ہندوؤں کو ریڈیکل بنانے کی منظم کوششوں کی وجہ سے ایماندار پولیس افسران کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے

گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل پولیس اور انسپکٹر جنرل کی میٹنگ میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے بھی شرکت کی تھی۔ یہاں ریاستوں کے سب سے بڑے پولیس افسران خبردار کر رہے تھے کہ ہندوتوا دی ریڈیکل تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ تاہم جیسے ہی یہ خبر باہر آئی، اس رپورٹ کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

گزشتہ دنوں  ڈائریکٹر جنرل پولیس اور انسپکٹر جنرل کی میٹنگ میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے بھی شرکت کی تھی۔ یہاں ریاستوں کے سب سے بڑے پولیس افسران خبردار کر رہے تھے کہ ہندوتوا دی ریڈیکل تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ تاہم جیسے ہی یہ خبر باہر آئی، اس رپورٹ کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

اب کوئی کانگریسی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملک میں بھگوا دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت  والی  وفاقی حکومت کے آٹھ سال گزر جانےکے بعد ملک کی ریاستوں کے اعلیٰ پولیس افسران خبردار کر رہے ہیں کہ ہندوتوادی ریڈیکل تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔

اخبارات کے مطابق، دہلی میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کی حالیہ کانفرنس میں پیش کیے گئے تحقیقی مقالوں میں بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں کا نام ریڈیکل تنظیموں کے طور پر لیا گیا۔ انہوں نے گائے کے گوشت پرپابندی لگانے  اور گائے کی اسمگلنگ کو روکنے کے نام پر جاری تشدد کو نشان زد کیا۔ انہوں نے گھر واپسی جیسی مہموں کی بھی نشاندہی کی جو تشدد پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اسلام کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کا نام تو لیا ہی  گیا، ماؤنواز تنظیموں کا بھی چرچہ ہوا۔

خبر مگر ہندوریڈیکل تنظیموں کو خطرہ بتانے والی بات بنی۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب آر کے سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور وزیر نہیں بنے تھے اور ایک پیشہ ور ایڈمنسٹریٹر تھے، تب ہندوستان کے ہوم سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے اس وقت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ‘بھگوا دہشت گردی’ والے بیان کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے اپنی جانچ ایجنسیوں کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مکہ مسجد، اجمیر شریف، سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث کم از کم 10 لوگوں کے نام ان کے پاس تھے، جن کا کسی نہ کسی طرح سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلق تھا۔ انہوں نے شواہد اور خود ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر کہا تھا، ‘مجھے نہیں لگتا کہ اب ان کی تردید کی جا سکتی ہے۔’

بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس نے دہشت گردی کے سامنے بھگوا کی صفت استعمال کرنے پر ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ لیکن اس سے نہ تو وہ تفتیش ختم ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والے شواہد۔ آج  10 سال بعد صورتحال بدل گئی ہے۔

وزارت داخلہ اور اس کے ادارے جس نے آر ایس ایس یا اس سے منسلک تنظیموں سے وابستہ لوگوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث بتایا تھا، آج اسی وزارت پر آر ایس ایس کے لوگوں کا کنٹرول ہے۔ امن و امان وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے اور یہ ریاستوں کے دائرہ اختیار کا موضوع بھی ہے۔ آج کئی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے جو آر ایس ایس کا پارلیامانی سیاسی ونگ ہے۔ اس وجہ سے بھی ان اعلیٰ پولیس افسران کے مقالے بہت  اہم ہیں۔

معلوم ہوا کہ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، پولیس افسران کی کانفرنس کی ویب سائٹ سےیہ  مقالے اور پرچے ہٹا لیے گئے۔ لیکن تب تک کچھ اخبارات نے انہیں حاصل کر لیا تھا اور یہ خبر بھی بڑے پیمانے پر عام ہو چکی تھی۔ ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تردید بھی نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے امن و امان کی ذمہ دار تنظیموں کا ماننا ہے کہ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل جیسی تنظیموں کی سرگرمیاں ریڈیکل ہیں۔

وزارت داخلہ جو 8 سال پہلے کہہ رہا تھا، ایک طرح سے افسران کے یہ مقالے انہیں دہرا رہے ہیں۔ لیکن ہم نے اتنے سنجیدہ موضوع پر کوئی عوامی بحث نہیں دیکھی۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اسے نظر انداز کیا۔ کسی بھی قسم کی سرکاری تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ یہ ہندوستان کی سلامتی کا معاملہ تھا۔ پھر میڈیا کیوں خاموش رہا؟

