خلیل زاہد کی کتاب سجدوں سے محروم مسجدیں ہماری عبادت گاہوں سے متعلق تاریخ، سیاست اور تنازعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویزی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

کتاب کا سرورق
ہندوستان کا سیاسی اور سماجی منظر نامہ اس وقت مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے حوالے سے شدید اضطراب اور تنازعات کی زد میں ہے۔
واضح لفظوں میں کہا جائے تو بابری مسجد کے تاریخی سانحہ اور پھر عدالتی فیصلے کے بعد، ملک بھر میں متعدد تاریخی مساجد کی مذہبی حیثیت تبدیل کرنے کی منظم مہم تیز ہو چکی ہے۔
اس سلسلے میں تازہ ترین اور انتہائی حساس معاملہ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی ’کمال مولیٰ مسجد‘کا ہے۔
حال ہی میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اسے دسویں صدی کا ’سرسوتی مندر‘(بھوج شالہ) قرار دے کر مسلم فریق کو متبادل جگہ تلاش کرنے کوکہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب سینئر صحافی خلیل زاہد کی دستاویزی کتاب ’سجدوں سے محروم مسجدیں‘ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
یہ کتاب ملک بھر کی ان متنازعہ، مقبوضہ اور ویران مساجد کا آنکھوں دیکھا حال اور دستاویزی ثبوت پیش کرتی ہے جو سیاسی مفادات کی نذر ہو چکی ہیں۔
اس طور پر دیکھا جائے تو مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد کی تاریخ تیرہویں صدی عیسوی سے وابستہ ہے، جب مالوا سلطنت کے عہد میں مشہور صوفی بزرگ حضرت کمال شاہ نے یہاں اپنا روحانی و مذہبی مرکز قائم کیا تھا اور اسی مقام پر ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی تھی۔
صدیوں سے یہ مقام مسلمانوں کی اہم عبادت گاہ رہا ہے، جہاں مسجد کے روایتی ڈھانچے کے مطابق گنبد، محراب اور وسیع صحن موجود ہے۔
اس تاریخی مقام پر پہلا تنازعہ برطانوی دور حکومت میں 1904 میں اس وقت پیدا ہوا، جب بعض ہندو تنظیموں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ یہ ڈھانچہ دراصل دسویں صدی میں پرمار سلطنت کے راجا بھوج کی جانب سے تعمیر کردہ’سرسوتی مندر‘تھا، جسے مسلم سلاطین نے منہدم کر کے مسجد کی شکل دی۔
تاہم، اس وقت کی برطانوی انتظامیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور یہ مقام بدستور مسجد کے طور پر ہی مسلمانوں کے تصرف میں رہا۔
آزادی کے بعد ہندو فریق کے مطالبات میں شدت آنے پر 2003 میں حکومت ہند اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی)نے ایک عبوری انتظام یہ کیا کہ منگل کو ہندو یہاں پوجا کریں گے اور جمعہ کے دن مسلمان نماز ادا کریں گے۔
یہ انتظام قانوناً اور شرعاً مسجد کی حیثیت کے منافی ہونے کے باوجود نافذ کیا گیا، جس نے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے فرقہ پرست عناصر کو مزید شہ دی۔
ایسے میں 2006، 2013 اور 2016 میں جب بسنت پنچمی کا تہوار جمعہ کے دن پڑا، تو انتہا پسند تنظیموں نے وہاں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ اکٹھی کر کے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنا دیا، تاہم مقامی مسلمانوں اور سنجیدہ ہندو شہریوں کی باہمی مفاہمت کے باعث انتظامیہ انتشار کو ٹالنے میں کامیاب رہی۔
بعد میں ہندو فریق نے پورے احاطے کو مندر قرار دینے اور مسلمانوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس معاملے میں یکطرفہ رپورٹس اور دعووں کو بنیاد بناتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ یہ مقام راجا بھوج کا تعمیر کردہ سرسوتی مندر ہے اور مسلم فریق سے کہا کہ وہ مسجد کے لیے کسی دوسری جگہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
