کس طرح ہندوستان نے غزہ جنگ میں اسرائیل کی عسکری مدد کی

حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے  ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے  ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

منگل، 28 جولائی 2026 کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایک حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تصویر: اے پی

مئی  2024 میں اسپین کی کارٹیجینا بندرگاہ کے گودی مزدور اس وقت ششدر رہ گئے  جب انہیں معلوم ہوا کہ ہندوستان کے شہر چنئی سے روانہ ہونے والا ایک تجارتی مال بردار جہاز ’بورکم‘ عسکری سامان لے جا رہا تھا، اور اس کی حتمی منزل غزہ سے بہ مشکل 30 کلومیٹر دور واقع اسرائیل کی اشدود بندرگاہ تھی۔

یہ ایک ایسا وقت تھا جب غزہ پر اسرائیلی عسکری جارحیت اپنے عروج پر تھی، اور عوام کے شدید اور بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بیشتر یورپی حکومتوں نے اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل روک دی تھی۔

ہسپانوی مزدوروں کے احتجاج کے بعد حکومت نے بالآخر اس جہاز کو لنگر انداز ہونے اور ایندھن کی فراہمی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

کسٹم کے دستاویزوں سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ اس کھیپ میں 20 ٹن راکٹ انجن، 12.5 ٹن بارودی مواد سے لیس راکٹ اور 1,500 کلوگرام مخصوص دھماکہ خیز مواد شامل تھا، جسے ہندوستانی دفاعی کمپنیوں نے تیار کیا تھا، جن میں ’پریمیئر ایکسپلوسیوز لمیٹڈ‘ اور سرکاری ملکیت والی ’مینوشنز انڈیا لمیٹڈ‘ شامل تھیں۔

ابھی اس واقعہ کو ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ 6 جون 2024 کو وسطی غزہ کے نصیرات  پناہ گزین کیمپ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے نے اقوام متحدہ کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا، جو عام شہریوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

جب مقامی رہائشی ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے تھے، تو انہوں نے اس میزائل کے ٹکڑوں کی ویڈیو بنائی جس نے اس احاطے کو تباہ کر دیا تھا۔

ملبے کے درمیان اس میزائل کی باقیات پر ایک تحریر بالکل واضح طور پر نظر آ رہی تھی؛ ”میڈ ان انڈیا“  یعنی ہندوستان میں تیار کردہ۔ اس وحشیانہ حملے میں اسکول کے اندر پناہ لینے والے کم از کم 33 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

حال ہی میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کے جوا ب میں کہ امریکہ ہی اسرائیل کا واحد ناگزیر اتحادی ہے، پر یہ تبصرہ کیا کہ اسرائیل کے پاس ہندوستان کی شکل میں ایک طاقتور دوست موجود ہے۔ان کا یہ تبصرہ،کچھ غلط نہیں تھا۔

حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

ایمنسٹی نے کسٹم کے ریکارڈ، کارپوریٹ فائلنگز، جہاز رانی کے گوشواروں اور برآمدی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس پورے نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑ کر ایک ایسا ڈیٹابیس تیار کر دیا ہے، جو بتاتا ہے کہ  7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے درمیان ہندوستان سے اسلحہ کی  2,596 کھیپیں اسرائیل روانہ کر دی گئی تھیں۔

ان کھیپوں میں عسکری ہتھیار، گولہ بارود کے پرزے، بکتر بند گاڑیوں کے پرزے اور دیگر دفاعی سامان شامل تھے جو اسرائیلی مسلح افواج  یا اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو فراہم کیے گئے۔ایمنسٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ؛

غزہ میں اسرائیل کی عسکری مہم کے دوران، ہندوستان اسرائیلی مسلح افواج سے قریبی تعلق رکھنے والی اسرائیلی کمپنیوں کے لیے عسکری پرزہ جات، گولہ بارود کے اجزاء اور دفاعی سامان کا ایک اہم سپلائر بن کر ابھرا۔

غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد جیسے ہی یورپی حکومتوں پر عسکری برآمدات معطل کرنے کے لیے داخلی سطح پر دباؤ بڑھا، ہندوستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ سیکٹر نے خاموشی سے اس خلا کو پر کر دیا۔

ہندوستان نے نہ صرف انفرادی عسکری مصنوعات برآمد کیں، بلکہ وہ اس صنعتی نظام میں ایک انتہائی اہم درجے کا سپلائر بن گیا جس نے اسرائیل کی دفاعی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔

