بی جے پی مہیلا مورچہ کی رہنما نے کہا- ہندوؤں کو مسلم عورتوں کا ریپ کرنا چاہیے

سنیتا گوڑ نے یہاں تک کہا کہ مسلم ماؤں اور بہنوں کا ’سمان لوٹا جانا چاہیے‘ کیونکہ ہندوستان کے تحفظ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

سنیتا گوڑ نے یہاں تک کہا کہ مسلم ماؤں اور بہنوں کا ’سمان لوٹا جانا چاہیے‘ کیونکہ ہندوستان کے تحفظ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

سنیا گوڑ اور ان کی پوسٹ

سنیا گوڑ اور ان کی پوسٹ

نئی دہلی: اترپردیش کے رام کولا میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی رہنما سنیتا سنگھ گوڑکو مبینہ طور پر مسلم مخالف ایک فیس بک پوسٹ کو لے کر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔کچھ دن پہلے انھوں نے فیس بک پر لکھا تھا کہ ہندو مردوں کو مسلمانوں کے گھر میں گھسنا چاہیے اور ان کی عورتوں سے ریپ کرنا چاہیے۔

گوڑ نے لکھا تھا،’اس کا ایک ہی حل ہے ۔10 ہندو بھائی ایک ساتھ مل کر ان کی بہن اور ان کی ماں کے ساتھ سر عام سڑک پر ریپ کریں،پھر اس کو کاٹ کر کھمبے میں باندھ کر بیچ بازار میں ٹانگ دیں۔ پتھر کا جواب پتھر سے ہی دینا پڑے گا۔’انھوں نے یہاں تک کہا کہ مسلم ماؤں اور بہنوں کا ’سمان لوٹا جانا چاہیے‘ کیونکہ ہندوستان کے تحفظ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

للن ٹاپ کی رپورٹ کے مطابق؛اس تبصرے کو فیس بک سے ہٹا لیا گیا ہے۔ دی وائر تبصرے کا صحیح پتہ لگانے میں ناکام ہے۔ حالانکہ پوسٹ کے اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔

بی جے پی مہیلا مورچہ کی قومی صدر وجیا راہتکر نے گوڑ کی پوسٹ کے بارے میں ایک ٹوئٹ کر جواب دیا کہ اس طرح کے ‘نفرت آمیز تبصروں’ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور گوڑ کو ان کے عہدے سے برطرف  کر دیا گیا ہے۔پریس ریلیز کے مطابق؛گوڑ کو 27 جون کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بی جے پی رہنماؤں پر آن لائن یا آف لائن نفرت پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مہیلا مورچہ کی رہنما نے ریپ اور جنسی تشدد کے لیے اکسایا،جس نے سوشل میڈیا پر کئی لوگوں کو جھنجھوڑ دیا۔