عدالت کا یہ فیصلہ پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 (عبادت گاہوں سے متعلق قانون) کی روح کے منافی ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ 15 اگست 1947 کو جو مذہبی مقام جس حیثیت میں تھا، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخی دستاویزوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس تنازعہ کے تصفیہ کے لیے دھار کے ضلع مجسٹریٹ نے یکم مئی 1952 کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ بھوج شالہ کے اس احاطہ کو بطور مندر یا مسجد استعمال کرنے کے لیے یکطرفہ طور پر کسی ایک فریق کے حوالہ نہیں کیا جاسکتا۔
چونکہ یہ عمارت آثار قدیمہ کی نگرانی میں ہے اس لیے وہاں بطور سیاح تمام ہی فرقوں کے لوگوں کے داخلے کی اجازت ہے، البتہ ضلع مجسٹریٹ نے اپنے حکم نامہ میں یہ رعایت دی تھی کہ اگر مسلمان چاہیں تو صرف نماز جمعہ ادا کر سکتے ہیں لیکن منتظمین کو وہاں کوئی سامان رکھنے یا رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس واضح فیصلے کے باوجود دھار کی عید گاہ کو فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیزی سے نجات نہیں مل پائی۔ مسجد کے مشرقی حصہ میں پائے جانے والے ایک کتبہ کے مطابق اس مسجد کی باقاعدہ تعمیر یا توسیع 17 جنوری 1405 کو امیر شاہ داؤد غوری عرف دلاور خان کے ہاتھوں ہوئی تھی، اور تاریخی شہادتوں کے مطابق شہنشاہ جہانگیر کے دور میں بھی اسے’جامع مسجد‘کے نام سے ہی یاد کیا جاتا تھا۔
مخالف فریق کا یہ اعتراض کہ یہاں روایتی حوض، طہارت خانہ یا بلند مینار نہیں ہیں، اس لیے اسے مسجد نہیں کہا جا سکتا، تاریخی اور تعمیراتی اعتبار سے لغو ہے کیونکہ عارضی یا قلعوں کے اندر واقع کئی مساجد میناروں کے بغیر بھی تعمیر کی جاتی رہی ہیں۔
بہرحال، خلیل زاہد نے اپنی اس کتاب میں اس اہم نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ کس طرح آرکیالوجیکل سروے آف انڈیاکے قوانین کو صرف مسلم عبادت گاہوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
دراصل، یہاں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ملک میں برطانوی دور یا قدیم راجاؤں کے دور کے متعدد مندر اور گرجا گھر بھی آثار قدیمہ کے تحفظ میں ہیں،مگر ایسا ایک بھی مندر یا گرجا گھر نہیں جہاں آثار قدیمہ کی تحویل کی وجہ سے عبادت ممنوع قرار دی گئی ہو۔
یہ دوہرا معیار صرف مساجد اور اسلامی مقابر کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق، ہندوستان میں تقریباً 252 مسجدیں آثار قدیمہ کے قبضے میں ہیں، جن میں اتر پردیش کی 52، مغربی بنگال کی 13، میسور کی 46، مدھیہ پردیش کی 16، گجرات کی 51 اور دہلی کی 28 مسجدیں شامل ہیں۔
اس انتظامی رویے کے علاوہ تقسیم ملک کے وقت مسلمانوں کی کثیر آبادی کے ہجرت کر جانے کے باعث بھی بے شمار مساجد اور مقبرے ویران ہو گئے جو لاکھ کوشش کے باوجود سجدوں سے محروم ہیں۔ 14 اپریل 1983 کو سید شہاب الدین نے مقبوضہ مسجدوں کے تعلق سے لوک سبھا میں ایک سوال کیا تھا، جس کے جواب میں ایسی مسجدوں کی تعداد 92 بتائی گئی تھی۔ دس سال بعد دسمبر 1993 میں میم افضل نے راجیہ سبھا میں یہی سوال دریافت کیا تو انہیں جواب ملا کہ 286 مساجد مرکز کے تحفظ میں ہیں، جن میں سے صرف 136 مسجدوں میں باقاعدہ روزانہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، یعنی مرکزی حکومت کے تحت موجود 150 مسجدوں کو سجدوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