ایمنسٹی نے ہندوستان سے بھیجے گئے 3,90,516 ملٹری گریڈ کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزہ جات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں خودکار ہتھیاروں، ٹرگر کے طریقہ کار، بیرل اور دیگر وہ تمام پرزے شامل ہیں جو خاص طور پر عسکری آتشیں اسلحے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے 5,64,970 دھماکہ خیز مواد اور اس کے اجزاء کی نشاندہی کی ہے، جن میں آرٹلری شیل کے خول، ڈرون کے وار ہیڈ کے پرزے اور گولہ بارود کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے دیگر حصے شامل ہیں۔رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے؛

جمع کیے گئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر تحقیق مدت کے دوران ہندوستان سے اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو عسکری اجزاء کی منتقلی کا ایک مسلسل اور باقاعدہ سلسلہ جاری رہا۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں عسکری گاڑیوں کے 298 پرزوں کا بھی ریکارڈ موجود ہے، جو اسرائیلی مسلح افواج کے لیے سامان تیار کرنے والے اسرائیلی مینوفیکچررز کو فراہم کیے گئے تھے۔

اس رپورٹ کی سب سے نمایاں دریافت یہ ہے کہ اس سپلائی چین میں سرکاری شعبے کے ادارے اور نجی صنعت دونوں یکساں طور پر شامل تھے۔ حکومت کی ملکیت والی ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز میں، ایمنسٹی نے ’مینوشنز انڈیا لمیٹڈ‘، ’ایڈوانسڈ ویپنز اینڈ ایکوئپمنٹ انڈیا لمیٹڈ‘، اور ’انڈیا آپٹل لمیٹڈ‘ کو ایسے مینوفیکچررز کے طور پر ظاہر کیا ہے جن کی مصنوعات زیرِ مطالعہ مدت کے دوران اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن گئیں۔

یہ کمپنیاں مکمل طور پر حکومتِ کی ملکیت ہیں اور 2021ء میں ’آرڈیننس فیکٹری بورڈ‘ کی ازسرِ نو تنظیم کے بعد قائم کی گئی تھیں۔

ان کے ساتھ ساتھ کئی نجی کمپنیاں بھی اس صف میں کھڑی ہیں، جن میں ’پریمیئر ایکسپلوسیوز لمیٹڈ‘، ’کلیانی اسٹریٹیجک سسٹمز‘، ’انڈو-ایم آئی ایم‘، ’اشوکا مینوفیکچرنگ‘ اور دیگر شامل ہیں جو آرٹلری کے اجزاء، دھماکہ خیز مواد، باریک بینی سے تیار کردہ انجینئرنگ پروڈکٹس اور دھاتی پرزے بنانے میں مصروف ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس تحقیق پر ہندوستان، پاکستان و مغرب کے زیادہ تر روایتی میڈیا نے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔دنیا کے بڑے اور بااثر ترین خبری اداروں نے اس پر کوئی مخصوص رپورٹ شائع نہیں کی۔

جہاں بی بی سی کی مرکزی انگریزی سروس  نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا، ہندی سروس نے اس خبر کو ہندوستانی حکومت کے ردعمل کے زاویے سے پیش کیا۔تقریباً تمام ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹس کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔

انہوں نے رپورٹ کے مندرجات کو شائع کرنے کے بجائے  وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر توجہ مرکوز کی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل کو تمام اسلحے کی منتقلی قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی۔اسی طرح زیادہ تر مرکزی ہندوستانی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اور قومی اخبارات نے بھی اس رپورٹ کو برائے نام اہمیت دی یا بالکل نظر انداز کر دیا۔

یہ تغافل اور خاموشی اس لیے بھی نمایاں ہے کیونکہ انھی مغربی اداروں نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم،انسانی المیے، یرغمالیوں کے مذاکرات، جنگ بندی کی سفارت کاری، اور خاص طور پر اسرائیل کو مغربی فوجی امدادکو کور کرنے کے لیے وسیع کوریج دی۔

پچھلے دو سالوں کے دوران، رائٹرز، اے پی، بی بی سی، سی این این، دی ٹائمز، اور دی پوسٹ ان تمام اداروں نے امریکی فوجی امداد، برطانوی برآمدی لائسنسوں، جرمن اسلحے کی منظوریوں، اور مغربی ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے کے لیے عدالتوں میں دائر مختلف چیلنجز پر باریک بینی سے رپورٹنگ کی ہے۔ جس کی وجہ سے اسرائیل کو گولہ بارود کی فراہمی روکنے کے لیے یورپ میں رائے عامہ بڑی حد تک ہموار ہو گئی۔

تاہم، اسی سپلائی چین میں ہندوستان کے مبینہ کردار سے متعلق ایمنسٹی کی اس تحقیقات پر ان اداروں نے کیوں توجہ نہیں دی، ایک معمہ ہے۔

ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں سب سے زیادہ انکشاف کرنے والے وہ مشترکہ منصوبے ہیں جو ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے گہرے صنعتی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں ’پی ایل آر سسٹمز‘ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جو ’اسرائیل ویپن انڈسٹریز‘ کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، اور ’الفائل سیک ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس سسٹمز‘ کا جو ’البٹ سسٹمز‘ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ۔

ایمنسٹی کی تحقیقات میں جن مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کسی گمنام عالمی منڈی میں منتقل نہیں ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر مصنوعات اسرائیل کی تین سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں کو بھیجی گئیں؛ البٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز، اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز۔

ایمنسٹی ان فرموں کو اسرائیلی فوج کا اہم سپلائر قرار دیتی ہے اور اس کا استدلال ہے کہ اکتوبر 2023ء کے بعد بھی ان کمپنیوں کو سامان کی مسلسل منتقلی ہی اس کی تحقیقات کا مرکزی نقطہ ہے۔اس تمام تر صورتِ حال سے جو تصویر ابھرتی ہے، وہ ایک روایتی برآمدی منڈی کی نہیں بلکہ ایک مربوط صنعتی نیٹ ورک کی ہے۔

ہندوستانی کمپنیاں پرزہ جات تیار کرتی ہیں، اور اسرائیلی دفاعی فرمیں انہیں بڑے ہتھیاروں کے نظاموں میں مربوط کر دیتی ہیں۔ ایمنسٹی کا موقف ہے کہ وہی ہتھیار اور نظام بالآخر اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کا حصہ بنتے ہیں۔

دہائیوں تک ہندوستان کی شناخت بنیادی طور پر دنیا کے سب سے بڑے عسکری سامان کے درآمد کنندگان میں ہوتی رہی۔ اسرائیل اس کے اہم سپلائرز میں سے ایک تھا، خاص طور پر 1999ء کی کرگل جنگ کے بعد، جب نئی دہلی نے اسرائیلی نگرانی کے نظام، ڈرونز، میزائلوں اور درست نشانہ بنانے والے منیشنز کی طرف بڑے پیمانے پر رجوع کیا۔

مودی حکومت کے خود کفیل بھارت اور ”میک ان انڈیا“ کے نعروں نے غیر ملکی دفاعی مینوفیکچررز کو ہندوستان کے اندر پیداواری سہولیات قائم کرنے کی ترغیب دی۔

اسرائیلی کمپنیاں اس پالیسی کو اپنانے والوں میں سب سے آگے تھیں، جنہوں نے ڈرون، گولہ بارود، درست انجینئرنگ مصنوعات اور میزائل کے پرزے تیار کرنے کے لیے ہندوستانی  فرموں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ہندوستان صرف ایک گاہک نہیں رہا بلکہ اسرائیل کے دفاعی پیداواری نیٹ ورک کا ایک لازمی اور غیر منفک حصہ بن گیا۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق اس سپلائی چین کے ایک سرے پر ہندوستانی مینوفیکچررز ہیں۔ ان میں سے کچھ سرکار کی ملکیت والی ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز ہیں جو 2021ء میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ کی ازسرِ نو تنظیم کے بعد قائم ہوئی تھیں اور نجی انجینئرنگ فرمیں ہیں جو باریک پرزہ جات کی اہم سپلائر بن کر ابھری ہیں۔ دوسرے سرے پر اسرائیل کی دفاعی صنعت کے تین مضبوط ستون کھڑے ہیں: البٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز، اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز۔

یہ کمپنیاں اسرائیل کے سب سے مشہور عسکری پلیٹ فارمز تیار کرتی ہیں، جن میں ڈرون، گائیڈڈ منیشنز، میزائل سسٹمز، آرٹلری اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق، ہندوستانی ساختہ پرزے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد ان تینوں کمپنیوں کی سپلائی چین میں شامل ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کے حامیوں کا استدلال ہے کہ دفاعی تعاون ایک خود مختار پالیسی کا فیصلہ ہے جو قومی سلامتی، ٹکنالوجیکل تعاون اور معاشی مواقع سے منسلک ہے۔ ہندوستان نے دفاعی مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بننے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور برآمدات اس عزائم کا مرکزی حصہ ہیں۔

ہندوستانی وزارت خارجہ نے ترجمان نے بھی اس دفاعی سپلائی چین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ہتھیار بین الاقوامی قوانین اور داخلی قوانین کے تحت فراہم کئے گئے۔ یہ سچ ہے کہ 1971ء کی پاک ہند جنگ کے دوران، اسرائیل نے امریکہ ناراضگی کو درکنار کرتے ہوئے ہندوستان کی خفیہ طور پر انتہائی اہم مدد کی۔

اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ بنگلہ دیش کی فتح کا سہرا ہندوستانی فوج کے ایک یہودی جنرل جے ایف آر جیکب کے سر بندھنے والا تھا۔ ان ہی کی یونٹ سب سے پہلے ڈھاکہ پہنچ گئی تھی اور انہوں نے ہی پاکستانی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرایاتھا۔

مگر عین وقت پر وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کلکتہ میں مقیم بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو ڈھاکہ پہنچ کر اس ہتھیار ڈالنے کی رسم کی سرپرستی کرنے کی ہدایت کی۔ وہ شاید جانتی تھی کہ ایک یہودی جنرل کے سامنے کسی پاکستانی مسلمان جنرل کا ہتھیار ڈالنا عرب اور اسلامی ممالک میں ایشو بن سکتا ہے۔

جنر ل جیکب نے آخر وقت تک کانگریس اور اندرا گاندھی کو اس کے لیے معاف نہیں کیا۔ وہ اس بات پر بھی خفا تھے کہ ان کو آرمی چیف بھی بننے نہیں دیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے برسوں بعد کرگل جنگ کے بعد 1999 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت نے ان کو گوا اور پھر پنجاب کا گورنر بنا دیا تھا۔ ان کی وردی، فوٹو اور میڈیلز تل ابیب کے یہودی ملٹری میوزیم میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے 1971میں  سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجو 160 ملی میٹر اور 105 ملی میٹر کے مارٹر، گولہ بارود اور ریڈار سسٹمز اسرائیل نے ہندوستان کو فراہم کیے تھے۔

یہ ہتھیار لکسمبرگ اور لیچٹنسٹائن جیسے تیسرے مقامات کے ذریعے ہندوستان پہنچ گئے تھے اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے پرنسپل سکریٹری پی این ہکسر خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔ اسی طرح اسرائیل نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والی گوریلا فورس ’مکتی باہنی‘ کو بھی خاموشی سے مالی و عسکری امداد اور سامان فراہم کی۔

امریکہ اور برطانیہ اس وقت اعلانیہ طور پر پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔اسی طرح کرگل جنگ کے وقت، جب جوہری دھماکوں کی وجہ سے ہندوستان پر پابندیاں عائد تھیں، اسرائیل نے گولہ بارود کی ترسیل کو یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی ’ہیرون‘ اور ’سرچر‘ نامی فضائی گاڑیاں بھی روانہ کیں، جنہوں نے زمینی فوج اور فائٹر جیٹس کو انتہائی درست معلومات فراہم کیں۔

اس پس منظر میں ہندوستانی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کا دروازہ بند ہونے کے بعد جب اسرائیل نے مدد کی درخواست کی، تو کوئی بھی ہندوستانی حکومت اس کو مسترد نہیں کرسکتی تھی۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا غزہ کی اس جنگ میں اسرائیل کی سالمیت  یا اس کے وجو د کوکئی خطرہ لاحق تھا؟ وہ یہ جنگ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایک مزاحمتی گروپ اور فلسطینی غیر مسلح عوام کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس کو کسی ایئر فورس نہ کسی باضابطہ فوج کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔وہ تو فلسطینی عوام کی نسل کشی پر آمادہ تھا۔

ہندوستانی سفارتی نکتہ نظر یہ سے بھی مدد کرنے کا  استدلال درست تبھی ہوسکتا تھا، اگر کسی باضابط جنگ میں اسرائیل کے وجودکو خطرہ لاحق ہوتا۔ مگر نسل کشی پر آمادہ کسی بھی فوج کو گو لہ بارود فراہم کرنے کا مطلب بس اتنا ہی ہے کہ آپ کے ہاتھ بھی بے گناہوں کے خون سے رنگ گئے ہیں۔

سالہا سال سے، اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر بات چیت صرف سربراہی اجلاسوں، انٹلی جنس تعاون، میزائل سودوں اور اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے پیٹرن تک محدود رہی۔ لیکن ایمنسٹی کی اس رپورٹ نے اس گفتگو کا رخ اب فیکٹریوں، مشین شاپس، ڈھلائی کے کارخانوں، کسٹمز دفاتر اور شپنگ مینوفیسٹس کی طرف موڑ دیا ہے۔

نیتن یاہو کا یہ تبصرہ کہ ہندوستان، اسرائیل کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک ہے، بظاہر ایک سفارتی تعریف ہے، مگر یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان اسرائیل کی پیداواری لائنوں، برآمدی کھیپوں اور دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن چکا ہے۔