ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی کا تھا۔ یہ کارروائی  ان کے لیے معاشی اور سماجی طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں  نے دی وائر کو بتایا،’میں اسے (مکان) دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکا۔’

پی ڈی اے نے ان کی بیٹی نائلہ فاطمی کے گھر کو بھی مسمار کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وکیل ذوالفقار حیدر اور دیگر دو افراد کی جائیدادوں کو منہدم کر دیا تھا۔

لائیو لاء کے مطابق ، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی قانونی عمل کی خلاف ورزی تھی۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

آئین کا آرٹیکل 21 شہریوں کی زندگی اورشخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور یہ من مانے ڈھنگ سے ذریعہ معاش سے محروم کرنے سے کو روکتا ہے۔

عدالت نے کہا، ‘انتظامیہ اور خاص طور پر ڈویولپمنٹ اتھارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ رہائش کا حق بھی آرٹیکل 21 کا ایک اہم حصہ ہے… چونکہ یہ غیر قانونی توڑ پھوڑآرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے ہم پی ڈی اے کو متاثرین  کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔’

جسٹس اوکا نے کہا، ‘ان معاملوں نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اپیل کنندگان کے گھروں کو زبردستی اور غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا… رہائش کا حق ہوتا ہے، قانونی عمل نام کی  بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ دی وائر کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ فاطمی کو کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں  کہ ان کا گھر کیوں گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی وجہ نہیں ہے، ‘ہم ہاؤس ٹیکس اور پانی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے اس سے قبل 13 نومبر 2023 کو بھی فیصلہ سنایا تھا کہ ‘کسی شخص کے گھر کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے صرف اس لیے گرانا مکمل طور پر غیر آئینی ہے کہ وہ ملزم یا مجرم قرار دیا گیا ہے۔’

نوٹس چسپاں کرنا کافی نہیں

عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ افسران نے صرف گھروں پر نوٹس چسپاں کیا، جبکہ انہیں ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ جسٹس اوکا نے کہا، ‘نوٹس چسپاں کرنے کا یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔’

عدالت نے اس عمل میں سنگین خامیوں کو بھی نوٹ کیا۔وجہ  بتاؤ نوٹس 18 دسمبر 2020 کو اتر پردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسی دن نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے۔ مسمار کرنے کا حکم 8 جنوری 2021 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

ڈاک 1 مارچ 2021 کو بھیجی گئی اور 6 مارچ 2021 کو موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کرنے یا جواب دینے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر، اگلے ہی دن مکانات مسمار کر دیے گئے۔

افسران کو سبق سکھانے کا طریقہ-معاوضہ

عدالت نے کہا، ‘ہم اس پورے عمل (گھر کو مسمار کرنے) کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ متاثرین  کودس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے لیے یہ یاد رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ قانونی عمل کی پیروی کرنا ضروری ہے۔’

اس فیصلے سے واضح  ہے کہ قانون پر عمل کیے بغیر مکان گرانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Next Article

دہلی فسادات کے پانچ سال بعد کپل مشرا کے خلاف عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کو کہا

دسمبر 2024 میں دہلی فسادات کے سلسلے میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا اور چھ دیگر افراد کے کردار کی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے دہلی کے یمنا وہار کے ایک رہائشی نےعدالت سے رجوع کیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اب عدالت نے مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کو کہا ہے۔

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منگل (1 اپریل) کو 2020 کے شمال- مشرقی دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیاہے۔

خبروں کے مطابق، یہ حکم ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے یمنا وہار کے رہائشی محمد الیاس کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں دیا ہے۔

لائیو لاء کے مطابق ، عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ مشرا متعلقہ علاقے میں موجود تھے اور’ساری چیزیں اس کی تصدیق کر رہی تھیں۔’

محمد الیاس نے دسمبر 2024 میں عدالت سے رجوع کیا تھا اور فسادات میں مشرا اور دیگر چھ افراد کے کردار کی تحقیقات کی مانگ کی تھی۔ 2020 کے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

اس سال مارچ میں دہلی پولیس نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کے کردار کی پہلے ہی چھان بین ہو چکی ہے اور کوئی سنگین الزام سامنے نہیں آیا تھا۔

معلوم ہو کہ کپل مشرا اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت میں قانون اور انصاف کے وزیر ہیں۔

دی ہندو کی خبر کے مطابق ، الیاس نے اپنی درخواست میں کپل مشرا، مصطفی آباد کے ایم ایل اے اور ڈپٹی اسپیکر موہن سنگھ بشٹ، اس وقت کے ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ)، دیال پور تھانہ کے اس وقت کے ایس ایچ او اور بی جے پی کے سابق ایم ایل اے جگدیش پردھان پر فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام  لگایا تھا ۔

الیاس نے دعویٰ کیا تھا کہ 23 فروری 2020 کو اس نے مشرا اور دیگر کو کردم پوری میں ایک سڑک کو بلاک کرتے اور سڑک پر ٹھیلوں کو تباہ کرتے ہوئے  دیکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق (نارتھ ایسٹ) ڈی سی پی اور کچھ دیگر افسران مشرا کے ساتھ کھڑے تھے، جب انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو دھمکی دی تھی۔

الیاس نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا  ہےکہ انہوں نے دیال پور کے سابق ایس ایچ او اور دیگر کو شمال -مشرقی دہلی میں مساجد میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا تھا۔

غورطلب  ہے کہ 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں پولیس نے عمر خالد، گلفشاں  فاطمہ اور شرجیل امام سمیت کئی طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو فسادات کی  سازش کرنے والوں کے طور پر نامزد کیا ہے۔

تاہم، اس معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن کی طرف سے تشکیل دی گئی 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا تھا کہ دہلی میں تشدد ‘منصوبہ بند تھااور ہدف بنا کرکیا گیا’ تھا اور اس کے لیےکمیٹی  نے کپل مشرا کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ 23 فروری 2020 کو موج پور میں کپل مشرا کی مختصر تقریر کے فوراً بعد مختلف علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا، جس میں انہوں نےکھلے طور پر شمال -مشرقی دہلی کے جعفرآباد میں مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے باوجود ان  کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

مشرا کی اشتعال انگیز تقریر

بتادیں کہ دہلی میں دنگا بھڑکنے سے ایک دن پہلے 23 فروری کو کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا، جس میں وہ موج پور ٹریفک سگنل کے پاس سی اے اےکی حمایت میں جمع ہوئی بھیڑ کوخطاب کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس دوران ان کے ساتھ شمال مشرقی دہلی کے ڈی ایس پی ویدپرکاش سوریہ بھی کھڑے ہیں۔

مشراکہتے ہیں،‘وہ(مظاہرین)دہلی میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہوں نے سڑکیں بند کر دی ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہاں فسادات  جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ ہم نے کوئی پتھراؤ نہیں کیا۔ ہمارے سامنے ڈی ایس پی کھڑے ہیں اور آپ کی طرف سے میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان  میں رہنے تک ہم علاقے کو پرامن چھوڑ رہے ہیں۔ اگر تب تک سڑکیں خالی نہیں ہوئیں تو ہم آپ کی(پولیس)بھی نہیں سنیں گے۔ ہمیں سڑکوں پر اترنا پڑےگا۔’