اسی دوران وشو ہندو پریشد نے ایک نیا شوشہ چھوڑ کر دہلی کی 133 مساجد اور قبرستانوں پر ملکیت کا دعویٰ کر دیا، جن میں بنگالی مارکیٹ کی مسجد بھی شامل ہے۔
اس سے قطع نظر کتاب میں متھرا کی جامع مسجد عیدگاہ، گیان واپی مسجد، بابری مسجد، قطب مینار کے احاطے میں مسجد قوۃ الاسلام، قناتی مسجد، درگاہ غریب نواز، اور ودیشہ کی بیجا منڈل مسجد جیسی اہم عبادت گاہوں کا مستند تاریخی پس منظرموجود ہے۔
بہرحال، مصنف نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کے سانحے کو ایک بڑے فرقہ وارانہ کھیل کا’ریہرسل‘قرار دیا ہے۔
وہ اودھ کے چیف کمشنر اور برطانوی سروے افسران کے سرکاری ریکارڈز کا حوالہ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ سرکاری کاغذات میں 1859 تک بابری مسجد پر کسی تنازعہ کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اس مقام پر’جنم استھان‘کا پورا افسانہ دراصل ایک بدھسٹ نجومی کے ذہن کی پیداوار تھی، جسے بعد میں برطانوی مؤرخین نے اپنی’پھوٹ ڈالو راج کرو‘کی پالیسی کے تحت ہوا دی۔
خلیل زاہد نے بابری مسجد کی شہادت سے قبل ماتھے پر صندل کا ٹیکہ لگا کر مسجد کے اندر داخل ہونے کی جسارت کی اور اپنی گراؤنڈ رپورٹنگ میں یہ اہم حقیقت بتائی کہ جس جگہ کو رام للا کا مقام پیدائش کہا جاتا تھا، وہ اصل بابری مسجد کے ڈھانچے سے باہر واقع تھا۔
حال ہی میں جس طرح بنگال میں ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کی تعمیر کے حوالے سے ایک نیاسیاسی شوشہ چھوڑ کر فرقہ پرستوں کے موقف کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی، اس سے قطع نظر خلیل زاہد نے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں واقع’بنگالی بابری مسجد‘کاذکر کیا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ کولکاتہ کی وہ تاریخی بابری مسجد ہے جو تقریباً دو سو پچیس سال پرانی ہے۔ یہ مسجد ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نادر مثال ہے، کیونکہ تقریباً سوا دو سو سال سے ایک ہندو ’ماربل پلیس ٹرسٹ‘اس مسجد کی دیکھ بھال اور نگرانی کرتا آیا ہے۔
اٹھاہویں صدی میں راجہ راجندر ملک نے جب’ماربل پلیس‘ (محل) تعمیر کروایا، تو اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک ٹرسٹ تشکیل دیا اور راجہ کے حکم پر ہی محل کے احاطے میں کُل دیوتا جگناتھ دیو کا مندر اور اس مندر کے بالکل سامنے یہ خوبصورت مسجد تعمیر کروائی گئی، تاکہ یہ مقام مختلف مذاہب کا مشترکہ مرکز بن کر روحانیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دے سکے۔
جہاں اتر پردیش کی بابری مسجد کو انتہا پسندوں نے جنگ کا اکھاڑہ بنا دیا، وہیں بنگال کی یہ بابری مسجد ہندو بھائیوں کے جذبہ خیر سگالی کی وجہ سے امن کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔
تاریخ کو مسخ کر کے مسلم حکمرانوں پر مذہبی انتہا پسندی کا جو لیبل لگایا جاتا ہے، کتاب میں ٹھوس شواہد کے ساتھ اس کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، سلطان محمود غزنوی کے سومناتھ مندر پر حملے کو مذہبی جہاد کے بجائے خالصتاً’دولت کی لوٹ مار‘ کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر غزنوی کا مقصد بت شکنی ہوتا، تو وہ خود اپنی سرزمین افغانستان میں بامیان کے مقام پر موجود گوتم بدھ کے ہزاروں سال پرانے مجسموں کو مسمار کرتا، جنہیں اس نے چھوا تک نہیں۔
