ہلدوانی کے ’شدھی کرن‘ معاملے میں راہل گاندھی کی ایف آئی آر کی مانگ کے بعد پولیس نے انہی پر کیس درج کیا

06:47 PM Aug 31, 2026 | دی وائر اسٹاف

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی عوامی ریلی کے بعد’شدھی کرن‘ (تطہیر) کیے جانے کی مذمت کرنے کے ایک دن بعد پولیس نے گاندھی کے خلاف بی این ایس اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مقتدرہ  ریاست اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں پولیس نے اتوار (30 اگست) کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور ایس سی/ایس ٹی  ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، گاندھی کے خلاف یہ ایف آئی آر اس وقت درج کی گئی جب لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف نے ایک روز قبل اس ’شدھی کرن‘  (تطہیر)کی رسم کی مذمت کی تھی، جواس مہینے کی شروعات میں ہلدوانی میں کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے کی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد اسٹیج پر کی گئی تھی۔

گاندھی نے اس واقعہ کو جرم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہلدوانی کے سٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار کاتیال کے مطابق، گاندھی کے خلاف ایف آئی آر ہلدوانی کی جواہر نگر کالونی کے امت کمار کی شکایت کی  پر درج کی گئی۔

بتادیں کہ 26 سالہ کمار نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا کہ وہ والمیکی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ایس سی  کے دیگر افراد کے ساتھ 11 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں منعقد’صفائی مہم اور مذہبی رسم‘ میں شرکت کی تھی۔ ان کا دعویٰ  تھا کہ اس تقریب کا کسی فرد یا ذات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کمار نے اپنی شکایت میں کہا، ’اس کے باوجود راہل گاندھی نے 29 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں بغیر کسی تصدیق کے اسے ’چھوا چھوت‘ سے متعلق عمل اور درج فہرست ذاتوں کے خلاف جرم قرار دیا اور اس رسم میں شامل افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ خود والمیکی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن انہیں ایسے شخص کے طور پر پیش کیا گیا جو چھوا چھوت کو فروغ دیتا ہے اور دلت مخالف ہے۔ کمار نے الزام لگایا کہ گاندھی کے الزامات کے بعد مختلف برادریوں کے درمیان دشمنی اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

کمار کی شکایت کی  پر گاندھی کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 196 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ دفعہ مذہب، نسل وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے خلاف کام کرنے سے متعلق ہے۔

اس کے علاوہ بی این ایس کی دفعہ 299 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ کسی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی عمل کرنے سے متعلق ہے۔

اس کے ساتھ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 3(1)(کیو) بھی لگائی گئی ہے۔ یہ دفعہ کسی سرکاری ملازم کو جھوٹی یا بے بنیاد معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں وہ ملازم اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے درج فہرست ذات یا درج فہرست قبائل کے کسی رکن کو نقصان پہنچائے یا اسے ہراساں کرے۔

اس سے پہلے سنیچر (29 اگست) کو ہلدوانی میں کیے گئے ’شدھی کرن‘ کی رسم کا حوالہ دیتے ہوئے گاندھی نے بی جے پی پر چھوا چھوت پر عمل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ گاندھی نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینا چاہیے اور یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ذہنیت دلتوں کو آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔

گاندھی نے کہا تھا،’جب ہمارے راجستھان کے سی ایل پی (کانگریس لیجسلیچر پارٹی) کے لیڈرٹیکا رام جولی کسی مندر میں جاتے ہیں تو بی جے پی کے رہنما شدھی کرن کی رسم کرتے ہیں۔ جب کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کے لیے وقف کر دی ہے اور جو وزیر بھی رہ چکے ہیں، ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں تقریر کرنے جاتے ہیں تو وہاں شدھی کرن کیا جاتا ہے۔ جب بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کسی مندر میں جاتے ہیں تو وہاں بھی شدھی کرن کیا جاتا ہے۔ یہ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ کرتے ہیں اور ہندوستانی آئین کے مطابق یہ ایک جرم ہے۔‘

’ذات پات پر مبنی سوچ کے خلاف لڑائی پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی‘

دریں اثنا، اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد کانگریس نے سوموار کو بی جے پی کو نشانہ بنایا۔

