حراست میں لیے گئے کسانوں کی رہائی تک بات چیت نہیں: کسان مورچہ

سنیکت کسان مورچہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ سڑکوں پر کیلیں اورخاردارتاربچھانا، اندرونی سڑکیں بند کرکے بیریکیڈ بڑھانا، انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنااور بی جے پی-آر ایس ایس کے کارکنوں سےمظاہرہ کروانا، سرکار، پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہو رہےمنصوبہ بند‘حملوں’کا حصہ ہیں۔

سنیکت کسان مورچہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ سڑکوں پر کیلیں اورخاردارتاربچھانا، اندرونی سڑکیں بند کرکے بیریکیڈ بڑھانا، انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنااور بی جے پی-آر ایس ایس کے کارکنوں سےمظاہرہ کروانا، سرکار، پولیس اور انتظامیہ کی جانب  سے ہو رہےمنصوبہ بند‘حملوں’کا حصہ ہیں۔

سنگھو بارڈر پر لگے نئے بیریکیڈ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سنگھو بارڈر پر لگے نئے بیریکیڈ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سنیکت کسان مورچہ (ایس کےایم)نے منگل کو کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے‘ہراسانی’ بند ہونے اورحراست میں لیے گئے کسانوں کی رہائی تک سرکار کے ساتھ کسی طرح کی‘باضابطہ’بات چیت نہیں ہوگی۔

کئی کسان تنظیموں کے اس گروپ نے ایک بیان جاری کرکےیہ الزام بھی لگایا کہ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکنے،خاردار تار لگانے، اندرونی سڑکوں کو بند کرنے سمیت بیریکیڈبڑھایا جانا، انٹرنیٹ خدمات  کو بند کرنا اور ‘بی جے پی  اور آر ایس ایس کے کارکنوں سےمظاہرہ  کروانا’سرکار، پولیس اورانتظامیہ  کی جانب  سےمنصوبہ بند‘حملوں’کا حصہ ہیں۔

اس نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کے احتجاج کی جگہوں  پر ‘باربار انٹرنیٹ خدمات کو بند کرنا’اور کسان تحریک  سے وابستہ کئی ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کرنا ‘جمہوریت  پر سیدھا حملہ’ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر نے سوموار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرتقریباً250 ایسے اکاؤنٹ پر روک لگا دی تھی، جن کے ذریعے کسانوں کی تحریک سے متعلق مبینہ‘فرضی اور بھڑکاؤ’پوسٹ کیےگئے تھے۔

سنیکت کسان مورچہ نے کہا، ‘ایسا لگتا ہے کہ سرکار کسانوں کے مظاہرہ  کومختلف ریاستوں سے حمایت  سے بہت ڈری ہوئی ہے۔’غورطلب ہے کہ مظاہرین  نے چھ فروری کو تین گھنٹے کے ملک گیر‘چکہ جام’کا اعلان  کیاہے۔

کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ احتجاج کی جگہوں  کےقریبی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے،حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور دیگر مدعوں کے خلاف تین گھنٹے تک قومی  اور ریاستی  شاہراہوں  کو جام کرکے اپنی مخالفت درج کرائیں گے۔

دہلی کی سرحدوں کے قریب کئی مقامات پر کسان دو مہینوں سے زیادہ  سےزرعی  قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کسان پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے ہیں۔کسان مورچہ نے کہا،‘ایس کےایم نے سوموار کو اپنی بیٹھک میں فیصلہ کیا کہ کسانوں کی تحریک کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کی جانب  سے ہراسانی  فوراً بند کی جانی چاہیے۔’

اس کے مطابق، سرکار کی طرف سے بات چیت کو لےکر کوئی پیش کش نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے،‘سرکار کی طرف سے بات چیت کی کوئی پیش کش  نہیں آئی  ہے۔ ایسے میں ہم واضح  کرتے ہیں کہ غیرقانونی ڈھنگ سے پولیس حراست میں لیے گئے کسانوں کی بنا شرط رہائی کے بعد ہی کوئی بات چیت ہوگی۔’

وزیر اعظم  نریندر مودی نے سنیچر کو کل جماعتی اجلاس میں کہا تھا کہ زرعی قوانین کے نفاذکو18 مہینوں کے لیے ملتوی کرنے کی  سرکار کی تجویز اب بھی برقرار ہے۔

کسان مورچہ نے وزیر اعظم کے بیان پر کہا تھا کہ تینوں قوانین کورد کیا جانا چاہیے۔سرکار نے 22 جنوری کو سرکار اور کسان تنظیموں کے بیچ ہوئی آخری دور کی بات چیت میں قوانین کےنفاذکو18 مہینوں کے لیے ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔ کسان تنظیمیں قوانین کورد کرنے کی مانگ پرقائم  ہیں۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کے ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئےتشدد کے بعد کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔کسان مورچہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی پولیس نے 122مظاہرین  کی فہرست جاری کی ہے جنہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ حراست میں لیے گئے تمام  کسانوں کی رہائی ہونی چاہیے۔

معلوم ہو کہ معلوم ہو کہ مرکزی حکومت کی جانب  سے زراعت سے متعلق تین بل– کسان پیداوارٹرید اور کامرس(فروغ اور سہولت)بل، 2020، کسان (امپاورمنٹ  اورتحفظ) پرائس انشورنس کنٹریکٹ اور زرعی خدمات بل، 2020 اور ضروری اشیا(ترمیم)بل، 2020 کو گزشتہ27 ستمبر کو صدر نے منظوری دے دی تھی، جس کے خلاف  کسان مظاہرہ  کر رہے ہیں۔

کسانوں کو اس بات کا خوف ہے کہ سرکار ان قوانین کے ذریعےایم ایس پی دلانے کے نظام کو ختم کر رہی ہے اور اگراس کو لاگو کیا جاتا ہے تو کسانوں کو تاجروں  کے رحم پر جینا پڑےگا۔دوسری جانب مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی مودی سرکار نے باربار اس سے انکار کیا ہے۔ سرکار ان قوانین کو ‘تاریخی زرعی اصلاح’ کا نام دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ زرعی پیداوار کی فروخت کے لیے ایک متبادل  نظام  بنا رہے ہیں۔

ان قوانین کے آنے سے بچولیوں کا رول ختم ہو جائےگا اور کسان اپنی اپج ملک میں کہیں بھی بیچ سکیں گے۔دوسری طرف مظاہرہ کر رہے کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے ایم ایس پی کا سکیورٹی کوراور منڈیاں بھی ختم ہو جائیں گی اورکھیتی بڑے کارپوریٹ گروپوں  کے ہاتھ میں چلی جائےگی۔

 اس کولےکرسرکار اور کسانوں کے بیچ 11 دور کی بات چیت ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔ کسان تینوں نئےزرعی  قوانین کو پوری طرح واپس لیے جانے اورایم ایس پی کی قانونی گارنٹی دیےجانے کی اپنی مانگ پر پہلے کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔

 (خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)