یہ بات اپنے آپ میں حیران کن تھی کہ یہ مقالےآر ایس ایس کے سویم سیوک ہونے کی وجہ سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچے لوگوں کے سامنے پیش کیےگئے۔ جن افسران نے یہ کیا وہ جانتے تھے کہ یہ ایک پرخطر کام ہے۔ لیکن انہوں نے اپنا کام کیا۔ اگلا کام میڈیا کا تھا۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ ہندوستان کا  بڑا میڈیا اس ریڈیکل نظریے کی حمایت کرتا ہے جو آج ہندوستان پر قابض ہے۔ پھر وہ اس پر بحث کیوں کرے؟

کیوں دنیا بھر میں ریڈیکل تنظیموں یا نظریات پر تشویش کی صورت نظر آتی ہے؟ اس لیے کہ  وہ صرف نظریے کی سطح پر ہی محدود نہیں رہتے، وہ تشدد  کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ریڈیکل جس کا لغوی مطلب  میں بنیاد پرستی ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں، تنظیموں یا نظریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اپنی خواہشات کی تکمیل کسی ایک شئے میں دیکھتے ہیں۔ جیسے امریکی سفید فام عیسائی  یہ سمجھیں کہ ان کے مسائل کی جڑ سیاہ فام لوگ ہیں یا ان کے ملک میں باہر سے آنے والے لوگ ۔ اس لیےان کی نفرت  اور تشدد سیاہ فام لوگوں  اور باہری   لوگوں کے خلاف ہے۔

ایسے ریڈیل گروپ  ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی ہیں اور انہوں نے ہی گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کے بعد امریکی سینیٹ پر حملہ کیا تھا۔ حال ہی میں برازیل میں انتخابات میں بولسونارو کی شکست کے بعد ایسے گروہوں کا تشدد دیکھا گیا۔

ایسے انتہا پسند گروہوں کے بارے میں الگ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں جو ہر مسئلے کا حل اسلامی حکومت کے قیام میں دیکھتے ہیں۔ جیسے ہی ہم ریڈیکل کہتے ہیں، ہمارے ذہن میں صرف اس کی تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن یورپ کی سکیورٹی ایجنسیاں ان کے علاوہ دیگرریڈیکل گروہوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان پر نظر رکھتی ہیں۔ یورپ میں یہودی  مخالف ریڈیکل گروہ اسٹیٹ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ نو نازی گروہ آج نئے سرے سے متحرک ہو گئے ہیں۔

اسلامی ریڈیکل تنظیمیں ہندوستان کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہیں؟ گزشتہ حکومت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نےریڈیکل نظریہ کو قبول نہیں کیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کی اکثریت ریڈیکل نہیں ہے۔ لیکن کیا ہندوؤں کے بارے میں بھی اسی اعتماد کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے؟

ریڈیکل کون ہے،ریڈیکل بنانے کا طریقہ کار کیا ہے، اس بارے میں کافی غوروخوض کیا گیا ہے۔ یہ ایک لمبا پروسیس ہے۔ جوریڈیکل ہیں، وہ ہمارے اور آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے  ہیں جو کچھ  ناراضگی لیے ان  کی وجہ ڈھونڈتے ہیں اور ایک بنیادی وجہ تلاش کرنے اور اسے ختم کرنے کے خیال سے متفق  ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اس کے لیے تنظیمیں بناتے ہیں اور کچھ حقیقی پرتشدد کارروائیوں میں شامل ہوتے ہیں۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام ریڈیکل خیالات رکھنے والے لوگ تشدد میں شریک ہوں۔ لیکن وہ اسے ممکن بنانے اور اس کو جائز ٹھہرانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ بحث ماؤنوازوں کے تناظر میں ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح ان کے بارے میں بھی دنیا بھر میں کافی  چرچہ ہوتا رہا  ہےجو جدید دنیا کی بیماریوں سے نجات اسلامی حکومت کے قیام میں دیکھتے ہیں۔ ایسی اسلامی تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ریاست انہیں ریڈیکل یا دہشت گرد مان  کر ان کے خلاف چوکنا رہتی  ہے۔

ہندوستان میں ہندوؤں پر صدیوں سے ظلم ہوا ہے، انہیں شرمناک حالت میں رکھا گیا ہے۔ ہندوستان ہندوؤں کا ملک ہے لیکن اس پر  ان کا حق نہیں  رہ گیا ہے،جیسے نظریات تقریباً 150 سال سے موجود ہیں۔ لیکن ان خیالات پر تنظیمی کارروائی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور ہندو مہاسبھا نے  شروع کی۔ ہندوستان پر ہندوؤں کی بالادستی قائم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے انہیں منظم کرنا ضروری ہے۔ ظاہری طور پر اس کا مقصد ہندوؤں کی تنظیم اور ان کی خدمت ہے۔ لیکن اس خدمت اور سپردگی کے پردے کے پیچھے ہندوؤں کی شرمناک حالت کے لیے  ذمہ داروں کو تلاش کرکے ان کویا تو  تباہ کرنا یا اپنا محکوم بنانا ایک سچے محب وطن ہندو کا فرض ہے۔

آر ایس ایس کے لیے ہندو راشٹر کے دشمنوں کی  پہچان کرنا اور ان کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ ہمارے درمیان ایسے بے شمار ہندو ہیں جو ایسی سوچ رکھتے ہیں۔ لیکن ایسا ہندو ذہن اپنے آپ نہیں بن  جاتا۔ یہ آر ایس ایس کی شاخوں، اس کے دانشوروں، اس کے تربیتی کیمپوں میں تیار کیا جاتا ہے۔

سنگھ کے ایسے ہی ایک کیمپ کا معمول بتاتے ہوئے ایک ٹرینی نے بتایا کہ سب سے پہلے اسے سزا (ڈنڈا) دی جاتی ہے۔ علی الصبح ایک دھماکہ ہوتا ہے اور تمام ٹرینی اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ دشمن کا حملہ ہے۔ وہ دشمن کے پتلے پر ڈنڈوں سے حملہ کرتے ہیں۔ اس کو پیٹتے ہیں۔پھر ایک اور دھماکہ ہوتا ہے اور وہ اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے بعد دن بھر نظریاتی  نشستیں ہوتی ہیں جن میں وطن سے محبت، خدمت، ہماری تاریخ وغیرہ پر بات کی جاتی ہے۔ بہت چالاکی سے ذہن مسلم مخالف جذبات سے بھرے جاتے ہیں۔ زیادہ تر شرکا اسکول سے نکلے ہوئے لڑکے ہوتے ہیں۔ یہ عمل ،اس ٹرینی کے مطابق ان سب کوریڈیکل بنانے کے لیے ہے۔

پھر بھی، جیسا کہ خبروں سے لگتا ہے، پولیس افسران کی اس میٹنگ میں آر ایس ایس کوریڈیکل نہیں کہا گیا ہے۔ یہ ہچکچاہٹ کیوں ہے ،  سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ آر ایس ایس اپنی امیج کو خوشگوار بنائے رکھنا چاہتا ہے اور اکثر تمام مہذب لوگ اس پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن اس کی تنظیمیں، یعنی وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل تشدد میں براہ راست حصہ لیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ سنگھ کی تنظیم ہے، سب جانتے ہیں۔ پھر بھی ریاست یہ نہیں کہہ پاتی کہ سنگھ ان اداروں کی مربی تنظیم ہے جو ہندوؤں کوریڈیکل بناتے ہیں۔ کیوں؟

سنگھ کے زیر انتظام ہزاروں اسکول ہندو بچوں کوریڈیکل بنانے کے کارخانے ہیں۔ سرسوتی ششو مندر اور سنگھ  کی شاکھاؤں کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح بچوں کے ذہنوں میں مسلم مخالف اور عیسائی مخالف نفرت پیدا کرتے ہیں۔ ان اسکولوں پر کی گئی تحقیق سے یہ واضح ہے کہ ان کی کتابیں اور سرگرمیاں آہستہ آہستہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت اور تعصب پیدا کرتی ہیں۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اس ایکو کا ایک حصہ ہے۔ ان دنوں اے بی وی پی کے علاوہ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے ‘یووا’ کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کی گئی ہے۔ ان تنظیموں میں سرگرم تمام افراد براہ راست تشدد میں ملوث نہیں ہوتے۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد تشدد کی حمایت کرتی ہے۔

اب تشدد کا یہ ماحول اتنا پھیل چکا ہے کہ پورے ملک میں رام سینے، ہندو یوا واہنی، ہندو سینا، ابھینو بھارت جیسی سینکڑوں تنظیمیں جنم لے چکی ہیں۔ مسلم مخالف اور عیسائی مخالف تشدد میں براہ راست ملوث ہونے میں ان کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ سنگھ ان کو کنٹرول نہیں کرتا، لیکن وہ ان کی مخالفت بھی نہیں کر سکتا۔

ہندوؤں کوریڈیکل بنانے میں ہندی میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ نہ صرف مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بلکہ دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف بھی ہندی اخبارات اور ٹی وی چینل مسلسل پروپیگنڈہ چلاتے رہتے ہیں۔ شاکھا، سنگھ کےا سکولوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔

اب آپ کے گھروں میں کھلے عام نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ ان میں بابا رام دیو، سد گرو، بابا باگیشورناتھ، یتی نرسنہانند، سادھوی پراچی جیسے مذہبی رہنماؤں کو شامل کرلیں، جو ستسنگ کے نام پر ہندو راشٹرکے قیام اور اس کے لیےدشمنوں کی شناخت اور ان کی تباہی کا اعلان روزانہ کر رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہیں جو ان کو سنتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔

یہ سمجھنا مشکل ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس دائرے سے باہر کیوں رکھا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے لیڈر کبھی اشارے میں،کبھی کھلے عام مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہندو ووٹ اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ کام صرف سادھوی پرگیہ ہی نہیں کرتیں بلکہ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم بھی بہت خوشی سے کرتے ہیں۔ کیا یہ ہندوؤں کوریڈیکل بنانے کا کام نہیں ہے؟

ہندوؤں کوریڈیکل بنانے کی ان منظم کوششوں سے دیانت دار پولیس افسروں کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان افسران میں کچھ ایسے بھی ہیں جوبذات  خودریڈیکل ہیں۔ مجھے ایک بڑی ریاست کے سب سے بڑے پولیس افسر کے ساتھ ہوئی  بات چیت یاد ہے، جس میں انہوں نے اپنی پولیس فورس کےریڈیکل ہوتے جانے  پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے پولیس افسران اس تشویش کا اظہار ان لیڈروں کے سامنے کر رہے تھے جن کی سیاست ہندوؤں کوریڈیکل بنانے پر ہی ٹکی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ان تحقیقی مقالات کو فوراً ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

لیکن کیا ہندوؤں کوریڈیکل بنانے  کا عمل ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں چل رہا ؟ اور کیا وہ انہیں دیکھ کر  فکرمند ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کوریڈیکل بنانے سے بچانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم تشدد کی حمایت کرنے والے اور اس سے لطف اندوز ہونے والے معاشرے کےبدل جانے  کے خطرے کی گمبھیرتا کو نہیں سمجھ پا رہے؟

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )

Next Article

پارلیامنٹ میں آدھی رات کے بعد بھی بحث، وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا سے پاس

راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی بل 2025 کو بحث کے بعد منظور کر لیا، اپوزیشن نے اسے مسلم مخالف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے شفافیت میں اضافہ کرنے والا بتایا۔ ڈی ایم کے نے بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2025 کو پاس کرانے کے لیے مسلسل دوسرے دن پارلیامنٹ آدھی رات کے بعد بھی چلی۔ یہ بل 4 اپریل کی رات 2:35 پر منظور کیا گیا، جس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں یہ 3 اپریل کو رات کے 2 بجے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

اپوزیشن کی مخالفت

جمعرات (3 اپریل) کو حزب اختلاف کے کئی ارکان پارلیامنٹ نے کالے کپڑے پہن کر بل کے خلاف احتجاج کیا۔ تاہم، بی جے پی کے اتحادیوں- تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے  راجیہ سبھا میں بھی بل کی حمایت کی۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس (وائی ایس آر سی پی) نے احتجاج  توکیا، لیکن اپنے ارکان پارلیامنٹ کو ووٹ ڈالنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔

بل پر زوردار بحث

لوک سبھا میں بحث بغیر کسی رکاوٹ کے چلی، لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیامنٹ نے اس بل کو ‘مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش’، ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملہ’ اور ‘زمینوں پر قبضے کا منصوبہ’ قرار دیا۔ وہیں، حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ بل وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانے کے لیے لایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو کا بیان

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس بل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ یہ بل غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔’

کانگریس نے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا الزام لگایا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ بی جے پی نے 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 میں کی گئی ترامیم کی حمایت کی تھی، لیکن اب اچانک اس کو ‘عوام مخالف’ بتاکر ترمیم کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹوں کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن وہ صرف 240 سیٹوں پر رہ گئی۔ اب یہ بل لا کر وہ اپنا ووٹ بینک واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان کا سوال- یہ ترمیم کیوں؟

حزب اختلاف کے سینئر رکن پارلیامنٹ کپل سبل نے سوال کیا کہ اس بل میں صرف مسلمانوں کو ہی وقف املاک کو عطیہ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ‘اگر میرے پاس جائیداد ہے اور میں اسے خیرات میں دینا چاہتا ہوں تو آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟’

حکمراں پارٹی نے اس پر اعتراض کیا جب سبل نے یہ بھی کہا کہ ‘ملک میں 8 لاکھ ایکڑ وقف جائیدادیں ہیں، جبکہ صرف چار جنوبی ریاستوں (تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک) میں ہندو مذہبی جائیدادوں کا رقبہ 10 لاکھ ایکڑ ہے۔’

‘حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے’

کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ مدرسوں کی تعلیم، مفت کوچنگ، مولانا آزاد اسکالرشپ جیسی اسکیموں کو بند کر رہے ہیں اور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ اقلیتوں کے مفاد میں کام کر رہے ہیں؟’

‘کیا گھروں اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ سید نصیر حسین نے اس بل کی اس شق کی مخالفت کی جس میں وقف املاک کو عطیہ کرنے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ میں مسلمان ہوں؟ کیا مجھے ٹوپی پہننی ہوگی، داڑھی رکھنی ہے؟ کیا میرے گھر اور مساجد میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں گے؟’

‘کیا یہ بل بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے؟’

راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے غیر مسلموں کو شامل کیا جا رہا ہے تو سیکولرازم کے اس جذبے کو دوسرے مذاہب تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے پوچھا، ‘اگر آپ واقعی سیکولرازم کے اس جذبے کو پورے ملک میں پھیلاتے ہیں اور ہر مذہبی ادارے میں دوسرے مذاہب کو شامل کرتے ہیں – چاہے وہ سکھ، مسلم یا عیسائی ہوں  – تو میں آپ کی تعریف کروں گا۔ یا آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمام تجربہ صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ہو گا؟’

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ بل ‘بلڈوزر سیاست کو قانونی شکل دینے’ کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ بل بلڈوزر کے لیے قانونی ڈھال بنا رہا ہے؟ یہ  بات ایک شہری کے طور پر مجھے ڈراتی ہے۔ شہروں میں مسلمان گھیٹو میں رہنے پر مجبور ہیں، اگر وہ گاؤں میں جاتے ہیں  تو انہیں  درانداز کہاجاتا ہے۔ ان کی تنظیموں کو شک کے دائرے میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سازشی قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ڈاگ-وہسل  کی سیاست کا استعمال کرناٹھیک نہیں ہے۔’

حکومت کا جواب

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تعداد محدود رکھی گئی ہے اور ان کی مداخلت صرف تجاویز تک محدود رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سینٹرل وقف کونسل کے کل 22 ارکان ہوں گے جن میں سے صرف چار غیر مسلم ہوں گے۔ وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں، لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے۔’

‘ بل کارپوریٹس کو وقف املاک فروخت کرنے کا منصوبہ’

کانگریس کے ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ‘آپ نے اس بل کا نام ‘امید’ رکھا ہے لیکن ملک کی ایک بڑی آبادی اب مایوس ہے کیونکہ آپ ان کی زمینیں لوٹ کر کارپوریٹس کو بیچنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔’

اپوزیشن نے وقف املاک کو بدنام کیا: بی جے پی ایم پی

عآپ کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مسلمانوں کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے اور راجیہ سبھا میں صرف ایک ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لیے یہ قانون لا رہے ہیں، لیکن آپ کی پارٹی میں ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، صرف ایک غلام علی ہیں۔ آپ نے مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کی سیاست ہی ختم کر دی۔ کیا آپ واقعی مسلمانوں کی بھلائی کر رہے ہیں؟’

بی جے پی کے اکلوتے مسلم ایم پی،غلام علی، جوجموں و کشمیر سے نامزد رکن ہیں،نے آدھی رات کے قریب بل پر بحث میں حصہ لیا اور کانگریس پر وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کرنے کا الزام لگایا جس سے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آپ نے وقف ایکٹ میں ایسی دفعات شامل کیں جن سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش  ہوئی۔’

ترامیم کے خلاف عدالت جائے گی ڈی ایم کے

جمعرات (3 مارچ) کو اسٹالن سیاہ بیج پہنے  اسمبلی پہنچے  اور لوک سبھا میں بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمل ناڈو حکومت اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

اسٹالن نے ایوان میں کہا ،  ‘ یہ ایکٹ مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے ۔ اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے ہم آج اسمبلی میں سیاہ بیج لگا کر شرکت کر رہے ہیں ۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ‘اس متنازعہ ترمیم کے خلاف ڈی ایم کے کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی ۔ تمل ناڈو اس مرکزی قانون کے خلاف لڑے گا کیونکہ یہ وقف بورڈ کی خود مختاری کو مجروح کرتا ہے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے ۔’

ڈی ایم کے کا پارلیامنٹ میں احتجاج

راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے ایم پی تروچی شیوا نے بھی حکومت پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔

‘ایک مخصوص کمیونٹی کوکیوں نشانہ بنایاجا رہا ہے؟ حکومت کی منشابدنیتی پر مبنی اورقابل مذمت۔وہ ‘سب کاساتھ ، سب کاوشواس ‘ کی بات کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کےبارے میں ان کی پالیسی امتیازی سلوک اورحاشیے پر دھکیلنے کی ہے۔یہ آئین کےخلاف ہے۔

اسٹالن کا وزیر اعظم مودی کو خط

جب لوک سبھا میں اس بل پر بحث ہو رہی تھی،اسی دوران  سی ایم  اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی ۔

انھوں نے لکھا، ‘ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق دیتا ہے اور اس حق کی حفاظت کرنا منتخب حکومتوں کا فرض ہے ۔ لیکن مجوزہ ترمیم اقلیتوں کو دیے گئے آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتی ہے ۔اس سے مسلم کمیونٹی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔’

تمل ناڈو اسمبلی میں بل کے خلاف تحریک

اسٹالن نے 27 مارچ کو تمل ناڈو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی ، جس میں اس بل کو ملک اور مسلم کمیونٹی کی مذہبی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

Next Article

وقف بل لوک سبھا میں پاس، ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کے الزام پر اپوزیشن نے اسے اقلیتوں کا استحصال قرار دیا

وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی،  جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ چلی  بحث کے بعد بدھ (2 اپریل) کو ایوان نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو پاس کر دیا، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔

معلوم ہو کہ اس بل پر دن بھر ایوان میں بحث ہوئی اور آدھی رات کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ کیونکہ یہ بل حکومت کی جانب سے جمعرات 3 اپریل (آج) کو  ہی راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور حکومت اسے 4 اپریل کو ختم ہونے والے بجٹ اجلاس میں منظور کروا لینا چاہتی ہے۔

بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کی کوشش کی، جبکہ اس بل کو اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیا۔

شاہ نے اپوزیشن پر ‘ووٹ بینک کی سیاست’ کا الزام لگاتے ہوئےاورغیر مسلموں کو  وقف میں شامل کرنے حکومت کی جانب سے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بارے میں مسلمانوں کو گمراہ کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی بات کہی۔

وہیں،  متحدہ اپوزیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت پر اس ‘غیر آئینی’ بل کے ذریعے مسلمانوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیامنٹ میں بی جے پی کی سابق حلیف وائی ایس آر سی پی نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے دو اہم اتحادیوں – جے ڈی (یو) اور ٹی ڈی پی – نے بل کی حمایت کی۔ تاہم، تیلگودیشم پارٹی نے بھی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو وقف بورڈ کے ڈھانچے کا فیصلہ کرنے میں لچک دی جانی چاہیے۔

متعلقہ وزیر کے بجائے وزیر داخلہ نےتقریر کی

واضح ہو کہ بلوں پر عام طور پر بحث کے اختتام پر متعلقہ وزیر کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن بحث کے دوران امت شاہ نے اپنی 47 منٹ کی تقریر میں قانون کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جن پر اپوزیشن پارٹیوں نے تنقید کی۔ اس میں وقف اداروں میں غیر مسلموں کی شمولیت بھی شامل ہے۔

شاہ نے کہا، ‘کوئی بھی غیر اسلامی رکن وقف کا حصہ نہیں ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہ تومتولی اور نہ ہی وقف کا کوئی رکن غیر مسلم ہوگا۔ مذہبی ادارے کے مینجمنٹ کے لیے کسی غیر مسلم کو مقرر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔’

انہوں نے  مزید کہا، ‘جو لوگ مساوات اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے لیکچر دے رہے ہیں، تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ 1955 تک کوئی وقف کونسل یا وقف بورڈ نہیں تھا۔  یہ خیال کہ اس ایکٹ کا مقصد ہمارے مسلمان بھائیوں کے مذہبی طریقوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ  اقلیتوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا سکے۔ غیر مسلموں کو صرف وقف بورڈ یا کونسل میں  ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان  کا کام کیا ہے؟ ان کا کام مذہبی معاملات نہیں ہیں، بلکہ  یہ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ قانون کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔’

بل کا نام ‘امید’ رکھا گیا

غور کریں کہ اس بل نے وقف ایکٹ، 1995 کا نام بدل کر انٹیگریٹڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ (امید) رکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت کو بڑھانا ہے۔

سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر بھی اس پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ مسلم خواتین کی نمائندگی اور غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بوہرا اور آغاخانیوں کے لیے علیحدہ ‘اوقاف بورڈ’ کے قیام کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس بل میں دفعہ 40 کو خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جو وقف بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کے اختیارات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں۔

