ہندوتوادی انفلوئنسر سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے طالبہ نشو آزاد کے والد پر حملے کے معاملے میں اتر پردیش کے بلند شہر سے حراست میں لیا ہے۔ نشو کی شکایت پر بھاردواج کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پرانے معاملے میں ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ہندوتوادی انفلوئنسر سوتنتر بھاردواج کا یہ پوڈکاسٹ ’ دی کیژوئل ٹاک‘ نامی یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا تھا، جس کے بعد تنازعہ شروع ہوا۔ اب یہ پوڈکاسٹ چینل سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تصویر اسی پوڈکاسٹ کے اسکرین گریب کی ہے۔
نئی دہلی: جولائی میں جنتر منتر پر ہوئے طلبہ کے احتجاج میں شامل ایک طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر حملے کے ملزم ہندوتوا دی انفلوئنسر سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ (5 ستمبر) کو اتر پردیش کے بلند شہر سے حراست میں لیا ہے۔ یہ کارروائی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں اور حامیوں کے دہلی کے سنسد مارگ تھانے پہنچ کر اس کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے کے چند گھنٹے بعد ہوئی۔
دریں اثنا، دہلی پولیس نے 14 سالہ نابالغ طالبہ نشو آزاد کی شکایت پر بھاردواج کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت الگ ایف آئی آر درج کی ہے۔ شکایت میں نشو نے مبینہ طور پر آن لائن ریپ کی دھمکیوں، گالی گلوچ اور قابل اعتراض و چھیڑ چھاڑ کی گئی تصویریں نشر کیے جانے کی بات کہی ہے۔
سنجے کمار پر حملے سے متعلق پرانے معاملے میں بھی پولیس نے ایس سی /ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کی ہیں۔ قتل کی کوشش کی دفعہ شامل کیے جانے کے معاملے پر بھی پولیس جانچ کر رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھاردواج کو اتر پردیش کے بلند شہر میں حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اس کے موبائل کی لوکیشن ٹریس کی تھی۔ پولیس کے پہنچنے سے پہلےاس کے نائتھلا گاؤں سے رائل اینفیلڈ موٹر سائیکل سے خورجہ کی جانب نکلنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ اس نے پہچان چھپانے کے لیے ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، جمعہ کی دیر شام تک پولیس کو اس کا ٹرانزٹ ریمانڈ نہیں ملا تھا۔ اس لیے اس کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں،اس کو لے کر دہلی پولیس کی جانب سے صورتحال واضح نہیں تھی۔ دہلی پولیس نے بھی کہا ہے کہ بھاردواج کو فی الحال حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس دن ہوئی جب سی جے پی کے ایک وفد نے سنسد مارگ تھانے پہنچ کر بھاردواج کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ وفد میں سی جے پی کے رہنماؤں کے علاوہ آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے سربراہ اور نگینہ سے ایم پی چندر شیکھر آزاد اور پورنیہ سےایم پی پپو یادو بھی شامل تھے۔
وفد نے پولیس سے مطالبہ کیا تھا کہ بھاردواج کے خلاف قتل کی کوشش، مجرمانہ دھمکی اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کی جائیں، نیز نشو کو مبینہ طور پر ملنے والی آن لائن دھمکیوں کے سلسلے میں الگ ایف آئی آر درج کی جائے۔ پولیس نے 72 گھنٹوں کے اندر کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
Finally, Delhi Police have registered an FIR against the Sanghi goon and said he will be arrested within 72 hours.
It took two months and a protest just to get an FIR registered for a hate crime that happened right in front of the police.
POLICE DEPARTMENT THIK KARO!
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) September 4, 2026
نابالغ نشو کی شکایت پر پاکسو کیس
پولیس نے اب نشو کی شکایت پر الگ ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس میں پاکسو ایکٹ کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 351(3)، 78 اور 79اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 لگائی گئی ہے۔
نشو نے الزام لگایا ہے کہ والد پر حملے کے خلاف شکایت کرنے اور عوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کے بعد اسے آن لائن ریپ کی دھمکیاں دی گئیں، گالیاں دی گئیں اور اس کی تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے انہیں نشر کیا گیا۔
VIDEO | CJP activist Nishu Azad says, “Police officers have assured us that Swatantra will be arrested within 72 hours. They have promised to take action, and we hope there will be no further delay. For days, his supporters have been abusing me, sending rape threats. I have filed… pic.twitter.com/0Tkq0fMEnT
— Press Trust of India (@PTI_News) September 4, 2026
جمعہ کو سنسد مارگ تھانے کے باہر نشو نے کہا کہ وہ کئی دنوں سے ذہنی دباؤ میں تھی اور کچھ عرصے تک اسکول بھی نہیں جا سکی۔ اس نے کہا کہ اسے امید ہے کہ پولیس اب کارروائی کرے گی۔
نابالغ سے متعلق معاملہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے ایف آئی آر کی تفصیلی معلومات عوامی طور پر جاری نہیں کی ہیں۔
چراغ پاسوان نے بھاردواج کے دعوے کو مسترد کیا
اس دوران، پورے تنازعہ کے مرکز میں رہے مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ چراغ پاسوان نے بھاردواج کے دعوے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
بھاردواج نے وائرل پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چراغ پاسوان اور دہلی کے وزیر کپل مشرا اس کے ’بڑے بھائی‘ ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ کپل مشرا نے فون کرکے اسے پولیس سے چھڑوا دیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیتے ہوئے بھی اس نے انہیں ’بڑا بھائی‘ بتایا تھا اور کہا تھا کہ اسے سب کی حمایت حاصل ہے۔
