دہلی کی بی جے پی حکومت نے بقرعید کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ عوامی نظم و نسق اور صفائی کو یقینی بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کھلے عام جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قربانی صرف قانونی اور مجاز مقامات پر ہی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بقرعید پر گائے، بچھڑا، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے پر سخت کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔

کپل مشرا۔ (تصویر: دی وائر)
نئی دہلی: بقرعید سے محض چند دن قبل دہلی حکومت نے قربانی کے حوالے سے قومی دارالحکومت میں عوامی نظم و نسق اور صفائی کو یقینی بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے سخت رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دہلی حکومت میں کابینہ وزیر کپل مشرا نے خبردار کیا ہے کہ انتظامیہ جانور ذبح کرنے اور کچرا مینجمنٹ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت نے بقرعید کے پیش نظر حکام کو راجدھانی میں ممنوعہ جانور ذبح کرنے، غیر مجاز جانوروں کی خرید و فروخت اور جانوروں کے ساتھ سفاکی کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دہلی کے ترقیاتی وزیر کپل مشرا نے ایک جائزہ میٹنگ کے دوران کہا کہ غیر قانونی نقل و حمل، غیر قانونی طور پر ذبح کرنے اور جانوروں کے ساتھ سفاکی کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عید الاضحیٰ کے دوران جانوروں کی فلاح اور عوامی صفائی کو یقینی بنانے کے لیے قربانی کی اجازت صرف مجاز اور مقررہ مقامات پر ہی دی جانی چاہیے۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ دہلی حکومت کی وزارت ترقی نے بقرعید کے آنے والے تہوار کے لیے کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ بقرعید کے موقع پر دہلی میں گائے، بچھڑا، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی مکمل طور پر غیر قانونی ہے، اور ایسا کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔
बकरीद के पर्व पर दिल्ली सरकार की गाइडलाइन्स
: बकरीद पर गौवंश, गाय, बछड़ा, ऊंट व अन्य प्रतिबंधित जानवरों की कुर्बानी पूरी तरह गैरकानूनी है, ऐसा करने वालों पर आपराधिक मुकदमा दर्ज किया जाएगा
: सार्वजनिक स्थलों गली, सड़कों पर कुर्बानी की अनुमति नहीं है, ऐसा करने वालों पर भी कानूनी… pic.twitter.com/mKZtUSgHUx
— Kapil Mishra (@KapilMishra_IND) May 22, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات، گلیوں اور سڑکوں پر قربانی کی اجازت نہیں ہے، اور ایسا کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کپل مشرا کے مطابق، بازاروں میں جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت کرنا، سڑکوں اور گلیوں میں بازار لگانا، اور جانور خریدنا و بیچنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔
وزیر نے قربانی کے بعد جانوروں کے فضلے اور خون کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بقرعید پر قربانی کے بعد سیور، نالیوں یا عوامی مقامات پر کچرا پھینکنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ قربانی صرف مجاز مقامات پر ہی کی جا سکتی ہے، اور ان ہدایات کی خلاف ورزی پر لوگ پولیس اور دہلی حکومت کی وزارت ترقی کو اطلاع دے سکتے ہیں۔
دہلی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے اس فیصلے کاخیر مقدم کیا ہے۔
تنظیم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف قانون کے نقطہ نظر سے انتہائی ضروری ہے بلکہ دہلی کی صفائی، عوامی نظم و نسق، سماجی حساسیت اور کروڑوں ہندوؤں کے مذہبی جذبات کے احترام کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
بنگال میں بھی بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کیا
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں مغربی بنگال کی نو منتخب بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے مویشیوں کو ذبح کرنے سے متعلق اسی نوعیت کا ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ اس نوٹس کے تحت جانور کو ذبح کرنے کے لیے اب ریاست میں فٹ فار سلاٹرسرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی سانڈ، بیل، گائے، بچھڑے، بھینس، بھینس کے بچھڑے اور خصی شدہ بھینسوں کو ذبح کرنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
اس کے علاوہ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اب عوامی طور پر جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف میونسپلٹی کی طرف سے مقرر یا مجاز مذبح خانوں میں ہی جانور ذبح کیے جا سکیں گے۔
وہیں، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سوموار (18 مئی) کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر تقریباً دو منٹ کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کا ذکر کیا، لیکن ایک بار بھی لفظ’مسلمان‘ کااستعمال نہیں کیا۔
آدتیہ ناتھ نے اس پوسٹ کے ساتھ لکھا،’نماز پڑھنی ہے،آپ شفٹ میں پڑھیے… پیار سے مانیں گے تو ٹھیک ہے،نہیں مانیں گے تو دوسرا طریقہ اپنائیں گے…‘
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر نماز پڑھنا ضروری ہے تو اسے مسجدوں کے اندر ادا کیا جائے، اور عوامی مقامات پر نماز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