شاہ نے کہا، ‘ایک اور غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ بل پچھلی تاریخ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔ جب آپ اس ایوان میں بول رہے ہیں تو آپ کو ذمہ داری سے بات کرنی چاہیے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔ لہذا، کوئی پچھلی تاریخ سےلاگو ہونے والا​قانون نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔’

بل پر شاہ کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے ذریعہ پیش کردہ بل پر پہلے سے دی گئی وضاحتوں کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں اور اس کے بجائے سیاسی ردعمل دینے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل غیر آئینی ہے، تو ہمیں بتائیں  کہ کیوں؟ میں نے عدالت کا تبصرہ پڑھا ہے کہ وقف املاک کا انتظام قانونی ہے۔ اگر یہ غیر آئینی تھا تو کسی عدالت نے اسے ردکیوں نہیں کیا؟ ہمیں ‘آئینی’ اور ‘غیر آئینی’ الفاظ کو اتنے ہلکے ڈھنگ سے نہیں لینا چاہیے۔’

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت پر ہندوستان کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنانے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہے۔

رجیجو نے کہا، ‘کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ میرا تعلق اقلیتی برادری سے ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اقلیتیں کہیں اور کے مقابلے زیادہ محفوظ ہیں۔’

اپوزیشن نے بل کو غیر آئینی قرار دیا

بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور ایوان میں ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اپوزیشن کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے چار مقاصد ہیں – ‘آئین کو کمزور کرنا، ہندوستان کی اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنا، اقلیتی برادریوں کو حقوق سے محروم کرنا’۔

گگوئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بل کو متعارف کرانے سے پہلے وسیع غوروخوض پر لوگوں کو’گمراہ’ کر رہی ہے اور کہا کہ اقلیتی امور کی کمیٹی نے 2023 میں پانچ میٹنگ کی تھی، لیکن اس کی کسی بھی تجویز میں وقف بل پر بحث نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا، ‘میں وزیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان میٹنگوں کے منٹس پیش کریں۔ اس بل پر  ایک بھی اجلاس میں بحث  یا بات نہیں کی گئی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وزارت نے نومبر 2023 تک نئے بل کے بارے میں سوچا بھی نہیں تو کیا یہ بل وزارت نے بنایا یا کسی اور محکمے نے؟ یہ بل کہاں سے آیا؟’

اس پر اپوزیشن ارکان کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کا ذکر کرتے ہوئے ‘ناگپور’ کہتے ہوئے سنا گیا۔

گگوئی نے کہا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی 1995 کے ایکٹ میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں خواتین کی نمائندگی کی حد دو تک طے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ‘مذہبی سرٹیفکیٹ دکھانے’ کے بارے میں بات کرتا ہے، جو قانون میں ‘وقف’ کی تعریف کرنے والے  اس حصے کا حوالہ دیتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر نے والے  اور ایسی جائیداد کا مالکانہ حق رکھنے والے کسی بھی شخص کے ذریعے وقف یا بندوبستی  طور پر بیان کرتا ہے۔

گگوئی نے کہا، ‘کیا وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے اس طرح کے سرٹیفکیٹ طلب کریں گے، یہ پوچھیں گے کہ کیا آپ نے پانچ سال تک مذہب کی پیروی کی ہے؟ حکومت ایسے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہی ہے؟’

‘مرکزی حکومت نے خود کو ریاستی فہرست میں شامل  کا اختیارات  دے دیے ہیں’

ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ کلیان بنرجی نے بھی اس بل کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ یہ ‘مسلمانوں کے اپنے مذہبی امور کو خود سنبھالنے کے اپنے مذہبی فریضے کو ادا کرنے کے حق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 26 کے خلاف ہے۔’

واضح ہوکہ اس سے قبل اس بل میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ اگر کوئی سوال ہے کہ کوئی جائیداد حکومت کی ہے یا نہیں تو اسے کلکٹر کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا ایسی جائیداد سرکاری ملکیت ہے یا نہیں اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا۔ تاہم، مشترکہ پارلیامانی کمیٹی کی سفارش پر اسے تبدیل کر کے ضلع کلکٹر سے اوپر کی سطح کے افسر میں بدل دیا گیا ہے۔

بنرجی نے کہا، ‘ریاست اپنے معاملےکا خود فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست فیصلہ کرے گی کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کی پابند ہوگی۔ زمین کی ملکیت کا فیصلہ سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جو اختیار دیا گیا ہے وہ ریاستی فہرست کے تحت ہے اور پارلیامنٹ کو اس پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔’

