بنگال: اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں نے یونیورسٹی پر دھاوا بولا، ٹیگور اور ودیاساگر کی تصویریں پھاڑیں

اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے میدنی پور واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے، اس دوران بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات - ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔

اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے میدنی پور واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے، اس دوران بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات – ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔

خود کو اے بی وی پی کارکن بتانے والے لوگوں نے ودیاساگر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دفتر پر بھی دھاوا بولا۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

کولکاتہ:اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے رکن ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد نے 8 مئی کو مغربی بنگال کے مغربی میدنی پور ضلع کے میدنی پور میں واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم ہے۔ یہ واقعہ اسی ہفتے پیش آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے بنگال انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے ایک دن قبل جب اس کے رہنما سوویندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔

بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات – ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔

کیمپس کے جن ملازمین سے اس رپورٹر نے بات کی، ان کے مطابق خود کو اے بی وی پی ممبر بتانے والے افراد وائس چانسلر کے دفتر میں بھی داخل ہوئے اور مبینہ طور پر وائس چانسلر پر بھی ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ یونیورسٹی کو اے بی وی پی کی ’ہدایات‘ کے مطابق ہی کام کرنا ہوگا۔

حالاں کہ، یہ واقعہ کئی دن پہلے پیش آیا تھا، لیکن اس کی خبر 11 مئی کی شام کو عام ہوئی، جس کے بعد پورے میدنی پور میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ میدنی پور، ایشور چندر ودیاساگر کی جائے پیدائش ہے، جن کے نام پر اس یونیورسٹی کا نام رکھا گیا ہے۔

بنگال بھر کی دیگر یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرح اس یونیورسٹی کے طلبہ یونین دفاتر بھی کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد سے بند پڑے تھے۔ ودیاساگر یونیورسٹی کا طلبہ یونین دفتر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔

یونیورسٹی کے متعدد ملازمین نے اس رپورٹر کو بتایا کہ یونیورسٹی میں اے بی وی پی کی کوئی فعال یونٹ نہیں ہے۔

یونیورسٹی میں داخل ہونے والوں میں ایم بی اے کا طالبعلم سومیہ دیپ بورا بھی شامل تھا، جس نے خود کو اے بی وی پی کا اسٹوڈنٹ لیڈر بتاتے ہوئے کیمپس میں داخلہ لیا۔ ملازمین کے مطابق اس کے ساتھ کچھ ایسے افراد بھی تھے جو باہر کے لگ رہے تھے۔

کئی عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک گروپ نے زبردستی طلبہ یونین دفتر کا تالا توڑ دیا۔ اس کے بعد وہ یونیورسٹی کے رجسٹرار جینت کشور نندی اور وائس چانسلر دیپک کمار کر کے دفاتر کی طرف بڑھ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق احتجاج کے دوران ان دونوں اعلیٰ عہدیداروں کی میزوں پر رکھے کاغذات فرش پر پھینک دیے گئے۔ وائس چانسلر پر ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

یونیورسٹی کے ملازمین کے مطابق ان افراد نے ودیاساگر کی ایک تصویر زمین پر پھینک دی اور ’جئے شری رام‘ کے زور دار نعروں کے ساتھ اسے پاؤں تلے روند ڈالا۔ بعض افراد نے مبینہ طور پر کہا کہ اب یونیورسٹی میں ودیاساگر، ٹیگور یا مجاہد آزادی کھدی رام بوس کی تصویروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی، اور اب کیمپس میں صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی تصویریں  ہی لگائی جائیں گی۔

مظاہرین نے مبینہ طور پر یہ مطالبہ بھی کیا کہ حالیہ امتحانات میں فیل ہونے والے 22 طلبہ کو پاس قرار دیا جائے اور یونیورسٹی میں اے بی وی پی کے علاوہ کسی بھی طلبہ تنظیم کو کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

دی وائر سے بات کرنے والے افراد نے بتایا کہ اس حملے میں شامل کئی لوگ چند روز پہلے تک ترنمول کانگریس سے وابستہ ترنمول طلبہ پریشد سے جڑے ہوئے تھے۔

وائس چانسلر دیپک کمار کر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یونیورسٹی ملازمین کے مطابق انہوں نے انتظامیہ میں کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔

دی وائر نے یونیورسٹی میں داخل ہونے والے ایک شخص سے بات کی، جس نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی۔ اس نے کہا، ’ہم اپنے مطالبات کے سلسلے میں وائس چانسلر سے ملنے گئے تھے۔ کچھ پرجوش کارکنوں نے نعرے لگائے اور شور مچایا، لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ ‘

اس واقعہ پر میدنی پور کے تعلیمی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال کالج و یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما اور پروفیسر بمل داس نے شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو ودیاساگر یونیورسٹی کے لیے ’شرمناک ‘ قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایسی حرکتیں ناقابل قبول ہیں۔

دریں اثنا، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے میدنی پور ضلع سکریٹری رانیت بیرا نے اعلان کیا کہ تنظیم نے 12 مئی کو ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں تعلیمی اداروں کے اندر بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

دریں اثنا، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اے بی وی پی نے کہا کہ 8 مئی کو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد سے ریاست کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کچھ ترنمول کانگریس کے حامی اپنی سیاسی شناخت چھپاکر اے بی وی پی کے نام کا استعمال کرکے  ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