کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں، راہل گاندھی نے پیپرلیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: 20 جولائی کو سنسد مارچ کے دوران پولیس کی سخت کارروائی کے بعد دہلی میں جاری طلبہ تحریک مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جمعہ (24 جولائی) کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔
دہلی کے جنتر منتر پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہیں، جہاں سی جے پی کے ارکان اپنے مطالبات کے لیے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی شامل ہے۔
احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سینٹرل دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشن بند کر دیے ہیں، کئی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں اور آمدورفت کے کئی راستوں پر روک لگا دی ہیں۔ اس کے باوجود دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں اور طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن نے پارلیامنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا۔ اپوزیشن نے پھر سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
وہیں،ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ آج رات سی جے پی کی ٹیم کے ارکان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، دیپکے نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار بھی کر لیا جائے تب بھی تحریک جاری رکھی جائے۔
’من کی بات‘ نہیں، پارلیامنٹ میں جواب دیں: کھڑگے
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم مودی کے طلبہ کے نام جاری کیے گئے ویڈیو پیغام پر کانگریس کے رکن پارلیامنٹ پون کھیڑا نے کہا،’انہیں سنجیدگی سے کون لے رہا ہے؟ 22 سے 25 دن بعد ایسے بیان دینے سے طلبہ کی شکایات کا حل نہیں نکلے گا۔‘
’
طلبہ کو دھمکانے کی ہمت کیسے ہوئی؟‘: راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا
اس بیچ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیپر لیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کو اس طرح دھمکانا قابل قبول نہیں ہے۔
جے این یو کی طلبہ کو جنتر منتر کے قریب جمع ہونے سے بچنے کی ہدایت، تادیبی کارروائی کی وارننگ
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جنتر منتر اور اس کے آس پاس ہونے والے کسی بھی اجتماع یا احتجاج میں شامل نہ ہوں اور وہاں جانے سے گریز کریں۔
یونیورسٹی نے کہا ہے کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنے پر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق تادیبی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
دیپکے نے پھر سے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک بار پھر کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ مطالبہ جمعہ کے روز دہرایا، جس دن سی جے پی اور مرکزی حکومت کے درمیان بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
دیپکے نے کہا کہ ان کی ٹیم دوپہر 12:30 بجے ایک غیر جانبدار مقام پر بی جے پی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کرے گی۔ انہوں نے کہا،’ہم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے کم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔‘