بھاگوت کے نیویارک پروگرام پر ممدانی بولے: ’حمایت نہیں ، لیکن رد کرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں، پتہ نہیں‘

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے 29 اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والے پروگرام کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ نجی پروگرام ہے اور اسے رد کرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں، وہ نہیں جانتے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے 29 اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والے پروگرام کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ نجی پروگرام ہے اور اسے رد کرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں، وہ نہیں جانتے۔

نیویارک شہر کے میئر ممدانی اس عہدے تک پہنچنے والے پہلے مسلمان اورہندوستانی نژاد امریکی ہیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) چیف موہن بھاگوت کے 29 اگست کو نیویارک میں ہونے والے پروگرام کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ ایک نجی پروگرام ہے اور اسے ردکرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں، یہ انہیں نہیں معلوم۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ممدانی سے بھاگوت کے پروگرام اور اس کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا پروگرام رد کیا جانا چاہیے۔

ممدانی نے کہا، ’میں اس ریلی کی حمایت نہیں کرتا، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کسی نجی پروگرام کو ردکرنے کا اختیار شہر کے پاس ہے یا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے بارے میں ان کی سمجھ ان کے خاندانی تجربات سے بھی تشکیل پائی ہے۔ ممدانی نے بتایا کہ ان کی ماں کا خاندان اب بھی ہندوستان میں رہتا ہے اور وہ ایسے ہندوستان کے تصور سے واقف ہوتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں جہاں مختلف پس منظرکے لوگوں کو برابری کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان نے انہیں ہندوستان کو ’ایک کثیرثقافتی معاشرے‘ اور ’ایک سیکولر جمہوریہ‘ کے طور پر سمجھایا، جہاں ہر ہندوستان کے لیے برابر جگہ ہو۔

ممدانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کو صرف ایک مخصوص شناخت تک محدود کرنے والی سیاست انہیں پریشان کرتی ہے؛


کسی بھی ملک کو ایک مخصوص شناخت میں محدود کرنے والی ایسی سیاست کا ابھرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ میں اس کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔ ایک ہندوستانی نژاد امریکی کی حیثیت سے بھی اور ایسے شہر کے میئر کی حیثیت سے بھی، جو ہر شخص کو، خواہ اس کا رنگ، برادری، مذہب، عقیدہ کچھ بھی ہو یا وہ کہیں سے بھی آیا ہو، برابری کے ساتھ اپنانے میں یقین رکھتا ہے۔


نیویارک شہر کے میئر ممدانی اس عہدے تک پہنچنے والے پہلے مسلمان اور ہندوستانی نژاد امریکی ہیں۔

کنال کامرا نے ہندوستان میں احتجاج کو سنبھالنے کے ’طریقے‘ پر طنز کیا

ممدانی کے بیان کے بعد کامیڈین کنال کامرا نے ایکس پر طنزیہ پوسٹ کے ذریعے ہندوستان میں احتجاجی مظاہروں اور مبینہ متنازعہ پروگراموں سے نمٹنے کے طریقے پر طنز کیا۔

کامرا نے لکھا، ’ہندوستان کی زندہ جمہوریت میں قریبی تھانے کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) یہ کام (پروگرام رد) کر سکتا ہے…‘ اس کے بعد انہوں نے مزاحیہ انداز میں پانچ مراحل کا ایک طریقہ بتایا۔

کامرا کے مطابق، سب سے پہلے بھاگوت کو بتایا جانا چاہیے کہ پروگرام کے خلاف تشدد کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، اس لیے انہیں پولیس سکیورٹی کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد ان سے پولیس کو تحریری یقین دہانی دینے کے لیے کہا جائے کہ ان کی تقریر میں کوئی متنازعہ بات نہیں ہوگی اور وہ ثقافتی، مذہبی یا سیاسی معاملوں پر بات نہیں کریں گے۔

اس کے بعد کامرا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پولیس منتظمین کو بتائے کہ مظاہرین سے نمٹنے اور سامعین کی حفاظت کے لیے اس کے پاس خاطر خواہ  وسائل موجود نہیں ہیں۔

ان کے فرضی پانچ مراحل میں اگلا قدم یہ ہوگا کہ بھاگوت خود سامعین کی حفاظت کے مفاد میں پروگرام ملتوی کرنے کا اعلان کریں۔ آخری مرحلے میں پولیس اگلے پانچ سال تک ہر بار یہی کہتی رہے کہ اس کے پاس سامعین کی حفاظت کویقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ وسائل  نہیں ہیں۔

کامرا کو کئی بار سیاسی یا مذہبی تنظیموں کے احتجاج کے باعث اپنے پروگراموں کو رد یا منتقل کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حال ہی میں بنگلورو میں ان کا ایک شو ہندوتوا تنظیموں کے احتجاج کے بعد وہائٹ فیلڈ سے کورمنگلا منتقل کیا گیا تھا۔

میڈیسن اسکوائر گارڈن میں 29 اگست کو پروگرام

موہن بھاگوت آر ایس ایس کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری تنظیم کی عالمی رابطہ مہم کے تحت امریکہ پہنچے ہیں۔ وہ 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والے پروگرام سے خطاب کریں گے۔ اس میں تقریباً 5,000 ہندوستانی نژادلوگوں کی شرکت متوقع ہے۔

یہ پروگرام ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن‘ کے نام سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کا اہتمام امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ فورم کر رہا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد مشترکہ ورثے اور بین مذہبی اتحاد کو فروغ دینا ہے۔

تاہم، بھاگوت کی شرکت کے حوالے سے کئی بین مذہبی اور شہری حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کونسل اور انٹرفیتھ سینٹر آف نیویارک سمیت کئی تنظیموں نے نیویارک سٹی ہال کے باہر پریس کانفرنس کرکے پروگرام رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آر ایس ایس اپنے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان دوروں اور پروگراموں کا مقصد بیرون ملک آر ایس ایس کے بارے میں بنے تصورات کو دور کرنا اور اس کی نظریے اور سرگرمیوں کے بارے میں بتانا ہے۔

وہیں، امریکی مذہبی آزادی کمیشن سمیت بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے آر ایس ایس پر اقلیتوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