کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ذات کی تفصیلات درج کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اختیار کیا گیا ’اوپن اینڈیڈ سوال‘، یعنی لوگوں کو اپنی ذات کا نام خود لکھنے کی اجازت دینا الجھن اور غلط اعداد و شمار کا سبب بن سکتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی ذات کے مختلف نام، ذیلی ذاتیں اور ان کے ہجے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک ہی ذات کے لوگوں کا رجسٹریشن الگ الگ ناموں سے کیا جاتا ہے، تو ایک ذات کئی الگ الگ گروپوں کے طور پر درج ہو سکتی ہے۔

ملیکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور پارٹی کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے منگل (25 اگست) کو مردم شماری 2027 میں ذات سے متعلق تفصیلات جمع کرنے کے مجوزہ طریقے پر اعتراض کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
معلوم ہو کہ 2027 کی مردم شماری میں آزادی کے بعد پہلی بار ذاتوں کی گنتی بھی شامل ہو گی۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ذات کی تفصیلات درج کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ’اوپن اینڈیڈ سوال‘یعنی لوگوں کو اپنی ذات کا نام خود لکھنے کی اجازت دینا الجھن اور غلط اعداد و شمار کا سبب بن سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ سماجی انصاف سے متعلق پالیسیاں بنانے اور مختلف برادریوں کی سماجی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قابل اعتماد ذات پر مبنی اعداد و شمار بے حد ضروری ہیں۔
خط میں کہا گیا، ’آپ کی حکومت نے مردم شماری میں ذات سے متعلق معلومات درج کرنے کے لیے اوپن اینڈیڈ سوالوں کا طریقہ اختیار کیا ہے، جو گمراہ کن ہے۔‘
लोक सभा में नेता प्रतिपक्ष श्री @RahulGandhi और मैंने प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी जी को संयुक्त पत्र लिखकर जाति जनगणना की मौजूदा प्रक्रिया पर गंभीर चिंता जताई है।
Open-ended सवालों के जरिए जातियों की सही गिनती संभव नहीं है। एक ही जाति अलग-अलग नामों और उपजातियों में दर्ज हुई तो… pic.twitter.com/9bmRQrNiaT
— Mallikarjun Kharge (@kharge) August 25, 2026
رہنماؤں نے کہا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی ذات کے مختلف نام، ذیلی ذاتیں اور ان کےہجے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک ہی ذات کے لوگوں کا رجسٹریشن الگ الگ ناموں سے درج کیا جاتا ہے، تو ایک ذات کئی مختلف گروپوں کے طور پر درج ہو سکتی ہے۔
خط میں کہا گیا،’اس سے ملک میں لاکھوں ذاتیں بن سکتی ہیں، جس سے ذات پر مبنی مردم شماری سے حاصل ہونے والا پورا ڈیٹا بے کار ہو جائے گا۔‘
کھڑگے اور راہل گاندھی نے کہا کہ اس سے مختلف برادریوں کی آبادی کا غلط اندازہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کا اثر تعلیم،نوکری، سرکاری اسکیم اور سماجی انصاف سے متعلق منصوبوں کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے خط میں لکھا کہ مجوزہ مردم شماری سے او بی سی کی آبادی کا درست اعدادوشمار نہیں مل پائے گا، کیونکہ سوالنامے میں ’بیک وارڈ کلاس‘لفظ شامل نہیں ہے۔
کانگریس رہنماؤں نے تجویز دی ہےکہ لوگوں کو اپنی ذات کا نام آزادانہ طور پر لکھنے کی اجازت دینے کے بجائے ڈراپ ڈاؤن آپشن کے ذریعے ذاتوں کی ایک مقررہ فہرست فراہم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی فہرست موجودہ سرکاری فہرستوں کی بنیاد پر تیار کی جا سکتی ہے، جس میں سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کی فہرست اور اینتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا کی جانکاری بھی شامل ہو۔
انہوں نے تلنگانہ اور بہار میں کیے گئے ذات کے سروے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستوں نے ذاتوں کی مقررہ فہرستیں استعمال کی تھیں۔ خط کے ساتھ تلنگانہ ذات سروے 2024 اور بہار ذات سروے 2022 میں استعمال کی گئی ذاتوں کی فہرستوں کی کاپیاں بھی منسلک کی گئی ہیں۔
کھڑگے اور راہل گاندھی نے کہا،’ہم ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے اس طریقے کو قبول نہیں کرتے۔‘
انہوں نے حکومت سے موجودہ سوالنامے کو رد کرنے اور سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عام لوگوں سے مشاورت کے بعد نیا سوالنامہ تیار کرنے کی مانگ کی۔
انہوں نے کہا کہ نیا نظام ایسا ہونا چاہیے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر ذات اور برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد صحیح طریقے سے درج ہو۔