سومناتھ مندر اس وقت بے پناہ دولت کا مرکز تھا، جہاں چانکیہ کے دور سے سونا جمع تھا اور عمارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک 200 من وزنی خالص سونے کی زنجیر لٹکتی تھی۔ غزنوی نے دولت کی لالچ میں اس مندر کو پانچ بار لوٹا اور یہاں سے ملنے والے جواہرات کا دسواں حصہ بھی اس کے سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوا تھا۔
اس لڑائی کو جہاد یا مذہبی جنگ اس لیے بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ محمود غزنوی کی اس فوج میں ہندو سپاہی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے، جن کی تعداد 35 فیصد بتائی جاتی ہے، اور اس کے 12 اہم ترین فوجی جرنلوں میں سے 5 ہندو جرنل اس حملے کے وقت اس کے ساتھ موجود تھے۔
اسی طرح موجودہ سیاست میں مہاراشٹر کے اندر’مراٹھی مانس‘کا عصبیت پسندانہ شوشہ چھوڑ کر ایک ہندوستانی کو دوسرے کا مخالف بنایا جاتا ہے، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں مراٹھی کو فارسی کے مقابلے میں پہلی بار سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دینے والا حکمران ایک مسلمان تھا، ابراہیم عادل شاہ دکنی (عہد: 1534–1557)۔
انہوں نے مقامی رعایا کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مراٹھی کو دفتری درجہ عطا کیا اور مفلوک الحال مقامی مراٹھیوں کے لیے سرکاری ملازمتیں مختص کیں۔
محض مذہب کی بنیاد پر کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر فرقہ پرستی کا لیبل چسپاں کرنے والے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ ہندوؤں کی مقدس تیرتھ گاہ امر ناتھ کی گپھاؤں کی کھوج کس کی دین ہے؟ سفر کی بے شمار دشواریوں کے باوجود ملک کے کونے کونے سے عقیدت مند وہاں پہنچتے ہیں، لیکن ان گپھاؤں کی تلاش کا سہرا ایک مسلم چرواہے کے سر بندھتا ہے۔
اگر مسلمانوں کا مقصد ہندوؤں کے مقدس مقامات پر قبضہ کرنا ہوتا تو وہ اس مقام کی نشاندہی کیوں کرتے ، یہی وجہ ہے کہ آج بھی وشنو دیوی مندر پر چڑھائے جانے والے نذرانوں کا ایک حصہ اس مسلم خاندان کو دیا جاتا ہے۔
اسی طرح سرینگر کے خانقاہ معلیٰ (شاہِ ہمدان) کے بالکل متصل مہاکالی مندر، شدید ترین کشیدگی کے باوجود آپسی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک خوشگوار داستان بیان کرتا ہے۔
ہری پربت پر مخدوم صاحب کا مقبرہ اور شاریکا دیوی کا مندر بھی اسی مشترکہ تہذیب کے امین ہیں جہاں یاتریوں کو کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوا۔ تولہ مولا میں جہاں راگنی دیوی (کھیر بھوانی) کا استھاپن ہے، وہاں مہاراجہ کے دور میں جب قبائلیوں نے حملہ کیا تو اس کی حفاظت کے لیے مقامی مسلمان ہی آگے آئے تھے، اور آج بھی کشمیر کے علاقہ پہلگام میں غیر مسلموں کی عدم موجودگی میں ایک مندر کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری مقامی مسلمان بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
حتیٰ کہ موجودہ پاکستان میں بھی، شدید سیاسی اختلافات کے باوجود، قدیم ہندو عبادت گاہیں قانونی طور پرمحفوظ ہیں اور راستوں کی وسعت کے لیے مندروں کو گرانے کے بجائے سرکاری نقشے تبدیل کر دیے جاتے ہیں، جس کا اعتراف خود بی جے پی کے قدآور لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اپنے دورہ پاکستان کے بعد کیا تھا۔
مجموعی طور پر خلیل زاہد کی یہ کتاب ہماری عبادت گاہوں سے متعلق تاریخ، سیاست اور تنازعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویزی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