موہن بھاگوت کے امریکہ دورے سے قبل امریکی ادارے نے آر ایس ایس کے ارکان پر پابندی کا مطالبہ کیا

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے امریکہ کے دورے سے قبل مذہبی آزادی  سے متعلق امریکی کمیشن یو ایس  سی آئی آر ایف کے ارکان نے کہا ہے کہ امریکی حکام کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر کمیشن کے اس رخ کو دہرایا کہ واشنگٹن کو آر ایس ایس کے ارکان پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے امریکہ کے دورے سے قبل مذہبی آزادی  سے متعلق امریکی کمیشن یو ایس  سی آئی آر ایف کے ارکان نے کہا ہے کہ امریکی حکام کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر کمیشن کے اس رخ کو دہرایا کہ واشنگٹن کو آر ایس ایس کے ارکان پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

السٹریشن : پری پلب چکرورتی

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیرونِ ملک دورے سے قبل  یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف) کے ارکان نے کہا ہے کہ امریکی حکام کو سنگھ کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر کمیشن کے اس رخ کو دہرایا کہ واشنگٹن کو سنگھ کے ارکان پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

رواں سال کے آغاز میں یو ایس سی آئی آر ایف نے مذہبی آزادی کی ’سنگین خلاف ورزیوں کے تئیں ان کی جوابدہی اور انہیں برداشت نہ کرنے‘ کے الزام میں آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندی اور سفری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کمیشن نے مسلسل ساتویں مرتبہ امریکی حکومت سے ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘قرار دینے کی بھی اپیل کی تھی۔ اس زمرے میں شمالی کوریا، پاکستان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

ہندوستانی حکومت یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹس کو باربار ’متعصب  اور سیاسی‘ قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف امریکی حکومت کی قانون ساز شاخ سے وابستہ ایک آزاد اور دو جماعتی ایجنسی ہے، جو بیرون ملک مذہبی آزادی کی نگرانی کرتی ہے اور واشنگٹن کو پالیسی سے متعلق سفارشات پیش کرتی ہے۔ اس وقت اس کی سربراہی پلمونولوجسٹ اور انسانی حقوق کے کارکن آصف محمود کر رہے ہیں۔

محمود نے بدھ کی رات (19 اگست) جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ بھاگوت ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں جب آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں نے ’مذہبی اقلیتوں، جن میں عیسائی اور مسلمان شامل ہیں، پر حملے کیے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق سنگھ سے ہے۔

محمود نے کہا،’ہندوستان کے وزیر اعظم مودی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رکن ہیں۔ یہ ایک ہندوستانی تنظیم ہے، جس سے وابستہ تنظیموں نے مذہبی اقلیتوں، جن میں عیسائی اور مسلمان بھی شامل ہیں، پر حملے کیے ہیں۔ اب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘

یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر جین ملز نے کہا کہ امریکی حکام کو آر ایس ایس کے رہنماؤں کو، خواہ ان کا تعلق ہندوستانی حکومت سے ہی کیوں نہ ہو، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سفارتی آداب کے تحت عزت و احترام نہیں دینا چاہیے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ’مذہبی آزادی اور عقیدے (فورب – فریڈم آف ریلیجن اینڈ بلیف) کی خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار پائے گئے آر ایس ایس کے ارکان پر پابندی عائد کرنے‘ پر توجہ دینی چاہیے۔

اس سے ایک دن قبل یو ایس سی آئی آر ایف کی سابق چیئرپرسن نادین مینزہ نے بھی آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کے خیال کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے بھاگوت سے اپنے امریکی دورہ کے دوران کمیشن کے ارکان سے ملاقات کرنے کی اپیل کی، تاکہ وہ ’ان کی جانب سے درج کیے گئے حقائق براہ راست سنیں اور حامیوں سے گھرے کسی پلیٹ فارم سے جواب دینے کے بجائے اسی کمرے میں اس کا جواب دیں۔‘

بتادیں کہ 19 اگست کو ’پروویڈنس‘ میگزین میں لکھتے ہوئے انہوں نے سنگھ کو ’ایسی تنظیم قرار دیا جس کا طرز عمل مذہبی جبروتشدد کی اس سطح تک پہنچ جاتا ہے جس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔‘

تین ماہ قبل کمیشن نے واشنگٹن ڈی سی میں ’ہندوستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال‘ پر ایک شنوائی کی تھی۔ کمیشن کے مطابق، اس میں گواہوں نے ہندوستان میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو ممکن بنانے والے قانونی، سیاسی اور سماجی ڈھانچوں کا جائزہ لیا۔ ان میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین، شہریت سے متعلق قوانین اور مذہبی اقلیتی برادریوں کے خلاف نشانہ بنا کر کیے جانے والے تشدد کا استعمال بھی شامل تھا۔

مارچ میں کمیشن نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ جاری کی تھی اور آر ایس ایس اور ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے خلاف ہدفی پابندیوں کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے ان تنظیموں کو ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار‘ قرار دیا تھا۔

اس سے چار ماہ قبل کمیشن نے کہا تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان ’باہمی وابستگی‘ کی وجہ سے ’کئی امتیازی قوانین بنائے اور نافذ کیے گئے ہیں، جن میں شہریت، تبدیلی مذہب مخالف اور گئو کشی کے خلاف قوانین شامل ہیں۔‘

اس وقت ہندوستان نے یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تنظیم مسلسل ملک کی ’غلط اور چنندہ‘ تصویر پیش کرتی ہے، جو ’مشتبہ ذرائع اور نظریاتی بیانیے‘ پر مبنی ہوتی ہے۔

 وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہاتھاکہ حقیقت میں کمیشن کو امریکہ میں ہندو مندروں پر ہونے والی توڑ پھوڑ اور حملوں، ہندوستان کو چنندہ طریقےسے نشانہ بنانے اور امریکہ میں ہندوستانی کمیونٹی کے افراد کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ  اور ڈرانے -دھمکانے کے معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔

بھاگوت کا 25 اگست سے امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا دورہ متوقع ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سنگھ اپنی صد سالہ تقریبات منا رہا ہے۔ بھاگوت 29 اگست کو نیویارک میں ’امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ(اے ایچ ای اے ڈی)‘ کے زیر اہتمام ’یونیورسل آن نیس سیلیبریشنز‘ میں شرکت کرنے والے ہیں۔