مہاراشٹر: شمشان میں داخلہ سے انکار کے بعد پنچایت آفس کے باہر دلت بزرگ کے آخری رسومات کی ادائیگی

معاملہ سولاپورضلع کےمالےواڑی گاؤں کا ہے،جہاں گزشتہ20 اگست کو ایک دلت بزرگ کی موت کے بعد گاؤں کے شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کو لےکر او بی سی مالی کمیونٹی نے مخالفت کی تھی۔

معاملہ سولاپورضلع کےمالےواڑی گاؤں کا ہے،جہاں گزشتہ20 اگست کو ایک دلت بزرگ کی موت کے بعد گاؤں کے شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کو لےکر او بی سی مالی کمیونٹی  نے مخالفت  کی تھی۔

گاؤں کے پنچایت آفس کے باہر آخری رسومات  کی ادائیگی کرتےلوگ۔ (فوٹو: ویڈیوگریب)

گاؤں کے پنچایت آفس کے باہر آخری رسومات  کی ادائیگی کرتےلوگ۔ (فوٹو: ویڈیوگریب)

نئی دہلی: مہاراشٹر کےسولاپورضلع میں او بی سی کاسٹ  کے لوگوں کے ذریعےدلت کمیونٹی  کے ایک شخص کے آخری رسومات کو روکنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بعد میں اس کے احتجاج  میں متاثرہ فیملی  نے گرام پنچایت آفس کے باہر ہی آخری رسومات کی ادائیگی کردی ۔

دراصل گزشتہ20 اگست کو ضلع کے مالےواڑی گاؤں کے رہنے والے 74سالہ دھننجئے ساٹھے، جو شیڈول کاسٹ کےمتنگ کمیونٹی  کے تھے، کی موت ہو گئی۔ ان کے بھائی اورسرپنچ دشرتھ ساٹھے اور گھر کے دوسرے ممبروں  نے لاش کو گاؤں کے شمشان گھاٹ لے جانے کا فیصلہ کیاجو کہ او بی سی مالی کمیونٹی  کے لوگوں کے کھیت سے سٹا ہوا تھا۔

لیکن مالی کمیونٹی کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد ساٹھے فیملی نے ان سے بات چیت کرکے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ کوئی حل نہ نکلنے کے بعد انہوں نے 18 گھنٹے سے زیادہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بعد میں انہوں نے پنچایت آفس کے باہر ہی آخری رسومات کی ادائیگی کردی ۔

گاؤں میں1100 سے زیادہ گھر ہیں، جس میں سے صرف دو گھر دلت کمیونٹی کے ہیں۔ یہاں90 فیصدی سے زیادہ  گھر مالی کے ہیں اور کچھ دوسرےاو بی سی کمیونٹی  کے ہیں۔

اس طرح کےنظام میں ذات پات سےمتعلق فرمان کی مخالفت کرنا خطرناک ہوتا ہے اور کئی مواقع پر ساٹھے کاسٹ کے لوگوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

دھننجئے کی بھتیجی سمن ساٹھے کا کہنا ہے کہ اپریل سے اگست کے بیچ ذات پات کو لے کر یہ تیسرامعاملہ ہے۔

انہوں نے کہا، ‘یہ سب میرے چچا دشرتھ ساٹھے کے گرام سرپنچ چنے جانے کے بعد شروع ہوا۔ وہ(ہندو کاسٹ)ان سے امید کرتے تھے کہ وہ  ان کے احکامات پر عمل کریں گے اورکٹھ پتلی سرپنچ بنے رہیں گے۔ میرے چچا نے ایسا نہیں کیا۔ اور یہی گاؤں کے لیےتبدیلی  کا نقطہ رہا تھا۔’

ان کا الزام ہے کہ تب سے فیملی کو دھمکایا جا رہا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں، کچھ لوگوں کو پیٹا گیا اور او بی سی کمیونٹی کے کھیتوں پر پہنچنے سے روک دیا گیا۔

سمن نے کہا، ‘کووڈ-19 مہاماری کی وجہ سےہم نے کئی رشتہ داروں اور دوستوں کو نہیں بلایا تھا۔ صبح دو بجے میرے چچا کی موت  ہو گئی اور ہم چاہتے تھے کہ صبح 10 بجے تک آخری رسومات کی ادائیگی  ہو جائے۔ لیکن جب ہم لاش کو شمشان گھاٹ لے جانے لگے تو ہمیں پتہ تھا کہ چیزیں اتنی آسان نہیں ہیں۔’

ساٹھےکمیونٹی کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی گاڑی  کو روکا گیا تھا اورملزمین نے انہیں فوراً پیچھے نہ ہٹنے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔

حالانکہ جلد ہی تنازعہ بڑھتا گیا، جس کے بعد کچھ دیر میں پولیس پہنچی۔ حالانکہ متاثرہ کے رشتہ داروں نے الزام لگایا ہے کہ پولیس ملزمین کا ہی ساتھ دے رہی تھی اور ہرآدمی  مدد کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا ہوا تھا۔

واقعہ کے بعد ساٹھے فیملی کے لوگ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرانے کے لیے تھانے گئے تھے۔ سمن کا دعویٰ ہے کہ سیاسی کارکنوں کے دباؤ کے بعد پولیس کو شکایت درج کرنی پڑی۔

حالانکہ اس کے ساتھ ہی متاثرین کے خلاف بھی دو معاملے درج کیے گئے ہیں، جس میں مہاماری کے وقت اکٹھا ہونے اور پولیس کی ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کےالزام لگائے گئے ہیں۔

ونچت بہوجن اگھاڑی کے نانا کدم نے دی وائر کو بتایا کہ گاؤں کا ماحول خراب ہو گیا ہے اور دو دلت فیملی  کو او بی سی کمیونٹی  کے لوگوں کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا ڈر ہے۔تنظیم  نے ضلع انتظامیہ کو خط لکھ کر متاثرہ فیملی کے لیےفوراً سیکیورٹی کی مانگ کی ہے۔

دی وائر نےمتاثرہ فیملی کے خلاف درج معاملوں کے بارے میں اورجاننے کے لیے اکلوج پولیس حکام  سے کئی بار رابطہ  کرنے کی کوشش کی، لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ پولیس کے جواب کے بعد رپورٹ کو اپ ڈیٹ کر دیا جائےگا۔

اس بیچ پولیس نے ابھی تک متاثرین کی شکایتوں پر کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔

سمن نے کہا، ‘ہم نے اپنی ایف آئی آر میں13 لوگوں کا نام درج کرایا ہے۔ ان میں سے دو افراد– ونایک کدالے اور راہل کدالے کا ذکر پہلے کی ایف آئی آر میں بھی کیا گیا ہے۔’

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)