اب چراغ پاسوان نے بھاردواج پر اپنا نام اور دیگر رہنماؤں کے نام کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک لائف میں بہت سے لوگ ان سے ملتے ہیں اور تصویریں بنواتے ہیں، لیکن اس بنیاد پر کسی شخص کا خود کو قریبی بتانا ان کے نام کا غلط استعمال ہے۔
پاسوان نے کہا کہ بھاردواج نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ انہیں اور ان کی پارٹی کو اس کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھاردواج کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے اور دہلی پولیس سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاسوان نے یہ بھی کہا کہ وہ نشو اور اس کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ یقینی بنانا ان کی اور ان کی پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔
سنجے کمار پر حملے کا معاملہ کیا ہے؟
یہ معاملہ 23 جون کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے متعلق ہے۔ احتجاج کے دوران نشو کے والد سنجے کمار، جو دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں، بھی وہاں موجود تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق، کمار اپنے فون سے احتجاج کی ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک نوجوان نے ان سے پوچھا کہ وہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد دو، تین دیگر افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور مبینہ طور پر کمار کے ساتھ مارپیٹ کی۔
کمار نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ان کے سر پر کئی بار مکے مارے گئے اور کسی سخت چیز سے حملہ کیا گیا۔ پولیس کے پہنچنے پر سورج کمار اور سوتنتر بھاردواج کو پکڑ لیا گیا، جبکہ دیگر افراد وہاں سے چلے گئے۔
پولیس نے اس وقت بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 115(2) (معمولی چوٹ پہنچانا)، 126(2) (غلط طریقے سے روکنا) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، کمار کو رام منوہر لوہیا اسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے میں ان کی چوٹوں کو ’معمولی‘ بتایا گیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ سر پر چوٹ کڑے سے لگی تھی۔
Hindutva extremist Swatantra Bhardwaj spoke about attacking the father of a CJP protester during a podcast.
He said that the man received 60 stitches and was on the verge of death, adding that “a Section 307 case was warranted,” yet he walked out within a day after a call from… pic.twitter.com/TqgBEw8Twz
— Sarcastic. (@Sarcaztick) September 2, 2026
تاہم، بعد میں سامنے آئے ایک پوڈکاسٹ میں بھاردواج نے خود دعویٰ کیا کہ اس نے نشو کے والد کا سر پھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ کمار کو کئی ٹانکے لگے تھے اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔
اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے باوجود اسے جیل نہیں جانا پڑا اور اس کے لیے اپنے سیاسی تعلقات کا حوالہ دیا تھا۔
Meet BJP’s Hindutva icon, Swatantra Bharadwaj.
He openly boasts about cracking open the skull of a young girl’s father at Jantar Mantar.
He then threatens the girl too.
Says Muslim girls are “Mullanis” who are infatuated with him.Still he will roam free in New India
pic.twitter.com/FrHOeIPMsA
— D (@Deb_livnletliv) September 3, 2026
پوڈکاسٹ میں بھاردواج نے کپل مشرا، چراغ پاسوان اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا ’بڑا بھائی‘ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اسے سب کی حمایت حاصل ہے۔

تصویروں کا یہ کولاژ صحافی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا ہے۔
دہلی کے وزیر مشرا نے بھاردواج کے ان دعووں پر کوئی بیان نہیں دیا۔
بعد میں بھاردواج نے اپنے دفاع میں دلیل دی؟
پوڈکاسٹ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھاردواج نے اپنے پہلے بیان سے الگ وضاحت پیش کی۔ اس نے کہا کہ سنجے کمار پر حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس نے اپنے دفاع میں ایسا کیا۔
اس کا دعویٰ تھا کہ 10 سے 15 لوگوں نے اسے گھیر لیا تھا اور اگر وہ خود کو نہ بچاتا تو ہجوم اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر سکتا تھا۔ اس کے مطابق، اسی دوران اس کا کڑا سنجے کمار کے سر پر لگا۔
#WATCH | Bulandshahr, Uttar Pradesh | On his claim made on a podcast of attacking CJP activist Nishu Azad’s father during CJP protest at Jantar Mantar, Swatantra Bharadwaj says, “What people are calling an attack was an act of self-defence. If I had not acted in self-defence, I… pic.twitter.com/iU9fpeNxVC
— ANI (@ANI) September 4, 2026
بھاردواج نے وائرل پوڈکاسٹ کلپ کو بھی ’فرضی‘ بتایا اور کہا کہ کپل مشرا اور چراغ پاسوان کے بارے میں کہی گئی باتیں طنزیہ انداز میں کہی گئی تھیں۔
پولیس نے پہلے کیا کہا تھا؟
پوڈکاسٹ سامنے آنے کے بعد دہلی پولیس نے سنجے کمار کے سر کی ہڈی ٹوٹنے کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ نئی دہلی کے ڈی سی پی نے کہا تھا کہ کمار کو کڑے سے چوٹ لگی تھی اور آر ایم ایل اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، چوٹ ’عام نوعیت‘ کی تھی۔

پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ بھاردواج اور دوسرے ملزم سورج کمار کو جائے وقوعہ سے حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں انہیں نوٹس دے کر پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ پولیس نے سیاسی مداخلت کے الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔
اب معاملے میں ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کیے جانے اور نشو کی شکایت پر پاکسو ایکٹ کے تحت الگ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے بھاردواج کو اتر پردیش سے حراست میں لیا ہے۔ قتل کی کوشش کی دفعہ عائد کیے جانے کے معاملے پر بھی جانچ جاری ہے۔