‘آپ کو یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟’

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ‘وقف بل بی جے پی کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا۔’

انہوں نے کہا، ‘اگرچہ اب بہت سے لوگ اس سے متفق ہیں، لیکن وہ اندرونی طور پر اس کے خلاف ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے کیونکہ ان کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں، وہ اسے مسلمانوں میں بھی تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بل کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔’

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کہا کہ یہ حکومت کو متنازعہ املاک کو اس وقت تک کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے جب تک کہ اسے عدالت کے ذریعہ حل نہیں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘وزیر داخلہ نے کہا کہ بورڈ اور کونسل اسلام سے مختلف ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک غیر آئینی ادارہ بنائیں۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘یہ قانون آرٹیکل 26 سے لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 26 اے، بی، سی، ڈی میں کہا گیا ہے کہ مذہبی فرقے اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر ہندو، بدھ اور سکھ یہ کر سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

اویسی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ 17000 تجاوزات ہوئی ہیں۔ 2014 میں غیر مجاز تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے اسے 2024 میں کیوں واپس لے لیا؟

ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جس پارٹی کے پاس ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کررہی ہے۔

معلوم ہو کہ اگست میں پہلی بار پارلیامنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیامانی کمیٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن پینل کے چیئرمین بی جے پی رکن پارلیامنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ کمیٹی کی تمام سفارشات کو قبول کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ کی طرف سے دی گئی 44 ترمیمی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ این ڈی اے کیمپ کی 14 تجاویز کو قبول کر لیاگیا تھا۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )

Next Article

وقف ترمیمی بل پر پارٹی کے موقف سے ناراض جے ڈی یو کے دو لیڈروں نے پارٹی سے استعفیٰ دیا

جے ڈی یو سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں پارٹی کے سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف بل پر پارٹی کے موقف نے لاکھوں مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے، جن کا ماننا تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی۔ اس بل پر پارٹی لیڈر محمد اشرف انصاری نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

نئی دہلی: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے دو سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری اور محمد اشرف انصاری نے جمعرات کو پارٹی اور پارٹی میں اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان کا یہ استعفیٰ وقف ترمیمی بل پر اپارٹی کی حمایت کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے اس بل کی حمایت کرنے پر اپنی پارٹی کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ بتادیں کہ بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود یہ بل پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس ہو چکا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی (یو) کے سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے جن کا خیال تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی   ۔

انصاری مشرقی چمپارن ضلع میں پارٹی کے میڈیکل سیل کے ترجمان ہیں۔ نتیش کمار کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا، ‘ہم جیسے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کو یہ یقین تھا کہ آپ خالصتاً سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں۔ لیکن اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔ وقف بل ترمیمی ایکٹ 2024 پر جے ڈی یو کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں اور ہم جیسے کارکنوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘جس تیوراور انداز میں شری للن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنا بیان دیا اور اس بل کی حمایت کی اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ وقف بل ہم ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ہم اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔ یہ بل آئین کے کئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔’

انہوں نے یہ بھی کہا، ‘اس بل کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی تذلیل اور توہین کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بل پسماندہ مخالف بھی ہے۔ جس کا نہ آپ کو احساس ہے اور نہ آپ کی پارٹی کو۔ مجھے اپنی زندگی کے کئی سال پارٹی کو دینے کا افسوس ہے۔’

استعفیٰ دینے والے دوسرے لیڈر محمد اشرف انصاری جے ڈی (یو) اقلیتی ونگ کے سربراہ ہیں۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں  ہندوستانی مسلمانوں کو پختہ یقین تھا کہ نتیش کمار مکمل طور پر سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں لیکن اب یہ یقین ٹوٹ چکا ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ جے ڈی (یو) کے اس رویہ سے لاکھوں ہندوستانی مسلمان اور ہم جیسے کارکنان کو شدید دکھ پہنچا ہے۔

معلوم ہو کہ لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد یہ بل جمعہ (4 اپریل) کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہو گیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں اس بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ یہ بل اب منظوری کے لیے صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔

Next Article

’شہری جھگیوں میں سیاست کی سمجھ کہیں زیادہ گہری ہے‘

خیال کیا جاتا ہے کہ شہری جھگیوں میں رہنے والے سیاست کو کم سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ نقل مکانی اور شہری جھگیوں  پر کتاب لکھنے والے اسکالر طارق تھیچل کہتے ہیں کہ جھگی –جھونپڑی میں رہنے والے سیاستدانوں کے مہرے محض نہیں ہیں۔ ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