نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 616 ہوئی، 84 ہندوستانی شہری بچا ئے گئے؛ 320 اب بھی لاپتہ

نیپال-تبت بارڈر پر بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب اور اس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال میں 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں اور اب تک 84 افراد کو حفاظت کے ساتھ  بچا لیا گیا ہے۔ اس دوران سیلاب کے بعد تبت میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جھیل اچانک ٹوٹ گئی تو دوبارہ بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔

نیپال-تبت بارڈر پر بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب اور اس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال میں 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں اور اب تک 84 افراد کو حفاظت کے ساتھ  بچا لیا گیا ہے۔ اس دوران سیلاب کے بعد تبت میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جھیل اچانک ٹوٹ گئی تو دوبارہ بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔

نیپال کے دھادنگ ضلع کے بینی گھاٹ علاقے میں بدھ، 26 اگست 2026 کو سیلاب کے بعد موٹی گاد اور ملبے میں جزوی طور پر ڈوبی ہوئی عمارتیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: نیپال-تبت بارڈر پر بدھ (26 اگست) کو اچانک آئے شدید سیلاب اور اس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے تقریباً تین دن بعد بھی راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس دوران ہلاک اور لاپتہ لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا  ہے۔

نیپال پولیس کی تازہ جانکاری کے مطابق، سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ تعداد 579 بتائی گئی تھی۔ وہیں، تقریباً 2,000 لوگ  اب بھی لاپتہ ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق، تبت میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے، جبکہ 554 لوگ لاپتہ ہیں۔

سیلاب کے بعد بین الاقوامی راحت ایجنسیوں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے نیپال میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان اور مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق، 10,000 سے زائد خاندانوں کو فوری طور پر خوراک اور صاف پینے کے پانی کی ضرورت ہے۔

320 ہندوستانی شہری اب بھی لاپتہ

ہندوستانی وزارت خارجہ نے جمعہ (28 اگست) کی رات بتایا کہ نیپال میں سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔

وزارت کے مطابق، اب تک 84 ہندوستانی شہریوں کو حفاظت کے ساتھ بچا لیا گیا ہے۔

ان میں تمل ناڈو کے 21 لوگ شامل ہیں، جو جمعہ کو ہندوستان لوٹ آئے ہیں۔ وہیں،  63 لوگ  ترشولی-ون منصوبے میں کام کر رہے تھے اور انہیں بھی حفاظت  کے ساتھ نکال لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 149 ہندوستانی شہری جمعہ کو چین سے حفاظت کے ساتھ  نیپال پہنچ گئے ہیں۔ تقریباً 400 ہندوستانی شہری اب بھی چین میں محفوظ ہیں۔ ہندوستانی سفارتخانہ مسلسل ان کے رابطے میں ہے اور انہیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے یہ اعداد و شمار جمعہ کی رات 10 بجے تک کے ہیں۔

نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کے مطابق، اب تک 570 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 1,900 لوگ  لاپتہ ہیں۔

بارش سے امدادی کارروائیاں متاثر

اس دوران مسلسل شدید بارش نے امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ سیلاب کے باعث کئی سڑکیں اور پل بہہ جانے سے امدادی ٹیموں کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سیلاب کے بعد تبت میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جھیل اچانک ٹوٹ گئی تو دوبارہ بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر جمعہ کو کچھ وقت کے لیے بچاؤ کی کارروائیاں روک دی گئی تھیں۔ بعد میں انہیں دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

چینی فوج نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارش ہونے کی صورت میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

نیپال نے غیر ملکی مدد سے متعلق فیصلہ تبدیل کیا

شدید سیلاب کے بعد نیپال نے شروع میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی امداد کی پیشکش مسترد کر دی تھی، تاہم اب اس نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔

کاٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق، نیپال نے ان ممالک کے دباؤ کے بعد اپنا فیصلہ تبدیل کیا جن کے شہری اس قدرتی آفت میں لاپتہ ہیں۔

نیپال کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھتری نے جمعہ کو کہا تھا کہ غیر ملکی امداد کی پیشکش فطری بات ہے، لیکن نیپالی سکیورٹی ادارے پہلے ہی تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور فی الحال ایسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم، اب نیپال بھوٹیکوشی دریا میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کے لیے بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی محدود مدد لینے کو تیار ہے۔

کاٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق، بدھ کو نیپال حکومت نے کہا تھا کہ اس کی اپنی امدادی ٹیمیں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور دوسرے ممالک کی ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم، اگلے ہی روز حکومت نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

رائٹرس کے مطابق، اب نیپال نے سرنگوں میں بچاؤ کے کام، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور فرانزک تحقیقات کے لیے غیر ملکی ماہرین کی محدود مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے جائزے کی بنیاد پر بین وزارتی رابطہ کمیٹی نے ہندوستام، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا سے اپنے ماہرین اور تکنیکی عملے کو بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ یہ ماہرین سرنگوں میں بچاؤ کے کام، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور فرانزک تحقیقات میں مدد کریں گے۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو رائٹرس کو بتایا کہ نیپال پہلے غیر ملکی ماہرین کی مدد لینے پر آمادہ نہیں تھا۔ جنوبی کوریا نے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے نیپال کو 10 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے بدھ کو بتایا تھا کہ ایک پن بجلی گھر میں اس کے نو شہری لاپتہ ہیں جبکہ 10 دیگر پھنسے ہوئے ہیں۔

غیر ملکی مدد سے انکار کے پیچھے چین کا دباؤ؟

اقوام متحدہ میں نیپال کے سابق سفیر دنیش بھٹرائی نے رائٹرس کو بتایا کہ ممکن ہے نیپال نے اس لیے غیر ملکی ماہرین کی مدد لینے سے انکار کیا  تھاکیونکہ سیلاب سے متاثرہ ضلع رسوا چین کے تبت سے متصل ہے۔ تبت چین کے لیے انتہائی حساس علاقائی مسائل میں سے ایک ہے۔

تبت چین کا ایک خود مختار علاقہ ہے اور نیپال طویل عرصے سے اپنے سے کہیں بڑے پڑوسی چین کے ساتھ ایک نازک توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بھٹرائی نے کہا کہ ممکن ہے نیپال نے علاقے کی جغرافیائی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے شروعات میں غیر ملکی ٹیموں کی مدد کی پیشکش مسترد کی ہو۔

تاہم، وزارت خارجہ کے ترجمان چھتری نے کہا کہ غیر ملکی امداد نہ لینے کے فیصلے میں چین سے متعلق کوئی پہلو شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ نیپال کی اپنی امدادی ٹیمیں کارروائیاں سنبھال رہی تھیں۔

دریں اثنا، چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے جمعہ کو بتایا کہ وزیر اعظم لی چیانگ نے جمعرات کی دوپہر تبت کے گییرونگ کا دورہ کیا۔ سیلابی پانی اور ملبے نے اس علاقے کو بھی متاثر کیا ہے۔