دہلی اسمبلی انتخاب: الیکشن کمیشن نے ایک دن بعد جاری کئے اعداد و شمار، 62.59 فیصد ووٹنگ ہوئی

03:43 PM Feb 10, 2020 | دی وائر اسٹاف

آخری رائے دہندگی کے اعلان میں تاخیر پر دہلی چیف الیکشن کمشنر رنبیر سنگھ نے کہا کہ رٹرننگ افسر کام میں مصروف تھے اور اسی لئے آخری اعلان میں تاخیر ہوئی۔

دہلی اسمبلی انتخاب میں رائے دہندگی کے آخری اعداد و شمار جاری کرتا الیکشن کمیشن (فوٹو : اے این آئی)

نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخاب میں کل 62.59 فیصد رائےدہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ رائے دہندگی کے آخری اعداد و شمار کو جاری کرتے ہوئے سینئر افسروں نے اتوار کو یہ جانکاری دی۔ دہلی اسمبلی کی کل 70 سیٹوں کے لئے سنیچر کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ دہلی کے چیف الیکشن افسر دفتر کے سینئر افسر نے بتایا، ‘ انتخاب کے آخری اعداد و شمار کے مطابق 62.59 فیصدی رائے دہندگی ہوئی۔ ‘

یہ اعداد و شمار دہلی میں حال کے لوک سبھا انتخابات میں درج کئے گئے 60.5 فیصدی سے تقریباً دو فیصد زیادہ ہے، لیکن 2015 کےاسمبلی انتخابات میں اس سے زیادہ تھا۔ سال 2015 میں اسمبلی انتخاب میں 67.47 فیصد رائےدہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ آخری رائے دہندگی  کے اعلان میں تاخیر پر دہلی چیف الیکشن کمشنر رنبیر سنگھ نے کہا کہ رٹرننگ افسر کام میں مصروف تھے اور اسی لئے آخری اعلان میں تاخیر ہوئی۔

بتا دیں کہ، آخری رائے دہندگی کے اعلان میں دیری پر عام آدمی پارٹی رہنما سنجے سنگھ نے سوال اٹھائے تھے۔ وہیں، وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس کو بےحد چونکانے والا بتایا تھا۔ کیجریوال نے ٹوئٹ کر کہا تھا، بےحد چونکانے والا ہے۔ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے؟ رائے دہندگی ختم ہونے کے کئی گھنٹوں بعد بھی وہ رائے دہندگی کے اعداد و شمار کیوں نہیں جاری کر رہے ہیں؟

عآپ کے قومی ترجمان سنجے سنگھ نے بھی چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہے کہ الیکشن کمیشن رائے دہندگی ختم ہونے کے 20 گھنٹے بعد رائے دہندگی تفصیل کے ساتھ تیار نہیں تھا۔

الیکشن کمیشن کے سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر سندیپ سکسینہ نے کہا کہ تمام رائے دہندگی مراکز کے اعداد و شمار کو پہلے ترتیب دیا گیااور جوڑا گیا تھا اور اسی لئے آخری اعداد و شمار پر پہنچنے میں وقت لگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن درست تعداد کے ساتھ آنا چاہتا تھا اور اس وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ سکسینہ نے کہا کہ خاتون رائےدہندگان کی تعداد 62.55 فیصدی تھی، جبکہ مردوں کی تعداد 62.62 فیصدی تھی۔

رنبیر سنگھ نے کہا کہ سب سے کم رائے دہندگی فیصد دہلی کنٹو منٹ میں 45.4 فیصدی تھا۔ سب سے زیادہ رائے دہندگی بلی ماران میں 71.6 فیصدی درج کیا گیا۔ اوکھلا میں رائے دہندگی فیصد 58.84 فیصدی اور سیلم پور میں 71.2 فیصدی رہا۔

رائے دہندگی ختم ہونے کے بعد آئے تقریباً تمام انتخاب کے بعد سروے (ایگزٹ پول) میں وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی (عآپ) کی بڑی جیت کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ کچھ سروے میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پارٹی 2015 کا ریکارڈ دوہرا سکتی ہے جب اس نے 70 اسمبلی سیٹوں میں سے 67 پر جیت کا پرچم پھہرایا تھا۔

انڈیا ٹوڈے-ایکسس کے ایگزٹ پول کے مطابق عآپ کو 59-68 اور بی جے پی کو 2-11 سیٹ مل سکتی ہیں۔ وہیں، اے بی پی-سی ووٹر کے مطابق عآپ کو 49-63 اور بی جے پی کو 5-19 سیٹ مل سکتی ہیں۔ ٹائمس ناؤ-اسپوس کے مطابق، کیجریوال کی کرسی برقرار رہ سکتی ہے اور عآپ کو 47 اور بی جے پی کو 23 سیٹ مل سکتی ہیں۔ ری پبلک-جَن کی بات کے ایگزٹ پول کے مطابق، عآپ کو 48-61 اور بی جے پی کو 9-21 سیٹ ملنے کے آثار ہیں۔

ٹی وی 9 بھارت ورش-سسیرو کے مطابق، عآپ کو 52-64 اور بی جے پی کو 6-16 سیٹ مل سکتی ہیں۔ وہیں، رہنما-نیوز ایکس کے مطابق عآپ کے کھاتے میں 53-57 اور بی جے پی کے کھاتے میں 11-17 سیٹ آ سکتی ہیں۔ اے بی پی کے سروے میں کہا گیا کہ عآپ کا ووٹ فیصد 50.4 اور بی جے پی کا ووٹ فیصد 36 ہو سکتا ہے۔ وہیں، انڈیا ٹوڈے-ایکسس پول کے مطابق دونوں پارٹیوں کے لئے یہ اعداد و شمار بالترتیب : 56 اور 35 فیصد کا ہو سکتا ہے۔

سال 2015 کے دہلی اسمبلی انتخاب میں عآپ نے 67 سیٹوں کے ساتھ بڑی جیت حاصل کی تھی اور بی جے پی کے کھاتے میں صرف تین سیٹ آئی تھی۔ تب دونوں پارٹیوں کا ووٹ فیصد بالترتیب : 54.3 اور 32.3 فیصد تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)