پارٹی نے کہا کہ وہ جمہوری اور قانونی طریقوں سے ایف آئی آر کا جواب دے گی اور زور دے کر کہا کہ اس واقعہ کے پیچھے موجود ذات پات پر مبنی سوچ کے خلاف لڑائی پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔

اتراکھنڈ کانگریس کی انچارج جنرل سکریٹری کماری شیلجا نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پر ’شدھی کرن کی رسم‘ ادا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، جبکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔

شیلجا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’کانگریس صدر جناب ملیکارجن کھڑگے جی کی عوامی ریلی کے بعد ’شدھی کرن‘ کی رسم ادا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں، لیکن اس ذات پات پر مبنی عمل کے خلاف آواز اٹھانے والے قائد حزب اختلاف جناب راہل گاندھی جی کے خلاف ایف آئی آر۔ کیا یہی بی جے پی حکومت کا انصاف ہے؟‘

انہوں نے الزام لگایا کہ شدھی کرن کی رسم ادا کیے جانے کے بعد اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر نے کھلے عام اس کا دفاع کیا تھا۔ شیلجا نے کہا، ’اب جناب راہل گاندھی جی نے قصورواروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تو اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں الٹا انہی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی دلت مخالف اور آئین مخالف سوچ کی ایک انتہائی سنگین مثال ہے۔ راہل گاندھی جی نے وہی سوال اٹھایا ہے جو کانگریس صدر جناب ملیکارجن کھڑگے جی خود پارلیامنٹ میں اٹھا چکے ہیں کہ ’شدھی کرن‘ کے اس عمل نے انہیں چھوا چھوت کا احساس دلایا اور ان کی توہین کی۔‘

قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کھڑگے نے 13 اگست کو بی جے پی پر ’شدھی کرن‘ کی رسم ادا کرکے ان کی توہین کرنے کا الزام لگایا۔

مانسون اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں کھڑگے نے کہا تھا، ’میں اسے کبھی سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہتا۔ میں کئی برسوں سے پارلیامنٹ میں ہوں۔ اس وقت میں یہاں (راجیہ سبھا میں) ہوں اور اس سے پہلے لوک سبھا میں تھا۔ میں نے کبھی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے کبھی یہ کہہ کر مدد یا تحفظ نہیں مانگا کہ میں درج فہرست ذات سے تعلق رکھتا ہوں، میں دلت ہوں۔‘

انہوں نے کہا تھا، ’میرے اندر لڑنے کی طاقت ہے۔ میں لڑتا بھی ہوں۔ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں لاکھوں لوگ موجود تھے۔ اس وقت میں نے کسی برادری یا مذہب کا نام نہیں لیا تھا؛ میں نے صرف سرکاروں کے مسائل کو دہرایا تھا۔ لیکن میری تقریر کے بعد آپ نے (بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ لوگوں نے) ہلدوانی میں اسٹیج پر شدھی کرن کی رسم ادا کرکے میری توہین کرنے کی کوشش کی۔ مجھے چھوا چھوت کا احساس دلایا گیا۔ کیا جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے؟ آپ آئین کی حفاظت کیسے کر رہے ہیں؟ میں اپوزیشن کا رہنما (راجیہ سبھا) ہوں۔‘

اس وقت نڈا نے پارلیامنٹ میں کھڑگے کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بی جے پی نے دفاع کیا تھا

وہیں، اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر مہندر بھٹ نے اس ’شدھی کرن‘ کی رسم کا دفاع کیا تھا۔

بھٹ نے کہا تھا، ’جن لوگوں کے پاس کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہوتا، وہی ایسے معاملے اٹھاتے ہیں جو معاشرے کو نقصان پہنچاتے اور اسے تقسیم کرتے ہیں۔ کھڑگے جی کی ریلی ہلدوانی میں ہوئی تھی۔ وہاں کا رام لیلا میدان ناپاک کر دیا گیا تھا۔ جس جگہ رام مندر موجود ہے، وہاں ایسے نعرے لگائے گئے جو نہیں لگائے جانے چاہیے تھے۔ وہ جگہ ناپاک ہو گئی تھی اور پھر اس کا شدھی کرن کیا گیا۔‘

راجیہ سبھا کے رکن پارلیامنٹ بھٹ نے مزید کہا کہ مذہبی اور ثقافتی مقامات کی ’پاکیزگی‘ کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