ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے معاملے لگ بھگ دوگنے ہوئے: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔سال2019 میں ایسے معاملوں کی تعداد438 تھی، جبکہ 2018 میں ایسے 512 معاملے درج کیے گئے تھے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔سال2019 میں ایسے معاملوں کی تعداد438 تھی، جبکہ 2018 میں ایسے 512 معاملے  درج کیے گئے تھے۔

2020 دہلی تشددکے دوران جعفرآباد میں جلتی  ایک گاڑی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

2020 دہلی تشددکے دوران جعفرآباد میں جلتی  ایک گاڑی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:نیشنل کرائم ریکارڈبیورو کےمطابق2020 میں فرقہ وارانہ یا مذہبی فسادات کے معاملے 2019 کےمقابلےلگ بھگ دوگنے ہو گئے جبکہ ملک میں پچھلے سال کووڈ 19مہاماری سےمتعلق پابندیوں  کی وجہ سے باہری سرگرمیاں بےحدمحدود تھیں۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والےنیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آر بی)نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق2019 میں ایسے معاملوں کی تعدادصوبوں اور یونین ٹریٹری میں438تھی جبکہ 2018 میں ایسے معاملوں کی تعداد 512 تھی۔

رپورٹ میں این سی آر بی نے کہا کہ کووڈ 19 مہاماری کی پہلی لہر کے دوران 25 مارچ، 2020 سے 31 مئی 2020 تک ملک میں مکمل  لاک ڈاؤن لاگو تھا اور اس مدت میں عوامی مقامات پر آمدورفت‘بےحد محدود’ تھی۔

ملک میں پچھلے سال جنوری اور فروری میں شہریت قانون کو لےکر کئی مظاہرے ہوئے اور شمال مشرقی  دہلی میں دنگے ہوئے۔ جبکہ مارچ سے کووڈ 19 مہاماری کا قہر شروع ہو گیا۔

معلوم ہو کہ شمال مشرقی  دہلی میں شہریت قانون (سی اےاے)کےحامیوں اور مخالفین کے بیچ تشدد کے بعد 24 فروری2020 کو فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوئی تھیں، جس میں 53 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق،اعدادوشمارکے مطابق، 2020 میں ذات پات کے سلسلے میں ہونے والی جھڑپیں کے 736 معاملے درج کیے گئے، جو 2019 میں 492 اور 2018 میں656 تھے۔

سال2020 میں فرقہ وارانہ جدوجہد کے زمرے میں167دیگر معاملے درج کیے گئے، جو پچھلے سال کے 118 سے اوپر اور 2018 میں209درج کیے گئے تھے۔

این سی آر بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں ملک بھر میں‘عوامی امن و امان  کے خلاف جرم’ کےکل 71107 معاملے درج کیے گئے،2019 میں63262 ایسے معاملوں میں12.4فیصد کااضافہ  ہوا۔

اعدادوشمار سے پتہ چلا ہے کہ اس طرح کےجرائم کے 2188 معاملے اراضی سےمتعلق  زمرےکے تحت درج کیے گئے، جبکہ 1905‘احتجاج یا مظاہرہ کے دوران دنگا کرنے’کے معاملے درج کیے گئے۔

سال2020 میں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت درج عوامی امن وامان کے خلاف کل جرائم میں، فسادات(51606 معاملوں) میں ایسے کل معاملوں کا 72.6فیصد حصہ تھا۔

معلوم ہو کہ این سی آر بی کےاعدادوشمار کے مطابق، کورونا مہاماری سے متاثرسال2020 میں جرم کے معاملے 28 فیصد بڑھے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آر بی)کی  جانب سے جاری اعدادوشمارکےمطابق، سال 2020 میں کووڈ ضابطوں کی خلاف ورزی بنیادی جرم کےزمرے میں رہی۔کل 6601285قابل دست اندازی جرم  درج کیے گئے، جس میں آئی پی سی کے تحت 4254356 معاملے اور خصوصی اورمقامی قانون کے تحت 2346929 معاملے درج کیے گئے۔

اسی طرح این سی آر بی کےاعدادوشمارکے مطابق ملک میں فیک نیوز، افواہوں کے معاملوں میں 214 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 میں فیک نیوز کے 1527معاملے رپورٹ کیے گئے، جو سال 2019 میں آئے 486 اور سال 2018 کے 280 معاملوں کے مقابلے میں کافی زیادہ  ہیں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)