بھیما کورے گاؤں معاملہ: بامبے ہائی کورٹ کا 3 سماجی کارکنوں کو ضمانت دینے سے انکار

سماجی کارکن سدھا بھاردواج ، ارون پھریرا اور ورنن گونجالوس کو جنوری 2018 میں مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے بارے میں ماؤوادیوں سے مبینہ لنک ہونے کے الزام میں 28 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سماجی کارکن سدھا بھاردواج ، ارون پھریرا اور ورنن گونجالوس کو جنوری 2018 میں مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے بارے میں ماؤوادیوں سے مبینہ لنک ہونے کے الزام میں 28 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔

فوٹو: دی وائر/ یوٹیوب اور ٹوئٹر

فوٹو: دی وائر/ یوٹیوب اور ٹوئٹر

نئی دہلی: بامبے ہائی کورٹ نے منگل کو بھیما کورے گاؤں معاملے میں سماجی کارکن سدھا بھاردواج ، ارون پھریرا اور ورنن گونجالوس کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔ ان تینوں کو 1 جنوری 2018 کو مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے بارے میں ماؤوادیوں سے مبینہ لنک ہونے کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت  28 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جسٹس ایس وی کوٹوال نے اس سال 26 اگست سے ان سماجی کارکنوں کی ضمانت عرضی پر شنوائی شروع کی تھی اور 7 اکتوبر کی شنوائی میں اس پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔لائیو لاء کے مطابق، عدالت نے اس بارے میں تقریباً ایک مہینے سے زیادہ وقت تک بحث سنی ، جو کسی بھی ضمانت عرضی کی شنوائی میں غیر معمولی بات ہے۔

گونجالوس کے وکیل مہیر دیسائی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پونے پولیس کی ایف آئی آر میں نام نہ ہونے کے باوجود ایک سال جیل میں گزار چکے ہیں۔ وہیں سدھا بھاردواج کے وکیل یگ چودھری کا کہنا تھا کہ پولیس کے ذریعے پیش کیا گیا کوئی بھی’ ثبوت ‘عدالت میں قبول نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس جن دستاویزوں کا حوالہ دے رہی ہے ، وہ اصل میں سدھابھاردواج کے کمپیوٹر سے نہیں ملے تھے۔

ارون پھریرا کے وکیل سبھاش پشولا نے عدالت کو بتایا کہ پھریرا آدیواسیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ہیں۔ پھریرا کو اس سے پہلے بھی یواے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھ اور ان کے خلاف سبھی معاملوں میں بری ہونے سے پہلے انھوں نے 5 سال جیل میں گزارے تھے۔معاملے میں پیش ہوئی ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ارونا پئی نے تینوں کارکنوں کی ضمانت عرضی کی مخالفت کی اور کہا کہ ان لوگوں کا تعلق ممنوعہ تنظیموں سے ہے۔

اسی مہینے سپریم کورٹ نے اس معاملے کے ایک اور ملزم سماجی کارکن  گوتم نولکھا کی گرفتاری پر 15 اکتوبر تک روک لگائی تھی۔اس سے پہلے بامبے ہائی کورٹ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کی عرضی کو نا منظور کرنے ہوئے کہا تھا کہ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مکمل جانچ کی ضرورت ہے۔