انٹرویو: ’ہندو راشٹر بذات خود ایک متضاد اصطلاح ہے‘؛ ’علم نہ ہندوستانی ہوتا ہے، نہ انگریزی، وہ صرف علم ہوتا ہے۔‘ پڑھیے تاریخ دان عرفان حبیب سے دی وائر کی خصوصی بات چیت، جس میں وہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے، آر ایس ایس پر فاشزم کے اثرات، ہندوستانی علمی روایت اور تاریخ کے سیاسی استعمال پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔

تصویر: انکت راج/دی وائر
علی گڑھ: 12اگست 2026 کو تاریخ دان عرفان حبیب 95 برس کے ہو گئے۔ ہندوستانی تاریخ نویسی کے نمایاں ترین ناموں میں شمار ہونے والے حبیب نے اپنی طویل اکیڈمک زندگی میں تاریخ، معاشرے اور سیاست سے متعلق کئی اہم سوالوں پر لکھا اور بحث کی ہے۔ آج کے ہندوستان میں تاریخ کو دیکھنے اور اسے ازسرنو لکھنے کی کوششوں کے درمیان ان کے خیالات اہمیت کے حامل ہیں۔
یہاں ہم ان کے ساتھ ہوئی دو ملاقاتوں اور بات چیت کو یکجا کر کے پیش کر رہے ہیں۔ پہلی بات چیت اگست 2025 میں اور دوسری جولائی 2026 میں علی گڑھ میں ہوئی۔ دونوں ملاقاتوں میں ان کے گھر کی وہی پرانی دنیا سامنے تھی۔ چاروں طرف ہریالی میں گھرا ان کا گھر علی گڑھ کی بدلتی ہوئی تصویر کے درمیان گزرے زمانے کی ایک یاد کی طرح کھڑا ہے۔

تصویر: انکت راج/دی وائر
یہ تاریخی مکان اپنی کھڑکیوں، دروازوں، سوئچ بورڈ اور پنکھوں تک میں ایک مختلف زمانے کو محفوظ کیے ہوئے ہے۔ حبیب کے گھر کے آس پاس کی دنیا بدل چکی ہے۔ پرانے مکانات کی جگہ اونچی اور جدید عمارتیں بن گئی ہیں، لیکن مؤرخ کا گھر جیسے اپنے ہی وقت سے مطمئن ہے۔

تصویر: انکت راج/دی وائر
بات چیت میں حبیب نے اپنے استاد کا نام کارل مارکس بتایا۔ خود کو ’مارکسی تاریخ دان‘ کہے جانے پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے تاریخ کو دیکھنے کے اپنے طریقے، آریہ ورت اور ’اکھنڈ بھارت‘ کے تصورات، ہندو راشٹر، تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوششوں، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر فاشزم کے اثرات، ہندوستانی علمی روایت اور ہندوؤں میں شودروں کی حالت جیسے سوالوں پر بات کی۔
حبیب کے ساتھ بات چیت میں ایک بات بار بار سامنے آتی ہے کہ تاریخ کو اپنی پسند اور سیاسی ضرورتوں کے مطابق نہیں، بلکہ شواہد اور حقیقی واقعات کی بنیاد پر سمجھنا چاہیے۔ ان کے لفظوں میں،’تاریخ صرف شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔‘

