بنگال میں کھلے عام جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی، مویشیوں کے لیے سرٹیفکیٹ لازمی

مغربی بنگال کی نو منتخب بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ اب عوامی مقامات پر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر کردہ یا مجاز سلاٹر ہاوس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گائے یا بھینس کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔

مغربی بنگال کی نو منتخب بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ اب عوامی مقامات پر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر کردہ یا مجاز سلاٹر ہاوس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گائے یا بھینس کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

نئی دہلی: مغربی بنگال میں نو منتخب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بدھ (14 مئی) کو مویشیوں کو ذبح کرنے کے سلسلے میںفٹ فار سلاٹر سرٹیفکیٹ کو  لازمی کر دیا ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی سانڈ، بیل، گائے، بچھڑے، بھینس، بھینس کے بچھڑے اور خصی بھینسوں کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اب سرعام جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر  کردہ یا مجاز سلاٹر ہاؤس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، اس نوٹس کے متعدد اہتمام پہلے سے ہی نافذ تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نوٹس میں مذہبی، طبی یا تحقیقی مقاصد کے تحت کی جانے والی قربانی کے لیے کسی رعایت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ عیدالاضحیٰ صرف چند دن پہلے جاری کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ اور پہاڑی امور کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے،’کوئی بھی شخص کسی بھی جانور، جس میں بیل، بچھڑا، گائے، بچھیا، نر و مادہ بھینسیں، بھینس کے بچے اور خصی بھینسیں شامل ہیں، کو اس وقت تک ذبح نہیں کرے گا جب تک کہ اسے یہ سرٹیفکیٹ حاصل نہ ہو جائے کہ وہ جانور ذبح کرنے  کے لیے موزوں ہے۔‘

نوٹس کے مطابق، یہ سرٹیفکیٹ میونسپلٹی کے چیئرمین یا پنچایت کے صدر کی جانب سے ایک سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ مشترکہ طور پر صرف اسی صورت میں جاری کیا جائے گا جب دونوں تحریری طور پر اس بات سے متفق ہوں کہ جانور کی عمر 14 سال سے زیادہ ہے اور وہ نہ کام کے قابل رہا ہے اور نہ افزائش نسل کے لیے موزوں، یا پھر کسی پرانی بیماری، چوٹ، جسمانی خرابی یا ناقابل علاج مرض کی وجہ سے مستقل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔

اس سرٹیفکیٹ کے درخواست گزار کو درخواست مسترد ہونے کی اطلاع ملنے کے 15 دن کے اندر ریاستی حکومت کے پاس اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ ضروری سرٹیفکیٹ ہونے کے باوجود کھلے عام جانوروں کو ذبح کرنا’سختی سے ممنوع‘قرار دیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جانور کو لازماً کسی میونسپل مذبح یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مقام پر ہی لے جایا جائے گا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے،’مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ، 1950 کی دفعات کو نافذ کرنے کے لیے میونسپلٹی کے چیئرمین، پنچایت سمیتی کے صدر یا سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی جانب سے مجاز کسی بھی شخص کے ذریعے کسی بھی مقام کے معائنے کی مخالفت کوئی شخص نہیں کرے گا۔‘

اخبار کے مطابق، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان دفعات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ ماہ تک قید، ایک ہزار روپے تک جرمانہ، یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