کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنا قومی ایجنڈا ’کیا بولتی پبلک‘جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی اب ملک کے ہر حصے میں نوجوانوں سے براہ راست مکالمہ کرے گی اور شہریوں کی شمولیت سے’یوتھ ریفارم چارٹر‘ تیار کرے گی۔ یہ چار بنیادی ستون پر مبنی ہوگا-جامع تعلیمی اصلاحات، تعلیم اور روزگار کا انضمام، ادارہ جاتی جوابدہی اور اتحاد و اشتراک۔
مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں سی جے پی کی کور ٹیم کے اجلاس کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے (درمیان میں)۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جمعرات (6 اگست) کو اپنا
قومی ایجنڈا ’کیا بولتی پبلک‘جاری کیا۔ اس میں 1 ستمبر سے آئندہ مہینوں کے لیے پارٹی کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایجنڈا مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں پارٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد جاری کیا گیا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی جانکاری دی۔
اس کے تحت سی جے پی کی قیادت نے دہلی کے جنتر منتر پر کامیاب احتجاج کے بعد ملک گیر دورے کا اعلان کیا ہے۔ جنتر منتر کے احتجاج نے مختلف ریاستوں میں نوجوانوں کو تحریک دی تھی۔ پارٹی اب ملک بھر میں نوجوانوں سے براہ راست مکالمہ کرے گی اور عوامی شراکت سے ’یوتھ ریفارم چارٹر‘تیار کرے گی، جو چار اہم ستون پر مبنی ہوگا: جامع تعلیمی اصلاحات، تعلیم اور روزگار کا انضمام، ادارہ جاتی جوابدہی اور اتحاد و اشتراک۔
سی جے پی کا بنیادی مقصد پورا ہونے کے بعد یہ
سوال اٹھ رہے تھے کہ اب پارٹی آگے کیا کرے گی۔ کئی لوگ یہ قیاس بھی کر رہے تھے کہ تنظیم اپنی تحریک ختم کرے گی یا اسے مزید وسیع کرے گی۔
یہ گروپ ابتدا میں ایک آن لائن طنزیہ مہم کے طور پر سامنے آیا تھا، لیکن جلد ہی ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے نیتجے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے دور وزارت میں مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں — جن میں نیٹ پیپر لیک اور سی بی ایس ای آن اسکرین مارکنگ گھوٹالہ شامل ہیں — کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔
سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال ایک پریشر گروپ کے طور پر کام جاری رکھے گی اور انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔
پریس ریلیز میں کہا گیا،’ہندوستان کو سیٹوں کے لیےانتخاب لڑنے والی ایک اور سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ایک ایسی مضبوط عوامی تحریک درکار ہے جو نظریاتی اختلافات سے قطع نظر لوگوں کو متحد کرے، آئینی اقدار کا تحفظ کرے، اور حکومت پر باہر سے پالیسی میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالے۔‘
پریس کانفرنس میں دیپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو طلبہ کی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس موقع پر سی جے پی کے چیف ترجمان سوربھ داس، ترجمان آشوتوش رانکا اور دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔
پارٹی کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں دیپکے نے کہا،’کیا بولتی پبلک‘ مہم کے دوران ہم یہ جانیں گے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں اور انہیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دیپکے نے کہا،’گزشتہ 10 – 12 برسوں میں اس حکومت نے لوگوں کے دلوں میں جو ڈر پیدا کیا تھا، وہ اب ختم ہو گیاہے۔ اب لوگ سڑکوں پر نکلیں گے۔ آج انہوں نے ایک شخص کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، کل وہ دوسرے لوگوں کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنتر منتر کے احتجاج میں صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ بے روزگار نوجوان بھی شریک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا،’بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہم اسے قومی سطح کا مسئلہ بنائیں گے۔ ہم تعلیمی اصلاحات پر کام کریں گے۔ اسکولی تعلیم کے زمانے سے ہی تعلیم مہنگی رہی ہے۔ تعلیم کو منافع کمانے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، لیکن ہم اسے بدلنا چاہتے ہیں۔‘
اس کے علاوہ سی جے پی کے بانی نے میڈیا کی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سی جے پی ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے باباصاحب امبیڈکر، مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے وژن کے مطابق کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا،’ہماری نظریاتی بنیاد وہی ہے جو ہندوستان کے آئین کی ہے۔‘