تصویر: انکت راج/دی وائر
اس بات چیت بعض اہم حصے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں؛
تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
تاریخ میں آپ ان واقعات کو بیان کرتے ہیں جو حقیقت میں رونما ہوئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کہیں کہ ہم ایسا چاہتے ہیں، اس لیے ایسا ہی ہوا ہوگا۔ ہِسٹری اِز ناٹ کنسرنڈ وِد گُڈ وِشز۔ ہِسٹری اِز کنسرنڈ وِد ایکچوئل فیکٹس۔ یہاں اس فرق کو سمجھا ہی نہیں جا رہا ہے۔
تاریخ کو بدلنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ درست چیز کو غلط بنانا چاہتے ہیں۔ آپ تاریخ کو کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ جو تاریخ ہے، اسے ویسا ہی رہنے دیجیے۔ اگر آپ کوئی نئی دریافت کریں تو یہ اچھی بات ہے۔ مثلاً مارکو پولو ہندوستان میں پیدا ہوا تھا، تو یہ بڑی بات ہے۔ یہ ہِسٹری کی ڈسکوری ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو نہیں ہے۔ تاریخ صرف شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔
’اکھنڈ بھارت‘اور ’ہندو راشٹر‘ کے تصور پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ملک کا کانسپیٹ الگ چیز ہے۔ ہندوستان کا کانسپیٹ کب اتنا ڈیپ روٹیڈہوا کہ وہ ایک نیشن بنا، یہ خود ایک ہِسٹوریکل اِنکوائری ہے۔ یہ کہنا کہ موریہ سلطنت میں نیشن کا وہی کانسیپٹ تھا جو آج ہے، تو یہ غلط بات ہے۔

تصویر: انکت راج/دی وائر
اگر کوئی اس تناظر میں آریہ ورت کا ذکر کرتا ہے تو یاد رکھیے کہ اس میں تو دکن نہیں ہے۔ لیکن موریہ سلطنت میں دکن ہے۔ جیوگرافیکل کانسیپٹ بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا مطالعہ ہونا چاہیے، لیکن ان کا اثر آج کی سیاست پر نہیں ہونا چاہیے۔
ہندوستان اب ایک قوم ہے۔ رہنا چاہیے۔ ہم ایک قوم برطانوی اقتدار کی وجہ سے بنے یا مغلوں کی وجہ سے بنے… لیکن اب ہم ایک قوم ہیں۔
جہاں تک ہندو راشٹر کی بات ہے تو مذہبی ریاست تو ہو ہی نہیں سکتی۔ ہندو راشٹر بذات خود ایک کانٹراڈکٹری ٹرم (متضاد اصطلاح) ہے۔ ایک مذہبی برادری کیسے ’قوم‘ ہو سکتی ہے؟ کوئی کہے کہ مسلم راشٹر، تو وہ بھی نہیں ہو سکتا۔
ہندوستان ایک ملک ہے، جس میں مختلف برادریاں رہتی ہیں اور ان میں اکثریت ہندوہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔
کیا سنگھ کو فاشسٹ تنظیم کہنا درست ہے؟
وہ فاشسٹ نہیں ہیں، لیکن ان پر فاشزم کا اثر ہے۔ ان کے شروعاتی دستاویزوں سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان پر ہٹلر کا اثر ہے۔ اگرچہ وہ بنےہٹلر کے عروج سے پہلے، لیکن 1938 تک ہٹلر کا بہت زیادہ اثر ہو گیا تھا۔ اب اس کے بعد چونکہ عالمی جنگ شروع ہو گئی، اس لیے انہیں دبک کر رہنا پڑا۔ اس وقت وہ ہٹلر کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ اس وقت یہ سب باتیں نہیں کہہ سکتےتھے۔
لیکن 1930 کی دہائی کی سنگھ کی رائٹنگ دیکھ لیجیے، ان میں ہٹلر کی تعریف کی گئی ہے۔
نئی تعلیمی پالیسی میں ’انڈین نالج سسٹم‘ کی بات ہو رہی ہے۔ ہندوستانی علمی روایت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
یہ غلط بات ہے۔ علم نہ ہندوستانی ہوتا ہے، نہ انگریزی، وہ صرف علم ہوتا ہے۔ نسل سے نالج نہیں بدلتی، یا ذات سے نالج نہیں بدلتی۔ یہ نقطۂ نظر ہی غلط ہے۔
موجودہ حکومت یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ تاریخ میں ہندوؤں کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور ہندو مظلوم رہے ہیں۔ اس کوشش کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
ہندو تو مظلوم رہے ہی ہیں۔ شودر بھی ہندو ہی ہیں اور وہ مظلوم رہے ہیں۔