مرکزی حکومت نے پھنسے ہو ئے لوگوں کو شرطوں کے ساتھ آمد و رفت کی اجازت دی

پھنسے ہوئے لوگوں کے گروپ کو لے جانے کے لیے بسوں کا استعمال کیا جائےگا۔ سفر کرنے والوں کی اسکریننگ کی جائےگی۔ جن میں کوئی علامت نہیں دکھائی دیتی انہیں جانے کی اجازت دی جائےگی۔

پھنسے ہوئے لوگوں کے گروپ کو لے جانے کے لیے بسوں کا استعمال کیا جائےگا۔ سفر کرنے والوں کی اسکریننگ کی جائےگی۔ جن میں کوئی علامت  نہیں دکھائی دیتی انہیں جانے کی اجازت دی جائےگی۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: ملک  کے مختلف  حصوں میں پھنسے ہوئے مہاجر  مزدوروں، سیاحوں،طلبا اور دوسرے لوگوں کو بدھ کو کچھ شرطوں کے ساتھ ان کی منزل تک جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔جس سے ایک بڑے طبقے  کو راحت مل سکتی ہے۔داخلہ سکریٹری اجے بھلہ نے ایک حکم میں کہا کہ ایسے پھنسے ہوئے لوگوں کے گروپ کو لے جانے کے لیے بسوں کا استعمال کیا جائےگا اور ان گاڑیوں کو سینٹائز کیا جائےگا اورسیٹوں پر بیٹھتےوقت سماجی دوری کے ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔

وزارت داخلہ  نے یہ صاف نہیں کیا کہ کیا کسی شخص یافیملی  کو نجی گاڑیوں میں جانے کی اجازت مل سکتی ہے اور اگر  اجازت مل سکتی ہے تو اس کے لیے کیا شرطیں ہوں گی۔ سبھی ریاستوں  اور یونین ٹریٹری  کو بھیجےحکم  میں بھلہ نے کہا،لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجر مزدور، سیاح،طلبا اوردوسرے لوگ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں جانے کی اجازت دی جائےگی۔

وزارت نے شرطیں گناتے ہوئے کہا کہ سبھی ریاستوں  اوریونین ٹریٹری کو اس بابت نوڈل افسر بنانے ہوں گے اور ایسے لوگوں کو روانہ  کرنے اور ان کی رہنمائی  کرنے کے لیےاسٹینڈرڈ پروٹوکال بنانے ہوں گے۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ نوڈل افسر اپنی  ریاستوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کارجسٹریشن بھی کریں گے۔ اس کے مطابق اگر پھنسے ہوئے لوگوں کا گروپ  کسی ایک ریاست یا یونین ٹریٹری سے دوسری  ریاست یایونین ٹریٹری  کے بیچ سفر کرنا چاہتا ہے تو دونوں ریاست ایک دوسرے سے صلاح مشورہ  کر سکتے ہیں اور سڑک سے سفرکے لیے آپسی رضامندی دےسکتے ہیں۔

وزارت داخلہ  کے مطابق سفر کرنے والوں کی اسکریننگ کی جائےگی۔ جن میں کوئی علامت  نہیں دکھائی دیتی انہیں جانے کی اجازت دی جائےگی۔ حکم کے مطابق بس کے راستے میں پڑنے والی  ریاست ایسے لوگوں کو ان کی  ریاستوں  کے لیے اپنے یہاں سے گزر نے دیں گے۔

 اس میں کہا گیا کہ منزل پر پہنچنے پرمقامی میڈیکل افسر ان پر نظر رکھیں گے اور انہیں گھر میں آئسولیشن  میں رہنے کو کہا جائےگا۔ اگر ضرورت لگتی ہے تو ادارہ جاتی آئسولیشن  میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔وزارت کے مطابق ان لوگوں پر لگاتار نظر رکھی جائےگی اور وقت وقت پر ان کی جانچ ہوگی۔

 اس موقع کافائدہ  اٹھانے والے لوگوں کو ‘آروگیہ سیتو’ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کہا جائےگا جس کے توسط سے وہ اپنی صحت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

داخلہ سکریٹری  نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے صدرکے ناطے یہ حکم  جاری کیا ہے۔ وزارت داخلہ  نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ افسر گھروں میں الگ  رہنے کے بارے میں وزارت صحت  کے احکامات پر عمل کریں گے۔مرکزی حکومت  کا یہ فیصلہ کئی لاکھ مہاجر مزدوروں، طلبا، سیاح اوردوسرے ایسے لوگوں کے لیے بڑی راحت والا ہو سکتا ہے جوملک  کے مختلف حصوں  میں پھنس گئے ہیں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)