بہار: بھوج پور میں مہادلتوں کے گھروں پر حملہ، چھ لوگوں کو گولی ماری

واقعہ بھوج پور ضلع کے تراری تھانہ حلقہ کے سارا گاؤں کاہے۔ پولیس کے مطابق گاؤں کے بااثر کمیونٹی کے کچھ لوگ خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے ارادے سے مسہر ٹولی میں گھسے تھے۔ مخالفت ہونے پر انہوں نے فائرنگ کی، جس میں ایک سال کی بچی سمیت چھ لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

واقعہ بھوج پور ضلع کے تراری تھانہ حلقہ  کے سارا گاؤں کاہے۔ پولیس کے مطابق گاؤں کے بااثر کمیونٹی  کے کچھ لوگ خواتین  سے چھیڑ چھاڑ کے ارادے سے مسہر ٹولی میں گھسے تھے۔ مخالفت  ہونے پر انہوں نے فائرنگ کی، جس میں ایک سال کی بچی سمیت چھ لوگ زخمی  ہو گئے ہیں۔

حملے میں زخمی کرشنا مسہر۔

حملے میں زخمی کرشنا مسہر۔

بھوج پور ضلع کے تراری تھانہ حلقہ  کے سارا گاؤں میں بااثر کمیونٹی  کے آدھا درجن لوگوں نے گزشتہ اتوار کی رات مسہر ٹولی میں حملہ کر دیا اور فائرنگ کی۔فائرنگ میں ایک سال کی بچی سمیت مسہر (مہادلت) کمیونٹی  کے 6 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں علاج کے لیے مقامی سرکاری ہاسپٹل میں بھرتی کرایا گیا ہے۔

دی  وائر کے ساتھ بات چیت میں ایک خاتون  نے بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کا بھی الزام  لگایا ہے۔ضلع کے ایس پی سنیل کمار نے بتایا،‘بااثر کمیونٹی  کے کچھ لوگوں نے اتوار کی رات تقریباً 9 بجے مہادلت کمیونٹی کے ایک گھر میں جبراً گھسنے کی کوشش کی۔ جب گھر کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی تو ان لوگوں نے فائرنگ کی۔’

فائرنگ میں زخمی  ہوئے لوگوں کے نام کرشنا مسہر (26)، رام ناتھ مسہر (50)، اجے مہسر (25)، ویڈیو مسہر (22)، بھیکھن مسہر (15 سال) اور انوشی کماری (ایک سال) ہیں۔ تمام لوگوں  کے جسم  میں چھرے دھنسے ہوئے ہیں۔حملہ کرشنا مسہر کے گھر پر ہوا تھا۔ اس کے بدن  میں 7 جگہ چھرے لگے ہیں، اجے مہسر کو 2 جگہ۔

اجے نے د ی وائر کو فون پر بتایا، ‘ہم لوگ کام سے لوٹ رہے تھے، تو دیکھا کہ وہ لوگ گھر میں ہنگامہ  کر رہے ہیں اور خواتین  سے بدسلوکی  کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں نے انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی، تو وہ الٹے ہم سے ہی کہنے لگے کہ انہیں روکنے والے ہم کون ہیں اور پھر گولی چلا دی۔’

اجے نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ابھی تک جسم  سے چھرا نہیں نکالا ہے۔سارا گاؤں میں مہادلتوں کے لگ بھگ 90 گھر ہیں۔ کسی کے پاس زمین نہیں ہے۔ مزدوری کر کےیہ لوگ اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مرغی اور سور بھی پالتے ہیں۔اتوار کے حملے کے بارے میں اجے مسہر نے کہا، ‘وہ لوگ زبردستی سورمرغی پکڑکر لے جانا چاہتے تھے، جس کی خواتین  نے مخالفت کی تھی۔ اس واقعہ کے کچھ وقت بعد ہی وہ لوگ زبردستی گھر میں گھس گئے اور خواتین  سے بدسلوکی کرنے لگے۔’

بدسلوکی کی شکار ہوئی ایک خاتون  نے فون پر آپ بیتی سناتے ہوئے کہا، ‘ہم لوگ اس وقت کھانا بنا رہے تھے اور بچے سوئے ہوئے تھے۔ تبھی چار پانچ لوگ گھس گئے اور غلط ارادے سے بدن کو چھونے لگے۔ ہم لوگ ڈر کے مارے بچوں کو گود میں اٹھاکر بھاگنے لگے۔’

تراری تھانے کے ایس ایچ او ارویند کمار نے بتایا، ‘ملزم چھیڑ چھاڑ کے ارادے سے گھر میں گھسے تھے۔ جب اس کی مخالفت کی گئی تو ان لوگوں نے فائرنگ کر دی۔’پولیس نے 6 لوگوں کو ملزم  بناتے ہوئے ایس سی -ایس ٹی  ایکٹ اور آئی پی سی کی مختلف  دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ایف آئی آر میں چھیڑ چھاڑ سے متعلق دفعات  بھی لگائی گئی ہیں۔

متاثرین  کی شناخت پر پولیس نے شیولگن سنگھ اور روی یادو نام کے دو شخص کو گرفتار کیا ہے۔ایس پی نے بتایا،‘دوسرے ملزمین  کی شناخت کر کےجلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیا جائےگا۔ متاثرین کے کھانے کے لیے راشن کا انتظام کیا گیا ہے اور میں خود معاملے کو دیکھ رہا ہوں۔’

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق، اتر پردیش کے بعد بہار ملک  کی  دوسری ریاست ہے جہاں دلتوں پر استحصال  کے معاملے سب سے زیادہ ہوئے ہیں۔اعدادوشمارکے مطابق، سال 2017 میں بہار میں دلتوں پر استحصال  کے 6700 معاملے درج کئے گئے تھے۔

(مضمون نگار آزاد صحافی  ہیں۔)